اس صفحہ میں سورہ Al-Qamar کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ القمر کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
خُشَّعًا أَبْصَٰرُهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ ٱلْأَجْدَاثِ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ
مُّهْطِعِينَ إِلَى ٱلدَّاعِ ۖ يَقُولُ ٱلْكَٰفِرُونَ هَٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ
۞ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُوا۟ عَبْدَنَا وَقَالُوا۟ مَجْنُونٌ وَٱزْدُجِرَ
فَدَعَا رَبَّهُۥٓ أَنِّى مَغْلُوبٌ فَٱنتَصِرْ
فَفَتَحْنَآ أَبْوَٰبَ ٱلسَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ
وَفَجَّرْنَا ٱلْأَرْضَ عُيُونًا فَٱلْتَقَى ٱلْمَآءُ عَلَىٰٓ أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ
وَحَمَلْنَٰهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَٰحٍ وَدُسُرٍ
تَجْرِى بِأَعْيُنِنَا جَزَآءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ
وَلَقَد تَّرَكْنَٰهَآ ءَايَةً فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا ٱلْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِى يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ
تَنزِعُ ٱلنَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا ٱلْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِٱلنُّذُرِ
فَقَالُوٓا۟ أَبَشَرًا مِّنَّا وَٰحِدًا نَّتَّبِعُهُۥٓ إِنَّآ إِذًا لَّفِى ضَلَٰلٍ وَسُعُرٍ
أَءُلْقِىَ ٱلذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنۢ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ
سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَّنِ ٱلْكَذَّابُ ٱلْأَشِرُ
إِنَّا مُرْسِلُوا۟ ٱلنَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَٱرْتَقِبْهُمْ وَٱصْطَبِرْ
کذبت ............ نوح (54: 9) ” ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا “ انہوں نے آیات الٰہی کو بھی جھٹلایا اور رسالت کو بھی۔
فکذبوا عبدنا (54: 9) ” انہوں نے ہمارے بندے کو جھوٹا قرار دیا “ یعنی نوح کو۔
وقالو مجنون (54: 9) ” اور کہا یہ دیوانہ ہے “ جس طرح قریش نے نبی ﷺ کو کہا کہ مجنوں ہے اور انہوں نے حضرت نوح کو دھمکی دی کہ ہم تمہیں رجم کردیں گے اور مزاح کرکے اذیت دی اور انہوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ ہم پر تنقید کرنے سے باز آجاؤ اور آپ کو سخت دھمکیاں اور جھڑکیاں دیں۔
وازدجر (54: 9) ” اور بری طرح جھڑکا گیا “ حالانکہ مناسب یہ تھا کہ وہ خود باز آتے اور ان کی اطاعت کرتے۔
اس نوبت تک پہنچ کر حضرت نوح رب تعالیٰ کی طرف دست بدعا ہوتے ہیں کیونکہ اللہ ہی نے ان کو اس مہم پر بھیجا تاکہ آپ اللہ کو وہ رپورٹ دے دیں کہ قوم نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے اور یہ کہ میں نے اس قدر جدوجہد کی ہے اور اب میری قوت نے جواب دے دیا ہے۔ حضرت نے اس وقت اللہ کو پکارا جب نہ کوئی حیلہ رہا اور نہ طاقت رہی۔ انہوں نے تمام حربے آزمائے۔
فدعا ربہ انی ملغوب فانتصر (54:10) ” آخر کار اس نے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہوچکا ہوں اب تو ان سے انتقام لے “ میری طاقت ختم ہوگئی۔ میں نے اپنی پوری جدوجہد کردی۔ قوتیں جواب دے گئیں اور یہ تیرا کام ہے اور انکار اور کفر مجھ پر غالب آگیا۔ لہٰذا تو ہی مدد کر۔ اے اللہ اب تو ہی ان سے انتقام لے۔ اپنی دعوت کا بدلہ لے۔ سچائی کا ساتھ دے۔ اپنے نظام کی مدد تو ہی کر حکم تیرا ہے جدوجہد تیرے لئے ہے میرا کردار اب ختم ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا یہ کہنا تھا اور رسول خدا کی طرف سے معاملہ رب تعالیٰ کے سپرد کرنا تھا جو جبار وقہار ہے کہ دست قدرت نے اپنا کام شروع کردیا اور اس زمین کو ان سے صاف کردیا گیا۔ عذاب الٰہی کا چکریوں چلنا شروع ہوا کہ تمام طیبعی قوتوں نے اپنا کام شروع کردیا۔
ففتحنا ............ امر قدقدر (54:12) ” تب ہم نے موسلادھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیئے اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کردیا اور وہ سارا پانی اس کام کو پورا کرنے کے لئے مل گیا جو مقدر ہوچکا تھا۔ “
یہ ایک عظیم کائناتی حرکت ہے جو بہت ہی بھرپور ہے لیکن اس عظیم کائناتی عمل اور حرکت کی تصویر چند الفاظ میں کھینچی گئی ہے۔ الفاظ بڑی خوبصورت سے چنے گئے ہیں اور اس پو رہے عمل کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ سب عمل قدرت الٰہیہ کا ہے۔
ففتحنا ابواب السماء (54: 11) ” موسلادھار بارش سے “ یعنی ایسی بارش جس میں پانی بہت برس رہا ہو۔ اسی قوت اور اسی حرکت سے۔
وفجرنا الارض عیونا (54:12) ” اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کردیا۔ “ زمین کو پھاڑنے اور چشموں کے پھوٹنے کا منظر یوں نظر آتا ہے کہ گوہر جگہ سے فوارے چھوٹ گئے۔ ہر طرف چشمے ہی چشمے نظر آنے لگے۔
اب زور زور سے آسمانوں سے گرنے والا پانی ، اور زمین سے ابلنے والا پانی آپس میں مل گئے۔
فالتقی ............ قدقدر (54:12) ” اور وہ سارا پانی اس کام کو پورا کرنے کے مل گیا جو مقدر ہوچکا تھا “ یعنی دونوں کا کام یہ تھا کہ طے شدہ کام کو پورا کرلیا جائے۔ دونوں پانی دست قدرت کے تحت کام کررہے تھے۔
اس پانی نے طوفان کی شکل اختیار کرلی۔ زمین کو ڈھانپ لیا گیا اور زمین پر انسانوں کی شکل میں جو گندگی تھی اسے صاف کردیا گیا۔ اللہ کے پیغمبر تو اس تطہیر سے مایوس ہوگیا تھا۔ اس کے خیال میں یہ لوگ لاعلاج ہوگئے تھے لیکن اللہ کا مشفقانہ دست قدرت پہنچ گیا۔ رسول کی دعا قبول ہوئی۔ پوری کائنات حرکت میں آگئی اور رسول اور اس کے ساتھیوں کو نجات مل گئی۔
وحملنہ ............ کفر ” اور نوح کو ہم نے ایک تختوں اور کیلوں والی پر سوار کردیا جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی۔ یہ تھا بدلہ اس شخص کی خاطر جس کی ناقدری کی گئی۔ “ اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی بہت بڑی کشتی تھی۔ یہ تختوں اور میخوں والی تھی۔ کشتی کی صفات بیان کی گئی ہیں اور موصوف کا نام نہیں لیا گیا۔ اس کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے پھر یہ کہا گیا کہ یہ کشتی اللہ کی نگرانی میں چلتی ہے۔ اس پر اللہ کی نظر ہے۔
جزاء لمن کان کفر ” اس شخص کے بدلہ کی خاطر جس کی ناقدری کی گئی “ اس کی دعوت کا انکار کیا گیا بلکہ الصا اس کو جھڑکیاں دی گئی۔ ان لوگوں نے نبی پر مظالم ڈھائے۔ یہ اس کی سزا ہے۔ انہوں نے نبی کے ساتھ مذاق کیا۔ اللہ نے اسے یہ اعزاز دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے جس شخص کو اللہ کی راہ میں بےبس کردیا جائے اس کی حمایت میں اللہ کی قوتیں کس طرح کام کرتی ہیں اور جو شخص اپنا کام پورا کرکے اور اپنی پوری قوت لگا کر جب معاملہ اللہ کے حوالے کرتا ہے تو پھر اللہ کس طرح بدلہ لیتا ہے۔ اس کائنات کی پوری قوتیں اس کی نصرت میں اٹھ جاتی ہیں اور ان قوتوں کی پشت پر اللہ اپنی قدرت اور جبروت کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔
اس ہولناک انتقام کے منظر کے اختتام پر اور اس فیصلہ کن انجام پر ان لوگوں کو متوجہ کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا کہ ذرا ان واقعات سے عبرت لو ، یہ اس لئے کہ شاید وہ متاثر ہوکر دعوت حق کو قبول کرلیں۔
ولقد ترکنھا ............ مد کر (54:15) ” اس کشتی کو ہم نے ایک نشانی بنا کر چھوڑ دیا۔ پھر کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا “ یہ واقعہ اپنے تمام حالات کے ساتھ ہم نے تاریخ کے ریکارڈ پر باقی رکھا تاکہ آنے والوں کے لئے ایک نشانی ہو۔
فھل من مد کر (54:15) ” پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا) جو نصیحت قبول کرے۔ دلوں کو جگانے کے لئے ایک سوال کہ کیا تھا عذاب اور کیا انجام ہوا ڈرائے جانے والوں کا۔
فکیف ............ ونذر (54:16) ” دیکھ لو کیا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات “ بہرحال ایسا ہی ہوا جس طرح قرآن نے تصویر کشی کی ہے۔ یہ ایک سخت تباہ کن عذاب تھا جس نے تمام مجرموں کو نیست ونابود کرکے رکھ دیا اور ڈرانے والے کا ڈراوا سچا ہوگیا یہ ہے قرآن کا انداز بیان نہایت سہل ، قابل فہم ، پڑھنے والے کے لئے خوب جازبیت کا حامل تاکہ ہر کوئی پڑھے اور تدبر کرے۔ سادہ سچائی کی جاذبیت کا حامل ، فطرت کے مطابق اور ہر طبیعت کے لئے پرجوش ، جس کے عجائبات ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ اسے بار بار پڑھئے ہر بار نیا نظر آئے گا۔ جب بھی کوئی اس پر تدبر کرے اسے ایک نیا مفہوم اور نیا نکتہ ملے گا۔ جس قدر اس کے ساتھ کوئی نفس انسانی صحبت اختیار کرے اس کی محبت میں اضافہ ہی ہوتا جائے گا۔
ولقد ............ مد کر (45:17 ) ” ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنایا ہے پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “
یہ ہے وہ سبق جو ہر پیراگراف کے آخر میں دہرایا جاتا ہے۔ ہر مصور منظر کے بعد ، ہر منظر کے بعد قرآن انسان دل کے ساتھ گفتگو کرتا ہے اور اسے نصیحت قبول کرنے ، دانش حاصل کرنے ، تدبر کرنے کے لئے کہتا ہے۔ ہر تاریخی انجام بد کے بعد جس سے مکذبین دو چار ہوئے۔
کذبت ............ مد کر (54:18 تا 22) ” عاد نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات۔ ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی۔ جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اس طرح پھینک رہی تھی جیسے وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہوں۔ پس دیکھ لو کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات۔ ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنادیا ہے۔ پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “ ؟
یہ دوسرا پیراگراف ہے اور اقوام سابقہ پر عذاب آنے کا دوسرا منظر ہے۔ قوم نوح کے بعد ہلاکت کا یہ بڑا واقعہ تھا۔ سب سے پہلے قوم نوح ہلاک ہوئی اور اس کے بعد قوم عاد۔
پہلے یہ بتایا جاتا ہے عاد نے بھی تکذیب کی لیکن آیت ختم ہونے سے پہلے ہی ایک خوفناک سوال کردیا جاتا ہے۔
فکیف ........ ونذر (45: 81) ” میرا عذاب کیسا تھا اور تنبیہات کیسی تھیں “ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ ان کا انجام یوں ہوا ، ہولناک اور خوفناک۔
انا ارسلنا ............ منقعر (45: 02) ” ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی۔ جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اس طرح پھینک رہی تھی جیسے جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے۔ “
ریحاصرصرا (45: 91) کے معنی ہیں سخت سرد ہوا۔ الفاظ کا ترنم ہی نوعیت بتارہا ہے۔ نحس یعنی منحوس اور اس سے بڑی نحوست کس قوم کو کیا نصیب ہوگی جو عاد کو نصیب ہوئی۔ یوں منظر تھا کہ جس طرح سخت ہوا سے کھجور کے تنے جڑوں سے اکھڑ کر زمین پر آجاتے ہیں اور درخت بری طرح گرا ہوا ہوتا ہے۔ اس طرح یہ لوگ میدانوں میں پڑے ہوئے تھے۔
منظر نہایت خوفناک ہے۔ ہوا سخت ہے اور یہ ہوا جو عادیوں پر بھیجی گئی تھی یہ اللہ کے لشکروں میں ایک لشکر تھا۔ اس کائنات کی قوتوں میں سے ایک قوت۔ اللہ کی تخلیق کردہ قوت ، اللہ کے قانون قدرت کے عین مطابق چلنے والی قوت ، ایسی قوت جسے اللہ جس پر چاہے مسلط کردے۔ یہ قوت صحراؤں میں چل رہی ہے اور یہ جب عاد کی بستیوں تک پہنچتی ہے تو ان کا وہ حال بنادیتی ہے جو اوپر لکھا گیا۔
فکیف کان عذابی ونذر (45: 12) ” ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کردیا پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “ صلائے عام ہے۔
قبیلہ ثمود جزیرہ عرب میں عاد کے بعد نمودار ہوا۔ یہ بھی عاد کی طرح قوت اور شوکت میں بےمثال تھا۔ ہاں عادی جنوب میں تھے اور ثمود شمال میں تھے۔ ثمود نے بھی رسول کی تکذیب اسی طرح کی جس طرح عاد نے کی تھی حالانکہ ثمود کو عاد کے انجام کا اچھی طرح علم تھا کیونکہ وہ جزیرہ عرب کے جنوب میں تھے۔
فقالوا ............ الاشر (45: 62) ” اور کہنے لگے ایک اکیلا آدمی جو ہم میں سے ہے کیا ہم اس کے پیچھے چلیں ؟ اس کا اتباع ہم قبول کریں تو معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے۔ کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر خدا کا ذکر نازل کیا گیا ؟ نہیں بلکہ یہ پرلے درجے کا جھوٹا اور لالچی ہے۔ “
یہ وہی شبہ ہے جو پوری تاریخ میں تمام مکذبین کے دلوں میں خلجان پیدا کرتا رہا ہے۔
ء القی ............ بیننا (45:5 2) ” کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر خدا کا ذکر نازل کیا گیا “ یہ ان کی کھوکھلی اور بےحقیقت کبریائی تھی اور جس شخص کے اندر اس قسم کا کبر ہو وہ کبھی حقیقت کو دیکھ ہی نہیں سکتا۔ وہ بات کو نہیں دیکھتا۔ اس کو دیکھتا ہے کہ کہنے والا کون ہے۔
ابشرامنا واحد انتبعہ (45:4 2) ” ایک اکیلا آدمی جو ہم میں سے ہے کیا ہم اب اس کے پیچھے چلیں ؟ “
آخر اس میں کیا قباحت ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے ایک اکیلے شخص کو چن لے۔ اللہ تو خوب جانتا ہے کہ رسالت کی امانت کہاں رکھے اور پھر اس کے اوپر ذکر نازل کرے۔ اس کو ہدایات دے اور نصیحت کی باتیں اس پر نازل کرے ، اللہ خالق ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں میں سے اس امانت کی استعداد اس نے کس کو دی ہے۔ پھر ذکر نازل کرنے والا بھی اللہ۔ یہ سوال ایک بےحقیقت سوال ہے اور واہی تباہی ہے جو نہایت گمراہ لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوسکتا ہے۔ ایسے لوگ جو کسی دعوت کے بارے میں یہ نہیں سوچتے کہ اس میں صدق وسچائی کس قدر ہے۔ وہ دعوت دینے والے کو دیکھتے ہیں کہ دو بستیوں میں سے یہ کتنا بڑا آدمی ہے۔ اگر کسی چھوٹے آدمی کی بات مانی گئی تو وہ چھوٹا بڑا بن جائے گا اور یہ چھوٹے رہ جائیں گے۔
یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ ہمیشہ یہ کہتے ہیں۔
ابشر ........ وسحر (45:4 2) ” ایک اکیلا آدمی جو ہم میں سے ہے اس کے پیچھے چلیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے یا ہم جہنم رسید ہوگئے۔ “ اگر ہم سے یہ منکر فعل واقع ہوگیا۔ جب عقل ماری جاتی ہے تو انسان ہدایت کو ضلالت سمجھتا اور سمجھتا ہے کہ وہ گویا بہت زیادہ تعداد والی جہنموں میں داخل ہوگا۔ (سعر جمع سعیر ہے) حالانکہ دعوت قبول کرکے وہ ایمان کے سایہ میں آجاتا لیکن سمجھتا ہے کہ اگر ایمان لایا تو جہنموں میں داخل ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ جس رسول کو اللہ نے ان کی رہنمائی کے لئے بھیجا تھا اس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ جھوٹا اور لالچی ہے۔
بل ھو کذاب اشر (45:5 2) ” بلکہ وہ جھوٹ اور لالچی ہے “ کذاب جھوٹا ، اشر شدید لالچی اور اس تبلیغ سے وہ اقتدار اور مرتبہ چاہتا ہے۔ ہر داعی پر ہمیشہ یہی الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کے بہانے مفادات کے حصول کے لئے جدوجہد کرتا ہے اور یہ ان اندھوں کا موقف ہوتا ہے جو نیک لوگوں کے جذبات اور ان کے قلبی محرکات سے واقف نہیں ہوتے۔
بات ابھی تک حکایتی اور قصے کے انداز سے چلتی ہے کہ اچانک معاملہ خطاب کا آجاتا ہے۔ اور یوں نظر آتا ہے کہ گویا واقعات ابھی جاری ہیں۔ اس لئے بتایا جاتا ہے کہ عنقریب کیا ہونے والا ہے اور ان کا مستقبل میں ہونے والے واقعات کی دھمکی دی جاتی ہے۔
سیعلمون ........ الاشر (45: 62) ” کل ہی انہیں معلوم ہوجائے گا کہ پرلے درجے کا جھوٹا اور لالچی کون ہے۔ “ یہ قصص کے بیان کا ایک قرآنی طریقہ ہے۔ یہ انداز قصے میں جان ڈال دیتا ہے کہ بجائے محض قصہ پارینہ کے تخیل کے زور سے اس قصے کو ایک منظر نامے کی شکل میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔ اب یہ قصہ نہیں رہتا بلکہ حال اور مستقبل کے واقعات بن جاتا ہے۔
سیعلمون ........ الاشر (45: 62) ” کل ہی وہ جان لیں گے کہ جھوٹا اور لالچی کون ہے “ کل یہ حقیقت کھل جائے گی اور یہ چھوٹ نہیں سکیں گے اور یہ مصیبت بتادے گی کہ کون جھوٹا ہے اور جھوٹوں کی سزا کیا ہے۔
انا مرسلوا ............ محتضر (45: 82) ” ہم اپنی اونٹنی کو ان کے لئے فتنہ بنا کر بھیج رہے ہیں۔ اب ذرا صبر کے ساتھ دیکھ کر ان کا کیا انجام ہوتا ہے۔ ان کو جتا دے کہ پانی ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہوگا اور ہر ایک اپنی باری کے دن پانی پر آئے گا۔ “ اب پڑھنے والے انتظار میں ہیں کہ ہوتا کیا ہے۔ ناقہ بھیج دی جاتی ہے۔ یہ ان کے لئے آزمائش ہے اور ان کے لئے امتحان ہے کہ کون کامیاب ہوتا ہے اور کون ناکام اور رسول وقت بھی انتظار میں ہے کہ کیا ہوتا ہے اور اللہ کے حکم کے مطابق وہ صبر کرتا ہے۔ اس وقت تک کہ امتحان کا نتیجہ سامنے آجائے۔ نبی کو یہ ہدایت دے دی جاتی ہے کہ پانی ان کے اور ناقہ کے درمیان تقسیم ہے۔ یہ ناقہ لازماً مخصوص ناقہ تھی۔ تقسیم یوں تھی کہ ایک دن کا پورا پانی ناقہ کے لئے تھا اور دوسرے دن کا ان کے لئے۔ ناقہ اپنے دن آئے گی اور یہ لوگ اپنے دن آئیں گے۔ وہ اپنے دن پئے گی اور یہ لوگ اپنے دن پانی لیں گے۔
اب سیاق کلام پھر حکایتی اور قصے کا انداز لے لیتا ہے اور اس کے بعد یہ واقعات یوں آتے ہیں۔