بل ھو کذاب اشر (45:5 2) ” بلکہ وہ جھوٹ اور لالچی ہے “ کذاب جھوٹا ، اشر شدید لالچی اور اس تبلیغ سے وہ اقتدار اور مرتبہ چاہتا ہے۔ ہر داعی پر ہمیشہ یہی الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کے بہانے مفادات کے حصول کے لئے جدوجہد کرتا ہے اور یہ ان اندھوں کا موقف ہوتا ہے جو نیک لوگوں کے جذبات اور ان کے قلبی محرکات سے واقف نہیں ہوتے۔
بات ابھی تک حکایتی اور قصے کے انداز سے چلتی ہے کہ اچانک معاملہ خطاب کا آجاتا ہے۔ اور یوں نظر آتا ہے کہ گویا واقعات ابھی جاری ہیں۔ اس لئے بتایا جاتا ہے کہ عنقریب کیا ہونے والا ہے اور ان کا مستقبل میں ہونے والے واقعات کی دھمکی دی جاتی ہے۔
آیت 25{ ئَ اُلْقِیَ الذِّکْرُ عَلَیْہِ مِنْ م بَیْنِنَا } ”کیا یہ ذکر ہمارے مابین اسی پر القا کیا گیا ہے ؟“ اگر ہم مان بھی لیں کہ یہ سچ کہہ رہے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے وحی کے لیے آخر اسی شخص کا انتخاب کیوں کیا ؟ اس منصب کے لیے اس کی نظر ہمارے کسی بڑے سردار پر کیوں نہیں پڑی ؟ { بَلْ ہُوَ کَذَّابٌ اَشِرٌ۔ } ”بلکہ یہ انتہائی جھوٹا اور شیخی خورا ہے۔“ لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے اور صرف اپنی بڑائی جتلانے اور شیخی بگھارنے کے لیے اس نے یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے۔