اس صفحہ میں سورہ An-Nahl کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النحل کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَلَا تَتَّخِذُوٓا۟ أَيْمَٰنَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوتِهَا وَتَذُوقُوا۟ ٱلسُّوٓءَ بِمَا صَدَدتُّمْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۖ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
وَلَا تَشْتَرُوا۟ بِعَهْدِ ٱللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۚ إِنَّمَا عِندَ ٱللَّهِ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ ۖ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ بَاقٍ ۗ وَلَنَجْزِيَنَّ ٱلَّذِينَ صَبَرُوٓا۟ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
مَنْ عَمِلَ صَٰلِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُۥ حَيَوٰةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
فَإِذَا قَرَأْتَ ٱلْقُرْءَانَ فَٱسْتَعِذْ بِٱللَّهِ مِنَ ٱلشَّيْطَٰنِ ٱلرَّجِيمِ
إِنَّهُۥ لَيْسَ لَهُۥ سُلْطَٰنٌ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
إِنَّمَا سُلْطَٰنُهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ يَتَوَلَّوْنَهُۥ وَٱلَّذِينَ هُم بِهِۦ مُشْرِكُونَ
وَإِذَا بَدَّلْنَآ ءَايَةً مَّكَانَ ءَايَةٍ ۙ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوٓا۟ إِنَّمَآ أَنتَ مُفْتَرٍۭ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
قُلْ نَزَّلَهُۥ رُوحُ ٱلْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِٱلْحَقِّ لِيُثَبِّتَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ
آیت 94 وَلَا تَتَّخِذُوْٓا اَيْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَادیکھو حقیقت یہ ہے کہ تم ہمارے نبی کو اچھی طرح پہچان چکے ہو : يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَھُمْ البقرۃ : 146۔ اب اس حالت میں اگر تم پھسلو گے تو یاد رکھو سیدھے جہنم کی آگ میں جا کر گرو گے : فَانْهَارَ بِهٖ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ التوبۃ : 109وَتَذُوْقُوا السُّوْۗءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌتمہیں تو چاہیے تھا کہ سب سے پہلے کھڑے ہو کر گواہی دیتے کہ ہم نے محمد کو اپنی کتاب میں دی گئی نشانیوں سے ٹھیک ٹھیک پہچان لیا ہے ‘ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ اور تمہیں نصیحت بھی کی گئی تھی : وَلَا تَكُوْنُوْٓا اَوَّلَ كَافِرٍۢ بِهٖ البقرۃ : 41 ”اور تم اس کے پہلے منکر نہ بن جانا“۔ اس سب کچھ کے باوجود تم لوگ اس گواہی کو چھپار ہے ہو : وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ البقرۃ : 140 ”اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جس نے چھپائی وہ گواہی جو اس کے پاس ہے اللہ کی طرف سے !“
اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ تمہیں دنیا کے چھوٹے چھوٹے مفادات بہت عزیز ہیں اور ان حقیر مفادات کے لیے تم لوگ اللہ کی ہدایت کو ٹھکرا رہے ہو ‘ مگر تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اگر تم لوگ اس ہدایت کو قبول کرلو گے تو اللہ کے ہاں اخروی انعامات سے نوازے جاؤ گے۔ اللہ کے ہاں جنت کی دائمی نعمتیں تمہارے ان مفادات کے مقابلے میں کہیں بہتر ہیں جن کے ساتھ تم لوگ آج چمٹے ہوئے ہو۔
وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِيْنَ صَبَرُوْٓا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ہر نیکو کار شخص کے تمام اعمال ایک درجے کے نہیں ہوتے کوئی نیکی اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے اور کوئی نسبتاً چھوٹے درجے کی۔ مگر جن لوگوں سے اللہ تعالیٰ خوش ہوجائیں گے ان کی اعلیٰ درجے کی نیکیوں کو سامنے رکھ کر ان کے اجر وثواب کا تعین کیا جائے گا۔
آیت 97 مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ایسے لوگ بیشک دنیا میں روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کریں مگر انہیں سکون قلب کی دولت نصیب ہوگی ان لوگوں کے دل غنی ہوں گے کیونکہ حضور کا فرمان ہے : اَلْغِنٰی غِنَی النَّفْسِ کہ اصل امیری تو دل کی امیری ہے۔ اگر انسان کا دل غنی ہے تو انسان واقعتا غنی ہے اور اگر ڈھیروں دولت پا کر بھی دل لالچ کے پھندے میں گرفتار ہے تو ایسا شخص دراصل غنی یا امیر نہیں فقیر ہے۔ چناچہ نیکو کار انسانوں کو دنیوی زندگی میں ہی غنا اور سکون قلب کی نعمت سے نوازا جائے گا کیونکہ یہ نعمت تو ثمرہ ہے اللہ کی یاد کا : اَلاَ بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَءِنُّ الْقُلُوْبُ الرعد ”آگاہ رہو ! دل تو اللہ کے ذکر ہی سے مطمئن ہوتے ہیں“۔ ایسے لوگوں کا شمار اللہ کے دوستوں اور اولیاء میں ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ خصوصی شفقت کا معاملہ فرمایا جاتا ہے اور انہیں حزن و ملال کے سایوں سے محفوظ رکھا جاتا ہے : اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآء اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ یونس ”آگاہ رہو ! یقیناً اولیاء اللہ پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“
آیت 98 فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ باللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ اس حکم کی رو سے قرآن کی تلاوت شروع کرنے سے پہلے اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھنا ضروری ہے۔
آیت 100 اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَي الَّذِيْنَ يَتَوَلَّوْنَهٗ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ شیطان کا زور انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو اپنا رفیق اور سرپرست بنا لیتے ہیں اور اللہ کی اطاعت کے بجائے اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ گویا اس کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرا لیتے ہیں یا اس کے بہکانے سے دوسری ہستیوں کو اللہ کا شریک بنا لیتے ہیں۔
آیت 101 وَاِذَا بَدَّلْنَآ اٰيَةً مَّكَانَ اٰيَةٍ قبل ازیں یہ مضمون سورة البقرۃ میں بیان ہوچکا ہے : مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا آیت 106۔ چناچہ سورة البقرۃ کے مطالعے کے دوران اس آیت کے تحت اس مضمون کی وضاحت بھی ہوچکی ہے۔وَّاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قرآن کا نزول اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت کے عین مطابق ہور ہا ہے۔ اگر کوئی مخصوص حکم کسی ایک دور کے لیے تھا اور پھر بدلے ہوئے حالات میں اس حکم میں تبدیلی کی ضرورت ہے تو یہ سب کچھ اللہ کے علم کے مطابق ہے اور کسی خاص ضرورت اور حکمت کے تحت ہی کسی حکم میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ مگر ایسی تبدیلی کو دیکھتے ہوئے :قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مُفْتَرٍ کہ پہلے یوں کہا گیا تھا اب اسے بدل کر یوں کہہ رہے ہیں۔ اگر یہ اللہ کا کلام ہوتا تو اس میں اس طرح کی تبدیلی کیسے ممکن تھی ؟بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ حقیقت یہ ہے کہ ان کی اکثریت علم سے عاری ہے۔
آیت 102 قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بالْحَقِّ یہاں پر روح القدس کا لفظ حضرت جبرائیل کے لیے آیا ہے کہ ایک پاک فرشتہ اس کلام کو لے کر آیا ہے۔لِيُثَبِّتَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاسورۃ الفرقان میں یہی مضمون اس طرح بیان کیا گیا ہے : کَذٰلِکَ لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ وَرَتَّلْنٰہُ تَرْتِیْلًا ”تاکہ ہم مضبوط کریں اس کے ساتھ آپ کے دل کو اور اسی لیے ہم نے پڑھ سنایا اسے ٹھہر ٹھہر کر۔“وَهُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ جیسے جیسے حالات میں تبدیلی آرہی ہے ویسے ویسے اس قرآن کے ذریعے مسلمانوں کے لیے ہدایت و راہنمائی کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ مثلاً قصہ آدم و ابلیس جب پہلی دفعہ بیان کیا گیا تو اس میں وہ تفصیلات بیان کی گئیں جو اس وقت کے مخصوص معروضی حالات میں حضور اور مسلمانوں کے لیے جاننا ضروری تھیں۔ پھر جب حالات میں تبدیلی آئی تو یہی قصہ کچھ مزید تفصیلات کے ساتھ پھر نازل کیا گیا اور اسی اصول اور ضرورت کے تحت اس کا نزول بار بار ہوا تاکہ ہر دور کے حالات کے مطابق اہل حق اس میں سے اپنی راہنمائی کے لیے سبق حاصل کرسکیں۔