اس صفحہ میں سورہ Al-Qiyaama کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ القيامة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ ٱلْعَاجِلَةَ
وَتَذَرُونَ ٱلْءَاخِرَةَ
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ
إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ
وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌ
تَظُنُّ أَن يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ
كَلَّآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلتَّرَاقِىَ
وَقِيلَ مَنْ ۜ رَاقٍ
وَظَنَّ أَنَّهُ ٱلْفِرَاقُ
وَٱلْتَفَّتِ ٱلسَّاقُ بِٱلسَّاقِ
إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ ٱلْمَسَاقُ
فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ
وَلَٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ
ثُمَّ ذَهَبَ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦ يَتَمَطَّىٰٓ
أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ
ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰٓ
أَيَحْسَبُ ٱلْإِنسَٰنُ أَن يُتْرَكَ سُدًى
أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِىٍّ يُمْنَىٰ
ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ
فَجَعَلَ مِنْهُ ٱلزَّوْجَيْنِ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰٓ
أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يُحْۦِىَ ٱلْمَوْتَىٰ
آیت 21{ وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ۔ } ”اور تم آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔“ یہاں خطاب کا رخ کفار کی طرف ہے۔ یعنی تمہارا اصل مرض ہی یہ ہے کہ تم لوگ ”حب ِعاجلہ“ میں مبتلاہو ‘ اپنی دنیا کی زندگی اور دنیا کے مال و اسباب سے محبت کرتے ہو اور اس کے مقابلے میں آخرت کو بالکل ہی نظر انداز کیے ہوئے ہو۔
آیت 22{ وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ۔ } ”بہت سے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔“ ان آیات میں اب میدانِ محشر میں موجود لوگوں کی کیفیت کا نقشہ دکھایا گیا ہے۔ اس نقشے کو دیکھنے سے یوں لگتا ہے کہ ہر انسان کو اپنے اعمال کے مطابق اپنے نتیجے کا پہلے سے ہی علم ہوگا۔ جیسے سکول میں اعلانِ نتائج کے موقع پر کچھ بچے پہلے سے مطمئن اور کچھ پہلے سے پریشان ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے ہر بچہ اپنے بارے میں خوب جانتا ہے کہ اس نے امتحان میں کیا کچھ کیا تھا۔
آیت 23{ اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ۔ } ”اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔“ بعض مفسرین نے اس آیت سے یہ مفہوم مراد لیا ہے کہ وہ اپنے رب کی رحمت کے امیدوار ہوں گے۔ اس لیے کہ رویت ِ باری تعالیٰ میدانِ حشر میں نہیں ہوگی ‘ بلکہ اہل جنت ‘ جنت میں داخلے کے بعد جس سب سے بڑی نعمت سے سرشار ہوں گے وہ دیدارِ الٰہی ہوگی۔ لیکن کچھ علماء کا خیال ہے اور میری رائے بھی یہی ہے کہ اہل ایمان کو میدانِ محشر میں بھی کسی نہ کسی درجے میں رویت باری تعالیٰ سے مشرف کیا جائے گا۔ سورة المُطَفِّـفِیْن میں یہ مضمون زیادہ وضاحت کے ساتھ آئے گا۔
آیت 25{ تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ۔ } ”ان کو یقین ہوگا کہ اب ان کے ساتھ کمرتوڑ سلوک ہونے و الا ہے۔“ اس کے بعد اب قیامت صغریٰ یعنی انسان کی موت کے وقت کا نقشہ دکھایا جا رہا ہے۔ قیامت کبریٰ کا ذکر تو قبل ازیں ان آیات میں آچکا ہے : { فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ - وَخَسَفَ الْقَمَرُ H…}۔ لیکن انفرادی سطح پر تو ہر انسان کی موت ہی اس کی قیامت ہے۔ اسی لیے قیامت کبریٰ کے مقابلے میں ہر انسان کی موت کو اس کی ”قیامت صغریٰ“ کہا جاتا ہے۔ چناچہ ان آیات کا مطالعہ کرتے ہوئے ہر انسان کو اپنی ’ قیامت صغریٰ ‘ کا تصور اپنے ذہن میں مستحضر رکھنا چاہیے۔
آیت 27{ وَقِیْلَ مَنْسکتۃ رَاقٍ۔ } ”اور کہا جاتا ہے کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ؟“ یہ اس کیفیت کا نقشہ ہے جب بڑے بڑے ڈاکٹر جواب دے دیتے ہیں ‘ حکماء و اطباء معذرت کرلیتے ہیں اور عزیز و اقارب کہنا شروع کرد یتے ہیں کہ بس جی اب دعا کریں۔ اس وقت بڑے سے بڑا عقلیت پسند شخص بھی چاہتا ہے کہ کسی جھاڑ پھونک کرنے والے کو بلا لیا جائے یا کسی تعویذ گنڈے والے کو پوچھ لیا جائے۔ شاید کہ ایسی کسی ترکیب سے اس کا پیارا موت کے منہ میں جانے سے بچ جائے۔
آیت 28{ وَّظَنَّ اَنَّہُ الْفِرَاقُ۔ } ”اور وہ سمجھ جاتا ہے کہ اب جدائی کی گھڑی آن پہنچی ہے۔“ آدمی کو یقین ہوجاتا ہے کہ اب اہل و عیال سے بچھڑنے اور بڑے ارمانوں سے بنائے ہوئے گھر اور مال و اسباب کو چھوڑنے کا وقت آن پہنچا ہے۔
آیت 29{ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ۔ } ”اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جاتی ہے۔“ یہ عین جان کنی کے وقت کی اس کیفیت کا ذکر ہے جب جسم کے نچلے حصے سے انسان کی جان نکلنا شروع ہوجاتی ہے۔ اس وقت وہ ناقابل بیان کرب اور شدید تکلیف کی کیفیت میں ہوتا ہے۔
آیت 30{ اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَئِذِ نِالْمَسَاقُ۔ } ”اس دن تو تیرے رب ہی کی طرف دھکیلے جانا ہے۔“ نوٹ کیجیے ‘ گزشتہ آیات کے بعد ہم آواز الفاظ سے بننے والا مخصوص صوتی آہنگ ایک مرتبہ پھر تبدیل ہورہا ہے۔
آیت 33{ ثُمَّ ذَہَبَ اِلٰٓی اَہْلِہٖ یَتَمَطّٰی۔ } ”پھر چل دیا اپنے گھر والوں کے پاس اکڑتا ہوا۔“ ان آیات میں ایک شخص کی حق دشمنی ‘ ڈھٹائی اور اکڑفوں کی لفظی تصویر دکھائی گئی ہے۔ یہ تصویر سردارانِ قریش میں سے کسی خاص شخص کی بھی ہوسکتی ہے اور مجموعی طور پر ان کے عمومی کردار کی بھی۔ سردارانِ قریش کے اس رویے کی جھلک سورة صٓ کی اس آیت میں بھی دکھائی دیتی ہے : { وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْہُمْ اَنِ امْشُوْا وَاصْبِرُوْا عَلٰٓی اٰلِہَتِکُمْج اِنَّ ہٰذَا لَشَیْئٌ یُّرَادُ۔ } ”اور چل پڑے ان کے سردار یہ کہتے ہوئے کہ چلو جائو اور جمے رہو اپنے معبودوں پر ‘ یقینا اس بات میں تو کوئی غرض پوشیدہ ہے۔“
آیت 36{ اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَکَ سُدًی۔ } ”کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا ؟“ کیا یہ لوگ اپنی دنیوی زندگی کو ہی اصل زندگی سمجھے بیٹھے ہیں ؟ کیا یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا اور ان کا حساب کتاب نہیں ہوگا ؟ اور انہیں ان کے کرتوتوں کا خمیازہ نہیں بھگتنا پڑے گا ؟
آیت 38{ ثُمَّ کَانَ عَلَقَۃً } ”پھر وہ ایک علقہ بنا“ یعنی پانی کی اس بوند نے جونک جیسی شکل اختیار کرلی جو رحم مادر کی دیوار کے ساتھ چمٹی رہی۔ { فَخَلَقَ فَسَوّٰی۔ } ”پھر اللہ نے اس کو بنایا اور اس کے اعضاء درست کیے۔“ اللہ تعالیٰ نے علقہ کو گوشت کے لوتھڑے مضغہ میں تبدیل کیا اور پھر اس کا جسم بنایا ‘ جس میں آنکھیں ‘ ناک ‘ کان اور اپنی اپنی جگہ پر دوسرے تمام اعضاء بنا دیے۔ اور یہ سب کچھ ہوتا رہا : { فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰـثٍط } الزمر : 6 شکم مادر کے تین پردوں کے اندر۔
آیت 39{ فَجَعَلَ مِنْہُ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰی۔ } ”پھر اسی سے اس نے دو زوج بنائے ‘ نر اور مادہ۔“ کسی کو اس نے مرد بنا دیا اور کسی کو عورت۔
آیت 40{ اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یُّحْیِیَ الْمَوْتٰی۔ } ”تو کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ ُ مردوں کو زندہ کردے ؟“ کیا تم لوگ جانتے نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو گندے پانی کی بوند سے پیدا کیا ہے ؟ اولادِ آدم علیہ السلام میں سے افلاطون ‘ بقراط اور سقراط کی تخلیق بھی اسی بوند سے ہوئی اور تمام انبیاء اور اولیاء اللہ بھی ایسے ہی پیدا ہوئے۔ صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے استثناء کے علاوہ نسل انسانی کے تمام افراد اللہ تعالیٰ نے اسی طریقے سے پیدا کیے۔ { اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِط } قٓ: 15 ”تو کیا پہلی مرتبہ تم لوگوں کو پیدا کرنے کے بعد اب ہم عاجز آگئے ہیں ؟“ تو اے عقل کے اندھو ! کیا تم یہ بھی نہیں سوچتے کہ جو ذات پانی کی ایک بوند سے زندہ سلامت ‘ خوبصورت ‘ بہترین صلاحیتوں کے مالک انسان کو پیدا کرسکتی ہے ‘ کیا وہ مردہ انسانوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں ہوگی ؟ اس آیت کا انداز چونکہ سوالیہ ہے اس لیے اسے سن کر یا پڑھ کر ہماری زبانوں پر بےساختہ یہ الفاظ آجانے چاہئیں : ”کیوں نہیں ! اے ہمارے پروردگار ! تیری ذات پاک ہے۔ ہم گواہ ہیں کہ تو ُ مردوں کو زندہ کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔“ متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب اس آیت کو پڑھتے تو اس سوال کے جواب میں کبھی بَلٰی کیوں نہیں ! اور کبھی سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ فَـبَلٰی پاک ہے تیری ذات ‘ اے اللہ ! کیوں نہیں ! جیسے الفاظ فرمایا کرتے تھے۔