سورہ نجم: آیت 27 - إن الذين لا يؤمنون بالآخرة... - اردو

آیت 27 کی تفسیر, سورہ نجم

إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ لَيُسَمُّونَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ تَسْمِيَةَ ٱلْأُنثَىٰ

اردو ترجمہ

مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کو دیویوں کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna allatheena la yuminoona bialakhirati layusammoona almalaikata tasmiyata alontha

آیت 27 کی تفسیر

ان الذین ........ شیئا (35 : 82) ” مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کو دیویوں کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں حالانکہ اس معاملہ کا کوئی علم انہیں حاصل نہیں ہے۔ وہ محض گمان کی پیروی کررہے ہیں اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔ “

یہ آخری تبصرہ بھی بتاتا ہے کہ لات منات اور عزی کا تعلق اس افسانہ سے تھا جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دینے کے متعلق انہوں نے گھڑ رکھا تھا۔ یہ ایک بےبنیاد افسانہ تھا۔ محض ظن وتخمین اور سنی سنائی باتوں پر مبنی تھا کیونکہ ان کے پاس ایسا کوئی ذریعہ علم ہی نہ تھا کہ وہ فرشتوں کی حقیقت کو سمجھیں۔ فرشتوں کی نسبت اللہ کی طرف کرنا تو باطل محض تھا۔ وہم کے سوا اس پر کوئی دلیل ہی نہ تھی اور سچائی اوہام اور افسانے سے ثابت نہیں ہوتی۔ حق اور سچائی کو وہ چھوڑ چکے ہیں لہٰذا اس متاع کم گشتہ کی جگہ اور کوئی چیز لے ہی نہیں سکتی۔

جب اہل شرک کے عقائد کو یہاں تک لے لیا گیا کہ عقائد شرکیہ اس قدر بےاصل ہیں اور جو لوگ شرک کرتے ہیں اور آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرتے ہیں اور فرشتوں کو بیٹیاں کہتے ہیں ان کے عقائد ظن اور وہم پر مبنی ہیں تو اب نبی ﷺ کو کہا جاتا کہ آپ ان لوگوں کو نظر انداز کردیں۔ ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں۔ اللہ نیکوکاروں اور بدکاروں کو اچھا جانتا ہے۔ وہ اہل ہدایت اور اہل ضلالت دونوں کو جزا اور سزا دے گا۔ اس کے ہاتھ میں زمین و آسمان کے اختیارات ہیں۔ دنیا آخرت کے امور ہیں۔ وہ سب کے ساتھ حساب عدل سے کرے گا۔ کسی پر ظلم نہ کرے گا اور جو لوگ گناہوں پر اصرار نہیں کرتے اللہ ان کو چھوٹی موٹی غلطیاں معاف کرتا ہے۔ وہ نیتوں اور رازوں کو جانتا ہے کیونکہ وہ انسانوں کا خالق ہے اور اپنی مخلوق کو وہ دوسروں کے مقابلے میں اچھا جانتا ہے۔

آیت 27{ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِکَۃَ تَسْمِیَۃَ الْاُنْثٰی۔ } ”یہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے انہوں نے فرشتوں کے مونث نام رکھ دیے ہیں۔“ اور پھر اپنے خیال کے مطابق ان ہی ناموں پر انہوں نے اپنے لیے دیویاں گھڑ لی ہیں۔

آخرت کا گھر اور دنیا اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19؀) 43۔ الزخرف :19) ، یعنی اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے ؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرستش کی جائے گی یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے محض جھوٹ کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہوسکتیں۔ حدیث شریف میں ہے گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کرلیں ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (آخرت میں) کنگال نہ ہو، ایک منقول دعا میں حضور ﷺ کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں (اللھم لا تجعل الدنیا اکبر ھمنا ولا مبلغ علمنا) پروردگار تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے ضلالت دے سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بےانصافی نہیں کرتا۔

آیت 27 - سورہ نجم: (إن الذين لا يؤمنون بالآخرة ليسمون الملائكة تسمية الأنثى...) - اردو