وان ........ الاخری (35 : 74) ” اور یہ کہ دوسری زندگی بخشنا بھی اس کے ذمہ ہے۔ “ دوسری زندی تو ایک غیب ہے لیکن پہلی زندگی دوسری پر دلیل ہے۔ دلیل یوں ہے کہ جب پہلی بار ایک قوت نے انسان کو پیدا کیا تو دوسری بار بھی وہ پیدا کرسکتی ہے۔ وہ ذات جس نے زوجین کو ایک نطفے سے پیدا کیا اور یہ تمہارا مشاہدہ ہے۔ اس بات پر قادر ہے کہ ان ہڈیوں اور مٹی کو دوبارہ جمع کرکے تمہیں اٹھا دے کیونکہ ہڈیوں اور مٹی کو جمع کرنا نطفے کے پانی کے اندر موجود ایک خلیے سے بڑھا کر پیدا کرنے سے مشکل نہیں ہے۔ یہ کام دوبارہ بھی واقع ہوسکتا ہے مثلاً وہ تدبیر جس کے نتیجے میں ایک نطفہ نہایت ہی چھوٹے جرثومے سے ایک طویل راہ سے گزر کر ایک مکمل مرد اور عورت کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اسی تدبیر کے ذریعے سے اللہ قیامت میں سب کو اٹھائے گا تاکہ ہر کسی کو اس کے کئے کے مطابق جزا وسزا دے۔ کیونکہ دوبارہ اٹھانے کا مقصد زندگی کی تکمیل ہے جو یہاں مکمل نہ تھی۔ عالم آخرت میں ہر چیز اپنے کمال کو پہنچے گی لہٰذا ضروری ہے کہ اس میں تخلیق کی ٹیکنالوجی بھی اس دنیا کی تخلیق سے زیادہ پیچیدہ ہو۔ لہٰذا پہلی تخلیق کی دلالت دوسری تخلیق پر دو طرح کی ہے ایک یہ کہ دوسری تخلیق ممکن ہے اور دوسری یہ ہے کہ وہ ضروری ہے کہ وہاں مکمل جزا وسزا مل سکے اور ادھوری زندگی مکمل ہو۔ اور اس زندگی میں اور دوسری زندگی دونوں میں اللہ جسے چاہے غنی اور مالدار بنادے۔
آیت 47{ وَاَنَّ عَلَیْہِ النَّشْاَۃَ الْاُخْرٰی۔ } ”اور یہ کہ اسی کے ذمے ہے دوبارہ اٹھانا۔“ یہاں یہ نکتہ بہت اہم اور لائق توجہ ہے کہ انسانوں کو دوبارہ اٹھانا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے۔ گویا انسانوں کو دوبارہ زندہ کر کے ان کا احتساب کرنا اللہ کے انصاف کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر وہ انسانوں کو دوبارہ نہیں اٹھاتا اور ان کو ان کے اچھے برے اعمال کا بدلہ نہیں دیتا تو نیکوکار لوگوں کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوجائے گا۔ اس لیے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی بھی آزمائشوں اور مصیبتوں میں گزاری۔ ساری زندگی وہ پھونک پھونک کر قدم رکھتے رہے ‘ حرام خوریوں سے بچنے کے لیے روکھی سوکھی کھا کر گزارا کرتے رہے۔ اگر انہیں ان کی محنتوں اور قربانیوں کا صلہ نہیں ملتا تو اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوگا ؟