فللہ الاخرة والاولی (35 : 52) ” دنیا وآخرت کا مالک تو اللہ ہی ہے “ یہاں اللہ تعالیٰ نے دنیا سے آخرت کا ذکر پہلے کیا تاکہ لفظ اولی سورت کے انداز گفتگو اور قافیہ کے مطابق ترنم پیدا کردے جبکہ معنوی اعتبار سے بھی اہمیت آخرت کی ہے۔ قرآن کا انداز ہی ایسا ہے کہ مراعات لفظی کے نتیجے میں معنی میں فرق نہیں پڑتا کیونکہ کلام کا کمال و جمال تو اس میں ہے کہ وہ لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے مقتضی الحال کے مطابق ہو اور نہایت ہی برمحل اور موزوں ہو۔
جب آخرت اور دنیا کے تمام معاملات میں اختیار اللہ کا ہے تو مشرکین کے یہ جو خیالات ہیں کہ وہ فرشتوں کی بندگی اس لئے کرتے ہیں کہ ان کو اللہ کے قریب کردیں یہ بالکل باطل ہیں۔ فرشتوں کو تو سفارش کا اختیار ہی نہیں ہے۔ قیامت میں شفارش کا اختیار صرف ان لوگوں کو ہوگا جن کو اللہ کی طرف سے اذن ہوگا۔
آیت 25{ فَلِلّٰہِ الْاٰخِرَۃُ وَالْاُوْلٰی۔ } ”پس آخرت اور دنیا ‘ سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔“ یعنی دنیا اور آخرت سے متعلق اختیار مطلق اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔