بل الساعة موعدھم ............ وامر (45: 6 4) ” بلکہ ان سے نمٹنے کے لئے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور وہ بڑی آفت اور زیادہ تلخ ساعت ہے۔ “ اس عذاب سے جو انہوں نے دیکھا ہے یا اس زمین کی زندگی میں دیکھیں گے یا ان تمام عذابوں سے زیادہ تلخ جو اس سورت میں بیان ہوئے ہیں مثلاً طوفانا نوح ، باد صرصر ، سخت آواز اور پتھروں کی بارش والی ہوا اور فرعون کی زبردست غرقابی۔
اب تفصیلاً بتایا جاتا ہے کہ قیامت کا عذاب کس طرح سخت شدید اور تلخ ہوگا اور تفصیلات قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں بتائی جاتی ہے :۔
آیت 46{ بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُہُمْ وَالسَّاعَۃُ اَدْہٰی وَاَمَرُّ۔ } ”بلکہ ان کے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور قیامت بہت بڑی آفت ہے اور بہت زیادہ کڑوی ہے۔“ عربی میں کڑوی چیز کو مُـرٌّ کہتے ہیں اور اَمَرُّ کے معنی ہیں بہت ہی زیادہ کڑوی۔ سیاقِ مضمون میں اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ حق و باطل کی اس کشمکش میں پے درپے شکست مشرکین عرب کا مقدر ہے۔ عنقریب 9 ہجری میں ان پر ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے جب جزیرہ نمائے عرب کی سرزمین ان پر تنگ ہوجائے گی۔ اس وقت ان کے پاس اسلام قبول کرنے یا حدود عرب سے باہر چلے جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ ایک مضبوط جمعیت اور اعلیٰ پائے کی جنگی صلاحیت کے باوجود ان کی یہ ہزیمتیں ‘ نقصانِ مال و جان اور ذلت و رسوائی اللہ کے عذاب ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ لیکن یہ تو چھوٹے چھوٹے عذاب ہیں اور دنیا کی زندگی کی حد تک عارضی نوعیت کی تکالیف ہیں۔ جبکہ انہیں بہت بڑے اور دائمی عذاب کا سامنا تو آخرت میں کرنا پڑے گا۔