اس صفحہ میں سورہ Al-Qasas کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ القصص کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْيَنَ قَالَ عَسَىٰ رَبِّىٓ أَن يَهْدِيَنِى سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ
وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِّنَ ٱلنَّاسِ يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِهِمُ ٱمْرَأَتَيْنِ تَذُودَانِ ۖ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا ۖ قَالَتَا لَا نَسْقِى حَتَّىٰ يُصْدِرَ ٱلرِّعَآءُ ۖ وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ
فَسَقَىٰ لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّىٰٓ إِلَى ٱلظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّى لِمَآ أَنزَلْتَ إِلَىَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ
فَجَآءَتْهُ إِحْدَىٰهُمَا تَمْشِى عَلَى ٱسْتِحْيَآءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِى يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا ۚ فَلَمَّا جَآءَهُۥ وَقَصَّ عَلَيْهِ ٱلْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ ۖ نَجَوْتَ مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ
قَالَتْ إِحْدَىٰهُمَا يَٰٓأَبَتِ ٱسْتَـْٔجِرْهُ ۖ إِنَّ خَيْرَ مَنِ ٱسْتَـْٔجَرْتَ ٱلْقَوِىُّ ٱلْأَمِينُ
قَالَ إِنِّىٓ أُرِيدُ أَنْ أُنكِحَكَ إِحْدَى ٱبْنَتَىَّ هَٰتَيْنِ عَلَىٰٓ أَن تَأْجُرَنِى ثَمَٰنِىَ حِجَجٍ ۖ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِندِكَ ۖ وَمَآ أُرِيدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ ۚ سَتَجِدُنِىٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ
قَالَ ذَٰلِكَ بَيْنِى وَبَيْنَكَ ۖ أَيَّمَا ٱلْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَٰنَ عَلَىَّ ۖ وَٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌ
آیت 22 وَلَمَّا تَوَجَّہَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ ”نقشے پر دیکھیں تو مصر جزیرہ نمائے سینا کے ایک طرف ہے جبکہ مدین کا علاقہ اس کے دوسری طرف واقع ہے۔ گویا مصر سے مدین جانے کے لیے آپ علیہ السلام کو پورا صحرائے سینا عبور کرنا تھا۔ آپ علیہ السلام نے مدین جانے کا عزم اس لیے کیا کہ یہ علاقہ فرعون کی سلطنت سے باہر تھا۔قَالَ عَسٰی رَبِّیْٓ اَنْ یَّہْدِیَنِیْ سَوَآء السَّبِیْلِ ”یعنی اس لق و دق صحرا میں سفر کرتے ہوئے میرا رب مسلسل میری راہنمائی کرتا رہے گا اور اس طرح میں راستہ بھٹکنے سے بچا رہوں گا۔ ظاہر ہے کہ ایک وسیع و عریض صحرا میں راستہ بھٹک جانے والے مسافر کا انجام تو ہلاکت ہی ہوسکتا ہے۔
آیت 23 وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ ”یہ کٹھن اور طویل سفر طے کرنے میں کتنا عرصہ لگا ہوگا اور اس دوران آپ علیہ السلام کو کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہوگا ‘ اس سب کچھ کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہے اور اب بات وہاں سے شروع ہو رہی ہے جب آپ علیہ السلام مدین کے کنویں پر پہنچ گئے :وَجَدَ عَلَیْہِ اُمَّۃً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَز ”آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ کنویں پر لوگوں کا ہجوم تھا اور وہ کنویں سے پانی نکال نکال کر اپنے جانوروں کو پلا رہے تھے۔وَوَجَدَ مِنْ دُوْنِہِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ ج ”ان عورتوں کی بکریاں پیاس کی وجہ سے پانی کی طرف جانے کے لیے بےتاب تھیں لیکن وہ ہجوم چھٹ جانے کے انتظار میں انہیں روکے کھڑی تھیں۔قَالَ مَا خَطْبُکُمَا ط ”حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے پوچھا کہ آپ اپنی بکریوں کو ایک طرف کیوں روکے کھڑی ہیں اور انہیں پانی کی طرف کیوں نہیں جانے دیتیں ؟قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰی یُصْدِرَ الرِّعَآءُسکۃ ”جب یہ تمام چرواہے اپنے اپنے جانوروں کو پانی پلا کر چلے جاتے ہیں تو اس کے بعد ہی ہم اپنے جانوروں کو پانی پلا سکتے ہیں۔وَاَبُوْنَا شَیْخٌ کَبِیْرٌ ”یعنی اصل میں تو یہ مردوں کے کرنے کا کام ہے مگر ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں ‘ گھر میں کوئی اور مرد ہے نہیں ‘ چناچہ مجبوراً ہم لڑکیوں کو ہی بکریاں چرانا پڑتی ہیں۔ باقی سب چرواہے مرد ہیں ‘ ہم ان کے ساتھ لڑ جھگڑ کر پانی پلانے کی باری نہیں لے سکتے۔ چناچہ ہم ان کے جانے کا انتظار کرتے ہیں اور ان سب کے چلے جانے کے بعد اپنی بکریوں کو پانی پلاتے ہیں۔
آیت 24 فَسَقٰی لَہُمَا ثُمَّ تَوَلّٰٓی اِلَی الظِّلِّ ”حضرت موسیٰ علیہ السلام بہت توانا اور قوی تھے۔ ان کی مردانہ غیرت نے گوارا نہ کیا کہ وہ لڑکیاں یوں بےبسی کی تصویر بنی کھڑی رہیں۔ چناچہ وہ کنویں کی طرف بڑھے اور سب چرواہوں کو پیچھے ہٹا کر ان کی بکریوں کو پانی پلانے کا انتظام کردیا۔ اس کے بعد وہ لڑکیاں اپنی بکریوں کو لے کر چلی گئیں اور آپ علیہ السلام ایک درخت کے سائے میں جا کر بیٹھ گئے۔ تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی :فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ ”یہ انتہائی عاجزی کی دعا ہے۔ ہم سب کو یہ دعا یاد کر لینی چاہیے۔ یہاں ”فَقِیْر“ کے لفظ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی انتہائی احتیاج کی جو تصویر سامنے آتی ہے ‘ اس کو تھوڑی دیر کے لیے ذرا اپنے تصور میں لائیے ! ناز و نعم میں پلا بڑھا ایک شخص جس کی پرورش شاہی محل میں ہوئی ‘ اچانک اپنا سب کچھ چھوڑ کر خالی ہاتھ تن تنہا ‘ جان بچا کر مصر سے نکلتا ہے ‘ نہ معلوم کیسی کیسی مشکلات اور تکالیف اٹھا کر صحرائے سینا عبور کرتا ہے ‘ پھر وہ ایک ایسے علاقے میں پہنچتا ہے جہاں اس کا نہ کوئی شناسا ہے نہ پرسان حال ‘ نہ سر چھپانے کی جگہ اور نہ روٹی روزی کا کوئی وسیلہ۔ گویا غربت اور محتاجی کی انتہا ہے !
قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْکَ لِیَجْزِیَکَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا ط ”یعنی آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی پلانے کے لیے جو مشقت اٹھائی ‘ ہمارے والد آپ کو اس کا کچھ اجر دینا چاہتے ہیں۔فَلَمَّا جَآءَ ہٗ وَقَصَّ عَلَیْہِ الْقَصَصَلا ”اس آیت میں لفظ ”القَصَص“ آیا ہے اور اسی مناسبت سے اس سورة کا نام القَصَصہے۔قَالَ لَا تَخَفْقف نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ”یعنی آپ علیہ السلام کے ان دشمنوں کی اس علاقے تک رسائی نہیں۔ یہاں آپ کو کسی قسم کی پریشانی یا تکلیف نہیں ہوگی۔ آپ یہاں آرام سے رہ سکتے ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہاں جس شخصیت کا ذکر ہے وہ حضرت شعیب علیہ السلام تھے ‘ اس لیے کہ حضرت شعیب علیہ السلام کے مدین میں مبعوث ہونے کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ چناچہ علامہ اقبال نے بھی اس شعر میں اسی طرف اشارہ کیا ہے : اگر کوئی شعیب علیہ السلام آئے میسر شبانی سے کلیمی دو قدم ہے !یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام آٹھ یا دس سال تک چرواہے کی حیثیت سے حضرت شعیب علیہ السلام کی خدمت میں رہے اور یہ اسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ آپ علیہ السلام چرواہے سے کلیم اللہ بن گئے۔ اس مفروضہ کو اگر حقائق و واقعات کی روشنی میں پرکھا جائے تو یہ درست ثابت نہیں ہوتا۔ حضرت شعیب علیہ السلام کے بارے میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ آپ علیہ السلام اللہ کے رسول علیہ السلام تھے۔ اور کوئی بھی رسول علیہ السلام جب کسی قوم کی طرف مبعوث ہوتا ہے تو اس کی بعثت یا رسالت دو ادوار پر مشتمل ہوتی ہے۔ ایک دعوت کا دور اور دوسرا نزول عذاب کے بعد کا دور۔ اب اگر یہ فرض کیا جائے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حضرت شعیب علیہ السلام سے ملاقات آپ علیہ السلام کے زمانۂ دعوت میں ہوئی تھی یعنی اس وقت تک ابھی اہل مدین آپ علیہ السلام کی تکذیب کر کے عذاب کے مستحق نہیں ہوئے تھے تو اس واقعہ کا رنگ بالکل ہی مختلف ہونا چاہیے تھا اور اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس زمانے میں مدین پہنچے تھے جب اہل مدین پر عذاب آچکا تھا اور حضرت شعیب علیہ السلام اس وقت عذاب سے محفوظ رہ جانے والے مؤمنین کے ساتھ رہ رہے تھے تو ایسی صورت میں یہ ہرگز ممکن نہ تھا کہ اللہ کے رسول کی بیٹیاں یوں پریشان حال جنگل میں بکریاں چراتی پھرتیں اور امت میں سے کوئی ان کا پرسان حال نہ ہوتا۔ بہر حال واقعہ کا انداز خود بتارہا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات جس شخصیت سے ہوئی تھی وہ حضرت شعیب علیہ السلام نہیں تھے ‘ بلکہ حضرت شعیب علیہ السلام کے ساتھ بچ جانے والے مؤمنین کی نسل میں سے کوئی نیک سیرت بزرگ تھے۔ اب یہ معلوم کرنا تو مشکل ہے کہ یہ واقعہ حضرت شعیب علیہ السلام کے کتنے عرصے بعد کا ہے ‘ بہرحال اس وقت تک حضرت شعیب علیہ السلام کی تعلیمات کے کچھ نہ کچھ اثرات معاشرے کے اندر موجود تھے۔
آیت 26 قَالَتْ اِحْدٰٹہُمَا یٰٓاَبَتِ اسْتَاْجِرْہُز ”اِسْتَاْجَرَ ”اج ر“ مادہ سے باب استفعال ہے۔ ”مُسْتأجِر“ وہ شخص ہے جو کسی کو اجرت پر ملازم رکھے ‘ جبکہ اجرت پر کام کرنے والے کو عربی میں ”آجر“ یا ”اَجِیر“ کہا جاتا ہے ہمارے ہاں عام طور پر آجر کے معنی اجرت دینے والا یا ملازم رکھنے والا کے لیے جاتے ہیں جو غلط ہیں۔ بہر حال عربی میں یہ دونوں الفاظ ہم معنی ہیں۔ ”اَجِیر“ صفت مشبہ ہے اور ”آجر“ اسم الفاعل۔اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ ”حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شخصیت کی یہ دونوں خصوصیات ان بچیوں کے مشاہدے میں آچکی تھیں۔ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ جب ان کی بکریوں کو پانی پلانے کے لیے آپ علیہ السلام کنویں کی طرف بڑھے تھے تو آپ کا ڈیل ڈول دیکھ کر کسی چرواہے نے آپ علیہ السلام سے الجھنے کی جرأت نہیں کی تھی اور سب نے بلا چون و چرا آپ علیہ السلام کو پانی پلانے کا موقع دے دیا تھا۔ اس کے علاوہ ان بچیوں کو آپ علیہ السلام کے شریفانہ رویہ سے آپ علیہ السلام کی امانت داری کا تجربہ بھی ہوچکا تھا۔ کسی مردکاسامنا کرتے ہوئے ایک شریف عورت فطری طور پر اس کی نظر کے بارے میں بہت حساسّ ہوتی ہے۔ آپ علیہ السلام نے چونکہ لڑکیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا ‘ اس لیے انہوں نے آپ علیہ السلام کی امانتداری کی گواہی دی کہ جس شخص کی نگاہ میں خیانت نہیں ہے وہ کسی اور معاملے میں بھی خیانت نہیں کرے گا۔
آیت 27 قَالَ اِنِّیْٓ اُرِیْدُ اَنْ اُنْکِحَکَ اِحْدَی ابْنَتَیَّ ہٰتَیْنِ ”چنانچہ شیخ مدین اپنی بیٹی کے مشورے کی روشنی میں جو ارادہ کرچکے تھے اس بارے میں انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اعتماد میں لینا چاہا کہ وہ اپنی ایک بیٹی ان کے نکاح میں دینا چاہتے ہیں۔عَلٰٓی اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ ج ”ممکن ہے اس وقت اس علاقے میں نکاح کے بدلے لڑکے سے معاوضہ لینے کا رواج ہو۔ بہر حال شیخ مدین نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اگر وہ آٹھ سال تک ان کی خدمت کریں ‘ ان کی بھیڑ بکریاں چرائیں اور گھر کے دوسرے کام کاج کریں تو اس کے بدلے میں وہ اپنی ایک بیٹی ان کے نکاح میں دے دیں گے۔فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِکَ ج ”یعنی اگر تم آٹھ سال کے بجائے دس سال پورے کر دو یہ تمہاری طرف سے ایک طرح کا احسان ہوگا۔وَمَآ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْکَ ط ”یعنی تمہیں اطمینان ہونا چاہیے کہ اس دوران میری طرف سے تم پر کوئی بےجا سختی نہیں کی جائے گی اور بہت بھاری کام کے باعث کسی بےجا مشقت میں نہیں ڈالا جائے گا۔سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآء اللّٰہُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ”معاملات کے سلسلے میں ان شاء اللہ تم مجھے ایک راست باز اور کھرا آدمی پاؤ گے۔
اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ ط ”یعنی آپ کا مطالبہ مجھ سے آٹھ سال کا ہی ہوگا۔ اگر میں دس سال پورے کر دوں تو یہ میرا اختیار ہوگا ‘ آپ مجھے اس پر مجبور نہیں کریں گے۔وَاللّٰہُ عَلٰی مَا نَقُوْلُ وَکِیْلٌ ”یعنی ہمارے اس قول وقرار اور معاہدے کا گواہ اور ضامن اللہ تعالیٰ ہے۔