وانہ ............ تتماری (55) (35 : 05 تا 55) ” یہ کہ اسی نے عاد اولی کو ہلاک کیا اور ثمود کو ایسا تباہ کیا کہ اس میں سے کسی کو نہ چھوڑا اور ان سے پہلے قوم نوح کو تباہ کیا کہ وہ تھے ہی سخت ظالم اور سرکش لوگ اور اوندھی گرنے والی بستیوں کو اٹھا کر پھینکا پھر چھا دیا ان پر وہ جو (تم جانتے ہو کہ) کیا چھا دیا۔ پس اے انسان اپنے رب کی کن کن نعمتوں میں تو شک کرے گا۔ “
یہ ایک سرسری نظر ہے جس میں ایک ایک امت پر مختصر نگاہ ڈالی جاتی ہے اور اس کے انجام کو دکھا کر انسانی شعور کو چن کی دی جاتی ہے کہ وہ بیدار ہو۔
عاد ، ثمود اور قوم نوح کو تو قرآن کے قاری جانتے ہیں اور کئی جگہ یہ قصص مذکور ہیں۔ موتفکہ کا لفظ افک بمعنی بہتان اور ضلالت سے ہے۔ ( وہ بستیاں جو الٹ دی گئیں ، لوط کی قوم کی بستیاں تھیں۔ ) ان بستیوں کے بارے میں یہ کہ ان بستیوں پر چھا گیا جو چھا گیا اس میں عذاب کو زیادہ خوفناک اور عظیم دکھانے کے لئے نام نہیں لیا گیا یعنی بربادی ، آتش فشانی کے ذریعے جو بربادی بھی آپ تصور کرسکتے ہیں وہ ان پر چھا گئی لہٰذا بیان کی ضرورت نہیں۔
آیت 50{ وَاَنَّہٓٗ اَہْلَکَ عَادَا نِ الْاُوْلٰی۔ } ”اور یہ کہ اسی نے ہلاک کیا تھا عاد اولیٰ کو۔“ ”عادِ اولیٰ“ سے مراد قدیم قوم عاد ہے ‘ جس کی طرف حضرت ہود علیہ السلام مبعوث کیے گئے۔ یہ قوم احقاف کے علاقے میں آباد ہوئی۔ اس قوم پر جب عذاب بھیجنے کا فیصلہ ہوا تو حضرت ہود علیہ السلام اپنے اہل ایمان ساتھیوں کے ہمراہ اس علاقے سے ہجرت کر گئے۔ ان لوگوں کی نسل سے جو قوم وجود میں آئی وہ ”ثمود“ کہلائی۔ لیکن وہ لوگ چونکہ قوم عاد ہی کی نسل سے تھے اس لیے انہیں ”عادِ ثانیہ“ بھی کہا جاتا ہے۔