قل نزلہ روح القدس من ربک بالحق (61 : 201) ” کہہ دو اسے تو روح القدس مانے ٹھیک ٹھیک تیرے رب کی طرف سے بتدریج مجھ پر نازل کیا ہے “۔ لہٰذا اس بات کا امکان ہی نہیں رہتا کہ افتراء ہو۔ اسے روح القدس لے کر آئے ہیں ، اللہ کی طرف سے لائے ہیں اور اس کی تعلیمات سچائی پر مشتمل ہیں۔ ان میں باطل کا شائبہ تک نہیں ہے اور یہ اس لئے آئی کہ یشت الذین امنوا (61 : 201) ” تاکہ ایمان لانے والوں کے ایمان کو پختہ کریں “۔ ان کے دل اللہ کے ساتھ جڑ جائیں اور وہ معلوم کرلیں کہ یہ تعلیمات اللہ کی طرف سے ہیں۔ وہ حق پر جم جائیں اور ان کی سچائی پر مطمئن ہوجائیں تاکہ وھدی و بشری للمسلمین (61 : 201) ” اور فرماں برداروں کو زندگی کے معاملات میں سیدھی راہ بتائے اور انہیں سعادت اور فلاح کی خوشخبری دے “۔ یہ خوشخبری خصوصا نصرت اور تمکین فی الارض کے بارے میں ہے۔
آیت 102 قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بالْحَقِّ یہاں پر روح القدس کا لفظ حضرت جبرائیل کے لیے آیا ہے کہ ایک پاک فرشتہ اس کلام کو لے کر آیا ہے۔لِيُثَبِّتَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاسورۃ الفرقان میں یہی مضمون اس طرح بیان کیا گیا ہے : کَذٰلِکَ لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ وَرَتَّلْنٰہُ تَرْتِیْلًا ”تاکہ ہم مضبوط کریں اس کے ساتھ آپ کے دل کو اور اسی لیے ہم نے پڑھ سنایا اسے ٹھہر ٹھہر کر۔“وَهُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ جیسے جیسے حالات میں تبدیلی آرہی ہے ویسے ویسے اس قرآن کے ذریعے مسلمانوں کے لیے ہدایت و راہنمائی کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ مثلاً قصہ آدم و ابلیس جب پہلی دفعہ بیان کیا گیا تو اس میں وہ تفصیلات بیان کی گئیں جو اس وقت کے مخصوص معروضی حالات میں حضور اور مسلمانوں کے لیے جاننا ضروری تھیں۔ پھر جب حالات میں تبدیلی آئی تو یہی قصہ کچھ مزید تفصیلات کے ساتھ پھر نازل کیا گیا اور اسی اصول اور ضرورت کے تحت اس کا نزول بار بار ہوا تاکہ ہر دور کے حالات کے مطابق اہل حق اس میں سے اپنی راہنمائی کے لیے سبق حاصل کرسکیں۔