اس صفحہ میں سورہ An-Nahl کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النحل کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِىٓ إِلَيْهِمْ ۚ فَسْـَٔلُوٓا۟ أَهْلَ ٱلذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
بِٱلْبَيِّنَٰتِ وَٱلزُّبُرِ ۗ وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ
أَفَأَمِنَ ٱلَّذِينَ مَكَرُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن يَخْسِفَ ٱللَّهُ بِهِمُ ٱلْأَرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ ٱلْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ
أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِى تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ
أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَىٰ تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَىٰ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَىْءٍ يَتَفَيَّؤُا۟ ظِلَٰلُهُۥ عَنِ ٱلْيَمِينِ وَٱلشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلَّهِ وَهُمْ دَٰخِرُونَ
وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ مِن دَآبَّةٍ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ
يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ۩
۞ وَقَالَ ٱللَّهُ لَا تَتَّخِذُوٓا۟ إِلَٰهَيْنِ ٱثْنَيْنِ ۖ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌ وَٰحِدٌ ۖ فَإِيَّٰىَ فَٱرْهَبُونِ
وَلَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَلَهُ ٱلدِّينُ وَاصِبًا ۚ أَفَغَيْرَ ٱللَّهِ تَتَّقُونَ
وَمَا بِكُم مِّن نِّعْمَةٍ فَمِنَ ٱللَّهِ ۖ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ ٱلضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْـَٔرُونَ
ثُمَّ إِذَا كَشَفَ ٱلضُّرَّ عَنكُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِّنكُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ
آیت نمبر 43 تا 44
یعنی اس سے قبل ہم نے جو رسول بھیجے تھے وہ آدمی ہی تھے۔ فرشتے نہ تھے۔ نہ آدم اور فرشتوں کے علاوہ کوئی اور مخلوق تھے۔ البتہ یہ برگزیدہ لوگ تھے۔
نوحی الیھم (16 : 43) “ جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے “ جیسا کہ آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں۔ ان کے فرائض بھی یہی تھے کہ دعوت کو لوگوں تک پہنچاؤ۔ جس طرح آپ کا بھی یہی فریضہ ہے۔
فسئلوا اھل الذکر (16 : 43) ” اہل ذکر سے پوچھ لو “۔ یعنی اہل کتاب سے پوچھ لو جن کے پاس بہت سے رسول آئے کہ یہ رسول آدمی تھے یا فرشتے یا کوئی اور مخلوق۔
ان کنتم لا تعلمون (16 : 43) ” اگر تم خود نہیں مانتے “۔ ان رسولوں کو کتابیں بھی دی گئیں اور دلائل بھی دئیے گئے۔ عربی میں زیر کے معنی متفرق کتابوں کے ہوتے ہیں۔
وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم (16 : 44) ” اور ہم نے اب یہ ذکر تم پر نازل کیا ہے تا کہ تم لوگوں کے سامنے اس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جاؤ جو ان کے لئے اتاری گئی ہے “۔ نبی آخر الزمان کا بیان ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو پہلے اہل کتاب تھے ، جنہوں نے اپنی کتاب میں اختلاف کیا اور قرآن آیا اور ان کے اختلافات کا فیصلہ کردیا اور مسئلہ مختلفہ میں حق بات کہہ دی۔ ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو ان کے سوا آپ کے معاصر تھے ، جن کے سامنے قرآن مجید نازل ہوا تا کہ لوگ اللہ کی آیات اور قرآن کی آیات دونوں میں غورو فکر کریں۔
ولعلھم یتفکرون (16 : 44) ” قرآن مجید میں ہر وقت انسانوں کو غوروفکر کی دعوت دیتا ہے اور انسانی شعور کو جگانے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ درس ، جس کا آغاز مستکبرین اور مکارین کی سمت ہوا تھا ، اس کے آخر میں قارئین کو چند وجدانی احساس دلائے جاتے ہیں۔ پہلا احساس یہ دلایا جاتا ہے کہ انسان کو رات اور دن کے کسی بھی وقت اللہ کے عذاب اور اللہ کی جوابی تدبیر سے بےخوف نہیں ہونا چاہئے۔ دوسرا احساس یہ ہے کہ انسان کو ہر وقت اللہ کو یاد رکھنا چاہئے اور اس کی تسبیح و تہلیل میں مشغول رہنا چاہئے۔ یہ انسان ہی ہے جو تکبر کرتے ہوئے غافل اور منکر ہوجاتا ورنہ اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات ہر وقت تسبیح میں مشغول رہتی ہے۔
آیت نمبر 45 تا 50
یہ بات نہایت تعجب انگیز ہے کہ انسانی سوسائتی کے اندر دست قدرت کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی سخت پکڑ میں آجاتے ہیں۔ وہ مکاریاں اور تدابیر کرتے ہی رہتے ہیں لیکن جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ ایک غالب اور صاحب قوت ہستی کی گرفت ہوتی ہے۔ پھر ان کی قوت ، ان کا مال اور ان کا وسیع علم ان کو بچا نہیں سکتا۔ لیکن اس کے باوجود بقیہ مکار اپنی مکاریاں جاری رکھتے ہیں اور جو اللہ کے عذابوں سے بچ نکلتے ہیں وہ پھر اسی طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ الا یہ کہ ان کے ساتھ یہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ ڈرتے نہیں کہ خدا ان کو بھی پکڑ سکتا ہے۔ ہر وقت وہ اللہ کی گرفت میں آسکتے ہیں ، چاہے سوتے میں یا جاگتے ہوئے ، غفلت یا بیداری میں۔ قرآن کریم انسانی احساس اور انسانی وجدان کو بیدار کرتا ہے تا کہ لوگ متوقع عذاب سے ڈریں اور اللہ کے عذاب سے وہی لوگ غافل ہوتے ہیں جو خسارے میں ہوں۔
افامن الذین ۔۔۔۔ ۔ لا یشعرون (16 : 45) ” پھر کیا وہ لوگ جو بدتر سے بدتر چالیں چل رہے ہیں اس بات سے بالکل ہی بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے یا ایسے گوشے سے ان پر عذاب لے آئے جس طرف سے اس کے آنے کا وہم و گمان تک نہ ہو “۔ یا یہ کہ ایسے لوگوں کو اللہ اس حال میں پکڑ لے کہ یہ لوگ شہر شہر ، قریہ قریہ تجارت اور سیاحت کے لئے پھر رہے ہوں۔
فما ھم بمعجزین (16 : 46) ” یہ لوگ اللہ کو عاجز کرنے کی طاقت تو نہیں رکھتے “۔ ان لوگوں کا پکڑا جانا یا جائے گرفتاری کسی خال میں بھی اللہ سے بعید نہیں ہے۔
او یاخذھم عل تخوف (16 : 47) ” یا ایسی حالت میں انہیں پکڑ لے کہ انہیں خود آنے والی مصیبت کا کھٹکا لگا ہوا ہو “۔ کیونکہ ان کو چوکنا ہونا اور عذاب کی توقع رکھنا بھی عذاب الٰہی کو کسی صورت میں رد نہیں کرسکتا۔ اللہ اس حال میں بھی پکڑ سکتا ہے جب وہ دفاع کے لئے تیار ہوں اور اس حال میں بھی جب وہ غافل ہوں۔ لیکن اللہ نہایت ہی مہربان اور رحیم ہے۔
یہ لوگ جو برائیوں کی تدابیر سوچتے رہتے ہیں کیا اللہ کے عذاب سے بےخوف ہوگئے ہیں ؟ کیوں یہ اپنی مکاریوں میں سرگرداں ہیں ؟ کیوں یہ لوگ اپنی بےراہ روی میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں اور واپس نہیں آتے اور خدا سے نہیں ڈرتے ! باوجود اس کے کہ ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات اپنے قوانیں فطرت اور ضوابط قدرت کے ساتھ پکار رہی ہے کہ یہ ہے راہ ایمان۔ بلکہ یہ پوری کائنات ذات باری کی ھدی خواہ اور تناکو ہے۔
اولم یروا الی۔۔۔۔۔۔۔ وھم دخرون (16 : 48) ” کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضور سجدہ کرتا ہے ، دائیں اور بائیں گرتا ہے۔ سب کے سب اس طرح اظہار عجز کر رہے ہیں۔
سایوں کی حرکات کا منظر ! سایہ آگے بڑھتا ہے ، واپس ہوتا ہے اور پھر ایک جگہ رک جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو صرف اس آنکھ کو دعوت نظارہ دیتا ہے جو کھلی ہو ، اس دل کو دعوت ربرت دیتا ہے جس کے دروازے کھلے ہوں ، اس احساس کو شعور دیتا ہے جو جاگ رہا ہو اور ایسے شخص کو ہدایت دیتا ہے جس کے قوائے مدرکہ کائنات کے ساتھ ہمقدم ہوں۔
قرآن کریم یہاں قوانین قدرت اور نوامیس فطرت کی اطاعت کو سجدہ ریز ہونے سے تعبیر کرتا ہے۔ سجدہ گزاری ، خضوع و خشوع کی آخری تصویر ہوتی ہے۔ یہاں متوجہ کیا جاتا ہے کہ درختوں کے سائے بڑھتے ہیں اور پھر سکڑتے ہیں۔ سائے کی حرکت نہایت ہی خفیف ہوتی ہے اور انسانی شعور پر اس کا نہایت ہی گہرا اثر ہوتا ہے۔ پھر اس کائناتی مخلوق کے ساتھ فرشتوں کی فوج اشیاء ، درخت ، سائے ، پرندے اور چرندے اور پھر فرشتے سب کے سب اللہ کے سامنے خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ ریز ہیں وار عبادت اور بندگی بجا لا رہے ہیں ! یہ سب اللہ کی بندگی سے نہ تکبر کرتے ہیں اور نہ سرمو انحراف کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے احکام سے سرتابی نہیں کرتے۔ لیکن اے منکر از بنی نوع انسان تمہارا کتنا دل گروا ہے کہ تو تکبر بھی کرتا ہے اور سرتابی بھی۔ یہ تیری نہایت ہی تعجب انگیز حرکت ہے !
یہ سبق یہاں منکرین اور مستکبرین کی طرف اشارہ کر کے ختم ہوجاتا ہے تا کہ سبق کے آخر میں ان کو خصوصیت کے ساتھ متوجہ کر دے کہ تمہارا انکار و استکبار فطرت کائنات کے خلاف ہے۔
درس نمبر 121 ایک نظر میں
مسئلہ توحید کا یہ تسیرا دور ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کائنات کا خدا صرف ایک خدا ہے۔ اس سبق کا آغاز اس مفہوم سے ہوتا ہے کہ اللہ ایک ہے جو وحدہ مالک اور منعم ہے۔ پہلی تین آیات میں یہی مفہوم بیان ہوا ہے۔ یہاں ایک بہترین تمثیل دی گئی ہے کہ ایک مالک ہے ، رازق ہے اور دوسرا شخص غلام اور مملوک اور محتاج ہے۔ جس کا کوئی اختیار نہیں ۔ اور جس کی ملکیت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ تو پھر اللہ جو خالق مالک اور رازق ہے وہ اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کس طرح برابر ہو سکتے ہیں جو نہ مالک ہیں اور نہ رازق۔ کس طرح ہم دونوں کو کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی الٰہ ہے اور یہ بھی !
اس سبق میں لوگوں کا ایک نمونہ یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں لیکن جب مصیبت دور ہوجاتی ہے تو پھر شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔
اس سبق میں بت پرستی کے اوہام و خرافات کی کئی صورتیں بھی دی گئی ہیں۔ یہ لوگ اپنے بنائے ہوئے الہٰوں کے لئے بعض جانوروں کو مخصوص کرتے ہیں۔ حالانکہ خود ان کی حالت یہ ہے کہ اپنے مملوکات میں سے کسی چیز کو وہ اپنے غلاموں کے دائرۂ اختیار میں دینے کے لئے تیار نہیں۔ نہ کوئی چیز ان کے ساتھ تقسیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ خود تو لڑکیوں کو بےحد ناپسند کرتے ہیں لیکن فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے ہیں۔
واذا بشر۔۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (16 : 57) ” اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ نہایت ہی کبیدہ خاطر ہوتا ہے “۔ یہ لوگ اللہ کے لئے تو وہ چیز تجویز کرتے ہیں جسے یہ خود ناپسند کرتے ہیں لیکن ان کی زبانوں پر یہ دعویٰ ہر وقت رہتا ہے کہ ان کے لئے تو اچھائی ہی مقرر ہے اور یہ کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا نتیجہ اچھا ہی رہے گا۔ یہ اوہام و خرافات ان کو اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملے ہیں اور رسول اللہ ﷺ تو مبعوث ہی اس لیے ہوئے ہیں کہ آپ ﷺ ان کے سامنے ان کی حقیقت کھول کر بیان کردیں۔ چناچہ آپ ﷺ اہل ایمان کے لئے صاحب ہدایت اور باعث رحمت ہیں۔
اس کے بعد حقیقی خدا کی پیدا کردہ بعض چیزوں کی نمونے دئیے جاتے ہیں اور اگر ان میں انسان ذرا بھی غوروفکر کرے تو وہ بہت کچھ نصیحت اور عبرت حاصل کرسکتا ہے۔ کیونکہ ان چیزوں کی ایجاد پر صرف وحدہ قادر ہے اور یہ چیزیں اللہ کی خدائی اور آپ کی برتری کے دلائل ہیں۔ مثلاً یہ کہ اللہ نے آسمانوں سے بارشیں برسانے کا انتظام فرمایا جس کے ذریعے مردہ زمین تروتازہ ہوجاتی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پانی کے علاوہ لوگوں کے پینے کے لئے نہایت ہی خوشگوار اور لذیذ دودھ پیدا کیا اور یہ دودھ جانور کے گوبر اور خون کے درمیان سے پیدا ہوتا ہے۔ پھر اللہ نے کھجور اور انگور پیدا کئے تم لوگ نشہ آور چیز بھی بناتے ہو اور رزق حسن بھی۔ پھر اس نے شہد کی مکھی کو یہ وحی کی کہ پہاڑوں میں گھر بنا ، درختوں میں گھر بنا ، اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں گھر بنا اور اس میں سے شہد پیدا ہوتا کہ وہ لوگوں کے لئے شفا ہو۔ اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا۔ بعض کو وہ جلدی بلا لیتا ہے اور بعض دوسرے طویل عمر پاتے ہیں۔ وہ علم کو بھول جاتے ہیں اور اس قدر سادہ ہوجاتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں جانتے ۔ پھر اللہ نے بعض لوگوں کو دوسروں پر رزق میں فضیلت دی۔ پھر بعض کو بیویاں اور لڑکے اور پوتے دئیے۔ ان حقائق کے باوجود بعض لوگ ایسے شرکاء کی بندگی کرتے ہیں جو زمین و آسمان میں لوگوں کو کسی قسم کا رزق دینے پر قدرت نہیں رکھتے اور اس کے ساتھ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو مشابہ اور مماثل قرار دیتے ہیں۔
احساس دلانے والے یہ دلائل جو نفس انسانی اور اس کے ماحول میں بکھرے ہوئے ہیں ، اس کی طرف قرآن انسان کو متوجہ کرتا ہے تا کہ وہ اللہ کی قدرت کو پاسکیں جو ان کی ذات ، ان کے رزق ، ان کے کھانے ، ان کے پینے اور ان کے اردگرد ان کے افادے کی ہر چیز میں متحرک ہے۔ اس سبق کا خاتمہ پھر ان دو مثالوں پر ہوتا ہے جن کی طرف ہم نے اشارہ کردیا ہے۔ یہ گویا انسانی عقل و وجدان کو احساس دلانے کی ایک مفید کوشش ہے ، جس کے گہرے اثرات ہیں اور اس میں نفس انسانی کے رباب کے نہایت ہی حساس تاروں کو چھیڑا گیا ہے لہٰذا ممکن نہیں کہ نفس انسانی اس سے متاثر نہ ہو اور لبیک نہ کہے۔
آیت نمبر 51 تا 55
اللہ کا یہ فرمان ہے کہ دو الٰہ نہ بناؤ۔ خدا تو بس ایک ہی ہے۔ اس بات کے لئے اسلوب نہایت ہی فیصلہ کن اور مثبت اختیار کیا گیا۔ اللہ کے بعد دو کا لفظ آیا ہے اور دوسرے فقرے میں نہایت تاکیدی مصرع کہ ” اللہ تو بس ایک ہی ہے ، اور ان دونوں فقروں کے بعد ایک دوسرا مصرع ہے ” لہٰذا تم مجھی سے ڈرو “۔ اور میرے سوا کسی اور سے نہ ڈرو۔ کسی کے ساتھ ڈرنے کا ایسا طرز عمل اختیار نہ کرو جس طرح مجھ سے ڈرنا ہوتا ہے ۔ فارھبون اس لیے کہا گیا کہ مجھ سے زیادہ سے زیادہ ڈرو۔ اسلامی نظریہ حیات میں عقیدۂ توحید ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اسلامی نظریہ حیات قائم ہی عقیدۂ توحید پر ہے۔ جب تک توحید نہ ہو ایمان قائم ہی نہیں ہو سکتا اور ایمان کے بغیر اسلام کا نظریہ حیات قائم ہی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا یہ مسئلہ انسان کے قلب و دماغ میں اس قدر واضح ہونا چاہئے کہ اس میں کوئی التباس نہ ہو اور کوئی پیچیدگی نہ ہو۔
اور جب خالق ومالک و الٰہ وہی ہے تو پھر اس زمین و آسمان اور کائنات کا مالک بھی وہی ہے۔
ولہ ما فی السموت والارض (16 : 56) ” وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے “۔
ولہ الدین واصباً (16 : 52) ” خالصتاً اسی کا دین چل رہا ہے “۔ یعنی جب سے یہ کائنات اور دین وجود میں آئے ہیں اسی کا دین مسلسل چل رہا ہے اور منعم بھی وہی اللہ ہے۔
وما بکم من نعمۃ فمن اللہ (16 : 53) ” تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے ، اللہ ہی کی طرف سے ہے “۔ یہ بات تمہاری فطرت کے اندر رکھی ہوئی ہے کہ جب کوئی مشکل وقت آتا ہے تو تمہاری فطرت پکار اٹھتی ہے کہ صرف کو پکارو۔ اس مشکل وقت میں پھر کوئی وہمی مددگار یا بت انسان کو یاد نہیں رہتا۔
ثم اذا مسکم الضر فالیہ تجئرون (16 : 53) ” پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اسی کی طرف دوڑتے ہو “۔ اور تم اس وقت پھر چیخ چیخ کر پکارتے ہو کہ وہ تمہیں اس مشکل سے نجات دے۔ یوں قرآن کریم اللہ تعالیٰ کو خدائی ، حاکمیت ، ملک ، قانون سازی ، نعمت اور ہدایت اور نظام زندگی دینے کا واحد سر چشمہ قرار دیتا ہے۔ انسانی فطرت اس بات کی تصدیق یوں کرتی ہے کہ جب انسان کسی عظیم مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے تو اس وقت انسان کی حقیقی فطرت تمام شرک کے تمام شائیوں اور آلائشوں سے پاک ہوجاتی ہے۔ لیکن بعض لوگ پھر بھی ایسے کج دماغ ہوتے ہیں کہ جب یہ مہیب خطرہ ان سے ٹل جاتا ہے تو یہ لوگ اچانک شرک کرنے لگتے ہیں۔ یوں وہ اللہ کے انعامات کی ناشکری کرتے اور اللہ کی ہدایات سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ لیکن دنیا کا یہ مختصر دور جلد ختم ہوگا اور ذرا انتظار کرو کہ آخرت میں ان کو مصیبت سے دوچار ہونا پڑے گا۔
فتمتعوا فسوف تعلمون (16 : 55) ” اچھا مزے کرلو عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا “۔ یہ نمونہ مخلوقات جس کے خدو خال قرآن مجید نے یہاں نقش کئے۔
ثم اذا مسکم الضر ۔۔۔۔۔۔۔ یشرکون (16 : 54) ” پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو پھر تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اسی کی طرف دوڑتے ہو۔ مگر جب اللہ اس وقت کو ٹال دیتا ہے تو یکایک تم میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتا ہے۔ اس طرز کے لوگ انسانوں میں ہمیشہ پائے جاتے ہیں۔ مشکلات میں دل اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں کیونکہ انسان بتقاضائے فطرت اس بات کو جانتا ہے کہ اللہ کے سوا بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ عافیت کے زمانہ میں انسان عیش و عشرت میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے اس لیے اس کا تعلق باللہ کمزور پڑجاتا ہے۔ اس میں کئی رنگ کی کج رویاں پائی جاتی ہیں ، ان میں سب سے بڑی کج روی اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے ، نیز انسان بعض رسوم اور اقدار کو بھی خدائی درجہ دے دیتا ہے ، اگرچہ ان کو وہ الٰہ نہیں کہتا۔
بعض اوقات اس کا انحراف بہت ہی شدید ہوجاتا ہے اور فطرت پوری طرح بگڑ جاتی ہے کہ بعض لوگ نہایت ہی شدید حالات میں بھی اللہ کو نہیں پکارتے بلکہ وہ بعض دوسری ہستیوں کو بچاؤ، نجات اور امداد کے لئے پکارتے ہیں۔ ان کا بہانہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ہستیاں اللہ کے ہاں جاہ و منزلت رکھتی ہیں اور بعض اوقات بعض لوگ اس تصور کے سوا بھی دوسری ہستیوں کو پکارتے ہیں۔ مثلاً بعض لوگ اولیاء اللہ کو مصیبت کے وقت پکارتے ہیں۔ ان لوگوں کی یہ حرکت مشرکین جاہلیت کے شرک سے بھی بدتر ہے کیونکہ مشرکین جاہلیت کے بارے میں تو قرآن یہ کہتا ہے کہ سخت مشکلات میں یہ لوگ صرف اللہ کو پکارتے تھے۔