اس صفحہ میں سورہ Al-Waaqia کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الواقعة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَٰنٌ مُّخَلَّدُونَ
بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ
لَّا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنزِفُونَ
وَفَٰكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُونَ
وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ
وَحُورٌ عِينٌ
كَأَمْثَٰلِ ٱللُّؤْلُؤِ ٱلْمَكْنُونِ
جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا
إِلَّا قِيلًا سَلَٰمًا سَلَٰمًا
وَأَصْحَٰبُ ٱلْيَمِينِ مَآ أَصْحَٰبُ ٱلْيَمِينِ
فِى سِدْرٍ مَّخْضُودٍ
وَطَلْحٍ مَّنضُودٍ
وَظِلٍّ مَّمْدُودٍ
وَمَآءٍ مَّسْكُوبٍ
وَفَٰكِهَةٍ كَثِيرَةٍ
لَّا مَقْطُوعَةٍ وَلَا مَمْنُوعَةٍ
وَفُرُشٍ مَّرْفُوعَةٍ
إِنَّآ أَنشَأْنَٰهُنَّ إِنشَآءً
فَجَعَلْنَٰهُنَّ أَبْكَارًا
عُرُبًا أَتْرَابًا
لِّأَصْحَٰبِ ٱلْيَمِينِ
ثُلَّةٌ مِّنَ ٱلْأَوَّلِينَ
وَثُلَّةٌ مِّنَ ٱلْءَاخِرِينَ
وَأَصْحَٰبُ ٱلشِّمَالِ مَآ أَصْحَٰبُ ٱلشِّمَالِ
فِى سَمُومٍ وَحَمِيمٍ
وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ
لَّا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ
إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَبْلَ ذَٰلِكَ مُتْرَفِينَ
وَكَانُوا۟ يُصِرُّونَ عَلَى ٱلْحِنثِ ٱلْعَظِيمِ
وَكَانُوا۟ يَقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَٰمًا أَءِنَّا لَمَبْعُوثُونَ
أَوَءَابَآؤُنَا ٱلْأَوَّلُونَ
قُلْ إِنَّ ٱلْأَوَّلِينَ وَٱلْءَاخِرِينَ
لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَٰتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
آیت 17{ یَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ۔ } ”ان پر گردش کر رہے ہوں گے وہ لڑکے جو سدا اسی طرح رہیں گے۔“ عام طور پر گھروں میں چھوٹی عمر کے لڑکوں کو ملازم رکھا جاتا ہے اور وہ آپ کے مزاج اور ذوق سے واقف ہوجاتے ہیں ‘ لیکن بڑے ہونے پر انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی گھر سے نکالنا پڑتا ہے۔ جبکہ جنت میں چھوٹے لڑکے غلمان جو اہل جنت کی خدمت پر مامور ہوں گے وہ ”بڑے“ نہیں ہوں گے بلکہ ہمیشہ لڑکپن کی عمر میں ہی رہیں گے۔
آیت 18{ بِاَکْوَابٍ وَّاَبَارِیْقَ لا وَکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ۔ } ”آب خورے ‘ صراحیاں اور شراب خالص کے جام لیے ہوئے۔“ اہل جنت کی محفلوں میں خوبصورت غلمان نہایت شفاف قسم کی شراب کے مینا و جام لیے ہر وقت محو گردش رہیں گے۔
آیت 19{ لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْہَا وَلَا یُنْزِفُوْنَ۔ } ”اس سے نہ تو ان کے سروں میں کوئی گرانی ہوگی اور نہ ہی وہ بہکیں گے۔“ دنیا کی شراب پینے سے تو سر چکرانے لگتا ہے اور آدمی مدہوش ہوجاتا ہے ‘ بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے ‘ لیکن جنت کی ”شرابِ طہور“ کو اس شراب پر قیاس نہیں کرنا چاہیے۔ اس میں ایسی کسی خرابی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
آیت 20{ وَفَاکِہَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ۔ } ”اور میوے جو وہ پسند کریں گے۔“
آیت 21{ وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَہُوْنَ۔ } ”اور پرندوں کے گوشت جو انہیں مرغوب ہوں گے۔“ خوب صورت ابدی لڑکے یہ سب نعمتیں اہل جنت کی خدمت میں پیش کر رہے ہوں گے۔
آیت 22{ وَحُوْرٌ عِیْنٌ۔ } ”اور حوریں ہوں گی بڑی بڑی آنکھوں والی۔“ نوٹ کیجیے یہاں اس جنت کی نعمتوں میں حوروں کا ذکر بھی ہوا ہے لیکن اگلی آیات میں اصحاب الیمین کی جنت کے تذکرے میں ”حُوْر“ کا لفظ نہیں آیا۔ یاد رہے کہ سورة الرحمن میں نچلے درجے کی جنت کا ذکر پہلے جبکہ حوروں والی جنت اونچے درجے کی جنت کا ذکر بعد میں آیا ہے۔ دونوں سورتوں کے مضامین کی اسی ترتیب کو میں نے ابتدا میں عکسی ترتیب mirror image کا نام دیا ہے۔
آیت 23{ کَاَمْثَالِ اللُّــؤْلُـــؤِ الْمَکْنُوْنِ۔ } ”جیسے موتی ہوں چھپا کر رکھے گئے۔“
آیت 24{ جَزَآئًم بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔ } ”یہ بدلہ ہوگا ان کے اعمال کا جو وہ کرتے رہے تھے۔“ یہ ان قربانیوں کا صلہ ہوگا جو انہوں نے اپنی دنیوی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے دی ہوں گی۔
آیت 25{ لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْہَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِیْمًا۔ } ”وہ نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات اور نہ ہی کوئی الزام۔“
آیت 26{ اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا۔ } ”مگر ان کے لیے ‘ ہر طرف سے سلام سلام ہی کی آوازیں ہوں گی۔“ یہ تو تھا مقربین اور ان کی جنت کا بیان ‘ اب آگے اصحاب الیمین اور ان کی جنت کا ذکر ہے۔
آیت 27{ وَاَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ مَآ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ۔ } ”اور اصحاب الیمین ! کیا کہنے ہیں اصحاب الیمین کے !“
آیت 28{ فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ۔ } ”وہ ہوں گے بیری کے درختوں میں جن میں کانٹے نہیں ہوں گے۔“
آیت 29{ وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ۔ } ”اور تہ بر تہ کیلے۔“
آیت 30{ وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ۔ } ”اور پھیلے ہوئے سائے۔“
آیت 31{ وَّمَآئٍ مَّسْکُوْبٍ۔ } ”اور بہتا ہوا پانی۔“
آیت 32{ وَّفَاکِہَۃٍ کَثِیْرَۃٍ۔ } ”اور کثرت کے ساتھ میوے۔“
آیت 33{ لَّا مَقْطُوْعَۃٍ وَّلَا مَمْنُوْعَۃٍ۔ } ”نہ ٹوٹے ہوئے اور نہ ہی پہنچ سے باہر۔“ جنت کے پھل درختوں سے توڑ کر انہیں پیش نہیں کیے جائیں گے بلکہ جب وہ پھل حاصل کرنا چاہیں گے درخت خود ان کے سامنے جھک جائیں گے۔ تمام پھل بکثرت بےروک ٹوک ملیں گے۔ کوئی پھل ایسا نہیں ہوگا جو ان کی پہنچ سے باہر ہو یا اسے کھانا ممنوع قرار دیا گیا ہو۔
آیت 34{ وَّفُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ۔ } ”اور اونچے اونچے بچھونے۔“
آیت 35{ اِنَّآ اَنْشَاْنٰہُنَّ اِنْشَآئً۔ } ”ان کی بیویوں کو اٹھایا ہے ہم نے بڑی اچھی اٹھان پر۔“
آیت 36{ فَجَعَلْنٰہُنَّ اَبْکَارًا۔ } ”پس ہم نے بنایا ہے انہیں کنواریاں۔“
آیت 37{ عُرُبًا اَتْرَابًا۔ } ”پیار دینے دلانے والیاں ‘ ہم عمر۔“
آیت 38{ لّاَِصْحٰبِ الْیَمِیْنِ۔ } ”یہ سب کچھ ہوگا اصحاب الیمین کے لیے۔“
آیت 39{ ثُـلَّـۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ۔ } ”جو پہلوں میں سے بھی بہت ہوں گے۔“
آیت 40{ وَثُـلَّـۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ۔ } ”اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہوں گے۔“ اب اس کے بعد اہل جہنم کا تذکرہ ہے۔
آیت 41{ وَاَصْحٰبُ الشِّمَالِ مَـآ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ۔ } ”اور بائیں والے ! کیا ہی برا حال ہوگا بائیں والوں کا !“
آیت 42{ فِیْ سَمُوْمٍ وَّحَمِیْمٍ۔ } ”وہ ہوں گے تیز لو اور کھولتے ہوئے پانی میں۔“
آیت 43{ وَّظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍ۔ } ”اور کالے دھوئیں کے سائے میں۔“
آیت 44{ لَّا بَارِدٍ وَّلَا کَرِیْمٍ۔ } ”نہ وہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ ہی سکون بخش۔“
آیت 45{ اِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُتْرَفِیْنَ۔ } ”یہ لوگ اس سے پہلے دنیا میں بڑے خوشحال تھے۔“ دنیا میں انہیں ہر طرح کا عیش و آرام میسر تھا۔ وہاں انہوں نے خوب مزے کیے۔
آیت 46{ وَکَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَی الْحِنْثِ الْعَظِیْمِ۔ } ”اور یہ اصرار کرتے تھے بہت بڑے گناہ پر۔“ بہت بڑے گناہ سے یہاں شرک مراد ہے ‘ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سورة النساء میں حتمی فیصلہ دیا جا چکا ہے : { اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُج } آیت 48 کہ اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ کیے گئے شرک کو کبھی نہیں بخشے گا ‘ اس کے علاوہ جس کو چاہے گا بخش دے گا۔
آیت 47{ وَکَانُوْا یَقُوْلُوْنَ لا اَئِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ۔ } ”اور وہ یہ کہا کرتے تھے کہ کیا ہم جب مرجائیں گے اور ہوجائیں مٹی اور ہڈیاں تو کیا پھر سے اٹھا کھڑے کیے جائیں گے ؟“
آیت 48{ اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ۔ } ”اور کیا ہمارے آباء و اَجداد بھی جو پہلے گزر چکے ہیں ؟“
آیت 49{ قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ۔ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ یقینا پہلے بھی اور پچھلے بھی۔“
آیت 50{ لَـمَجْمُوْعُوْنَ اِلٰی مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ۔ } ”لازماً جمع کیے جائیں گے ایک مقرر دن کے طے شدہ وقت پر۔“