الم نخلقکم ............................ للمکذبین
اس سے مراد جنین کا طویل اور عجیب سفر ہے۔ اس طویل نامیاتی سفر کو قرآن کریم چند جھلکیوں کے اندر بیان کردیتا ہے۔ ایک حقیر پانی کی بوند ، پھر قرار مکین اور محفوظ جگہ میں رکھنا ، ایک متعین وقت تک ایک واضح نظام اور اندازے کے مطابق ، اور اس نظام اور اندازے کے بارے میں یہ تبصرہ۔
آیت 20{ اَلَمْ نَخْلُقْکُّمْ مِّنْ مَّآئٍ مَّہِیْنٍ۔ } ”کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا ؟“ انسان کا مادئہ تخلیق ایسی گھٹیا چیز ہے کہ جس کا نام بھی کوئی اپنی زبان پر لانا پسند نہیں کرتا۔ سورة الدھر میں اس حقیقت کا ذکر اس طرح آیا ہے : { ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّہْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا۔ } ”کیا انسان پر اس زمانے میں ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے جبکہ وہ کوئی قابل ذکر شے نہیں تھا ؟“