اس صفحہ میں سورہ An-Naba کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النبإ کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا
حَدَآئِقَ وَأَعْنَٰبًا
وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا
وَكَأْسًا دِهَاقًا
لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّٰبًا
جَزَآءً مِّن رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًا
رَّبِّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ٱلرَّحْمَٰنِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًا
يَوْمَ يَقُومُ ٱلرُّوحُ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحْمَٰنُ وَقَالَ صَوَابًا
ذَٰلِكَ ٱلْيَوْمُ ٱلْحَقُّ ۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ مَـَٔابًا
إِنَّآ أَنذَرْنَٰكُمْ عَذَابًا قَرِيبًا يَوْمَ يَنظُرُ ٱلْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ ٱلْكَافِرُ يَٰلَيْتَنِى كُنتُ تُرَٰبًۢا
پہلے منظر میں جہنم آراستہ و پیراستہ تھی۔ کفار کے ٹھکانے کے طور پر اور وہ یوں گھات میں تیار بیٹھی تھی جس طرح ایک شکاری گھات میں بیٹھتا ہے۔ اور ایک ایک شکار کرتا ہے۔ اسی طرح جہنم سے بھی کوئی بچ کر نہ نکل سکتا تھا۔ اس منظر میں یوں نظر آتا ہے کہ اہل جنت نجات اور کامیابی کے مقام پر فائز ہوچکے ہیں۔ اور یہ نجات اور کامیابی کی جگہ۔
حدآئق واعنابا (32:78) ” باغ اور انگور “۔ کی صورت میں ہے ۔ اور انگور کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لئے لیا گیا ہے کہ قرآن کریم کے مخاطب اس سے اچھی طرح واقف تھے۔ کو اعب کے معنی ہیں ایسی نوخیز نوجوان لڑکیاں جن کی پستان گول ہوں اور اتراب کے معنی حسن و جمال اور مادہ سال کے لحاظ سے ہم سن۔
وکاسا دھاقا (34:78) ” اور جھلکتے ہوئے جام “ یعنی لبریز۔
ان انعامات کی ظاہری شکل و صورت حسی ہے اور ان کا ذکر جن چیزوں کا نام لے کر کیا گیا ہے وہ اس لئے تاکہ مفہوم لوگوں کے فہم کے قریب آجائے۔ رہی ان کی حقیقت تو اہل زمین کے لئے اس کا ادراک ممکن ہی نہیں ہے۔ اس لئے کہ ان کی فہم وادراک زمین کے تصورات کے اندر مقید ہے اور ان کے عمومی اور معنوی حالات اسلامی ذوق وضمیر کے مطابق ہوں گے۔ ایک مسلمان ان کا شعور رکھتا ہے کہ۔
لا یسمعون ................ کذبا (35:78) ” وہاں کوئی لغو اور جھوٹی بات وہ نہ سنیں گے “۔ یعنی دو ایسی زنگی بسر کررہے ہوں گے کہ اس میں کوئی لغو بات نہ ہوگی۔ اور اس میں کوئی جھوٹ نہ ہوگا کیونکہ جھوٹ پر بالعموم جنگ وجدال کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے وہاں حقائق کھلے ہوں گے اور کسی کو بحث ومباحثے کا موقعہ نہ ہوگا۔ نہ ایسی باتیں وہاں ہوں گی جو بےفائدہ ہوں اور ان میں کوئی بھلائی نہ ہو۔ یہ صورت حالات اس جہان کے لئے مناسب ہے جو دارالخلد ہے۔
جزآء ................ حسابا (32:78) ” جزاء اور کافی انعام تمہارے رب کی طرف سے “۔ یہاں انداز تعبیر کی رعنائی اور پر ترنم آواز اور جزاء اور عطا کی تقسیم قابل ملاحظہ ہے۔ اور فواصل اور قوافی میں شدت اور صوتی ہم آہنگی اس پورے پارے میں ایک مخصوص انداز ہے اور بہت ہی خوبصورت۔
اس دن کے مناظر جس کے بارے میں سوال کرنے والے سوال کرتے ہیں جس کے بارے میں اختلاف کرنے والے اختلاف کرتے ہیں اب ختم ہوتے ہیں اور ان کے خاتمے پر لفظی اور معنوی اعتبار سے خوبصورت منظر ملاحظہ کیجئے ، جس میں جبرئیل (علیہ السلام) اور دوسرے فرشتے صف بستہ کھڑے ہیں۔ یہ سب رحمن کے سامنے کھڑے ہیں ، ان میں سے صرف وہی بات کرسکتا ہے جسے اجازت ہو۔ ایک ہیبت ناک اور خوفناک موقف ہے۔
یہ جزاء وسزا جو اہل تقویٰ اور اہل ضلالت کے لئے ، اس سے قبل مفصل طور پر بیان ہوئی ، یہ تیرے رب کی طرف سے ہے۔ اور
رب السموت ........................ الرحمن (37:78) ہے (اس نہایت مہربان خدا کی طرف سے جو زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے) اس آخری ٹچ اور اس عظیم حقیقت کے بیان کے لئے اب یہ مناسب وقت ہے ، یعنی یہ کہ اللہ کی ربوبیت زمین و آسمانوں پر حاوی ہے ، اس کے اندر یہ دنیا بھی ہے اور آخرت بھی ہے۔ یہ اہل تقویٰ کو جزاء دیتی ہے اور اہل ضلالت اور بدکاروں کو سزا دیتی ہے اور دنیا وآخرت کے تمام فیصلے اللہ کی طرف رجوع ہوتے ہی۔ پھر یہ ربوبیت نہایت رحیمانہ ہے۔ یہ جزاء بھی اس کی رحمت کا نتیجہ ہے اور سزا بھی اس کی رحمت کا تقاضا ہے۔ یہ اس کی رحمت ہی کا تقاضا ہے کہ سرکشوں کو جہنم میں جلایا جائے۔ کیونکہ یہ عین رحمت ہے کہ شر کو سزا ملے اور خیروشر برابر نہ ہوں ورنہ یہ تو ظلم ہوگا۔
پھر یہ رحمت اپنے اندر جلال لئے ہوئے ہے۔ اس خوفناک دن میں اس دربار رحمت میں کوئی بات نہ کرسکے گا۔ جبرائیل (علیہ السلام) اور دوسرے سربرآور دو فرشتے بھی صف بستہ خاموش کھڑے ہوں گے۔ صرف اجازت سے کچھ عرض کرنا ہوگا اور بات ہوگی۔ لیکن بات بھی درست ہوگی ورنہ رحمن تو دل کی بات جانتا ہے ، بری بات کہنے کی اجازت ہی نہ ہوگی۔
یہ منظر کہ بےگناہ لوگ اور سرکردہ فرشتے بھی اس بارگاہ میں خاموش کھڑے ہی ، کوئی شخص بات بھی نہیں کرتا ، سا ہواکھڑا ہے ، فضا پر رعب ، خوف ، جلالت اور وقار کے گہرے بادل پھیلا دیتا ہے۔ ایسے حالات میں جبکہ خوف کے بادل چھائے ہوئے ہوں ، دنیا کے غافلوں اور بری راہوں پر سرپٹ بھاگنے والوڈ کو ایک بار پھر ڈرایا جاتا ہے ، ایک زبردست چیخ آتی ہے اور مدہوش لوگوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یہ ایک شدید جھٹکا ہے ، ان لوگوں کو نہایت شدت سے جھنجھوڑا جاتا ہے جو اس حق دن کے بارے میں شک میں مبتلا تھے اور تشکیک پر مشتمل سوالات کرتے تھے۔
ذلک الیوم الحق (39:78) ” وہ دن برحق ہے “۔ لہٰذا اس کے بارے میں شکی سوالات کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لوگو ! ابھی فرصت کے اوقات موجود ہیں ، مہلت ملی ہوئی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھاﺅ۔
فمن شآء اتخذالی ربہ مابا (39:78) ” جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کرلے “۔ قبل اس کے کہ جہنم گھات لگا کر بیٹھے اور تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے۔
یہ سخت ڈراوا ہے ۔ اگر کوئی خواب خرگوش میں بھی ہو ، وہ بھی بیدار ہوسکتا ہے۔
انا ................ قریبا (40:78) ” ہم نے تم لوگوں کو اس عذاب سے ڈرادیا ہے جو قریب آلگا ہے “۔ وہ دور نہیں ہے۔ یہ جہنم کا عذاب ہے جو تمہارے انتظار میں ہے۔ جیسا کہ اس منظر میں تم نے دیکھ لیا۔ یہ دنیا تو ایک مختصر سفر ہے اور عمر کی کشتی ساحل پر لگنے ہی والی ہے۔
یہ اس قدر شدید عذاب ہوگا کہ کافر اپنے وجود ہی سے بیزار ہوگا اور اس بات کو پسند کرے گا کہ اے کاش اسے معدوم ہی کردیا جائے۔
یوم ینظر .................... ترابا (40:78) ” جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے ، اور کافر پکار اٹھے گا کہ کاش وہ خاک ہوتا “۔ یہ وہ نہایت تنگ دل اور مایوسی کہے گا۔
اب فضا پر خوف اور ندامت کے بادل چھا جاتے ہیں کہ زندہ انسان یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ معدوم ہوجائے اور خاک و غبار بن جائے۔ وہ اپنے معدوم ہونے ہی کی صورت میں اپنے آپ کو اس خوفناک عذاب سے بچا سکتا ہے۔ یہ ہوگا ان لوگوں کا موقف جو آج اس عظیم حقیقت اور شہ سرخیوں والی حقیقت کے بارے میں تشکیک پر مشتمل سوالات کرتے ہیں اور شبہات اٹھاتے ہیں۔