اس صفحہ میں سورہ An-Najm کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النجم کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ لَيُسَمُّونَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ تَسْمِيَةَ ٱلْأُنثَىٰ
وَمَا لَهُم بِهِۦ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ ۖ وَإِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغْنِى مِنَ ٱلْحَقِّ شَيْـًٔا
فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّىٰ عَن ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ إِلَّا ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا
ذَٰلِكَ مَبْلَغُهُم مِّنَ ٱلْعِلْمِ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ ٱهْتَدَىٰ
وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ لِيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ أَسَٰٓـُٔوا۟ بِمَا عَمِلُوا۟ وَيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ بِٱلْحُسْنَى
ٱلَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَٰٓئِرَ ٱلْإِثْمِ وَٱلْفَوَٰحِشَ إِلَّا ٱللَّمَمَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ وَٰسِعُ ٱلْمَغْفِرَةِ ۚ هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌ فِى بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ ۖ فَلَا تُزَكُّوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ ٱتَّقَىٰٓ
أَفَرَءَيْتَ ٱلَّذِى تَوَلَّىٰ
وَأَعْطَىٰ قَلِيلًا وَأَكْدَىٰٓ
أَعِندَهُۥ عِلْمُ ٱلْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰٓ
أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِى صُحُفِ مُوسَىٰ
وَإِبْرَٰهِيمَ ٱلَّذِى وَفَّىٰٓ
أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ
وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَٰنِ إِلَّا مَا سَعَىٰ
وَأَنَّ سَعْيَهُۥ سَوْفَ يُرَىٰ
ثُمَّ يُجْزَىٰهُ ٱلْجَزَآءَ ٱلْأَوْفَىٰ
وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ ٱلْمُنتَهَىٰ
وَأَنَّهُۥ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ
وَأَنَّهُۥ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا
آیت 27{ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِکَۃَ تَسْمِیَۃَ الْاُنْثٰی۔ } ”یہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے انہوں نے فرشتوں کے مونث نام رکھ دیے ہیں۔“ اور پھر اپنے خیال کے مطابق ان ہی ناموں پر انہوں نے اپنے لیے دیویاں گھڑ لی ہیں۔
آیت 28{ وَمَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ ط اِنْ یَّـتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ ج } ”اور ان کے پاس اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ وہ نہیں پیروی کر رہے مگر صرف گمان کی۔“ یعنی فرشتوں کے مونث نام رکھنے اور پھر ان ناموں کے مطابق دیویاں بنا کر ان کی پوجا کرنے کے بارے میں ان کے پاس نہ تو کوئی عقلی دلیل ہے اور نہ ہی اللہ کی اتاری ہوئی کسی کتاب سے کوئی سند۔ اس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ یہ لوگ محض اپنے ظن وتخمین اور وہم و گمان کی پیروی کرر ہے ہیں۔ { وَاِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا۔ } ”اور ظن تو حق سے کچھ بھی مستغنی نہیں کرسکتا۔“ یعنی گمان کسی درجے میں بھی حق کا بدل نہیں ہوسکتا اور وہ حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔ -۔ حق یا تو وہ الہامی علم revealed knowledge ہے جو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے لوگوں تک پہنچایا ہے یا پھر انسان کا وہ اکتسابی علم acquired knowledge جو وہ اپنے حواس سے حاصل ہونے والی ٹھوس معلومات کو عقل کی کسوٹی پر پرکھ کر حاصل کرتا ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے : اَلْعِلْمُ عِلْمَانِ ‘ عِلْمُ الْاَدْیَانِ وَعِلْمُ الْاَبْدَان۔ اس موضوع پر مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو : سورة بنی اسرائیل کی آیت 36 کی تشریح۔ اس کے علاوہ جن علوم کی بنیاد ظن وتخمین پر ہے ‘ حق کے مقابلے میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔
آیت 29{ فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰی عَنْ ذِکْرِنَا وَلَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا۔ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ اعراض کر لیجیے ہر اس شخص سے جس نے روگردانی کی ہے ہمارے ذکر سے ‘ اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں ہے۔“ آپ ﷺ ہر ایسے شخص کو نظر انداز کردیں اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں جو صرف اور صرف دنیا کا طالب ہے اور اپنے اس مطلوب کی دھن میں اس نے ہماری یاد سے پیٹھ موڑ لی ہے۔ ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اس حوالے سے اللہ تعالیٰ کا قانون اٹل ہے جس کی وضاحت سورة بنی اسرائیل کی ان آیات میں کردی گئی ہے :{ مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَۃَ عَجَّلْنَا لَہٗ فِیْہَا مَا نَشَآئُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَہٗ جَہَنَّمَج یَصْلٰٹہَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا۔ وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَۃَ وَسَعٰی لَہَا سَعْیَہَا وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعْیُہُمْ مَّشْکُوْرًا۔ } ”جو کوئی عاجلہ دنیا کا طلب گار بنتا ہے ہم اس کو جلدی دے دیتے ہیں اس میں سے جو کچھ ہم چاہتے ہیں ‘ جس کے لیے چاہتے ہیں ‘ پھر ہم مقرر کردیتے ہیں اس کے لیے جہنم۔ وہ داخل ہوگا اس میں ملامت زدہ ‘ دھتکارا ہوا۔ اور جو کوئی آخرت کا طلب گار ہو ‘ اور اس کے لیے اس کے شایانِ شان کوشش کرے اور وہ مومن بھی ہو تو یہی لوگ ہوں گے جن کی کوشش کی قدر افزائی کی جائے گی۔“
آیت 30{ ذٰلِکَ مَبْلَغُہُمْ مِّنَ الْعِلْمِ ط } ”یہ ہے ان کے علم کی رسائی کی حد۔“ ان کے علم کی رسائی بس دنیا تک ہی ہے اور وہ اسی میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ علم آخرت ان کے چھوٹے اور محدود ذہنوں کی پہنچ میں ہے ہی نہیں۔ حالانکہ انسان کا ذہنی ظرف ذرا بھی وسیع ہو تو وہ اپنے غور و فکر سے اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہے کہ انسان جو کہ اشرف المخلوقات ہے اس کی زندگی اتنی بےوقعت نہیں ہوسکتی کہ اسے ”چاردن“ کی زندگی کا عنوان دے کر فضول خواہشات کی نذر کردیا جائے۔ بقول بہادر شاہ ظفر ؔ: ؎عمر ِدراز مانگ کے لائے تھے چار دن دو آرزو میں کٹ گئے ‘ دو انتظار میں !بہرحال یہ بات عقل اور منطق ہی کے خلاف ہے کہ انسان جیسی اشرف المخلوقات اور مسجودِ ملائک ہستی کی زندگی محض تیس ‘ چالیس یا پچاس برس کے دورانیے تک ہی محدود ہو۔ اس حوالے سے علامہ اقبال کا فلسفہ بہت بصیرت افروز اور مبنی بر حقیقت ہے۔ علامہ کے نزدیک انسانی زندگی وقت کے ایسے جاودانی تسلسل کا نام ہے جسے پیمانہ امروز و فردا سے ناپنا ممکن ہی نہیں : ؎تو اسے پیمانہ امروز و فردا سے نہ ناپ جاوداں ‘ پیہم دواں ‘ ہر دم جواں ہے زندگی ! { اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ لا وَہُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اہْتَدٰی۔ } ”یقینا آپ ﷺ کا ربّ خوب جانتا ہے ان کو بھی جو اس کی راہ سے بھٹک گئے ہیں اور وہ خوب جانتا ہے ان کو بھی جو ہدایت پر ہیں۔“
آیت 31{ وَلِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ } ”اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے“ آسمانوں اور زمین کی ہرچیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ { لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآئُ وْا بِمَا عَمِلُوْا } ”تاکہ وہ بدلہ دے ان کو جنہوں نے برائیاں کمائی ہیں ان کے اعمال کا“ { وَیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰی۔ } ”اور بدلہ دے ان کو جنہوں نے نیک کام کیے ہیں اچھا۔“
آیت 32{ اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ } ”وہ لوگ جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی سے بچتے ہیں سوائے کچھ آلودگی کے۔“ یہاں پر لَـمَم سے مراد صغائر ہیں 1۔ یہ مضمون اس سے پہلے سورة النساء ‘ آیت 31 اور سورة الشوریٰ ‘ آیت 37 میں بھی آچکا ہے اور اب یہاں تیسری مرتبہ آیا ہے۔ مذکورہ آیات کے ضمن میں اس مضمون کے مختلف پہلوئوں کی وضاحت کی جا چکی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے بارے میں بہت زیادہ متفکر ّ بھی نہ ہواجائے اور دوسروں سے درگزر سے بھی کام لیا جائے۔ یہاں اس حوالے سے میں آپ کی توجہ اس تلخ حقیقت کی طرف دلانا چاہتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں ہر شخص کسی نہ کسی دلیل کے ساتھ ایک دو کبائر کو اپنے لیے ”جائز“ قرار دے لیتا ہے اِلا ماشاء اللہ۔ فیکٹری کا مالک کہتا ہے کہ کیا کریں جی ! سود کے بغیر تو ہمارے ملک میں کاروبار کا کوئی تصور ہی نہیں۔ اب مجبوری ہے ‘ کیا کریں ! فیکٹری بند کر کے تو نہیں بیٹھ سکتے نا۔ سرکاری ملازم کہتا ہے کہ سکولوں کی فیسیں ‘ گھر کا کرایہ ‘ یوٹیلٹی بلز کہاں سے ادا کروں ؟ تنخواہ میں تو کسی طرح بھی گزارا ممکن نہیں۔ اب اگر رشوت نہیں لیں گے تو ظاہر ہے بھوکوں مریں گے ! غرض ہر شخص نے اپنے ضمیر کے سامنے اپنی مجبوری کا رونا رو کر کبائر میں سے کم از کم ایک گناہ کو اپنا لیا ہے اور ضمیر کی تسلی کے لیے اپنی تمام تر ترجیحات صغائر سے ”پرہیز“ کی طرف منتقل کردی ہیں۔ اس حوالے سے یہ لوگ صغائر سے متعلق مسائل بھی دریافت کرتے ہیں ‘ پھر ان مسائل پر بحثیں بھی ہوتی ہیں اور ان کے بارے میں دوسروں پر اعتراضات بھی کیے جاتے ہیں ‘ بلکہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑوں کی وجہ سے ”من دیگرم تو دیگری“ میں اور ہوں ‘ تم اور ہو کے فتوے بھی صادر کیے جاتے ہیں۔ اس معاملے میں کوئی بھی اللہ کا بندہ یہ نہیں سوچتا الا ماشاء اللہ ! کہ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ میں اس چند روزہ زندگی کی آسانیوں اور عیاشیوں کے بدلے اصل زندگی کو تو قربان نہ کروں۔ اگر ایک کام سے جائز طور پر گزارا نہیں ہوتا تو کوئی دوسرا کام کرلوں ‘ یا اپنی ضروریات کو سکیڑ کر کم وسائل کے ساتھ زندگی بسر کرلوں ‘ مگر حرام تو نہ کھائوں ! { اِنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَۃِ } ”یقینا آپ کا ربّ بہت ہی وسیع مغفرت والا ہے۔“ اس کا دامن ِمغفرت بہت وسیع ہے۔ اہل ِایمان بندے اگر کبائر و فواحش سے اجتناب کرتے رہیں تو وہ ان کی چھوٹی چھوٹی لغزشوں پر گرفت نہیں کرے گا اور اپنی رحمت بےپایاں کی وجہ سے ان کو معاف فرما دے گا۔ { ہُوَ اَعْلَمُ بِکُمْ اِذْ اَنْشَاَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَاِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّۃٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّہٰتِکُمْ } ”وہ تمہیں خوب جانتا ہے ‘ جبکہ اس نے تمہیں زمین سے اٹھایا اور جب کہ تم اپنی مائوں کے پیٹوں میں جنین کی شکل میں تھے۔“ { فَلَا تُزَکُّوْٓا اَنْفُسَکُمْط ہُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی۔ } ”تو تم خود کو بہت پاکباز نہ ٹھہرائو۔ وہ اسے خوب جانتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتا ہے۔“ یعنی اپنے نفس کی پاکی کے دعوے نہ کرو ‘ وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعتا متقی کون ہے۔ دراصل اپنی پرہیزگاری کا ڈھنڈورا پیٹنے کی ضرورت اس شخص کو ہی محسوس ہوتی ہے جس کا دل ”تھو تھا چنا باجے گھنا“ کے مصداق تقویٰ سے خالی ہو۔ جہاں تقویٰ کی روح کو نظر انداز کیا جا رہا ہوگا وہاں سارا زور تقویٰ کے مظاہر پر ہوگا۔ اندر سے حرام خوری جاری ہوگی اور اس کو چھپانے کے لیے اوپر سے چھوٹی چھوٹی دینی علامات کو اپنا کر تقویٰ کا لبادہ اوڑھ رکھاہو گا۔
آیت 33{ اَفَرَئَ یْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰی۔ } ”پھر اے نبی ﷺ ! کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے پیٹھ موڑ لی ؟“
آیت 34{ وَاَعْطٰی قَلِیْلًا وَّاَکْدٰی رض } ”تھوڑا سا دیا اور پھر سخت ہوگیا۔“ عام مفسرین کی رائے یہ ہے کہ ان آیات میں ولید بن مغیرہ کا تذکرہ ہے۔ مجھے بھی اس رائے سے اتفاق ہے۔ تاریخ میں اس شخص کے بارے میں جو معلومات ملتی ہیں ان سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر ایمان لانے کے قریب پہنچ چکا تھا ‘ مگر پھر اچانک اسے اپنی چودھراہٹ یاد آگئی۔ حق جوئی کی خواہش پر عصبیت کا جذبہ غالب آگیا اور یوں اس نے اپنی سوچ دوبارہ بدل لی۔ یہاں اس کے اسی رویے کا ذکر ہے۔ سورة المدثر میں اس شخص کا تذکرہ قدرے تفصیل سے آیا ہے۔
آیت 35{ اَعِنْدَہٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَہُوَ یَرٰی۔ } ”کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے !“
آیت 36{ اَمْ لَمْ یُـنَـبَّـاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰی۔ } ”کیا اسے خبر نہیں پہنچی اس بارے میں جو کچھ موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں تھا ؟“
آیت 37{ وَاِبْرٰہِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰیٓ۔ } ”اور ابراہیم کے صحیفوں میں تھا جس نے وفا کی انتہا کردی !“ صحف ِابراہیم علیہ السلام اور صحف ِموسیٰ علیہ السلام کا ذکر سورة الاعلیٰ میں بھی آیا ہے : { اِنَّ ہٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰی۔ صُحُفِ اِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی۔ } ”یہی بات پہلے صحیفوں میں مرقوم ہے ‘ یعنی ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں“۔ صحف موسیٰ تو عہدنامہ قدیم Old Testament کی پہلی پانچ کتابوں کی شکل میں آج بھی موجود ہیں ‘ البتہ صحف ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں کسی کو کچھ خبر نہیں۔ اس حوالے سے میرا گمان ہے واللہ اعلم کہ ہندوئوں کے اپنشد صحف ابراہیم علیہ السلام کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ اس موضوع پر مزید تفصیل سورة طٰہ کی آیت 8 9 کے تحت ملاحظہ ہو۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم کے صحیفوں میں سے جس بات کا یہاں حوالہ دیا جا رہا ہے وہ یہ ہے :
آیت 38{ اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی۔ } ”کہ نہیں اٹھائے گی کوئی جان کسی دوسری جان کے بوجھ کو۔“ قیامت کے دن ہر شخص اپنی ذمہ داریوں کے لیے خود جواب دہ ہوگا۔ وہاں کوئی کسی کی مدد کو نہیں آئے گا ‘ جیسا کہ سورة مریم کی اس آیت میں واضح طور پر بتادیا گیا ہے : { وَکُلُّھُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا۔ } کہ اس دن ہر شخص اکیلا حاضر ہوگا۔ ماں باپ ‘ اولاد ‘ عزیز و اقارب میں سے کوئی اس کے ساتھ نہیں ہوگا۔
آیت 39{ وَاَنْ لَّــیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی۔ } ”اور یہ کہ انسان کے لیے نہیں ہے مگر وہی کچھ جس کی اس نے سعی کی ہوگی۔“ انسان کو جو کچھ کرنا ہوگا اپنی محنت اور کوشش کے بل پر کرنا ہوگا ‘ خواہشوں اور تمنائوں سے کچھ نہیں ہوگا۔ قبل ازیں آیت 24 میں سوال کیا گیا تھا کہ ”کیا انسان کو وہی کچھ مل جائے گا جس کی وہ تمنا کرے گا ؟“ یہ آیت گویا مذکورہ سوال کا جواب ہے۔
آیت 40{ وَاَنَّ سَعْیَہٗ سَوْفَ یُرٰی۔ } ”اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب اسے دکھا دی جائے گی۔“ سورة الزلزال میں اس مضمون کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے : { فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ۔ } ”تو جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا ‘ اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔“
آیت 41{ ثُمَّ یُجْزٰٹہُ الْجَزَآئَ الْاَوْفٰی۔ } ”پھر اس کو بدلہ دیا جائے گا پورا پورا بدلہ۔“
آیت 42{ وَاَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الْمُنْتَہٰی۔ } ”اور یہ کہ بالآخر پہنچنا تمہارے رب ہی کی طرف ہے۔“
آیت 43{ وَاَنَّـہٗ ہُوَ اَضْحَکَ وَاَبْکٰی۔ } ”اور یہ کہ وہی ہے جو ہنساتا بھی ہے اور رلاتا بھی ہے۔“ یعنی اچھے برے حالات ‘ خوشی ‘ غم ‘ تکلیف ‘ بیماری سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔
آیت 44{ وَاَنَّہٗٗ ہُوَ اَمَاتَ وَاَحْیَا۔ } ”اور یہ کہ وہی ہے جو مارتا بھی ہے اور زندہ بھی رکھتا ہے۔“