قرآن کریم ان کے ان اقوال کی وجہ یہ بتاتا ہے :
ان الذین لا یومنون بایت اللہ لا یھدیھم اللہ ولھم عذاب الیم (61 : 401) ” حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیات کو نہیں مانتے ، اللہ کبھی ان کو صحیح بات تک پہنچنے کی توفیق نہیں دیتا اور ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے “۔
یہ لوگ جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے ، اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق نہیں دی کہ وہ اس کتاب کے بارے میں صحیح رائے قائم کریں۔ نہ وہ اصل حقیقت کی طرف راہ پاسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ کفر کریں گے ، منہ موڑیں گے اور کبھی بھی مان کر نہ دیں گے۔ اس لئے ولھم عذاب الیم (61 : 401) ” ان کے لئے دردناک عذاب ہے “۔
یہاں اب بتایا جاتا ہے کہ رسول امین کس طرح اللہ پر افترا باندھ سکتے ہیں۔ ایسا کام تو وہ لوگ کرتے ہیں جو بدقماش لوگ ہوں اور جو افتراء پر دازی کرتے رہتے ہیں۔
آیت 104 اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ۙ لَا يَهْدِيْهِمُ اللّٰهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌاللہ کا یہ طریقہ نہیں کہ کسی کو زبردستی کھینچ کر ہدایت کی طرف لے آئے۔
ارادہ نہ ہو تو بات نہیں بنتی جو اللہ کے ذکر سے منہ موڑے، اللہ کی کتاب سے غفلت کرے، اللہ کی باتوں پر ایمان لانے کا قصد ہی نہ رکھے ایسے لوگوں کو اللہ بھی دور ڈال دیتا ہے انہیں دین حق کی توفیق ہی نہیں ہوتی آخرت میں سخت درد ناک عذابوں میں پھنستے ہیں۔ پھر بیان فرمایا کہ یہ رسول سلام علیہ اللہ پر جھوٹ و افترا باندھنے والے نہیں، یہ کام تو بدترین مخلوق کا ہے جو ملحد و کافر ہوں ان کا جھوٹ لوگوں میں مشہور ہوتا ہے اور آنحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تو تمام مخلوق سے بہتر و افضل دین دار، اللہ شناس، سچوں کے سے ہیں۔ سب سے زیادہ کمال علم و ایمان، عمل و نیکی میں آپ کو اصل ہے۔ سچائی میں، بھلائی میں، یقین میں، معرفت میں، آپ کا ثانی کوئی نہیں۔ ان کافروں سے ہی پوچھ لو یہ بھی آپ کی صداقت کے قائل ہیں۔ آپ کی امانت کے مداح ہیں۔ آپ ان میں محمد امین کے ممتاز لقب سے مشہور معروف ہیں۔ شاہ روم ہرقل نے جب ابو سفیان سے آنحضرت ﷺ کی نسبت بہت سے سوالات کئے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ دعویٰ نبوت سے پہلے تم نے اسے کبھی جھوٹ کی طرف نسبت کی ہے ؟ ابو سفیان نے جواب دیا کبھی نہیں اس پر شاہ نے کہا کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک وہ شخص جس نے دنیوی معاملات میں لوگوں کے بارے میں کبھی بھی جھوٹ کی گندگی سے اپنی زبان خراب نہ کی ہو وہ اللہ پر جھوٹ باندھنے لگے۔