سیھزم ............ الدبر (45:54) ” عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے۔ “ لہٰذا ان کی جمعیت انہیں کوئی فائدہ نہ دے سکے گی۔ ان کی قوت ان کے لئے مددگار ثابت نہیں ہوگی۔ یہ اعلان چونکہ اللہ قہار وجبار کا تھا اس لئے ایسا ہی ہوا اور ایسا ہی ہونا تھا۔
مسلم اور بخاری نے ابن عباس کی روایت نقل کی فرمایا کہ حضور اکرم بدر کے دن آپ کے لئے بنائے ہوئے ایک چبوترے میں تھے اور دعا کررہے تھے ، اے اللہ میں تجھ کو تیرے وعدے اور کہد کا واسطہ دیتا ہوں۔ اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری بندگی اس زمین پر نہ ہوگی “ حضرت ابوبکر ؓ نے آپ کو ہاتھ سے پکڑا اور کہا یارسول اللہ آپ کے لئے یہی کافی ہے آپ نے رب تعالیٰ کے سامنے بہت زاری کرلی ہے۔ آپ نکلے اور زرہ میں ڈوبے ہوئے تھے اور آپ کہہ رہے تھے۔
سیھزم الجمع ویوکون الدبر (45:54) ” عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے۔ “
ابن ابو حاتم کی روایت میں مکرمہ سے نقل ہے۔ انہوں نے کہا جب یہ آیت نازل ہوئی۔
سیھزم ............ الدبر (45:54) ” عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے۔ “ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ کون سا جتھا یعنی کونسا جتھا شکست کھائے گا۔ عمر کہتے ہیں جب بدر کا دن آیا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ زرہ میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یہی آیت پڑھ رہے ہیں۔ ” عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ “ تو اس وقت میری سمجھ میں بات آئی کہ اس سے کونسی جمعیت مراد ہے۔ یہ تو تھی دنیا کی ہزیمت لیکن یہ آخری ہزیمت نہ تھی اور نہ ہی یہ شدید اور تلخ عذاب ہے چناچہ اس دنیاوی شکست کے بعد اب آخری شکست کی طرف بات پھرجاتی ہے۔
آیت 45 { سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُـوَلُّــوْنَ الدُّبُرَ۔ } ”عنقریب ان کی جمعیت شکست کھاجائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔“ یہ پیشین گوئی جو ہجرت سے پانچ سال پہلے کردی گئی تھی ‘ میدانِ بدر میں حرف بحرف پوری ہوئی۔ روایات میں آتا ہے کہ غزوئہ بدر سے پہلی رات میں حضور ﷺ نے سجدے کی حالت میں رو رو کر دعا کی۔ آپ ﷺ کا یہ سجدہ بہت طویل تھا اور دعا بھی بہت طویل تھی۔ آپ ﷺ کی اس دعا کا لب لباب یہ تھا کہ اے اللہ ! میں نے اپنی پندرہ سال کی کمائی لا کر اس میدان میں ڈال دی ہے۔ میں آخری رسول ہوں ‘ میرے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ اے اللہ ! اس معرکے میں اگر یہ لوگ ہلاک ہوگئے تو پھر قیامت تک اس زمین پر تیری بندگی کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اس رات آپ ﷺ کے عریشے پر پہرے کے لیے حضرت ابوبکر رض مامور تھے ‘ وہ سجدے میں آپ ﷺ کی کیفیت کا مشاہدہ کر رہے تھے اور دعا کے رقت آمیز الفاظ سن رہے تھے۔ اس دوران ایک موقع ایسا بھی آیا جب حضرت ابوبکر رض سے رہا نہ گیا اور وہ پکار اٹھے : حَسْبُکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ … کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! اب بس کردیجیے۔ پھر جب حضور ﷺ نے سجدے سے سر مبارک اٹھایا تو آپ ﷺ کی زبان مبارک پر یہی الفاظ تھے : { سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُـوَلُّــوْنَ الدُّبُرَ۔ } کہ یہ لوگ اپنی طرف سے بہت بڑا لشکر لے کر آئے ہیں۔ ان کا یہ لشکر یہاں شکست سے دوچار ہوگا اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ 1