واصحب الشمال ............ یوم الدین (6 5) (6 5: 1 4 تا 45)
” اور بائیں بازو والے ، بائیں بازو والوں (کی کا کیا پوچھنا ، وہ لو کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی اور کالے دھوئیں کے سائے میں ہوں گے جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ آرام دہ۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس انجام کو پہنچنے سے پہلے خوشحال تھے اور گناہ عظیم پر اصرار کرتے تھے۔ کہتے تھے ” کیا جب ہم مرکر خاک ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں گے تو پھر اٹھا کھڑے کئے جائیں گے ؟ اور کیا ہمارے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں ؟ “ اے نبی ان لوگوں سے کہو ، یقینا اگلے اور پچھلے سب ایک دن ضرور جمع کئے جانے والے ہیں جس کا وقت مقرر کیا جاچکا ہے پھر اسے گمراہو اور جھٹلانے والو ، تم زقوم کے درخت کی غذا کھانے والے ہو۔ اسی سے تم پیٹ بھروگے اور اوپر سے کھولتا ہوا پانی تونس لگے ہوئے اونٹ کی طرح پیو گے۔ یہ ہے (ان بائیں بازوہ والوں) کی ضیافت کا سامان روز جزا میں۔ “
واصحب الیمین (6 5: 72) لمبی چھاؤ میں اور بہتے ہوئے پانیوں کے پاس۔
واصحب ................ ولا کریم (44) (6 5: 1 4 تا 44) وہ لو کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی اور کالے دھوئیں کے سائے میں ہوں گے جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ آرام دہ۔ ہوا ایسی گرم ہوگی جس طرح آگ کے شعلے۔ وہ مساموں میں پہنچ کر جسم کو بھون ڈالے گی اور پانی اس قدر گرم ہوگا کہ وہ ٹھنڈک نہیں پہنچائے گا اور نہ پیاس بجھائے گا سایہ ہوگا مگر وہ دھویں کا سایہ ہوگا جس سے گلا گھٹ جائے گا اور اسے سایہ محض بطور مزاح کیا گیا ہے۔ سایہ نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ آرام دہ ہوگا۔ یہ تو کرم سایہ ہوگا اس میں آرام اور ٹھنڈک نہ ہوگی۔ وہ اس قدر سخت ہوگا کہ اس سے گلا گھٹ جائے گا۔ آرام تو دور کی بات ہے اور یہ نان جویں ان کے لئے ٹھیک سزا ہے کیونکہ۔
آیت 41{ وَاَصْحٰبُ الشِّمَالِ مَـآ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ۔ } ”اور بائیں والے ! کیا ہی برا حال ہوگا بائیں والوں کا !“
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال دھوئیں کے سخت سیادہ سائے میں جیسے اور جگہ آیت (اِنْــطَلِقُوْٓا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ 29ۚ) 77۔ المرسلات :29) فرمایا ہے یعنی اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے۔ اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کرلی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد (ولا کریم) کہہ دیتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لئے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہوگئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑگئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔ (حنث عظیم) سے مراد بقول حضرت ابن عباس کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے ؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہوگی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہوگا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو، جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کردیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے انسان دو قسم پر تقسیم کردیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہوگی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو زقوم کے درخت تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو، ہیم جمع ہے اس کا واحد اہیم ہے مونٹ ہماء ہے ہائم اور ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جنت جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہوگا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے ؟ حضرت خالد بن معدان ؓ فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے کہ ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔