اس صفحہ میں سورہ An-Nahl کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النحل کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُۥ بَشَرٌ ۗ لِّسَانُ ٱلَّذِى يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِىٌّ وَهَٰذَا لِسَانٌ عَرَبِىٌّ مُّبِينٌ
إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ لَا يَهْدِيهِمُ ٱللَّهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
إِنَّمَا يَفْتَرِى ٱلْكَذِبَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَٰذِبُونَ
مَن كَفَرَ بِٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ إِيمَٰنِهِۦٓ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُۥ مُطْمَئِنٌّۢ بِٱلْإِيمَٰنِ وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِٱلْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ ٱللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ ٱسْتَحَبُّوا۟ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا عَلَى ٱلْءَاخِرَةِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْكَٰفِرِينَ
أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَأَبْصَٰرِهِمْ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْغَٰفِلُونَ
لَا جَرَمَ أَنَّهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ
ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا۟ مِنۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوا۟ ثُمَّ جَٰهَدُوا۟ وَصَبَرُوٓا۟ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ
ولقد نعلم انھم یقولون انما یعلمہ بشر لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی و ھذا لسان عربی مبین (61 : 3019 ” ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ تمہارے متعلق کہتے ہیں کہ اس شخص کو ایک آدمی سکھاتا ہے حالانکہ ان کا اشارہ جس آدمی کی طرف ہے اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے “۔
ان کی طرف سے دوسرا افتراء یہ تھا کہ شاید رسول اللہ ﷺ کو کوئی آدمی یہ قرآن مجید سکھاتا ہے۔ انہوں نے اس کا نام بھی لیا تھا۔ البتہ اس کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ وہ ایک عجمی غلام کی طرف اشارہ کرتے تھے جو دراصل بعض قبائل قریش کا غلام تھا اور یہ حلفاء کے قریب تجارت کرتا تھا۔ اس کے پاس حضور اکرم ﷺ بیٹھا کرتے تھے۔ یہ شخص عجمی تھا اور عربی زبان جانتا ہی نہ تھا۔ صرف عربی میں بقدر ضرورت شد بد رکھتا تھا۔
محمد ابن اسحاق کی روایت ہے کہ مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ حضور اکرم ﷺ مروہ کے قریب ایک عیسائی غلام کے پاس بیٹھا کرتے تھے اس کا نام جبر تھا۔ یہ ابنی الحضرم شاخ کا غلام تھا۔ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
ولقد تعلم انھم یقولون انما یعلمہ بشر لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی و ھذا السان عربی میبن (61 : 301) ” ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ تمہارے متعلق کہتے ہیں کہ اس شخص کو ایک آدمی سکھاتا ہے حالانکہ ان کا اشارہ جس آدمی کی طرف ہے اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے “۔
عبد اللہ ابن کثیر نے کہا ہے اور عکرمہ اور قتادہ سے نقل کیا ہے کہ اس کا نام بعیش تھا ابن کثیر نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک غلام کو تعلیم دیتے تھے۔ یہ مکہ میں تھا اور اس کا نام بلمام تھا اور حضور اکرم ﷺ اس کے پاس جایا کرتے تھے۔ مشرکین کو معلوم تھا کہ آپ ﷺ اس کے پاس آتے جاتے ہیں تو انہوں نے یہ الزام لگایا کہ آپ ﷺ کو یہ تعلیمات بلمام دے رہا ہے۔
بہرحال نام جو بھی ہو ، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس الزام کی جو تردید کی ہے وہ سادہ اور لاجواب ہے۔ اور یہ کہ تم دیکھتے نہیں ہو کہ جس شخص کا تم کہتے ہو اس کی تو زبان عجمی ہے اور قرآن عربی مبین میں ہے۔
ان لوگوں نے حضور اکرم ﷺ پر جو الزام لگایا تھا اسے ہم ہرگز سنجیدہ الزام نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ بھی ان کی جانب سے جھوٹے پروپیگنڈے کی سازش تھی۔ اس لئے کہ وہ قرآن مجید کی ادبی اور نظریاتی قدر و قیمت اور اس کے اعجاز کو اچھی طرح جانتے تھے۔ یہ تو ممکن ہی نہ تھا کہ کوئی عجمی حضور اکرم ﷺ کو یہ کلام سکھا سکے۔ اگر کوئی عجمی اس قسم کا کلام لاسکتا تو وہ اسے بطور اپنے کلام کے کیوں پیش نہ کرتا۔
آج جبکہ انسان نے بہت زیادہ ترقی کرلی ہے اور انسانی قابلیت کے نتیجے میں تصنیف و تالیف کا فن بہت ہی آگے بڑھ گیا ہے۔ نیز قانون سازی اور نظم و نسق کے جدید ترین طریقے وجود میں آگئے ہیں۔ آج ایک معمولی علم رکھنے والا کوئی شخص اور اجتماعی نظاموں اور قانونی نظاموں سے واقف کوئی بھی شخص یہ تصور نہیں کرسکتا کہ یہ کتاب کسی ایک انسان کی تصنیف ہوسکتی ہے۔
روس کے مادہ پرست اور ملحدوں کی رائے بھی یہ ہے کہ یہ قرآن کریم کسی ایک شخص کی تصنیف نہیں ہوسکتی۔ یہ ایک پوری جماعت کی تصنیف ہے بلکہ اس کے بعض حصے جزیرۃ العرب کی تصنیف بھی نہیں ہوسکتے۔ اس کے بعض حصے ایسے ہیں کہ وہ یقینا باہر سے لائے گئے ہیں۔ یہ نگارشات انہوں نے 4591 ء میں اس کانفرنس کے نتجے میں مرتب کیں جو قرآن کریم پر تنقید کے لئے انہوں نے منعقد کی تھی۔
روسیوں نے یہ تجویز اس لئے پیش کی کہ ایک شخص کے اندر اس قدر قابلیت نہیں ہوسکتی کہ وہ ایسی کتاب تصنیف کرے۔ اور نہ کسی ایک قوم کا یہ کام ہے لیکن روسیوں کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ سیدھی سادی بات تسلیم کرلیں کہ یہ کتاب انسانی تصنیف نہیں ہوسکتی لہٰذا یہ وحی رب العالمین ہے۔ لیکن وہ چونکہ مادہ پرست اور ملحد تھے ، اور خدا ، رسولوں اور رسالت کے وجود ہی کے منکر تھے اس لیے انہوں نے یہ سچائی تسلیم نہ کی۔
اگر بیسویں صدی کے مستشرقین کی سوچ یہ ہے کہ قرآن کریم کسی ایک انسانی کی تصنیف نہیں ہوسکتا تو پھر جزیرۃ العرب کے ایک عجمی غلام کی تصنیف کس طرح ہوسکتا ہے۔
قرآن کریم ان کے ان اقوال کی وجہ یہ بتاتا ہے :
ان الذین لا یومنون بایت اللہ لا یھدیھم اللہ ولھم عذاب الیم (61 : 401) ” حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیات کو نہیں مانتے ، اللہ کبھی ان کو صحیح بات تک پہنچنے کی توفیق نہیں دیتا اور ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے “۔
یہ لوگ جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے ، اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق نہیں دی کہ وہ اس کتاب کے بارے میں صحیح رائے قائم کریں۔ نہ وہ اصل حقیقت کی طرف راہ پاسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ کفر کریں گے ، منہ موڑیں گے اور کبھی بھی مان کر نہ دیں گے۔ اس لئے ولھم عذاب الیم (61 : 401) ” ان کے لئے دردناک عذاب ہے “۔
یہاں اب بتایا جاتا ہے کہ رسول امین کس طرح اللہ پر افترا باندھ سکتے ہیں۔ ایسا کام تو وہ لوگ کرتے ہیں جو بدقماش لوگ ہوں اور جو افتراء پر دازی کرتے رہتے ہیں۔
انما یفتری الکذب الذین لا یومنون بایت اللہ واولئک ھم الکذبون (61 : 501) ”(جھوٹی باتیں نبی نہیں گھڑتا بلکہ) جھوٹ وہ لوگ گھڑ رہے ہیں جو اللہ کی آیات کو نہیں مانتے ، وہی حقیقت میں جھوٹے ہیں “۔
جھوٹ اس قدر گھنائونا گناہ ہے کہ کوئی مومن کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔ حضور اکرم ﷺ نے ایک حدیث میں صاف فرمایا ہے کہ کوئی مسلم جھوٹ نہیں بول سکتا اگرچہ مسلم سے دوسرے گناہ سرزد ہوسکتے ہیں۔
اب یہاں سے آگے ان لوگوں کے احکام بیان کیے جات ہیں جو ایمان کے بعد کفر اختیار کرتے ہیں۔
مکہ کے ابتدائی دور میں مسلمانوں پر اس قدر مظالم ڈھائے گئے اور وہ اس قدر مشکلات سے دوچار ہوئے کہ ان کا برداشت کرنا صرف اس شخص کے لئے ممکن تھا جس نے شہادت کی نیت کی ہوئی تھی اور اس نے اس دنیا کی زندگی کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی ہوئی تھی اور وہ اسلام کے بعد کفر کی طرف لوٹنے کے مقابلے میں شدید سے شدید اذیت کے لئے تیار ہوگیا تھا۔
یہاں بتایا جاتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد کفر کو اختیار کرنا بڑا جرم ہے۔ کیونکہ ایمان کو جاننے اور اس کو برتنے کے بعد ارتداد اختیار کرنا اور آخرت کے مقابلے میں کفر اختیار کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہوگا ، عذاب عظیم کے وہ مستحق ہوں گے اور ہدایت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محروم ہوجائیں گے۔ ایسے لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کے دلوں ، کانوں اور آنکھوں میں مہر لگ جاتی ہے اور آخرت میں یہ لوگ بہت بڑے خسارے سے دور چار ہوں گے اس لئے کہ نظریہ کے بارے میں کوئی تحریک بھی سودا بازی نہیں کرسکتی اور نظریہ اور دعوت کے بارے میں سود و شبان کا لحاظ بھی نہیں کیا جاتا۔ جب ایک شخص ایمان لا کر اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرلیتا ہے تو پھر چاہیے کہ اس زمین اور اس دنیا کے موثرات میں سے کوئی موثر بھی اس انسان پر اثر انداز نہ ہو کیونکہ زمین کا اپنا حساب و کتاب اور قدرو قیمت ہوتی ہے اور نظریات کی اپنی قدر و قیمت ہوتی ہے۔ نظریہ کوئی مذاق نہیں ہوتا ، نظریات کے بارے میں کوئی بھی سودا بازی نہیں ہوسکتی کیونکہ نظریات سودے بازی سے بلند مقام رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس فعل کی سزا میں اس قدر سختی کی گئی ہے۔ اس سخت حکم سے صرف ایک استثناء ہے۔ وہ یہ کہ ایک آدمی کو اعلان کفر پر مجبور کردیا گیا ہو لیکن اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو ، یعنی کوئی شخص اعلان کفر اس حالت میں کردے کہ اسے موت کا خطرہ ہو لیکن اس کا دل ایمان و یقین پر مطئمن ہو۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت حضرت عمار ابن یاسر کے بارے میں نازل ہوئی۔
ابن جریر نے محمد ابن یاسر سے روایت کی ہے کہ مشرکوں نے عمار ابن یاسر کو پکڑا اور انہیں سخت تکلیف دی۔ بہت تشدد کیا یہاں تک کہ وہ ان کی خواہش کے مطابق بات کرنے کے قریب ہوگیا۔ اس نے اس بات کی شکایت حضور ﷺ سے کی کہ اس نے تشدد کی وجہ سے یہ باتیں کیں تو حضور ﷺ نے فرمایا تم اپنے دل کو کیسا پا رہے ہو تو انہوں نے عرض کیا کہ میرا دل تو ایمان پر مطمئن ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر انہوں نے پھر اس قدر تشدد کیا تو تم پھر ایسی بات کہہ دو ۔ چنانہچ ایسے مشکل حالات میں کلمات کفر کہنے کی اجازت اور رخصت دے دی گئی۔
بعض مسلمان ایسے بھی گرزے جنہوں نے محض زبان سے کلمہ کفر ادا کرنے کے مقابلے میں موت کو پسند کیا۔ سمیہ ابن یاسر نے یہ مقام عزیمت حاصل کیا۔ ان کے اندام نہانی میں تیر کا نشانہ لگا۔ اسی طرح ابو یاسر نے بھی یہ مقام حاصل کیا۔ دونوں شہید ہوگئے مگر کلمہ کفر نہ کہا۔
اور حضرت بلال ؓ کے ساتھ کیا کچھ نہ کیا گیا۔ شدید گرمی میں ایک عظیم پتھر ان کے سینے پر رکھ دیا جاتا اور کہا جاتا کلمہ شرک کہو۔ وہ انکار کرتے اور کہتے احد احد اور کہتے کاش اگر اس سے زیادہ سخت بات معلوم ہوتی تو میں وہ بھی کرتا۔
یہی حال حبیب ابن زید انصاری کا رہا۔ ان سے مسلیمہ کذاب نے کہا : کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ؟ تو ہو کہتے ہاں ، پھر اس نے کہا ، کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں رسول ہوں۔ تو وہ کہتے ہیں میں نہیں سن رہا۔ تو وہ ان کا ایک عضوکاٹتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ اس حالت میں شہید ہوگئے۔
ابن عساکر نے عبد اللہ ابن حذیفہ سمی کی سوانح عمری میں لکھا ہے۔ یہ صحابی تھے۔ ان کو رومیوں نے گرفتار کرلیا۔ انہوں نے اسے اپنے بادشاہ کے سامنے پیش کیا۔ بادشاہ نے انہیں کیا کہ آپ نصرانی بن جائیں ، میں آپ کو اپنے اقتدار میں بھی شریک کرتا ہوں اور اپنی لڑکی آپ کے نکاح میں دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تو مجھے اپنی پوری مملکت دے دے اور تمام عربوں کی حکومت بھی عطا کردے ، اس کے عوض کہ میں محمد ﷺ کے دین کو ترک کردوں اور وہ بھی پلک جھپکنے جتنی دیر کے لئے تو بھی میں یہ کام نہ کروں گا۔ اس نے کہا تو پھر میں تمہیں قتل کردوں گا۔ انہوں نے کہا تمہیں اختیار ہے جو چاہو کرو۔ کہتے ہیں کہ اس نے حکم دیا اور انہیں سولی پر لٹکا دیا گیا۔ پھر اس نے تیرا ندازوں کو حکم دیا کہ وہ اس کے پائوں اور ہاتھوں کے قریب تیر ماریں۔ چناچہ وہ تیرمارتے رہے اور بادشاہ ان پر نصرانیت کا دین پیش کرتا رہا۔ لیکن انہوں نے انکار کیا۔ اس کے بعد اس نے حکم دیا کہ انہیں سولی سے اتار دیں۔ چناچہ انہیں تختہ دار سے اتارا گیا۔ اس کے بعد تاننے کے ایک (تیل کی) ہنڈیا یا دیگ لائی گئی۔ اسے گرم کیا گیا۔ اس کے بعد ایک مسلمان قیدی لایا گیا ، اسے اس کے اندر پھینکا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ چمکدار ہڈیاں بن کر رہ گیا۔ اس کے بعد پھر اس نے ان پر اپنا دین پیش کیا اور انہوں نے انکار کردیا۔ اب اس نے حکم دیا کہ ان کو بھی اس میں پھینک دیا جائے۔ انہیں لوہے کی چرخی پر چڑھایا گیا تاکہ اس کے اندر پھینک دیں۔ اس وقت وہ روئے۔ اس پر اس بادشاہ کو یہ لالچ پیدا ہوگیا کہ شاید اب مان جائیں تو انہوں نے اسے بلایا تو انہوں نے کہا کہ میں رویا اس لئے ہوں کہ میری جان ایک ہے اور یہ ابھی اسی دیگ میں ڈال دی جائے گی اور ختم ہوجائے گی لیکن میری خواہش تو یہ ہے کہ میرے جسم کے ہر بال کے برابر جانیں عطا ہوتیں اور وہ اللہ کی راہ میں قربان ہوتیں۔
ایک روایت میں ہے کہ اس نے ان کو قید کردیا اور کھانا بند کردیا۔ ایک عرصے تک یہ پابندی تھی۔ اس کے بعد انہیں شراب اور خنزیر بھیجا تو انہوں نے ان کو ہاتھ نہ لگایا۔ تو انہوں نے بلا کر پوچھا کہ تم نے ان کو کیوں ہاتھ نہ لگایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیزیں اس وقت تو میرے لئے حلال ہیں لیکن میں تمہیں خوش کرنا نہیں چاہتا۔ اس پر اس نے کہا چلو میرے سرہی کو چوم لو ، میں تمہیں رہا کردوں گا۔ اس پر انہوں نے کہا کیا تم میرے ساتھ تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کردو گے ؟ تو اس نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے اس کے سر کو چوم لیا اور انہوں نے وہ تمام قیدی رہا کردئیے جو ان کے ساتھ تھے۔ جب وہ لوٹے تو عمر بن الخطاب ؓ نے فرمایا ہر مسلمان پر یہ حق ہے کہ وہ عبد اللہ بن حذافہ کا سر چومے اور میں اس کی ابتداء کرتا ہوں۔ وہ اٹھے اور انہوں نے ان کے سر کو چوما۔ اللہ دونوں سے راضی ہو۔
یہ اس لئے کہ عقیدہ اور نظیرہ ایک عظیم دولت ہیں۔ نظریہ میں کمزورہ نہیں دکھائی جاتی اور رخصتوں پر عمل نہیں ہوتا۔ اس کے لئے بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ اگرچہ رخصت ہوتی ہے لیکن ایک مومن نفس اس کو ترجیح دیتا ہے کہ وہ عزیمت پر عمل کرے کیونکہ نظریہ ایک ایسی امانت ہے جس پر انسان کو پوری زندگی اور پورے دنیاوی مفادات کو قربان کرنا چاہیے۔
یہ لوگ عربوں میں ضعفاء میں سے تھے اور سرکش مشرکین نے ان کو ان کے دین اور نظریہ کی وجہ سے تکالیف دیں۔ لیکن جونہی ان کو مواقعہ ملا انہوں نے ہجرت کی۔ اسلام پختگی حاصل کی۔ اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور دعوت اسلامی کی خاطر تکالیف اٹھاتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ان کو مغفرت کی بشارت دیتے ہیں ۔
ان ربک من بعدھا لغفور رحیم (61 : 011) ” ان کے لئے یقینا تیرا رب غفور ورحیم ہے “۔
یہ وہ دن ہے جس میں ہر نفس اپنے معاملات میں گھرا ہوگا۔ کوئی کسی اور کی طرف متوجہ نہ ہوگا۔