اس صفحہ میں سورہ An-Najm کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر ابن کثیر (حافظ ابن کثیر) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النجم کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَأَنَّهُۥ خَلَقَ ٱلزَّوْجَيْنِ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰ
مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَىٰ
وَأَنَّ عَلَيْهِ ٱلنَّشْأَةَ ٱلْأُخْرَىٰ
وَأَنَّهُۥ هُوَ أَغْنَىٰ وَأَقْنَىٰ
وَأَنَّهُۥ هُوَ رَبُّ ٱلشِّعْرَىٰ
وَأَنَّهُۥٓ أَهْلَكَ عَادًا ٱلْأُولَىٰ
وَثَمُودَا۟ فَمَآ أَبْقَىٰ
وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَىٰ
وَٱلْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَىٰ
فَغَشَّىٰهَا مَا غَشَّىٰ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارَىٰ
هَٰذَا نَذِيرٌ مِّنَ ٱلنُّذُرِ ٱلْأُولَىٰٓ
أَزِفَتِ ٱلْءَازِفَةُ
لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ ٱللَّهِ كَاشِفَةٌ
أَفَمِنْ هَٰذَا ٱلْحَدِيثِ تَعْجَبُونَ
وَتَضْحَكُونَ وَلَا تَبْكُونَ
وَأَنتُمْ سَٰمِدُونَ
فَٱسْجُدُوا۟ لِلَّهِ وَٱعْبُدُوا۟ ۩
سب کی آخری منزل اللہ تعالیٰ ادراک سے بلند ہے فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے حضرت معاذ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا اے بنی اود میں اللہ کا پیغمبر کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ بغوی میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں، جیسے اور حدیث میں ہے مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو۔ اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پاسکتا، گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے اس میں ہے کہ شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا ؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا ؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو اعوذ پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے، سنن کی ایک حدیث میں ہے مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت وحیات کا خالق ہے جیسے فرمایا آیت (الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ۙ) 67۔ الملک :2) اس نے موت وحیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى 36ۭ) 75۔ القیامة :36) ، کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بیکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟ پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا ؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے کیا (ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں ؟ کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنادیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے اس نے دیا اور خوش ہوا اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنادیا جسے چاہا غنی کیا جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ شعری اس روشن ستارے کا نام ہے جسے مرزم الجوزاء بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے، عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کردیا جیسے فرمایا آیت (اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ۽) 89۔ الفجر :6) ، یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا ؟ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زورآور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کردیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہوچکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن وقہار نے زیر و زبر کردیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کردیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (پتھروں نے) جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی حضرت قتادہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا پھر تو اے انسان اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا ؟ بعض کہتے ہیں خطاب نبی ﷺ سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔
" نذیر " کا مفہوم نذیر کہتے کسے ہیں یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ آپ کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آگئی۔ نہ تو اسے کوئی دفع کرسکے نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔ نذیر عربی میں اسے کہتے ہیں مثلا ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ 46) 34۔ سبأ :46) میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں حدیث میں ہے تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آجائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آرہی ہے فوراً تدارک کرلو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہوگئے ہیں اور آنحضرت ﷺ ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے آیت (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آچکی مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگو گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کرلی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہوجاتا ہے اور حدیث میں ہے میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لئے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لئے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتادیا کہ خبردار ہوجاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں۔ اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق اور ہنسی کرنے لگتے ہیں چاہیے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (سمد) گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے آپ سے (سامدون) کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں حضرت علی اور حسن فرماتے ہیں غفلت کرنے والے۔ پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضور ﷺ نے مسلمانوں نے مشرکوں نے اور جن و انس نے سورة النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ ﷺ نے سورة نجم پڑھی پس آپ نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ کے پاس تھے راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورة مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔