آیت نمبر 45 تا 50
یہ بات نہایت تعجب انگیز ہے کہ انسانی سوسائتی کے اندر دست قدرت کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی سخت پکڑ میں آجاتے ہیں۔ وہ مکاریاں اور تدابیر کرتے ہی رہتے ہیں لیکن جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ ایک غالب اور صاحب قوت ہستی کی گرفت ہوتی ہے۔ پھر ان کی قوت ، ان کا مال اور ان کا وسیع علم ان کو بچا نہیں سکتا۔ لیکن اس کے باوجود بقیہ مکار اپنی مکاریاں جاری رکھتے ہیں اور جو اللہ کے عذابوں سے بچ نکلتے ہیں وہ پھر اسی طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ الا یہ کہ ان کے ساتھ یہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ ڈرتے نہیں کہ خدا ان کو بھی پکڑ سکتا ہے۔ ہر وقت وہ اللہ کی گرفت میں آسکتے ہیں ، چاہے سوتے میں یا جاگتے ہوئے ، غفلت یا بیداری میں۔ قرآن کریم انسانی احساس اور انسانی وجدان کو بیدار کرتا ہے تا کہ لوگ متوقع عذاب سے ڈریں اور اللہ کے عذاب سے وہی لوگ غافل ہوتے ہیں جو خسارے میں ہوں۔
افامن الذین ۔۔۔۔ ۔ لا یشعرون (16 : 45) ” پھر کیا وہ لوگ جو بدتر سے بدتر چالیں چل رہے ہیں اس بات سے بالکل ہی بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے یا ایسے گوشے سے ان پر عذاب لے آئے جس طرف سے اس کے آنے کا وہم و گمان تک نہ ہو “۔ یا یہ کہ ایسے لوگوں کو اللہ اس حال میں پکڑ لے کہ یہ لوگ شہر شہر ، قریہ قریہ تجارت اور سیاحت کے لئے پھر رہے ہوں۔
فما ھم بمعجزین (16 : 46) ” یہ لوگ اللہ کو عاجز کرنے کی طاقت تو نہیں رکھتے “۔ ان لوگوں کا پکڑا جانا یا جائے گرفتاری کسی خال میں بھی اللہ سے بعید نہیں ہے۔
او یاخذھم عل تخوف (16 : 47) ” یا ایسی حالت میں انہیں پکڑ لے کہ انہیں خود آنے والی مصیبت کا کھٹکا لگا ہوا ہو “۔ کیونکہ ان کو چوکنا ہونا اور عذاب کی توقع رکھنا بھی عذاب الٰہی کو کسی صورت میں رد نہیں کرسکتا۔ اللہ اس حال میں بھی پکڑ سکتا ہے جب وہ دفاع کے لئے تیار ہوں اور اس حال میں بھی جب وہ غافل ہوں۔ لیکن اللہ نہایت ہی مہربان اور رحیم ہے۔
یہ لوگ جو برائیوں کی تدابیر سوچتے رہتے ہیں کیا اللہ کے عذاب سے بےخوف ہوگئے ہیں ؟ کیوں یہ اپنی مکاریوں میں سرگرداں ہیں ؟ کیوں یہ لوگ اپنی بےراہ روی میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں اور واپس نہیں آتے اور خدا سے نہیں ڈرتے ! باوجود اس کے کہ ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات اپنے قوانیں فطرت اور ضوابط قدرت کے ساتھ پکار رہی ہے کہ یہ ہے راہ ایمان۔ بلکہ یہ پوری کائنات ذات باری کی ھدی خواہ اور تناکو ہے۔
اولم یروا الی۔۔۔۔۔۔۔ وھم دخرون (16 : 48) ” کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضور سجدہ کرتا ہے ، دائیں اور بائیں گرتا ہے۔ سب کے سب اس طرح اظہار عجز کر رہے ہیں۔
سایوں کی حرکات کا منظر ! سایہ آگے بڑھتا ہے ، واپس ہوتا ہے اور پھر ایک جگہ رک جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو صرف اس آنکھ کو دعوت نظارہ دیتا ہے جو کھلی ہو ، اس دل کو دعوت ربرت دیتا ہے جس کے دروازے کھلے ہوں ، اس احساس کو شعور دیتا ہے جو جاگ رہا ہو اور ایسے شخص کو ہدایت دیتا ہے جس کے قوائے مدرکہ کائنات کے ساتھ ہمقدم ہوں۔
قرآن کریم یہاں قوانین قدرت اور نوامیس فطرت کی اطاعت کو سجدہ ریز ہونے سے تعبیر کرتا ہے۔ سجدہ گزاری ، خضوع و خشوع کی آخری تصویر ہوتی ہے۔ یہاں متوجہ کیا جاتا ہے کہ درختوں کے سائے بڑھتے ہیں اور پھر سکڑتے ہیں۔ سائے کی حرکت نہایت ہی خفیف ہوتی ہے اور انسانی شعور پر اس کا نہایت ہی گہرا اثر ہوتا ہے۔ پھر اس کائناتی مخلوق کے ساتھ فرشتوں کی فوج اشیاء ، درخت ، سائے ، پرندے اور چرندے اور پھر فرشتے سب کے سب اللہ کے سامنے خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ ریز ہیں وار عبادت اور بندگی بجا لا رہے ہیں ! یہ سب اللہ کی بندگی سے نہ تکبر کرتے ہیں اور نہ سرمو انحراف کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے احکام سے سرتابی نہیں کرتے۔ لیکن اے منکر از بنی نوع انسان تمہارا کتنا دل گروا ہے کہ تو تکبر بھی کرتا ہے اور سرتابی بھی۔ یہ تیری نہایت ہی تعجب انگیز حرکت ہے !
یہ سبق یہاں منکرین اور مستکبرین کی طرف اشارہ کر کے ختم ہوجاتا ہے تا کہ سبق کے آخر میں ان کو خصوصیت کے ساتھ متوجہ کر دے کہ تمہارا انکار و استکبار فطرت کائنات کے خلاف ہے۔
آیت 45 اَفَاَمِنَ الَّذِيْنَ مَكَرُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ يَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ یہ لوگ ہمارے رسول کے خلاف سازشوں کے جال بننے میں مگن ہیں اور حق کی دعوت کا راستہ روکنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ کیا یہ ڈرتے نہیں کہ اگر اللہ چاہے تو انہیں اس جرم کی پاداش میں زمین میں دھنسا دے ؟
اللہ عز و جل کا غضب اللہ تعالیٰ خالق کائنات اور مالک ارض و سماوات اپنے حلم کا باوجود علم کے باوجود اور اپنی مہربانی کا باوجود غصے کے بیان فرماتا ہے کہ وہ اگر چاہے اپنے گنہگار بد کردار بندوں کو زمین میں دھنسا سکتا ہے۔ بیخبر ی میں ان پر عذاب لاسکتا ہے لیکن اپنی غایت مہربانی سے درگزر کئے ہوئے ہے جیسے سورة تبارک میں فرمایا اللہ جو آسمان میں ہے کیا تم اس کے غضب سے نہیں ڈرتے ؟ کہ کہیں زمین کو دلدل بنا کر تمہیں اس میں دھنسا نہ دے کہ وہ تمہیں ہچکو لے ہی لگاتی رہا کرے کیا تمہیں آسمانوں والے اللہ سے ڈر نہیں لگتا کہ کہیں وہ تم پر آسمان سے پتھر نہ برسا دے۔ اس وقت تمہیں معلوم ہوجائے کہ میرا ڈرانا کیسا تھا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے مکار، بد کردار لوگوں کو ان کے چلتے پھرتے، آتے، کھاتے، کماتے ہی پکڑ لے۔ سفر حضر رات دن جس وقت چاہے، پکڑ لے جیسے فرمان ہے آیت (اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰٓي اَنْ يَّاْتِيَهُمْ بَاْسـُنَا بَيَاتًا وَّهُمْ نَاۗىِٕمُوْنَ 97ۭ) 7۔ الاعراف :97) ، کیا بستی والے اس سے نڈر ہوگئے ہیں کہ ان کے پاس ہمارا عذاب رات میں ان کے سوتے سلاتے ہی آجائے۔ یا دن چڑھے ان کے کھیل کود کے وقت ہی آجائے۔ اللہ کو کوئی شخص اور کوئی کام عاجز نہیں کرسکتا وہ ہارنے والا، تھکنے والا اور ناکام ہونے والا نہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ باوجود ڈر خوف کے انہیں پکڑ لے تو دونوں عتاب ایک ساتھ ہوجائیں ڈر اور پھر پکڑ۔ ایک کو اچانک موت آجائے دوسرا ڈرے اور پھر مرے۔ لیکن رب العلی، رب کائنات بڑا ہی رؤف و رحیم ہے اس لئے جلدی نہیں پکڑتا۔ بخاری و مسلم میں ہے خلاف طبع باتیں سن کر صبر کرنے میں اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ لوگ اس کی اولاد ٹھہر تے ہیں اور وہ انہیں رزق و عافیت عنایت فرماتا ہے۔ بخاری مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے لیکن جب پکڑ نازل فرماتا ہے پھر اچانک تباہ ہوجاتا ہے پھر حضور ﷺ نے آیت (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) ، پڑھی۔ اور آیت میں ہے (وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا ۚ وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ 48) 22۔ الحج :48) بہت سی بستیاں ہیں جنہیں میں نے کچھ مہلت دی لیکن آخر ان کے ظلم کی بنا پر انہیں گرفتار کرلیا۔ لوٹنا تو میری ہی جانب ہے۔