سورہ نحل: آیت 106 - من كفر بالله من بعد... - اردو

آیت 106 کی تفسیر, سورہ نحل

مَن كَفَرَ بِٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ إِيمَٰنِهِۦٓ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُۥ مُطْمَئِنٌّۢ بِٱلْإِيمَٰنِ وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِٱلْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ ٱللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ

اردو ترجمہ

جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور دل اس کا ایمان پر مطمئن ہو (تب تو خیر) مگر جس نے دل کی رضا مندی سے کفر کو قبول کر لیا اس پر اللہ کا غضب ہے اور ایسے سب لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Man kafara biAllahi min baAAdi eemanihi illa man okriha waqalbuhu mutmainnun bialeemani walakin man sharaha bialkufri sadran faAAalayhim ghadabun mina Allahi walahum AAathabun AAatheemun

آیت 106 کی تفسیر

مکہ کے ابتدائی دور میں مسلمانوں پر اس قدر مظالم ڈھائے گئے اور وہ اس قدر مشکلات سے دوچار ہوئے کہ ان کا برداشت کرنا صرف اس شخص کے لئے ممکن تھا جس نے شہادت کی نیت کی ہوئی تھی اور اس نے اس دنیا کی زندگی کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی ہوئی تھی اور وہ اسلام کے بعد کفر کی طرف لوٹنے کے مقابلے میں شدید سے شدید اذیت کے لئے تیار ہوگیا تھا۔

یہاں بتایا جاتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد کفر کو اختیار کرنا بڑا جرم ہے۔ کیونکہ ایمان کو جاننے اور اس کو برتنے کے بعد ارتداد اختیار کرنا اور آخرت کے مقابلے میں کفر اختیار کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہوگا ، عذاب عظیم کے وہ مستحق ہوں گے اور ہدایت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محروم ہوجائیں گے۔ ایسے لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کے دلوں ، کانوں اور آنکھوں میں مہر لگ جاتی ہے اور آخرت میں یہ لوگ بہت بڑے خسارے سے دور چار ہوں گے اس لئے کہ نظریہ کے بارے میں کوئی تحریک بھی سودا بازی نہیں کرسکتی اور نظریہ اور دعوت کے بارے میں سود و شبان کا لحاظ بھی نہیں کیا جاتا۔ جب ایک شخص ایمان لا کر اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرلیتا ہے تو پھر چاہیے کہ اس زمین اور اس دنیا کے موثرات میں سے کوئی موثر بھی اس انسان پر اثر انداز نہ ہو کیونکہ زمین کا اپنا حساب و کتاب اور قدرو قیمت ہوتی ہے اور نظریات کی اپنی قدر و قیمت ہوتی ہے۔ نظریہ کوئی مذاق نہیں ہوتا ، نظریات کے بارے میں کوئی بھی سودا بازی نہیں ہوسکتی کیونکہ نظریات سودے بازی سے بلند مقام رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس فعل کی سزا میں اس قدر سختی کی گئی ہے۔ اس سخت حکم سے صرف ایک استثناء ہے۔ وہ یہ کہ ایک آدمی کو اعلان کفر پر مجبور کردیا گیا ہو لیکن اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو ، یعنی کوئی شخص اعلان کفر اس حالت میں کردے کہ اسے موت کا خطرہ ہو لیکن اس کا دل ایمان و یقین پر مطئمن ہو۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت حضرت عمار ابن یاسر کے بارے میں نازل ہوئی۔

ابن جریر نے محمد ابن یاسر سے روایت کی ہے کہ مشرکوں نے عمار ابن یاسر کو پکڑا اور انہیں سخت تکلیف دی۔ بہت تشدد کیا یہاں تک کہ وہ ان کی خواہش کے مطابق بات کرنے کے قریب ہوگیا۔ اس نے اس بات کی شکایت حضور ﷺ سے کی کہ اس نے تشدد کی وجہ سے یہ باتیں کیں تو حضور ﷺ نے فرمایا تم اپنے دل کو کیسا پا رہے ہو تو انہوں نے عرض کیا کہ میرا دل تو ایمان پر مطمئن ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر انہوں نے پھر اس قدر تشدد کیا تو تم پھر ایسی بات کہہ دو ۔ چنانہچ ایسے مشکل حالات میں کلمات کفر کہنے کی اجازت اور رخصت دے دی گئی۔

بعض مسلمان ایسے بھی گرزے جنہوں نے محض زبان سے کلمہ کفر ادا کرنے کے مقابلے میں موت کو پسند کیا۔ سمیہ ابن یاسر نے یہ مقام عزیمت حاصل کیا۔ ان کے اندام نہانی میں تیر کا نشانہ لگا۔ اسی طرح ابو یاسر نے بھی یہ مقام حاصل کیا۔ دونوں شہید ہوگئے مگر کلمہ کفر نہ کہا۔

اور حضرت بلال ؓ کے ساتھ کیا کچھ نہ کیا گیا۔ شدید گرمی میں ایک عظیم پتھر ان کے سینے پر رکھ دیا جاتا اور کہا جاتا کلمہ شرک کہو۔ وہ انکار کرتے اور کہتے احد احد اور کہتے کاش اگر اس سے زیادہ سخت بات معلوم ہوتی تو میں وہ بھی کرتا۔

یہی حال حبیب ابن زید انصاری کا رہا۔ ان سے مسلیمہ کذاب نے کہا : کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ؟ تو ہو کہتے ہاں ، پھر اس نے کہا ، کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں رسول ہوں۔ تو وہ کہتے ہیں میں نہیں سن رہا۔ تو وہ ان کا ایک عضوکاٹتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ اس حالت میں شہید ہوگئے۔

ابن عساکر نے عبد اللہ ابن حذیفہ سمی کی سوانح عمری میں لکھا ہے۔ یہ صحابی تھے۔ ان کو رومیوں نے گرفتار کرلیا۔ انہوں نے اسے اپنے بادشاہ کے سامنے پیش کیا۔ بادشاہ نے انہیں کیا کہ آپ نصرانی بن جائیں ، میں آپ کو اپنے اقتدار میں بھی شریک کرتا ہوں اور اپنی لڑکی آپ کے نکاح میں دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تو مجھے اپنی پوری مملکت دے دے اور تمام عربوں کی حکومت بھی عطا کردے ، اس کے عوض کہ میں محمد ﷺ کے دین کو ترک کردوں اور وہ بھی پلک جھپکنے جتنی دیر کے لئے تو بھی میں یہ کام نہ کروں گا۔ اس نے کہا تو پھر میں تمہیں قتل کردوں گا۔ انہوں نے کہا تمہیں اختیار ہے جو چاہو کرو۔ کہتے ہیں کہ اس نے حکم دیا اور انہیں سولی پر لٹکا دیا گیا۔ پھر اس نے تیرا ندازوں کو حکم دیا کہ وہ اس کے پائوں اور ہاتھوں کے قریب تیر ماریں۔ چناچہ وہ تیرمارتے رہے اور بادشاہ ان پر نصرانیت کا دین پیش کرتا رہا۔ لیکن انہوں نے انکار کیا۔ اس کے بعد اس نے حکم دیا کہ انہیں سولی سے اتار دیں۔ چناچہ انہیں تختہ دار سے اتارا گیا۔ اس کے بعد تاننے کے ایک (تیل کی) ہنڈیا یا دیگ لائی گئی۔ اسے گرم کیا گیا۔ اس کے بعد ایک مسلمان قیدی لایا گیا ، اسے اس کے اندر پھینکا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ چمکدار ہڈیاں بن کر رہ گیا۔ اس کے بعد پھر اس نے ان پر اپنا دین پیش کیا اور انہوں نے انکار کردیا۔ اب اس نے حکم دیا کہ ان کو بھی اس میں پھینک دیا جائے۔ انہیں لوہے کی چرخی پر چڑھایا گیا تاکہ اس کے اندر پھینک دیں۔ اس وقت وہ روئے۔ اس پر اس بادشاہ کو یہ لالچ پیدا ہوگیا کہ شاید اب مان جائیں تو انہوں نے اسے بلایا تو انہوں نے کہا کہ میں رویا اس لئے ہوں کہ میری جان ایک ہے اور یہ ابھی اسی دیگ میں ڈال دی جائے گی اور ختم ہوجائے گی لیکن میری خواہش تو یہ ہے کہ میرے جسم کے ہر بال کے برابر جانیں عطا ہوتیں اور وہ اللہ کی راہ میں قربان ہوتیں۔

ایک روایت میں ہے کہ اس نے ان کو قید کردیا اور کھانا بند کردیا۔ ایک عرصے تک یہ پابندی تھی۔ اس کے بعد انہیں شراب اور خنزیر بھیجا تو انہوں نے ان کو ہاتھ نہ لگایا۔ تو انہوں نے بلا کر پوچھا کہ تم نے ان کو کیوں ہاتھ نہ لگایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیزیں اس وقت تو میرے لئے حلال ہیں لیکن میں تمہیں خوش کرنا نہیں چاہتا۔ اس پر اس نے کہا چلو میرے سرہی کو چوم لو ، میں تمہیں رہا کردوں گا۔ اس پر انہوں نے کہا کیا تم میرے ساتھ تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کردو گے ؟ تو اس نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے اس کے سر کو چوم لیا اور انہوں نے وہ تمام قیدی رہا کردئیے جو ان کے ساتھ تھے۔ جب وہ لوٹے تو عمر بن الخطاب ؓ نے فرمایا ہر مسلمان پر یہ حق ہے کہ وہ عبد اللہ بن حذافہ کا سر چومے اور میں اس کی ابتداء کرتا ہوں۔ وہ اٹھے اور انہوں نے ان کے سر کو چوما۔ اللہ دونوں سے راضی ہو۔

یہ اس لئے کہ عقیدہ اور نظیرہ ایک عظیم دولت ہیں۔ نظریہ میں کمزورہ نہیں دکھائی جاتی اور رخصتوں پر عمل نہیں ہوتا۔ اس کے لئے بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ اگرچہ رخصت ہوتی ہے لیکن ایک مومن نفس اس کو ترجیح دیتا ہے کہ وہ عزیمت پر عمل کرے کیونکہ نظریہ ایک ایسی امانت ہے جس پر انسان کو پوری زندگی اور پورے دنیاوی مفادات کو قربان کرنا چاہیے۔

آیت 106 مَنْ كَفَرَ باللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖٓاس کا اطلاق ایمان کی دونوں کیفیتوں پر ہوگا۔ ایک یہ کہ دل میں ایمان آگیا بات پوری طرح دل میں بیٹھ گئی ‘ دل میں یقین کی کیفیت پیدا ہوگئی کہ ہاں یہی حق ہے مگر زبان سے ابھی اقرار نہیں کیا۔ ایمان کی دوسری کیفیت یہ ہے کہ دل بھی ایمان لے آیا اور زبان سے ایمان کا اقرار بھی کرلیا۔ چناچہ ان دونوں درجوں میں سے کسی بھی درجے میں اگر انسان نے حق کو حق جان لیا دل میں یقین پیدا ہوگیا مگر پھر کسی مصلحت کا شکار ہوگیا اور حق کا ساتھ دینے سے کنی کترا گیا تو اس پر اس حکم کا اطلاق ہوگا۔اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٗ مُطْمَـﭟ بِالْاِيْمَانِ کسی کی جان پر بنی ہوئی تھی اور اس حالت میں کوئی کلمہ کفر اس کی زبان سے ادا ہوگیا مگر اس کا دل بدستور حالت ایمان میں مطمئن رہا تو ایسا شخص اللہ کے ہاں معذور سمجھا جائے گا۔وَلٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌاوپر بیان کیے گئے استثناء کے مطابق مجبوری کی حالت میں تو کلمہ کفر کہنے والے کو معاف کردیا جائے گا بشرطیکہ اس کا دل ایمان پر پوری طرح مطمئن ہو مگر جو شخص کسی وجہ سے پورے شرح صدر کے ساتھ کفر کی طرف لوٹ گیا ‘ وہ اللہ کے غضب اور بہت بڑے عذاب کا مستحق ہوگیا۔

ایمان کے بعد کفر پسند لوگ اللہ سبحانہ و تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان کے بعد کفر کریں دیکھ کر اندھے ہوجائیں پھر کفر پہ ان کا سینہ کھل جائے، اس پر اطمینان کرلیں۔ یہ اللہ کی غضب میں گرفتار ہوتے ہیں کہ ایمان کا علم حاصل کر کے پھر اس سے پھر گئے اور انہیں آخرت میں بڑا سخت عذاب ہوگا۔ کیونکہ انہوں نے آخرت بگاڑ کر دنیا کی محبت کی اور صرف دنیا طلبی کی وجہ سے اسلام پر مرتد ہونے کو ترجیح دی چونکہ ان کے دل ہدایت حق سے خالی تھے، اللہ کی طرف سے ثابت قدمی انہیں نہ ملی۔ دلوں پر مہریں لگ گئیں، نفع کی کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کان اور آنکھیں بھی بیکار ہوگئیں نہ حق سن سکیں نہ دیکھ سکیں۔ پس کسی چیز نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا اور اپنے انجام سے غافل ہوگئے۔ یقینا ایسے لوگ قیامت کے دن اپنا اور اپنے ہم خیال لوگوں کا نقصان کرنے والے ہیں۔ پہلی آیت کے درمیان جن لوگوں کا استثناء کیا ہے یعنی وہ جن پر جبر کیا جائے اور ان کے دل ایمان پر جمے ہوئے ہوں، اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو بہ سبب مار پیٹ اور ایذاؤں کے مجبور ہو کر زبان سے مشرکوں کی موافقت کریں لیکن ان کا دل وہ نہ کہتا ہو بلکہ دل میں اللہ پر اور اس کے رسول پر کامل اطمینان کے ساتھ پورا ایمان ہو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ آیت عمار بن یاسر ؓ کے بارے میں اتری ہے جب کہ آپ کو مشرکین نے عذاب کرنا شروع کیا جب تک کہ آپ آنحضرت ﷺ کے ساتھ کفر نہ کریں۔ پس بادل ناخواستہ مجبوراً اور کرھاً آپ نے ان کی موافقت کی، پھر اللہ کے نبی کے پاس آ کر عذر بیان کرنے لگے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ شعبی، قتاوہ اور ابو مالک بھی یہی کہتے ہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ مشرکوں نے آپ کو پکڑا اور عذاب دینے شروع کئے، یہاں تک کہ آپ ان کے ارادوں کے قریب ہوگئے۔ پھرحضور ﷺ کے پاس آ کر اس کی شکایت کرنے لگے تو آپ نے پوچھا تم اپنے دل کا حال کیسا پاتے ہو ؟ جواب دیا کہ وہ تو ایمان پر مطمئن ہے، جما ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا اگر وہ پھر لوٹیں تو تم بھی لوٹنا۔ بیہقی میں اسے بھی زیادہ تفصیل سے ہے اس میں ہے کہ آپ نے حضور ﷺ کو برا بھلا کہا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے کیا پھر آپ کے پاس آ کر اپنا یہ دکھ بیان کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ انہوں نے اذیت دینا ختم نہیں کیا جب تک کہ میں نے آپ کو برا بھلا نہ کہہ لیا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے نہ کیا۔ آپ نے فرمایا تم اپنا دل کیسا پاتے ہو ؟ جواب دیا کہ ایمان پر مطمئن۔ فرمایا اگر وہ پھر کریں تو تم بھی پھر کرلینا۔ اسی پر یہ آیت اتری۔ پس علماء کرام کا اتفاق ہے کہ جس پر جبر و کراہ کیا جائے، اسے جائز ہے کہ اپنی جان بچانے کے لئے ان کی موافقت کرلے اور یہ بھی جائز ہے کہ ایسے موقعہ پر بھی ان کی نہ مانے جیسے کہ حضرت بلال ؓ نے کر کے دکھایا کہ مشرکوں کی ایک نہ مانی حالانکہ وہ انہیں بدترین تکلیفیں دیتے تھے یہاں تک کہ سخت گرمیوں میں پوری تیز دھوپ میں آپ کو لٹا کر آپ کے سینے پر بھاری وزنی پتھر رکھ دیا کہ اب بھی شرک کرو تو نجات پاؤ لیکن آپ نے پھر بھی ان کی نہ مانی صاف انکار کردیا اور اللہ کی توحید احد احد کے لفظ سے بیان فرماتے رہے بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ " واللہ اگر اس سے بھی زیادہ تمہیں چبھنے والا کوئی لفظ میرے علم میں ہوتا تو میں وہی کہتا اللہ ان سے راضی رہے اور انہیں بھی ہمیشہ راضی رکھے۔ " اسی طرح حضرت خیب بن زیاد انصاری ؓ کا واقعہ ہے کہ جب ان سے مسیلمہ کذاب نے کہا کہ کیا تو حضرت محمد ﷺ کی رسالت کی گواہی دیتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا ہاں۔ پھر اس نے آپ سے پوچھا کہ کیا میرے رسول اللہ ہونے کی بھی گواہی دیتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا میں نہیں سنتا۔ اس پر اس جھوٹے مدعی نبوت نے ان کے جسم کے ایک عضو کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا پھر یہی سوال جواب ہوا۔ دوسرا عضو جسم کٹ گیا یونہی ہوتا رہا لیکن آپ آخر دم تک اسی پر قائم رہے، اللہ آپ سے خوش ہو اور آپ کو بھی خوش رکھے۔ مسند احمد میں ہے کہ جو چند لوگ مرتد ہوگئے تھے، انہیں حضرت علی ؓ نے آگ میں جلوا دیا، جب حضرت ابن عباس ؓ کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا میں تو انہیں آگ میں نہ جلاتا اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ کے عذاب سے تم عذاب نہ کرو۔ ہاں بیشک میں انہیں قتل کرا دیتا۔ اس لئے کہ فرمان رسول ﷺ ہے کہ جو اپنے دین کو بدل دے اسے قتل کردو۔ جب یہ خبر حضرت علی ؓ کو ہوئی تو آپ نے فرمایا ابن عباس کی ماں پر افسوس۔ اسے امام بخاری ؒ نے بھی وارد کیا ہے۔ مسند میں ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کے پاس یمن میں معاذ بن جبل ؓ تشریف لے گئے۔ دیکھا کہ ایک شخص ان کے پاس ہے۔ پوچھا یہ کیا ؟ جواب ملا کہ یہ ایک یہودی تھا، پھر مسلمان ہوگیا اب پھر یہودی ہوگیا ہے۔ ہم تقریباً دو ماہ سے اسے اسلام پر لانے کی کوشش میں ہیں، تو آپ نے فرمایا واللہ میں بیٹھوں گا بھی نہیں جب تک کہ تم اس کی گردن نہ اڑا دو۔ یہی فیصلہ ہے اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کا کہ جو اپنے دین سے لوٹ جائے اسے قتل کردو یا فرمایا جو اپنے دین کو بدل دے۔ یہ واقعہ بخاری و مسلم میں بھی ہے لیکن الفاظ اور ہیں۔ پس افضل و اولیٰ یہ ہے کہ مسلمان اپنے دین پر قائم اور ثابت قدم رہے گو اسے قتل بھی کردیا جائے۔ چناچہ حافظ ابن عساکر ؒ عبداللہ بن حذافہ سہمی صحابی ؓ کے ترجمہ میں لائے ہیں کہ آپ کو رومی کفار نے قید کرلیا اور اپنے بادشاہ کے پاس پہنچا دیا، اس نے آپ سے کہا کہ تم نصرانی بن جاؤ میں تمہیں اپنے راج پاٹ میں شریک کرلیتا ہوں اور اپنی شہزادی تمہاری نکاح میں دیتا ہوں۔ صحابی ؓ نے جواب دیا کہ یہ تو کیا اگر تو اپنی تمام بادشاہت مجھے دے دے اور تمام عرب کا راج بھی مجھے سونپ دے اور یہ چاہے کہ میں ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی دین محمد سے پھر جاؤں تہ یہ بھی ناممکن ہے۔ بادشاہ نے کہا پھر میں تجھے قتل کر دوں گا۔ حضرت عبداللہ ؓ نے جواب دیا کہ ہاں یہ تجھے اختیار ہے چناچہ اسی وقت بادشاہ نے حکم دیا اور انہیں صلیب پر چڑھا دیا گیا اور تیر اندازوں نے قریب سے بحکم بادشاہ ان کے ہاتھ پاؤں اور جسم چھیدنا شروع کیا بار بار کہا جاتا تھا کہ اب بھی نصراینت قبول کرلو اور آپ پورے استقلال اور صبر سے فرماتے جاتے تھے کہ ہرگز نہیں آخر بادشاہ نے کہا اسے سولی سے اتار لو، پھر حکم دیا کہ پیتل کی دیگ یا پیتل کی کی بنی ہوئی گائے خوب تپا کر آگ بنا کر لائی جائے۔ چناچہ وہ پیش ہوئی بادشاہ نے ایک اور مسلمان قیدی کی بابت حکم دیا کہ اسے اس میں ڈال دو۔ اسی وقت حضرت عبداللہ ؓ کی موجودگی میں آپ کے دیکھتے ہی دیکھتے اس مسلمان قیدی کو اس میں ڈال دیا گیا وہ مسکین اسی وقت چر مر ہو کر رہ گئے۔ گوشت پوست جل گیا ہڈیاں چمکنے لگیں، ؓ پھر بادشاہ نے حضرت عبداللہ ؓ سے کہا کہ دیکھو اب بھی ہماری مان لو اور ہمارا مذہب قبول کرلو، ورنہ اسی آگ کی دیگ میں اسی طرح تمہیں بھی ڈال کر جلا دیا جائے گا۔ آپ نے پھر بھی اپنے ایمانی جوش سے کام لیکر فرمایا کہ ناممکن کہ میں اللہ کے دین کو چھوڑ دوں۔ اسی وقت بادشاہ نے حکم دیا کہ انہیں چرخی پر چڑھا کر اس میں ڈال دو ، جب یہ اس آگ کی دیگ میں ڈالے جانے کے لئے چرخی پر اٹھائے گئے تو بادشاہ نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہیں، اسی وقت اس نے حکم دیا کہ رک جاؤ انہیں اپنے پاس بلا لیا، اس لئے کہ اسے امید بندھ گئی تھی کہ شاید اس عذاب کو دیکھ کر اب اس کے خیالات پلٹ گئے ہیں میری مان لے گا اور میرا مذہب قبول کر کے میرا داماد بن کر میری سلطنت کا ساجھی بن جائے گا لیکن بادشاہ کی یہ تمنا اور یہ خیال محض بےسود نکلا۔ حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ نے فرمایا کہ میں صرف اس وجہ سے رویا تھا کہ آج ایک ہی جان ہے جسے راہ حق میں اس عذاب کے ساتھ میں قربان کر رہا ہوں، کاش کہ میرے روئیں روئیں میں ایک ایک جان ہوتی کہ آج میں سب جانیں راہ اللہ اسی طرح ایک ایک کر کے فدا کرتا۔ بعض روایتوں میں ہے کہ آپ کو قید خانہ میں رکھا کھانا پینا بند کردیا، کئی دن کے بعد شراب اور خنزیر کا گوشت بھیجا لیکن آپ نے اس بھوک پر بھی اس کی طرف توجہ تک نہ فرمائی۔ بادشاہ نے بلوا بھیجا اور اسے نہ کھانے کا سبب دریافت کیا تو آپ نے جواب دیا کہ اس حالت میں یہ میرے لئے حلال تو ہوگیا ہے لیکن میں تجھ جیسے دشمن کو اپنے بارے میں خوش ہونے کا موقعہ دینا چاہتا ہی نہیں ہوں۔ اب بادشاہ نے کہا اچھا تو میرے سر کا بوسہ لے تو میں تجھے اور تیرے ساتھ کے اور تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کردیتا ہوں آپ نے اسے قبول فرما لیا اس کے سر کا بوسہ لے لیا اور بادشاہ نے بھی اپنا وعدہ پورا کیا اور آپ کو اور آپ کے تمام ساتھیوں کو چھوڑ دیا جب حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ یہاں سے آزاد ہو کر حضرت عمر فاروق ؓ کے پاس پہنچے تو آپ نے فرمایا ہر مسلمان پر حق ہے کہ عبداللہ بن حذافہ ؓ کا ماتھا چومے اور میں ابتدا کرتا ہوں یہ فرما کر پہلے آپ نے ان کے سر پر بوسہ دیا۔

آیت 106 - سورہ نحل: (من كفر بالله من بعد إيمانه إلا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان ولكن من شرح بالكفر صدرا فعليهم غضب من...) - اردو