کذبت ............ مد کر (54:18 تا 22) ” عاد نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات۔ ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی۔ جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اس طرح پھینک رہی تھی جیسے وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہوں۔ پس دیکھ لو کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات۔ ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنادیا ہے۔ پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “ ؟
یہ دوسرا پیراگراف ہے اور اقوام سابقہ پر عذاب آنے کا دوسرا منظر ہے۔ قوم نوح کے بعد ہلاکت کا یہ بڑا واقعہ تھا۔ سب سے پہلے قوم نوح ہلاک ہوئی اور اس کے بعد قوم عاد۔
پہلے یہ بتایا جاتا ہے عاد نے بھی تکذیب کی لیکن آیت ختم ہونے سے پہلے ہی ایک خوفناک سوال کردیا جاتا ہے۔
فکیف ........ ونذر (45: 81) ” میرا عذاب کیسا تھا اور تنبیہات کیسی تھیں “ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ ان کا انجام یوں ہوا ، ہولناک اور خوفناک۔
آیت 18 { کَذَّبَتْ عَادٌ فَـکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔ } ”جھٹلایا تھا قوم عاد نے بھی ‘ تو کیسا رہا میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا ؟“
کفار کی بدترین روایات اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی وہ دن ان کے لئے سراسر منحوس تھا برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ وبالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لئے گئے ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کرلے جاتا یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہوجاتا پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا سر کچل جاتا بھیجا نکل پڑتا، سر الگ دھڑ الگ ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا ؟ میں نے قرآن کو آسان کردیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کرلے۔