والتفت الساق بالساق (75:29) ” پنڈلی سے پنڈلی جڑ جائے “۔ ہر حیلہ اور ہر وسیلہ فیل ہوجائے اور یہ بات طے ہوجائے کہ آپ بیمارنے جانا ہی ہے جس طرح ہر زندہ نے آخر کار جانا ہوتا ہے۔
آیت 29{ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ۔ } ”اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جاتی ہے۔“ یہ عین جان کنی کے وقت کی اس کیفیت کا ذکر ہے جب جسم کے نچلے حصے سے انسان کی جان نکلنا شروع ہوجاتی ہے۔ اس وقت وہ ناقابل بیان کرب اور شدید تکلیف کی کیفیت میں ہوتا ہے۔