اس صفحہ میں سورہ Al-Mursalaat کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ المرسلات کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّآءٍ مَّهِينٍ
فَجَعَلْنَٰهُ فِى قَرَارٍ مَّكِينٍ
إِلَىٰ قَدَرٍ مَّعْلُومٍ
فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ ٱلْقَٰدِرُونَ
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
أَلَمْ نَجْعَلِ ٱلْأَرْضَ كِفَاتًا
أَحْيَآءً وَأَمْوَٰتًا
وَجَعَلْنَا فِيهَا رَوَٰسِىَ شَٰمِخَٰتٍ وَأَسْقَيْنَٰكُم مَّآءً فُرَاتًا
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
ٱنطَلِقُوٓا۟ إِلَىٰ مَا كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ
ٱنطَلِقُوٓا۟ إِلَىٰ ظِلٍّ ذِى ثَلَٰثِ شُعَبٍ
لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِى مِنَ ٱللَّهَبِ
إِنَّهَا تَرْمِى بِشَرَرٍ كَٱلْقَصْرِ
كَأَنَّهُۥ جِمَٰلَتٌ صُفْرٌ
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
هَٰذَا يَوْمُ لَا يَنطِقُونَ
وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
هَٰذَا يَوْمُ ٱلْفَصْلِ ۖ جَمَعْنَٰكُمْ وَٱلْأَوَّلِينَ
فَإِن كَانَ لَكُمْ كَيْدٌ فَكِيدُونِ
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى ظِلَٰلٍ وَعُيُونٍ
وَفَوَٰكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ
كُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ هَنِيٓـًٔۢا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
كُلُوا۟ وَتَمَتَّعُوا۟ قَلِيلًا إِنَّكُم مُّجْرِمُونَ
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱرْكَعُوا۟ لَا يَرْكَعُونَ
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
فَبِأَىِّ حَدِيثٍۭ بَعْدَهُۥ يُؤْمِنُونَ
آیت 20{ اَلَمْ نَخْلُقْکُّمْ مِّنْ مَّآئٍ مَّہِیْنٍ۔ } ”کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا ؟“ انسان کا مادئہ تخلیق ایسی گھٹیا چیز ہے کہ جس کا نام بھی کوئی اپنی زبان پر لانا پسند نہیں کرتا۔ سورة الدھر میں اس حقیقت کا ذکر اس طرح آیا ہے : { ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّہْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا۔ } ”کیا انسان پر اس زمانے میں ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے جبکہ وہ کوئی قابل ذکر شے نہیں تھا ؟“
آیت 21{ فَجَعَلْنٰــہُ فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ۔ } ”پھر ہم نے اس نطفے کو رکھ دیا ایک محفوظ مقام میں۔“ یعنی اس حقیر پانی کی بوند کو مختلف مراحل سے گزارنے کے لیے ہم نے اسے ایک محفوظ مقام یعنی رحم مادر میں رکھا جو اس کے لیے ایک مضبوط قلعے کی حیثیت رکھتا ہے۔
آیت 23 { فَقَدَرْنَاق فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ۔ } ”تو ہم نے اندازہ مقرر کیا ‘ اور ہم کیا ہی اچھے ہیں اندازہ مقرر کرنے والے !“ اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ ہم نے یہ سب کچھ اپنی قدرت سے کیا اور ہم کیا ہی اچھی قدرت رکھنے والے ہیں !
آیت 26 { اَحْیَآئً وَّاَمْوَاتًا۔ } ”زندوں کو بھی اور ُ مردوں کو بھی !“ اللہ تعالیٰ نے یہ زمین ایسی بنائی ہے کہ یہ اپنے اوپر موجود ہر زندہ وجود کی تمام ضروریات پوری کر رہی ہے اور ہر قسم کے مردہ کو بھی تحلیل کر کے اپنے اندر جذب کرلیتی ہے۔ اس حیثیت سے اللہ تعالیٰ نے اس زمین میں ایسی گنجائش رکھی ہے کہ یہ تاقیامِ قیامت تمام زندوں اور تمام ُ مردوں کے لیے کفایت کرے گی۔
آیت 28 { وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ۔ } ”ہلاکت اور بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔“ ان تمام آیات میں تذکیر بآلاء اللہ کا انداز ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرتوں ‘ نعمتوں اور اس کے احسانات کے ذکر سے یاد دہانی کرائی جا رہی ہے۔
آیت 29 { اِنْطَلِقُوْٓا اِلٰی مَا کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ۔ } ”چلو اب اسی چیز کی طرف جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔“ یعنی جہنم کی آگ کی طرف۔ یہ وہ حکم ہے جو میدانِ محشر میں اہل جہنم کو سنایا جائے گا۔
آیت 30{ اِنْطَلِقُوْٓا اِلٰی ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍ۔ } ”چلو اس تین شاخوں والے سائے کی طرف !“ میدانِ محشر کی چلچلاتی دھوپ اور شدید گرمی میں جب وہ لوگ جہنم کو دیکھیں گے تو دور سے وہ انہیں تین اطراف میں پھیلے ہوئے سائے والی کسی جگہ کی طرح نظرآئے گی۔ چناچہ انہیں کہا جائے گا کہ اگر تمہیں وہ سایہ نظر آتا ہے تو چلو اس سائے کی طرف ! لیکن اس ”سائے“ کی حقیقت یہ ہوگی کہ :
اب دوسرے رکوع کی دس آیات میں تصویر کا دوسرا رخ دکھایا جا رہا ہے۔ یہاں شروع میں اہل ایمان کا احوال بیان ہوا ہے اور آخر میں انتہائی اختصار کے ساتھ کفار کا ذکر آیا ہے۔
آیت 42{ وَّفَوَاکِہَ مِمَّا یَشْتَہُوْنَ۔ } ’ انہیں ایسے پھل دیے جائیں گے جنہیں کھانا انہیں بہت مرغوب ہوگا۔
آیت 45{ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ۔ } ”ہلاکت اور بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔“ اس کے بعد اب روئے سخن پھر کفار و مشرکین کی طرف ہوگیا ہے۔
آیت 46{ کُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِیْلًا اِنَّکُمْ مُّجْرِمُوْنَ۔ } ”اے کفار و مشرکین ! تم کھا پی لو تھوڑی دیر کے لیے ‘ یقینا تم لوگ مجرم ہو۔“ تم لوگ اپنی دنیوی زندگی میں عیش کر رہے ہو تو کرتے جائو۔ بالآخر قیامت کے دن تمہیں مجرموں کی حیثیت سے ہمارے سامنے پیش ہونا ہے۔
آیت 50{ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍم بَعْدَہٗ یُؤْمِنُوْنَ۔ } ”تو اب اس قرآن کے بعد یہ اور کس کلام پر ایمان لائیں گے ؟“ قرآن جیسا کلام سن کر بھی جس انسان کی آنکھیں نہیں کھلیں ‘ تو اس کے بعد اس کی آنکھیں بھلا کب کھلیں گی ؟