لا یصدعون ینزفون (6 5: 91) ” جسے نہ ان سے جدا کیا جائے گا اور نہ وہ ختم ہوگی۔ “ یعنی نہ ان کو اس سے جدا کیا جائے گا اور نہ وہ ان کے سامنے ختم ہوگی کیونکہ وہاں تو ہر چیز دوام کے لئے ہے اور کسی چیز کے ختم ہونے کا خطرہ نہیں ہے۔
آیت 19{ لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْہَا وَلَا یُنْزِفُوْنَ۔ } ”اس سے نہ تو ان کے سروں میں کوئی گرانی ہوگی اور نہ ہی وہ بہکیں گے۔“ دنیا کی شراب پینے سے تو سر چکرانے لگتا ہے اور آدمی مدہوش ہوجاتا ہے ‘ بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے ‘ لیکن جنت کی ”شرابِ طہور“ کو اس شراب پر قیاس نہیں کرنا چاہیے۔ اس میں ایسی کسی خرابی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔