ولقد ترکنھا ............ مد کر (54:15) ” اس کشتی کو ہم نے ایک نشانی بنا کر چھوڑ دیا۔ پھر کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا “ یہ واقعہ اپنے تمام حالات کے ساتھ ہم نے تاریخ کے ریکارڈ پر باقی رکھا تاکہ آنے والوں کے لئے ایک نشانی ہو۔
فھل من مد کر (54:15) ” پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا) جو نصیحت قبول کرے۔ دلوں کو جگانے کے لئے ایک سوال کہ کیا تھا عذاب اور کیا انجام ہوا ڈرائے جانے والوں کا۔
آیت 15 { وَلَقَدْ تَّرَکْنٰہَـآ اٰیَۃً فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ } ”اور ہم نے اسے چھوڑ دیا ایک نشانی کے طور پر تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا !“ یعنی حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی مشیت الٰہی سے محفوظ کرلی گئی اور کسی وقت ایک بہت بڑی نشانی کے طور پر دنیا کی نظروں کے سامنے آجائے گی۔ بالکل اسی طرح جس طرح زیر زمین دفن شدہ شداد ّکی جنت ارضی کے بارے میں اب دنیا جان چکی ہے یا بحیرئہ مردار کی تہہ میں قوم لوط علیہ السلام کے شہروں کے کھنڈرات دریافت کرلیے گئے ہیں۔