سورۃ القمر: آیت 24 - فقالوا أبشرا منا واحدا نتبعه... - اردو

آیت 24 کی تفسیر, سورۃ القمر

فَقَالُوٓا۟ أَبَشَرًا مِّنَّا وَٰحِدًا نَّتَّبِعُهُۥٓ إِنَّآ إِذًا لَّفِى ضَلَٰلٍ وَسُعُرٍ

اردو ترجمہ

اور کہنے لگے "ایک اکیلا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے کیا اب ہم اُس کے پیچھے چلیں؟ اِس کا اتباع ہم قبول کر لیں تو اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faqaloo abasharan minna wahidan nattabiAAuhu inna ithan lafee dalalin wasuAAurin

آیت 24 کی تفسیر

ابشر ........ وسحر (45:4 2) ” ایک اکیلا آدمی جو ہم میں سے ہے اس کے پیچھے چلیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے یا ہم جہنم رسید ہوگئے۔ “ اگر ہم سے یہ منکر فعل واقع ہوگیا۔ جب عقل ماری جاتی ہے تو انسان ہدایت کو ضلالت سمجھتا اور سمجھتا ہے کہ وہ گویا بہت زیادہ تعداد والی جہنموں میں داخل ہوگا۔ (سعر جمع سعیر ہے) حالانکہ دعوت قبول کرکے وہ ایمان کے سایہ میں آجاتا لیکن سمجھتا ہے کہ اگر ایمان لایا تو جہنموں میں داخل ہوگا۔

یہی وجہ ہے کہ جس رسول کو اللہ نے ان کی رہنمائی کے لئے بھیجا تھا اس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ جھوٹا اور لالچی ہے۔

آیت 24 { فَقَالُوْٓا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّــتَّبِعُہٗٓ لا } ”انہوں نے کہا : کیا ہم اپنے میں سے ہی ایک بشر کی پیروی کریں ؟“ { اِنَّــآ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۔ } ”پھر تو یقیناہم پڑجائیں گے گمراہی میں اور آگ میں۔“ اپنے جیسے ایک انسان کی اطاعت اور پیروی کرنے کا مطلب تو یہ ہوگا کہ ہم نے اپنے آپ کو خود ہی گمراہی میں اور آگ کے گڑھے میں ڈال دیا۔ سُعُر جمع ہے سَعِیْر کی اور سَعِیْرکے معنی آگ کے ہیں۔ ایسی باتیں کرتے ہوئے وہ لوگ گویا حضرت صالح علیہ السلام ہی کے الفاظ میں آپ علیہ السلام کو جواب دے رہے تھے۔ حضرت صالح علیہ السلام ان سے کہتے تھے کہ تم لوگ اگر میری بات نہیں مانو گے تو آخرت میں جہنم کی آگ کا ایندھن بنو گے۔ جواب میں وہ کہتے تھے کہ تم ہماری ہی طرح کے ایک انسان ہو۔ اگر ہم تمہیں اپنا پیشوا مان کر تمہارے پیچھے چل پڑیں تو یہ گمراہی کا راستہ ہوگا اور ہمارے لیے اسی دنیا میں خود کو آگ میں جھونک دینے کے مترادف ہوگا۔

آیت 24 - سورۃ القمر: (فقالوا أبشرا منا واحدا نتبعه إنا إذا لفي ضلال وسعر...) - اردو