اس صفحہ میں سورہ Al-Qamar کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ القمر کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ ٱلْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَيْنَهُمْ ۖ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ
فَنَادَوْا۟ صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطَىٰ فَعَقَرَ
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَٰحِدَةً فَكَانُوا۟ كَهَشِيمِ ٱلْمُحْتَظِرِ
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا ٱلْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍۭ بِٱلنُّذُرِ
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا إِلَّآ ءَالَ لُوطٍ ۖ نَّجَّيْنَٰهُم بِسَحَرٍ
نِّعْمَةً مِّنْ عِندِنَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى مَن شَكَرَ
وَلَقَدْ أَنذَرَهُم بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا۟ بِٱلنُّذُرِ
وَلَقَدْ رَٰوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِۦ فَطَمَسْنَآ أَعْيُنَهُمْ فَذُوقُوا۟ عَذَابِى وَنُذُرِ
وَلَقَدْ صَبَّحَهُم بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ
فَذُوقُوا۟ عَذَابِى وَنُذُرِ
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا ٱلْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
وَلَقَدْ جَآءَ ءَالَ فِرْعَوْنَ ٱلنُّذُرُ
كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا كُلِّهَا فَأَخَذْنَٰهُمْ أَخْذَ عَزِيزٍ مُّقْتَدِرٍ
أَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِّنْ أُو۟لَٰٓئِكُمْ أَمْ لَكُم بَرَآءَةٌ فِى ٱلزُّبُرِ
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ
سَيُهْزَمُ ٱلْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ ٱلدُّبُرَ
بَلِ ٱلسَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَٱلسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ
إِنَّ ٱلْمُجْرِمِينَ فِى ضَلَٰلٍ وَسُعُرٍ
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى ٱلنَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا۟ مَسَّ سَقَرَ
إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَٰهُ بِقَدَرٍ
آیت 28 { وَنَــبِّئْہُمْ اَنَّ الْمَآئَ قِسْمَۃٌم بَیْنَہُمْ ج کُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ۔ } ”اور انہیں بتا دیجیے کہ اب پانی ان کے مابین تقسیم ہوگا ‘ ہر پینے کی باری پر حاضری ہوگی۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کے مطالبے پر ایک چٹان سے حاملہ اونٹنی پیدا کردی اور اس کا نام ناقۃُ اللّٰہ اللہ کی اونٹنی ] الاعراف : 73 اور ہود : 64 [ رکھا۔ وہ اونٹنی جب چشمے پر پانی پینے کے لیے آتی تو اس کی ہیبت سے ان کے تمام مویشی بدک کر بھاگ جاتے تھے۔ بالآخر باہمی مشورے سے طے ہوا کہ ایک دن اونٹنی پانی پئے گی اور دوسرے دن ان کے مال مویشی پانی پینے کے لیے آئیں گے۔ چناچہ جب وہ دوسرے دن چشمے پر آتی تو چشمے کا سارا پانی پی جاتی۔
آیت 29 { فَنَادَوْا صَاحِبَہُمْ فَتَعَاطٰی فَعَقَرَ۔ } ”تو انہوں نے پکارا اپنے ایک ساتھی کو ‘ پس اس نے ہاتھ بڑھایا اور اس کی کونچیں کاٹ دیں۔“ انہوں نے اس اونٹنی سے جان چھڑانے کے لیے اپنی قوم کے ایک ایسے شخص کو تیار کیا جو ان میں سب سے زیادہ سخت دل تھا۔ اس بدبخت نے ناقۃ اللہ پر حملہ کر کے اسے مار ڈالا۔
آیت 30 { فَـکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔ } ”پھر کیسا رہا میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا ؟“
آیت 31 { اِنَّــآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَـکَانُوْا کَہَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ۔ } ”ہم نے ان پر بس ایک ہی چنگھاڑ بھیجی تو وہ باڑھ لگانے والے کی روندی ہوئی باڑھ کی طرح چورا ہو کر رہ گئے۔“ اگر جانوروں کا کوئی بڑا سا گلہ کسی کھیت کی باڑھ کو روندتا ہوا گزر جائے تو وہ باڑھ چورا چورا ہوجاتی ہے ‘ بالکل اسی طرح وہ نافرمان لوگ بھی چورا چورا ہو کر پڑے رہ گئے۔
آیت 32 { وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ } ”اور ہم نے تو اس قرآن کو آسان کردیا ہے سمجھنے کے لیے ‘ تو ہے کوئی سوچنے سمجھنے والا ؟“
آیت 33{ کَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍ م بِالنُّذُرِ۔ } ”لوط علیہ السلام کی قوم نے بھی خبردار کرنے والوں کو جھٹلایا۔“
آیت 34 { اِنَّـآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ حَاصِبًا اِلَّآ اٰلَ لُوْطٍ ط نَجَّیْنٰـہُمْ بِسَحَرٍ۔ } ”ہم نے ان پر بھیج دی ایک ایسی تیز آندھی جس میں پتھر تھے ‘ سوائے لوط کے گھر والوں کے۔ ان کو ہم نے نجات دے دی صبح کے وقت۔“
آیت 35 { نِّعْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَاط کَذٰلِکَ نَجْزِیْ مَنْ شَکَرَ۔ } ”وہ نعمت تھی ہمارے پاس سے۔ اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں اس کو جو شکر کرتا ہے۔“
آیت 36 { وَلَقَدْ اَنْذَرَہُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ۔ } ”اور لوط علیہ السلام نے ان کو خبردار کردیا تھا ہماری پکڑ سے ‘ لیکن انہوں نے شک کیا ان چیزوں پر جن کے بارے میں انہیں خبردار کیا گیا تھا۔“ وہ ہماری تنبیہات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے۔
آیت 7 3{ وَلَقَدْ رَاوَدُوْہُ عَنْ ضَیْفِہٖ فَطَمَسْنَـآ اَعْیُنَہُمْ } ”اور انہوں نے اس سے اس کے مہمانوں کو لے جانا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھوں کو مٹا دیا“ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے بدکردار لوگ ان خوبصورت مہمان لڑکوں کو حاصل کرنا چاہتے تھے جو اصل میں فرشتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو اندھا کردیا۔ بائبل میں اس کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے کہ ان میں سے ایک فرشتے نے ان لوگوں کی طرف اپنا ہاتھ پھیلایا تو وہ سب کے سب اندھے ہوگئے۔ { فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔ } ”تو مزا چکھو اب میرے عذاب کا اور میرے خبردار کرنے کا۔“
آیت 38 { وَلَقَدْ صَبَّحَہُمْ بُـکْرَۃً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ۔ } ”اور ان پر صبح ہی صبح آ دھمکا ایک عذاب جو کہ ٹھہر چکا تھا۔“
آیت 39 { فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔ } ”تو چکھو مزا اب میرے عذاب کا اور میرے خبردار کرنے کا۔“
آیت 40 { وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ } ”اور ہم نے آسان کردیا ہے قرآن سمجھنے کو ‘ تو ہے کوئی سوچنے سمجھنے والا ؟“ یہ آیت یہاں چوتھی اور آخری مرتبہ آئی ہے۔
آیت 41 { وَلَقَدْ جَآئَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ۔ } ”اسی طرح قوم فرعون کے پاس بھی آئے تھے خبردار کرنے والے۔“
آیت 42 { کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا کُلِّہَا } ”انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا“ سورة بنی اسرائیل کی آیت 101 میں ان نشانیوں کی تعداد نو 9 بتائی گئی ہے : { وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی تِسْعَ اٰیٰتٍم بَـیِّنٰتٍ } ”اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں“۔ ان میں دو نشانیاں تو آپ علیہ السلام کو ابتدا میں عطا ہوئی تھیں یعنی عصا کا اژدھا بن جانا اور ہاتھ کا چمکدار ہوجانا۔ جبکہ سات نشانیاں وہ تھیں جن کا ذکر سورة الاعراف کے سولہویں رکوع میں آیا ہے۔ یہ نشانیاں قوم فرعون پر وقتاً فوقتاً عذاب کی صورت میں نازل ہوتی رہیں۔ { فَاَخَذْنٰــہُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ۔ } ”پھر ہم نے انہیں پکڑا ‘ ایک زبردست ‘ صاحب قدرت کا پکڑنا۔“ یعنی یہ کوئی معمولی اور کمزور پکڑ نہیں تھی کہ اس سے کوئی نکل بھاگتا ‘ بلکہ اس اللہ کی پکڑ تھی جو زبردست طاقت کا مالک ہے اور کائنات کے ہر معاملے میں اسے پوری قدرت حاصل ہے۔ ان پیغمبروں اور ان کی نافرمان قوموں کے انجام کا ذکر کرنے کے بعد اب روئے سخن حضور ﷺ اور کفارِ مکہ کی طرف پھیرا جا رہا ہے۔
آیت 43 { اَکُفَّارُکُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓئِکُمْ } ”تو اے قریش ! کیا تمہارے کفار اُن کفار سے کچھ بہتر ہیں ؟“ زمانہ سابق میں جن قوموں نے کفر کی روش اختیار کی ان کے انجام سے متعلق تمام تفصیلات تم لوگ جان چکے ہو۔ اب ذرا سوچو کہ تم میں سے جو لوگ ہمارے رسول ﷺ کا انکار کر کے کفر کے مرتکب ہو رہے ہیں ‘ کیا وہ کسی خاص خوبی کے حامل ہیں کہ گزشتہ کافر اقوام کی طرح ان پر عذاب نہیں آئے گا ؟ { اَمْ لَـکُمْ بَرَآئَ ۃٌ فِی الزُّبُرِ۔ } ”یا تمہارے لیے سابقہ الہامی کتب میں کوئی فارغ خطی آچکی ہے ؟“ تم میں آخر کیا خوبی ہے کہ جس تکذیب اور ہٹ دھرمی کی روش پر پچھلی قوموں کو سزا دی گئی ہے وہی روش تم اختیار کرو تو تمہیں سزا نہ دی جائے ؟ کیا تمہارے لیے آسمانی صحیفوں میں کوئی براءت نامہ لکھا ہوا ہے کہ تم پر عذاب نہیں آئے گا ؟
آیت 44 { اَمْ یَـقُوْلُـوْنَ نَحْنُ جَمِیْـعٌ مُّنْتَصِرٌ۔ } ”یا یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک طاقتور جمعیت ہیں اور بدلہ لینے پر قادر ہیں ؟“
آیت 45 { سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُـوَلُّــوْنَ الدُّبُرَ۔ } ”عنقریب ان کی جمعیت شکست کھاجائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔“ یہ پیشین گوئی جو ہجرت سے پانچ سال پہلے کردی گئی تھی ‘ میدانِ بدر میں حرف بحرف پوری ہوئی۔ روایات میں آتا ہے کہ غزوئہ بدر سے پہلی رات میں حضور ﷺ نے سجدے کی حالت میں رو رو کر دعا کی۔ آپ ﷺ کا یہ سجدہ بہت طویل تھا اور دعا بھی بہت طویل تھی۔ آپ ﷺ کی اس دعا کا لب لباب یہ تھا کہ اے اللہ ! میں نے اپنی پندرہ سال کی کمائی لا کر اس میدان میں ڈال دی ہے۔ میں آخری رسول ہوں ‘ میرے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ اے اللہ ! اس معرکے میں اگر یہ لوگ ہلاک ہوگئے تو پھر قیامت تک اس زمین پر تیری بندگی کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اس رات آپ ﷺ کے عریشے پر پہرے کے لیے حضرت ابوبکر رض مامور تھے ‘ وہ سجدے میں آپ ﷺ کی کیفیت کا مشاہدہ کر رہے تھے اور دعا کے رقت آمیز الفاظ سن رہے تھے۔ اس دوران ایک موقع ایسا بھی آیا جب حضرت ابوبکر رض سے رہا نہ گیا اور وہ پکار اٹھے : حَسْبُکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ … کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! اب بس کردیجیے۔ پھر جب حضور ﷺ نے سجدے سے سر مبارک اٹھایا تو آپ ﷺ کی زبان مبارک پر یہی الفاظ تھے : { سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُـوَلُّــوْنَ الدُّبُرَ۔ } کہ یہ لوگ اپنی طرف سے بہت بڑا لشکر لے کر آئے ہیں۔ ان کا یہ لشکر یہاں شکست سے دوچار ہوگا اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ 1
آیت 46{ بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُہُمْ وَالسَّاعَۃُ اَدْہٰی وَاَمَرُّ۔ } ”بلکہ ان کے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور قیامت بہت بڑی آفت ہے اور بہت زیادہ کڑوی ہے۔“ عربی میں کڑوی چیز کو مُـرٌّ کہتے ہیں اور اَمَرُّ کے معنی ہیں بہت ہی زیادہ کڑوی۔ سیاقِ مضمون میں اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ حق و باطل کی اس کشمکش میں پے درپے شکست مشرکین عرب کا مقدر ہے۔ عنقریب 9 ہجری میں ان پر ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے جب جزیرہ نمائے عرب کی سرزمین ان پر تنگ ہوجائے گی۔ اس وقت ان کے پاس اسلام قبول کرنے یا حدود عرب سے باہر چلے جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ ایک مضبوط جمعیت اور اعلیٰ پائے کی جنگی صلاحیت کے باوجود ان کی یہ ہزیمتیں ‘ نقصانِ مال و جان اور ذلت و رسوائی اللہ کے عذاب ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ لیکن یہ تو چھوٹے چھوٹے عذاب ہیں اور دنیا کی زندگی کی حد تک عارضی نوعیت کی تکالیف ہیں۔ جبکہ انہیں بہت بڑے اور دائمی عذاب کا سامنا تو آخرت میں کرنا پڑے گا۔
آیت 47 { اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۔ } ”یقینا یہ مجرمین گمراہی میں ہیں اور یہ آگ کے مختلف طبقات میں ہوں گے۔“
آیت 48 { یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ ط } ”جس دن یہ گھسیٹے جائیں گے آگ میں اپنے چہروں کے بل۔“ { ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ۔ } ”ان سے کہا جائے گا : اب چکھوآگ کی لپٹ کا مزا !“
آیت 49 { اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنٰـہُ بِقَدَرٍ۔ } ”یقینا ہم نے ہرچیز ایک اندازے کے مطابق پیدا کی ‘ ہے۔