انما سلطنۃ علی الذین یتولونہ (61 : 001) ” اس کا زور تو انہی لوگو پر چلتا ہے جو اس کو اپنا سرپرست بناتے ہیں “۔ وہ اس کو اپنا دوست بناتے ہیں ، وہ اس کے سامنے جھکتے ہیں اور اس کی خواہشات و میلانات کو پورا کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ لوگ شرک کرتے ہیں۔ آج بھی بعض اقوام میں شیطان کی بندگی اور ” اللہ شر “ کی بندگی کا رواج موجود ہے۔ محض شیطان کی اتباع کرنا اور اس سے دوستی کرنا بھی ایک نوع کا شرک ہے۔
اب قرآن کے بارے میں مشرکین کے اقاویل اور جواب۔
آیت 100 اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَي الَّذِيْنَ يَتَوَلَّوْنَهٗ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ شیطان کا زور انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو اپنا رفیق اور سرپرست بنا لیتے ہیں اور اللہ کی اطاعت کے بجائے اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ گویا اس کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرا لیتے ہیں یا اس کے بہکانے سے دوسری ہستیوں کو اللہ کا شریک بنا لیتے ہیں۔