سورۃ القیامہ: آیت 20 - كلا بل تحبون العاجلة... - اردو

آیت 20 کی تفسیر, سورۃ القیامہ

كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ ٱلْعَاجِلَةَ

اردو ترجمہ

ہرگز نہیں، اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت رکھتے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Kalla bal tuhibboona alAAajilata

آیت 20 کی تفسیر

انداز بیان میں جو پہلی بات نمایاں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں دنیا کے لئے عاجلہ کا لفظ استعمال کیا ہے ، اس لفظ کے مفہوم میں ایک بات تو یہ ملحوظ ہے کہ یہ دنیا جلدی ختم ہونے والی چیز ہے ۔ اور اصل مقصود یہی بتانا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ لفظ اس لئے بھی لایا ہے کہ اس سے قبل قرآن کے بارے میں جملہ معترضہ میں بھی یہ بات کہی گئی تھی۔

لا تجرک ................ بہ (75:16) د ’ وحی جلدی جلدی یاد کرنے کے لئے اپنی زبان کو حرکت نہ دو “۔ اس دنیا اور اس کے ہر کام میں عجلت دراصل اس دنیا کی خصوصیت ہے۔ اور دنیا میں مفادات کے لئے شتابی اور قرآن کو جلد یاد کرنے کے عجلت دونوں اس دنیا کے رنگ ہیں۔ یہ قرآن کریم کا نہایت ہی لطیف اور گہرا اشارتی ہم آہنگی ہے اور یہ قرآنی انداز کلام ہے۔

آیت 20 - سورۃ القیامہ: (كلا بل تحبون العاجلة...) - اردو