سورۃ القصص: آیت 28 - قال ذلك بيني وبينك ۖ... - اردو

آیت 28 کی تفسیر, سورۃ القصص

قَالَ ذَٰلِكَ بَيْنِى وَبَيْنَكَ ۖ أَيَّمَا ٱلْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَٰنَ عَلَىَّ ۖ وَٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌ

اردو ترجمہ

موسیٰ نے جواب دیا "یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہو گئی ان دونوں مدتوں میں سے جو بھی میں پُوری کر دوں اُس کے بعد پھر کوئی زیادتی مجھ پر نہ ہو، اور جو کچھ قول قرار ہم کر رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala thalika baynee wabaynaka ayyama alajalayni qadaytu fala AAudwana AAalayya waAllahu AAala ma naqoolu wakeelun

آیت 28 کی تفسیر

حضرت موسیٰ نے بھی اسی سادگی ، صداقت اور بےتکلفی سے اس پیش کش کو قبول کرلیا اور اس پر اللہ ہی کو گواہ ٹھہرا کیونکہ وہاں اللہ کے سوا ان کا گواہ تھا کون ؟

قال ذلک بینی وبینک ۔۔۔۔۔۔ ما نقول وکیل (28)

جب دو افراد باہم معاہدہ کرتے ہیں تو اس میں کوئی باپ پیچیدہ نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی بات کو مجمل چھوڑنا چاہئے۔ نہ اس موقعے پر بات چھپانا چاہئے بلکہ بات کھل کر ہونی چاہئے۔ عقد کے موقعہ پر کسی بات کی وضاحت کرنے میں شرم حسوس نہیں کرنی چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ اس پیش کو مان لیتے ہیں اور نکاح کرلیتے ہیں۔ اس بوڑھے نے جو مشروط پیشکش کی اس کے متعلق حضرت موسیٰ یہ وضاحت کرتے ہیں ان دو میعادوں میں سے جو بھی وہ چاہیں پورا کریں۔

ایما الاجلین قضیت فلا عدوان عل (28: 28) ” دونوں مدتوں میں سے جو بھی میں پوری کروں اس کے بعد کوئی زیادتی مجھ پر نہ ہوگی “۔ چاہے میں آٹھ سال رہوں یا دس سال پورے کردوں۔ لیکن کام کے فرائض میں زیادتی نہ ہوگی۔ یعنی آٹھ کے بعد دو سال کا جو اضافہ ہے وہ اختیاری ہے اور ہمارے اس معاہدے پر اللہ گواہ ہے کیونکہ وہ دیکھ رہا ہے اور معاہدہ کرنے والے دونوں فریقوں پر اللہ گواہ ہوتا ہے ، اور وہ کافی گواہ ہے۔

حضرت موسیٰ نے یہ بیان اپنی فطرت کے عین مطابق دیا۔ وہ نہایت ہی سیدھی اور کھلی طبیعت کے مالک تھے۔ انہوں نے دس سال پورے کرنے کے بارے میں جو صاف صاف اختیاری ہونے کی شرط کی وضاحت کی وہ اس لیے کہ معاہدہ کرنے والے فریقوں کا فرض ہے کہ وہ صاف صاف بات کریں۔ حالانکہ ان کی نیت یہ تھی کہ وہ ان دو میعادوں میں سے لمبی معیاد پر عمل کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے لمبی اور زیادہ طویل مدت پوری کی (بخاری) ۔

یوں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے سسر کے گھر میں نہایت عزت اور احترام سے رہے۔ وہ فرعون اور اسکی سازشوں سے مومن و محفوظ ہوگئے۔ یہ جو کچھ ہو رہا تھا اللہ کی عین حکمت کے مطابق ہو رہا تھا ۔ اب یہ دس سال کیسے گزرے اسے چھوڑ دیجئے۔ ہمارے قصے میں ان کی اہمیت نہیں ہے۔ قرآن نے ان کے مناظر کو کاٹ دیا ہے اور خاموش ہے۔ پردہ گرتا ہے۔

غرض یہ دس سال گزر گئے جن پر فریقین کے درمیان عقد ہوا تھا۔ اس سورت میں ان کے بارے میں کچھ مذکور نہیں

ہے۔ اب اگلے منظر میں حضرت موسیٰ دس سال کی میعاد پوری کرکے جانب مصر رواں نظر آتے ہیں۔ یہ مدین کو چھوڑ کر ان مصر لوٹ رہے ہیں۔ یہ انہی راہوں پر واپس جا رہے ہیں جن پر وہ اکیلے آئے تھے ، ڈرے اور سہمے ہوئے لیکن اب ان کی واپسی کی فضا ایسی نہیں جس طرح ان کے فرار کی فضا تھی۔ وہ لوٹ رہے تھے لیکن اثنائے راہ وہ جن تجربات سے دو چار ہونے والے تھے ان کا خواب خیال بھی ان کے ذہن میں نہیں ہے ، یہ کہ رب تعالیٰ انہیں پکارے گا۔ اب وہ موسیٰ کلیم اللہ ہوجائیں گے اور اب وہ مشن ان کے سپرد ہوجائے گا جس کے لیے اللہ نے انہیں اپنی نظروں میں بچائے رکھا۔ تربیت اور پرورش کی۔ یہ مشن کیا تھا فرعون جیسے جبار اور اس کے سرداروں کے سامنے کلمہ حق کا بلند کرنا۔ اور کلمہ بھی یہ کہ بنی اسرائیل کو آزاد کر دو کہ وہ جس طرح چاہیں اپنے رب کی بندگی کریں اور رب تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اور وہ اس سرزمین کو آزاد کرائیں جس کے بارے میں اللہ نے ان کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے اور یہ کہ حضرت موسیٰ فرعون ہامان اور ان کے حواریوں کے لیے دشمن ہوں اور ان کے لیے باعث پریشانی ہوں۔ تاکہ ان دونوں کا انجام حضرت موسیٰ کے ہاتھوں سے ہو ، کیونکہ یہ اللہ کا سچا وعدہ تھا۔

اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ ط ”یعنی آپ کا مطالبہ مجھ سے آٹھ سال کا ہی ہوگا۔ اگر میں دس سال پورے کر دوں تو یہ میرا اختیار ہوگا ‘ آپ مجھے اس پر مجبور نہیں کریں گے۔وَاللّٰہُ عَلٰی مَا نَقُوْلُ وَکِیْلٌ ”یعنی ہمارے اس قول وقرار اور معاہدے کا گواہ اور ضامن اللہ تعالیٰ ہے۔

آیت 28 - سورۃ القصص: (قال ذلك بيني وبينك ۖ أيما الأجلين قضيت فلا عدوان علي ۖ والله على ما نقول وكيل...) - اردو