قبیلہ ثمود جزیرہ عرب میں عاد کے بعد نمودار ہوا۔ یہ بھی عاد کی طرح قوت اور شوکت میں بےمثال تھا۔ ہاں عادی جنوب میں تھے اور ثمود شمال میں تھے۔ ثمود نے بھی رسول کی تکذیب اسی طرح کی جس طرح عاد نے کی تھی حالانکہ ثمود کو عاد کے انجام کا اچھی طرح علم تھا کیونکہ وہ جزیرہ عرب کے جنوب میں تھے۔
فقالوا ............ الاشر (45: 62) ” اور کہنے لگے ایک اکیلا آدمی جو ہم میں سے ہے کیا ہم اس کے پیچھے چلیں ؟ اس کا اتباع ہم قبول کریں تو معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے۔ کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر خدا کا ذکر نازل کیا گیا ؟ نہیں بلکہ یہ پرلے درجے کا جھوٹا اور لالچی ہے۔ “
یہ وہی شبہ ہے جو پوری تاریخ میں تمام مکذبین کے دلوں میں خلجان پیدا کرتا رہا ہے۔
ء القی ............ بیننا (45:5 2) ” کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر خدا کا ذکر نازل کیا گیا “ یہ ان کی کھوکھلی اور بےحقیقت کبریائی تھی اور جس شخص کے اندر اس قسم کا کبر ہو وہ کبھی حقیقت کو دیکھ ہی نہیں سکتا۔ وہ بات کو نہیں دیکھتا۔ اس کو دیکھتا ہے کہ کہنے والا کون ہے۔
ابشرامنا واحد انتبعہ (45:4 2) ” ایک اکیلا آدمی جو ہم میں سے ہے کیا ہم اب اس کے پیچھے چلیں ؟ “
آخر اس میں کیا قباحت ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے ایک اکیلے شخص کو چن لے۔ اللہ تو خوب جانتا ہے کہ رسالت کی امانت کہاں رکھے اور پھر اس کے اوپر ذکر نازل کرے۔ اس کو ہدایات دے اور نصیحت کی باتیں اس پر نازل کرے ، اللہ خالق ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے بندوں میں سے اس امانت کی استعداد اس نے کس کو دی ہے۔ پھر ذکر نازل کرنے والا بھی اللہ۔ یہ سوال ایک بےحقیقت سوال ہے اور واہی تباہی ہے جو نہایت گمراہ لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوسکتا ہے۔ ایسے لوگ جو کسی دعوت کے بارے میں یہ نہیں سوچتے کہ اس میں صدق وسچائی کس قدر ہے۔ وہ دعوت دینے والے کو دیکھتے ہیں کہ دو بستیوں میں سے یہ کتنا بڑا آدمی ہے۔ اگر کسی چھوٹے آدمی کی بات مانی گئی تو وہ چھوٹا بڑا بن جائے گا اور یہ چھوٹے رہ جائیں گے۔
یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ ہمیشہ یہ کہتے ہیں۔
آیت 23 { کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ۔ } ”قومِ ثمود نے بھی جھٹلایا خبردار کرنے والوں کو۔“
فریب نظر کے شکار لوگ ثمودیوں نے رسول اللہ حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں ؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا ؟ ان کی آزمائش کے لئے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چناچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ﷺ ہی کا رہے گا اب ان سے کہہ دیجئے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہوگا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ01505ۚ) 26۔ الشعراء :155) ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا، جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) ان کا بدترین آدمی اٹھا اس نے آکر اسے پکڑا اور زخمی کیا پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہوجاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بےنام و نشان کردیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی میں انہیں بھی برباد کردیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہوجاتی ہے وہی حالت ان کی ہوگئی کہ ایک بھی نہ بچا نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اول قوی ہے واللہ اعلم۔