سورۃ القصص: آیت 25 - فجاءته إحداهما تمشي على استحياء... - اردو

آیت 25 کی تفسیر, سورۃ القصص

فَجَآءَتْهُ إِحْدَىٰهُمَا تَمْشِى عَلَى ٱسْتِحْيَآءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِى يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا ۚ فَلَمَّا جَآءَهُۥ وَقَصَّ عَلَيْهِ ٱلْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ ۖ نَجَوْتَ مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ

اردو ترجمہ

(کچھ دیر نہ گزری تھی کہ) ان دونوں عورتوں میں سے ایک شرم و حیا سے چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور کہنے لگی "میرے والد آپ کو بُلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں" موسیٰؑ جب اس کے پاس پہنچا اور اپنا سارا قصہ اسے سُنایا تو اس نے کہا "کچھ خوف نہ کرو، اب تم ظالموں سے بچ نکلے ہو"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fajaathu ihdahuma tamshee AAala istihyain qalat inna abee yadAAooka liyajziyaka ajra ma saqayta lana falamma jaahu waqassa AAalayhi alqasasa qala la takhaf najawta mina alqawmi alththalimeena

آیت 25 کی تفسیر

فجآء تہ احدھما ۔۔۔۔۔ اجر ما سقیت لنا۔

”(کچھ دیر نہ گزری تھی) ان دونوں عورتوں میں سے ایک شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور کہنے لگی “۔ میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے لیے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں “۔

اللہ کے فضل وکرم کے کیا کہنے ، حضرت موسیٰ اللہ کے کس قدر قریب ہیں ، ان کی پکار کس قدر تیزی سے سنی جاتی ہے۔ دو عورتوں کے والد سن رسید شیخ عالم بالا کی ہدایت پر حضرت موسیٰ کو دعوت دیتے ہیں ، یہ دعوت عزت و احترام پر مبنی پناہ عطا کرنے اور جزائے احسان دینے کے لیے ہے۔ یہ دعوت لے کر ان دو دوشیزاؤں میں سے ایک آتی ہے اور وہ تمشی علی استحیآء (28: 25) ” شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی ہے “۔ اس کی روش میں وقار ہے ، عامیت نہیں ہے ، وہ مقامات زینت کا اظہار نہیں کرتی بلکہ ان کو چھپا رہی ہے۔ نہ نسوانی غرور ہے اور نہ جاذبیت کا اظہار ہے۔ وہ آتی ہے اور والد کی طرف سے نہایت ہی مختصر ، جامع الفاظ میں یہ دعوت دیتی ہے۔ قرآن کریم نے اس کے الفاظ نقل کیے ہیں۔

ان ربی ۔۔۔۔۔ سقیت لنا (28: 25) ” میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے ، اس کا اجر آپ کو دے دیں “۔ شرم و حیا کے دائرے میں نہایت وضاحت کے ساتھ ، جامع الفاظ میں یہ پیغام دیا جس میں کوئی بناوٹ کوئی جھجک کوئی توقف نہ تھا اور کوئی پیچیدگی یا لکنت نہ تھی۔ یہ اس طرح کیوں ہے ، اس لیے کہ فطرت سلیمہ ، عفیفہ اور سیدھے سادھے کیریکٹر والی خواتین کی روش ایسی ہی ہوتی ہے۔ سیدھی فطرت کی نوجوان عورت جب بھی مردوں سے ملتی ہے ، اسے حیا آتی ہے۔ وہ مردوں سے بات کرتے ہوئے شرماتی ہے لیکن یہ لڑکی چونکہ پر اعتماد اور عفیف اور سلیم الفطرت ہے۔ اس لیے اس کی باتوں میں کوئی اضطراب نہیں ہے۔ ورنہ گری ہوئی فطرت اور کردار کی لڑکیاں ایسے موقع پر ناز ، و انداز اور کشش و ہیجان پیدا کرنے کا رویہ اختیار کرتی ہیں۔ لیکن اس لڑکی نے بس نہایت ہی مختصر الفاظ میں مطلوبہ پیغام پہنچا دیا۔ کوئی ایک لفظ بھی ضرورت سے زیادہ منہ سے نہیں نکالا۔

قرآن کریم بھی اس منظر کی یہی جھلک دکھاتا ہے اور اس پر کوئی اضافہ نہیں کرتا۔ صرف شیخ کبیر کی طرف سے ایک لڑکی انہیں دعوت پیش کرتی ہے۔ موسیٰ قبول کرلیتے ہیں اور پردہ گرتا ہے۔ اگلا منظر دونوں کی ملاقات کا ہے۔ اس شیخ کبیر کا نام قرآن مجید نے نہیں لیا ہے۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ مشہور نبی حضرت شعیب (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور ان کا نام یثرون تھا۔

فلما جآءہ وقص ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ من القوم الظلمین (25)

” موسیٰ جب اس کے پاس پہنچا اور اپنا سارا قصہ اسے سنایا تو اس نے کہا ” کچھ خوف نہ کرو ، اب تم ظالم لوگوں سے بچ نکلے ہو “

حضرت موسیٰ کو اس وقت سب سے پہلے جائے امن کی ضرورت تھی۔ نیز انہیں ایسی جگہ کی ضرورت تھی جہاں ان کے کھانے پینے کا انتظام ہوجائے۔ لیکن ان کو کھانے پینے کی ضروریات سے زیادہ احتیاج ایک پر امن اور مامون و محفوظ ٹھکانے کا تھا۔ یہی وجہ ہے اس سنجیدہ اور سن رسیدہ بوڑھے نے سب سے پہلے انہیں کہا تخف ” خوف نہ کرو “۔ اس شخص نے ان کو سب سے پہلے جو بات کہی کہ آپ اطمینان رکھیں ، ڈریں نہیں اور اس یقین دہانی کے بعد یہ فرمایا

نجوت من القوم الظلمین (28: 25) ” اب تم ظالم لوگوں سے بچ نکلے ہو “ مدین پر ان کی حکومت نہیں ہے۔ مدین کے باشندے کو مصری کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔

قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْکَ لِیَجْزِیَکَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا ط ”یعنی آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی پلانے کے لیے جو مشقت اٹھائی ‘ ہمارے والد آپ کو اس کا کچھ اجر دینا چاہتے ہیں۔فَلَمَّا جَآءَ ہٗ وَقَصَّ عَلَیْہِ الْقَصَصَلا ”اس آیت میں لفظ ”القَصَص“ آیا ہے اور اسی مناسبت سے اس سورة کا نام القَصَصہے۔قَالَ لَا تَخَفْقف نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ”یعنی آپ علیہ السلام کے ان دشمنوں کی اس علاقے تک رسائی نہیں۔ یہاں آپ کو کسی قسم کی پریشانی یا تکلیف نہیں ہوگی۔ آپ یہاں آرام سے رہ سکتے ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہاں جس شخصیت کا ذکر ہے وہ حضرت شعیب علیہ السلام تھے ‘ اس لیے کہ حضرت شعیب علیہ السلام کے مدین میں مبعوث ہونے کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ چناچہ علامہ اقبال نے بھی اس شعر میں اسی طرف اشارہ کیا ہے : اگر کوئی شعیب علیہ السلام آئے میسر شبانی سے کلیمی دو قدم ہے !یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام آٹھ یا دس سال تک چرواہے کی حیثیت سے حضرت شعیب علیہ السلام کی خدمت میں رہے اور یہ اسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ آپ علیہ السلام چرواہے سے کلیم اللہ بن گئے۔ اس مفروضہ کو اگر حقائق و واقعات کی روشنی میں پرکھا جائے تو یہ درست ثابت نہیں ہوتا۔ حضرت شعیب علیہ السلام کے بارے میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ آپ علیہ السلام اللہ کے رسول علیہ السلام تھے۔ اور کوئی بھی رسول علیہ السلام جب کسی قوم کی طرف مبعوث ہوتا ہے تو اس کی بعثت یا رسالت دو ادوار پر مشتمل ہوتی ہے۔ ایک دعوت کا دور اور دوسرا نزول عذاب کے بعد کا دور۔ اب اگر یہ فرض کیا جائے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حضرت شعیب علیہ السلام سے ملاقات آپ علیہ السلام کے زمانۂ دعوت میں ہوئی تھی یعنی اس وقت تک ابھی اہل مدین آپ علیہ السلام کی تکذیب کر کے عذاب کے مستحق نہیں ہوئے تھے تو اس واقعہ کا رنگ بالکل ہی مختلف ہونا چاہیے تھا اور اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس زمانے میں مدین پہنچے تھے جب اہل مدین پر عذاب آچکا تھا اور حضرت شعیب علیہ السلام اس وقت عذاب سے محفوظ رہ جانے والے مؤمنین کے ساتھ رہ رہے تھے تو ایسی صورت میں یہ ہرگز ممکن نہ تھا کہ اللہ کے رسول کی بیٹیاں یوں پریشان حال جنگل میں بکریاں چراتی پھرتیں اور امت میں سے کوئی ان کا پرسان حال نہ ہوتا۔ بہر حال واقعہ کا انداز خود بتارہا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات جس شخصیت سے ہوئی تھی وہ حضرت شعیب علیہ السلام نہیں تھے ‘ بلکہ حضرت شعیب علیہ السلام کے ساتھ بچ جانے والے مؤمنین کی نسل میں سے کوئی نیک سیرت بزرگ تھے۔ اب یہ معلوم کرنا تو مشکل ہے کہ یہ واقعہ حضرت شعیب علیہ السلام کے کتنے عرصے بعد کا ہے ‘ بہرحال اس وقت تک حضرت شعیب علیہ السلام کی تعلیمات کے کچھ نہ کچھ اثرات معاشرے کے اندر موجود تھے۔

حضرت موسیٰ اور شعیب (علیہما السلام) کا معاہدہ ان دونوں بچیوں کی بکریوں کو جب حضرت موسیٰ ؑ نے پانی پلادیا تو یہ اپنی بکریاں لیکر واپس اپنے گھر گئیں۔ باپ نے دیکھا کہ آج وقت سے پہلے یہ آگئیں ہیں تو دریافت فرمایا کہ آج کیا بات ہے ؟ انہوں نے سچا واقعہ کہہ سنایا۔ آپ نے اسی وقت ان دونوں میں سے ایک کو بھیجا کہ جاؤ اور ان کو میرے پاس لے آؤ۔ وہ حضرت موسیٰ ؑ کے پاس آئیں اور جس طرح گھر گھر ہست پاک دامن عفیفہ عورتوں کا دستور ہوتا ہے شرم وحیا سے اپنی چادر میں لپٹی ہوئی پردے کے ساتھ چل رہی تھی۔ منہ بھی چادر کے کنارے سے چھپائے ہوئے تھیں پھر اس دانائی اور صداقت کو دیکھئے کہ صرف یہی نہی کہا کہ میرے ابا آپ کو بلا رہے ہیں کیونکہ اس میں شبہ کی باتوں کی گنجائش تھی صاف کہہ دیا کہ میرے والد آپ کی مزدوری دینے کے لئے اور اس احسان کا بدلہ اتارنے کے لئے بلا رہے ہیں۔ جو آپ نے ہماری بکریوں کو پانی پلاکر ہمارے ساتھ کیا ہے۔ کلیم اللہ کو جو بھوکے پیاسے تن تنہا مسافر اور بےخرچ تھے یہ موقعہ غنیمت معلوم ہوا یہاں آئے۔ انہیں ایک بزرگ سمجھ کر ان کے سوال پر اپنا سارا واقعہ بلاکم وکاست سنایا۔ انہوں نے دل جوئی کی اور فرمایا اب کیا خوف ہے ؟ ان ظالموں کے ہاتھ سے آپ نکل آئے۔ یہاں ان کی حکومت نہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ بزرگ حضرت شعیب ؑ تھے جو مدین والوں کی طرف اللہ کے نبی بن کر آئے ہوئے تھے۔ یہ مشہور قول امام حسن بصری رحمۃ اللہ کا ہے اور بہت سے علماء بھی یہی فرماتے ہیں۔ طبرانی کی ایک حدیث میں ہے کہ جب حضرت سعد ؓ اپنی قوم کی طرف سے ایلچی بن کر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا شعیب کی قوم اور موسیٰ کے سسرال والوں کو مرحبا ہو کہ تمہیں ہدایت کی گئی۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ حضرت شعیب کے بھتیجے تھے کوئی کہتا ہے کہ قوم شعیب کے ایک مومن مرد تھے۔ بعض کا قول ہے کہ شعیب ؑ کا زمانہ تو حضرت موسیٰ ؑ کے زمانے سے بہت پہلے کا ہے۔ ان کا قول قرآن میں اپنی قوم سے یہ مروی ہے کہ (وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ 89 ؀) 11۔ ھود :89) لوط کی قوم تم سے کچھ دور نہیں۔ اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ لوطیوں کی ہلاکت حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے زمانے میں ہوئی تھی۔ اور یہ بھی بہت ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ ؑ کے درمیان کا زمانہ بہت لمبا زما نہ ہے۔ تقریبا چار سو سال کا ہے جیسے اکثر مورخین کا قول ہے ہاں بعض لوگوں نے اس مشکل کا یہ جواب دیا ہے کہ حضرت شعیب کی بڑی لمبی عمر ہوئی تھی۔ ان کا مقصد غالبا اس اعتراض سے بچنا ہے واللہ اعلم۔ ایک اور بات بھی خیال میں رہے کہ اگر یہ بزرگ حضرت شعیب ؑ ہی ہوئے تو چاہئے تھا کہ قرآن میں اس موقعہ پر ان کا نام صاف لے دیا جاتا۔ ہاں البتہ بعض احادیث میں یہ آیا ہے کہ یہ حضرت شعیب ؑ تھے۔ لیکن ان احادیث کی سندیں صحیح نہیں جیسے کہ ہم عنقریب وارد کریں گے انشاء اللہ تعالٰی، بنی اسرائیل کی کتابوں میں ان کا نام ثیرون بتلایا گیا ہے واللہ اعلم۔ حضرت ابن مسعود کے صاحبزادے فرماتے ہیں ثیرون حضرت شعیب کے بھتیجے تھے۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ یثربی تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں یہ بات اس وقت ہوتی کہ جب اس بارے میں کوئی خبر مروی ہوتی اور ایسا ہے نہیں۔ ان کی دونوں صاحبزادیوں میں سے ایک نے باپ کی توجہ دلائی۔ یہ توجہ دلانے والی صاحبزادی وہی تھیں جو آپ کو بلانے گئی تھیں۔ کہا کہ انہیں آپ ہماری بکریوں کی چرائی پر رکھ لیجئے کیونکہ وہ کام کرنے والا اچھا ہوتا ہے جو قوی اور امانت دار ہو۔ باپ نے بیٹی سے پوچھا تم نے یہ کیسے جان لیا کہ ان میں یہ دونوں وصف ہیں۔ بچی نے جواب دیا کہ دس آدمی مل کر جس پتھر کو کنویں سے ہٹا سکتے تھے انہوں نے تنہا اس کو ہٹادیا ان سے انکی قوت کا اندازہ با آسانی ہوسکتا ہے۔ امانت داری کا علم مجھے اس طرح ہوا کہ جب میں انہیں لے کر آپ کے پاس آنے لگی تو اس لئے کہ راستے سے ناواقف تھے میں آگے ہولی انہوں نے کہا تم میرے پیچھے رہو اور جہاں راستہ بدلنا ہو اس طرف کنکر پھینک دینا میں سمجھ لونگا کہ مجھے اس راستے چلنا چاہیے۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں تین شخص کی سی زیرکی، معاملہ فہی، دانائی اور دوربینی کسی اور میں نہیں پائی گئی۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی دانائی کہ جب انہوں نے اپنے بعد خلافت کے لئے جناب عمر ؓ کو منتخب کیا۔ حضرت یوسف کے خریدنے والے مصری جنہوں نے بیک نظر حضرت یوسف کو پہچان لیا اور جاکر اپنی بیوی سے فرمایا کہ انہیں اچھی طرح رکھو۔ اور اس بزرگ کی صاحبزادی جنہوں نے حضرت موسیٰ کی نسبت اپنے باپ سے سفارش کی کہ انہیں اپنے کام پر رکھ لیجئے۔ یہ سنتے ہی اس بچی کے باپ نے فرمایا کہ اگر آپ پسند کریں تو میں اس مہر پر ان دو بچیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کے ساتھ کردیتا ہوں کہ آپ آٹھ سال تک ہماری بکریاں چرائیں۔ ان دونوں کا نام صفورا اور اولیا تھا یا صفورا اور شرفایا صفوررا ورلیا۔ اصحاب ابی حنیفہ رحمۃ اللہ نے اسی سے استدلال کیا ہے کہ جب کوئی شخص اس طرح کی بیع کرے کہ ان دوغلاموں میں سے ایک کو ایک سو کے بدلے فروخت کرتا ہوں اور خریدار منظور کرلے تو یہ بیع ثابت اور صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ اس بزرگ نے کہا کہ آٹھ سال تو ضروری ہے اس کے بعد آپ کو اختیار ہے دس سال کا۔ اگر آپ اپنی خوشی سے دو سال تک اور بھی میرا کام کریں تو اچھا ہے ورنہ آپ پر لازمی نہیں۔ آپ دیکھیں گے کی میں بد آدمی نہیں آپ کو تکلیف نہ دونگا۔ امام اوزاعی نے اس سے استدلال کرکے فرمایا ہے کہ اگر کوئی کہے میں فلاں چیز کو نقد دس اور ادھار بیس پر بیچتا ہوں تو یہ بیع صحیح ہے اور خریدار کو اختیار ہے کہ دس پر نقد لے بیس پر ادھارلے۔ وہ اس حدیث کا بھی یہی مطلب لے رہے ہیں جس میں ہے جو شخص دو بیع ایک بیع میں کرے اسکے لئے کمی والی بیع ہے یا سود۔ لیکن یہ مذہب غور طلب ہے جس کی تفصیل کا یہ مقام نہیں واللہ اعلم۔ اصحاب امام محمد نے اس آیت سے استدلال کرکے کہا ہے کہ کھانے پینے اور کپڑے پر کسی کو مزدوری اور کام کاج پر لگالینا درست ہے۔ اس کی دلیل میں ابن ماجہ کی ایک حدیث بھی ہے جو اس بات میں ہے کہ مزدور مقرر کرنا اس مزدوری پر کہ وہ پیٹ بھر کر کھانا کھالیاکرے گا اس میں حدیث لائیں ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة طس کی تلاوت کی جب حضرت موسیٰ کے ذکر تک پہنچے تو فرمانے لگے موسیٰ ؑ نے اپنے پیٹ کے بھرنے اور اپنی شرم گاہ کو بچانے کے لئے آٹھ سال یادس سال کے لئے اپنے آپ کو ملازم کرلیا۔ اس حدیث کا راوی مسلمہ بن علی خشنی ہے جو ضعیف ہے۔ یہ حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے لیکن وہ سند بھی نظر سے خالی نہیں۔ کلیم اللہ نے برزگ کی اس شرط کو قبول کرلیا اور فرمایا کہ ہم تم میں یہ طے شدہ فیصلہ ہے مجھے اختیار ہوگا کہ خواہ دس سال پورے کروں یا آٹھ سال کے بعد چھوڑ دوں آٹھ سال کے بعد آپ کا کوئی حق مزدوری مجھ پر لازم نہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کو اپنے اس معاملہ پر گواہ کرتے ہیں اسی کی کارسازی کافی ہے۔ تو گو دس سال پورا کرنا مباح ہے لیکن وہ فاضل چیز ہے ضروری نہیں ضروری آٹھ سال ہیں جیسے منی کے آخری دو دن کے بارے میں اللہ کا حکم ہے اور جیسے کہ حدیث میں ہے حضور ﷺ نے حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ سے فرمایا تھا جو بکثرت روزے رکھا کرتے تھے کہ اگر تم سفر میں روزے رکھو تو تمہیں اختیار ہے اور اگر نہ رکھو تو تمہیں اختیار ہے باوجودیکہ دوسری دلیل سے رکھنا افضل ہے۔ چناچہ اس کی دلیل بھی آچکی ہے کہ حضرت موسیٰ نے دس سال ہی پورے کئے۔ بخاری شریف میں ہے سعید بن جبیر سے یہودیوں نے سوال کیا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے آٹھ سال پورے کئے تھے یادس سال ؟ تو آپ نے فرمایا کہ مجھے خبر نہیں پھر میں عرب کے بہت بڑے عالم حضرت ابن عباس کے پاس گیا اور ان سے یہی سوال کیا تو آپ نے فرمایا ان دونوں میں جو زیادہ اور پاک مدت تھی وہی آپ نے پوری کی یعنی دس سال۔ اللہ تعالیٰ کے نبی جو کہتے ہیں پورا کرتے ہیں۔ حدیث فنون میں ہے کہ سائل نصرانی تھا لیکن بخاری میں جو ہے وہی اولیٰ ہے۔ واللہ اعلم۔ ابن جریر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرائیل ؑ سے سوال کیا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے کون سی مدت پوری کی تھی تو جواب ملا کہ ان دونوں میں سے جو کامل اور مکمل مدت تھی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ سے کسی نے پوچھا آپ نے جبرائیل سے پوچھا جبرائیل نے اور فرشتے سے یہاں تک کہ فرشتے نے اللہ سے۔ اللہ نے جواب دیا کہ دونوں میں ہی پاک اور پوری مدت یعنی دس سال۔ ایک حدیث میں ہے کہ حضرت ابوذر ؓ کے سوال پر حضور ﷺ نے دس سال کی مدت کا پورا کرنا بتایا کہ یہ بھی فرمایا کہ اگر تجھ سے پوچھا جائے کہ کون سی لڑکی سے حضرت موسیٰ ؑ نے نکاح کیا تھا تو جواب دینا کہ دونوں میں جو چھوٹی تھیں اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے مدت دراز کو پورا کرنا بتایا پھر فرمایا کہ جب موسیٰ حضرت شیعب ؑ سے رخصتی لے کر جانے لگے تو اپنی بیوی صاحبہ سے فرمایا کہ اپنے والد سے کچھ بکریاں لے لو جن سے ہمارا گزارہ ہوجائے آپ نے اپنے والد سے سوال کیا جس پر انہوں نے وعدہ کیا کہ اس میں سے جتنی چت کبری بکریاں ہونگی سب تمہاری حضرت موسیٰ ؑ نے بکریوں کے پیٹ پر اپنی لکڑی پھیری تو ہر ایک کو دو دو تین تین بچے ہوئے اور سب کے سب چت کبرے جن کی نسل اب تک تلاش کرنے سے مل سکتی ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ حضرت شعیب کی سب بکریاں کالے رنگ کی خوبصورت تھیں۔ جتنے بچے ان کے اس سال ہوئے سب کے سب بےعیب تھے اور بڑے بڑے بھرے ہوئے تھنوں والے اور زیادہ دودھ دینے والے ان تمام روایتوں کا مدار عبد اللہ بن لہیعہ پر ہے جو حافظہ کے اچھے نہیں اور ڈر ہے کہ یہ روایتیں مرفوع نہ ہوں۔ چناچہ اور سند سے یہ انس بن مالک ؓ سے موقوفا مروی ہے۔ اور اس میں یہ بھی ہے کہ سب بکریوں کے بچے اس سال ابلق ہوئے سوائے ایک بکری کے۔ جن سب کو آپ لے گئے۔ ؑ

آیت 25 - سورۃ القصص: (فجاءته إحداهما تمشي على استحياء قالت إن أبي يدعوك ليجزيك أجر ما سقيت لنا ۚ فلما جاءه وقص عليه القصص...) - اردو