انا مرسلوا ............ محتضر (45: 82) ” ہم اپنی اونٹنی کو ان کے لئے فتنہ بنا کر بھیج رہے ہیں۔ اب ذرا صبر کے ساتھ دیکھ کر ان کا کیا انجام ہوتا ہے۔ ان کو جتا دے کہ پانی ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہوگا اور ہر ایک اپنی باری کے دن پانی پر آئے گا۔ “ اب پڑھنے والے انتظار میں ہیں کہ ہوتا کیا ہے۔ ناقہ بھیج دی جاتی ہے۔ یہ ان کے لئے آزمائش ہے اور ان کے لئے امتحان ہے کہ کون کامیاب ہوتا ہے اور کون ناکام اور رسول وقت بھی انتظار میں ہے کہ کیا ہوتا ہے اور اللہ کے حکم کے مطابق وہ صبر کرتا ہے۔ اس وقت تک کہ امتحان کا نتیجہ سامنے آجائے۔ نبی کو یہ ہدایت دے دی جاتی ہے کہ پانی ان کے اور ناقہ کے درمیان تقسیم ہے۔ یہ ناقہ لازماً مخصوص ناقہ تھی۔ تقسیم یوں تھی کہ ایک دن کا پورا پانی ناقہ کے لئے تھا اور دوسرے دن کا ان کے لئے۔ ناقہ اپنے دن آئے گی اور یہ لوگ اپنے دن آئیں گے۔ وہ اپنے دن پئے گی اور یہ لوگ اپنے دن پانی لیں گے۔
اب سیاق کلام پھر حکایتی اور قصے کا انداز لے لیتا ہے اور اس کے بعد یہ واقعات یوں آتے ہیں۔
آیت 27{ اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَۃِ فِتْنَۃً لَّـہُمْ فَارْتَقِبْہُمْ وَاصْطَبِرْ۔ } ”ہم بھیجے دیتے ہیں اونٹنی کو ان کی آزمائش کے لیے ‘ تو آپ علیہ السلام انتظار کیجیے ان کے بارے میں اور صبر کیجیے۔“ یہ خطاب حضرت صالح علیہ السلام سے ہے کہ ہم ان کے مطالبے کے مطابق اونٹنی بطور معجزہ ان کے سامنے لا رہے ہیں ‘ جو ان کے لیے بہت بڑی آزمائش بن جائے گی۔ لیکن ابھی چونکہ ان کی مہلت باقی ہے اس لیے آپ علیہ السلام صبر کے ساتھ ان کے بارے میں اللہ کے فیصلے کا انتظار کیجیے۔