آیت 71 وَاللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰي بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ رزق سے مراد صرف مادی اسباب و وسائل ہی نہیں بلکہ اس میں انسان کی جسمانی و ذہنی صلاحیتیں بھی شامل ہیں۔ مادی وسائل کی کمی بیشی کے بارے میں تو کوئی سوشلسٹ یا کمیونسٹ اعتراض کرسکتا ہے کہ یہ غلط تقسیم اور غلط نظام کا نتیجہ ہے جس کا ذمہ دار خود انسان ہے مگر یہ امر اپنی جگہ اٹل حقیقت ہے کہ ہر انسان کی ذہنی استعداد اور جسمانی طاقت ایک سی نہیں ہوتی۔ جینز genes کے ذریعے وراثت میں ملنے والی تمام صلاحیتیں بھی سب انسانوں میں برابر نہیں ہوتیں پھر اس میں کسی کے اختیار و انتخاب کو بھی کوئی دخل نہیں ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے مادی اسباب و وسائل کے علاوہ ذاتی صلاحیتوں میں بھی مختلف انسانوں کو مختلف اعتبار سے ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے۔فَمَا الَّذِيْنَ فُضِّلُوْا بِرَاۗدِّيْ رِزْقِهِمْ عَلٰي مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيْهِ سَوَاۗءٌیعنی ایسا تو نہیں ہوتا کہ امراء اپنی دولت اور جائیدادیں اپنے غلاموں میں تقسیم کردیں اور انہیں بھی اپنے ساتھ ان جائیدادوں کا مالک بنا لیں۔ تو اگر تم لوگ اپنے غلاموں کو اپنے ساتھ اپنی ملکیت میں شریک نہیں کرتے تو کیا اللہ تمہارے جھوٹے معبودوں کو اپنے برابر کرلے گا ؟ اور یہ جو ان لوگوں کا خیال ہے کہ ایک بڑا خدا ہے اور کچھ چھوٹے چھوٹے خدا ہیں اور یہ چھوٹے خدا بڑے خدا سے ان کی سفارش کریں گے تو کیا اللہ پر ان میں سے کسی کی دھونس چل سکے گی یا اللہ ان میں سے کسی کو یہ اختیار دے گا کہ وہ اس سے اپنی کوئی بات منوالے ؟
مشرکین کی جہالت کا ایک انداز مشرکین کی جہالت اور ان کے کفر کا بیان ہو رہا ہے کہ اپنے معبودوں کو اللہ کے غلام جاننے کے باوجود ان کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں۔ چناچہ حج کے موقع پر وہ کہا کرتے تھے دعا (لبیک لا شریک لک الا شریکا ھو لک تملکہ وما ملک تملکہ وما ملک یعنی اے اللہ میں تیرے پاس حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ جو خود تیرے غلام ہیں ان کا اور ان کی ماتحت چیزوں کا اصلی مالک تو ہی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ انہیں الزام دیتا ہے کہ جب تم اپنے غلاموں کی اپنی برابری اور اپنے مال میں شرکت پسند نہیں کرتے تو پھر میرے غلاموں کو میری الوہیت میں کیسے شریک ٹھیرا رہے ہو ؟ یہی مضمون آیت (ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ 28) 30۔ الروم :28) میں بیان ہوا ہے۔ کہ جب تم اپنے غلاموں کو اپنے مال میں اپنی بیویوں میں اپنا شریک بنانے سے نفرت کرتے ہو تو پھر میرے غلاموں کو میری الوہیت میں کیسے شریک سمجھ رہے ہو ؟ یہی اللہ کی نعمتوں سے انکار ہے کہ اللہ کے لئے وہ پسند کرنا، جو اپنے لئے بھی پسند نہ ہو۔ یہ ہے مثال معبودان باطل کی۔ جب تم خود اس سے الگ ہو پھر اللہ تو اس سے بہت زیادہ بیزار ہے۔ رب کی نعمتوں کا کفر اور کیا ہوگا کہ کھیتیاں چوپائے ایک اللہ کے پیدا کئے ہوئے اور تم انہیں اس کے سوا اوروں کے نام سے منسوب کرو۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کو ایک رسالہ لکھا کہ اپنی روزی پر قناعت اختیار کرو اللہ تعالیٰ نے ایک سے زیادہ امیر کر رکھا ہے یہ بھی اس کی طرف سے ایک آزمائش ہے کہ وہ دیکھے کہ امیر امراء کس طرح شکر الہی ادا کرتے ہیں اور جو حقوق دوسروں کے ان پر جناب باری نے مقرر کئے ہیں کہاں تک انہیں ادا کرتے ہیں۔