وفجرنا الارض عیونا (54:12) ” اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کردیا۔ “ زمین کو پھاڑنے اور چشموں کے پھوٹنے کا منظر یوں نظر آتا ہے کہ گوہر جگہ سے فوارے چھوٹ گئے۔ ہر طرف چشمے ہی چشمے نظر آنے لگے۔
اب زور زور سے آسمانوں سے گرنے والا پانی ، اور زمین سے ابلنے والا پانی آپس میں مل گئے۔
فالتقی ............ قدقدر (54:12) ” اور وہ سارا پانی اس کام کو پورا کرنے کے مل گیا جو مقدر ہوچکا تھا “ یعنی دونوں کا کام یہ تھا کہ طے شدہ کام کو پورا کرلیا جائے۔ دونوں پانی دست قدرت کے تحت کام کررہے تھے۔
اس پانی نے طوفان کی شکل اختیار کرلی۔ زمین کو ڈھانپ لیا گیا اور زمین پر انسانوں کی شکل میں جو گندگی تھی اسے صاف کردیا گیا۔ اللہ کے پیغمبر تو اس تطہیر سے مایوس ہوگیا تھا۔ اس کے خیال میں یہ لوگ لاعلاج ہوگئے تھے لیکن اللہ کا مشفقانہ دست قدرت پہنچ گیا۔ رسول کی دعا قبول ہوئی۔ پوری کائنات حرکت میں آگئی اور رسول اور اس کے ساتھیوں کو نجات مل گئی۔
آیت 12 { وَّفَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا } ”اور ہم نے زمین کو پھاڑ کر چشمے ہی چشمے کردیا“ اس وقت اس علاقے کی صورت حال یوں تھی کہ آسمان سے مسلسل موسلادھار بارش ہو رہی تھی اور نیچے زمین سے جابجا چشمے اس طرح پھوٹ رہے تھے کہ زمین گویا چشموں میں تبدیل ہوگئی تھی۔ { فَالْـتَقَی الْمَآئُ عَلٰٓی اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ۔ } ”تو وہ سارا پانی مل گیا ایک ایسے کام کے لیے جس کا فیصلہ ہوچکا تھا۔“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس نافرمان قوم کو غرق کرنے کا فیصلہ ہوچکا تھا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے مطابق آسمان سے برسنے والے اور زمین سے پھوٹنے والے پانی نے مل کر ایک خوفناک سیلاب کی شکل اختیار کرلی۔