سورہ نمل: آیت 36 - فلما جاء سليمان قال أتمدونن... - اردو

آیت 36 کی تفسیر, سورہ نمل

فَلَمَّا جَآءَ سُلَيْمَٰنَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَآ ءَاتَىٰنِۦَ ٱللَّهُ خَيْرٌ مِّمَّآ ءَاتَىٰكُم بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ

اردو ترجمہ

جب وہ (ملکہ کا سفیر) سلیمانؑ کے ہاں پہنچا تو اس نے کہا "کیا تم لوگ مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو؟ جو کچھ خدا نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں دیا ہے تمہارا ہدیہ تمہی کو مبارک رہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Falamma jaa sulaymana qala atumiddoonani bimalin fama ataniya Allahu khayrun mimma atakum bal antum bihadiyyatikum tafrahoona

آیت 36 کی تفسیر

فلما جآء ……صغرون (73)

ان لوگوں کے ہدایا کو رد کرتے وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دولت کی حقارت کا اظہار بھی کیا۔ ان کو بتایا گیا کہ دولت کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن نظریات اور ایمانیات کے مقابلہ میں دولت ایک حقیر چیز ہوتی ہے۔

اتمدونن بمال (82 : 63) ” کیا تم مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو۔ “ کیا تم یہ حقیر چیز میرے سامنے پیش کرتے ہوے اور میری اس قدر کم قیمت لگاتے ہو۔

فما اتن اللہ خیر مما اتکم (82 : 63) ” جو کچھ خدا نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں دیا ہے۔ “ مجھے مال بھی تم سے زیادہ دیا ہے اوپر منصب نبوت بھی دیا ہے جو جنس مال سے خیر ہے۔ علم نبوت جو بڑی دولت ہے۔ انسانوں ، جنوں اور طیور کی تسخیر جو روپے کے ذریعے نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا اس زمین کی کوئی چیز مجھے خوش نہیں کرسکتی۔

بل انتم بھدیتکم تفرحون (82 : 63) ” تمہارا یہ ہدیہ تمہیں مبارک ہو۔ “ تم دنیا پرست لوگ ایسی چیزوں پر خوش ہوتے ہو ، لیکن ہمارے نزدیک ان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ ہم تو اللہ سے لو لگائے ہوئے ہیں اور اللہ کے ہدایا قبول کرتے ہیں۔

اس کے بعد انہیں سخت تہدید آمیز جواب دیا جاتا ہے۔

ارجع الیھم (82 : 83) ” واپس جا اپنے بھیجنے والے کی طرف۔ “ یہ ہدایا ان کو دو اور عبرت آمیز انجام کو انتظار کرو۔

فلنا تینھم بجنودلا قبل لھم بھا (62 : 83) ” ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے جن کا مقابلہ وہ نہ کرسکیں گے۔ “ یہ ایسی افواج ہیں جو دنیا کے کسی انسان کے پاس نہیں ہیں اور ملکہ سبا اور اس کی قوم ہماری افواج کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔

ولنخر جنھم منھا اذلۃ و ھم صغرون (82 : 83) ” اور ہم انہیں ایسی ذلت کے ساتھ وہاں سے نکالیں گے کہ وہ خوار ہو کر رہ جائیں گے۔ “ اب یہاں پر وہ گرتا ہے اور یہ چیلنج اور تہدید کا منظر ختم ہوجاتا ہے۔ سفارت واپس ہوجاتی ہے۔ اب سیاق کلام یہاں ختم ہوجاتا ہے۔ اگلے اقدام کے بارے میں یہاں ایک لفظ بھی نہیں کہا جاتا ہے۔

حضرت سلیمان یہ جانتے ہیں کہ ملکہ کے ساتھ معاملہ ختم ہوگیا ، وہ نہ مقابلہ کرسکتی ہے۔ نہ دشمنی چاہتی ہے۔ کیونکہ ہدایا کے ساتھ سفارت بھیجنے کا مقصد ہی یہ تھا۔ حضرت سلیمان جان گئے کہ یہ ملکہ مطابق حکم سلیمان دعوت قبول کرے گی اور اطاعت کرلے گی جیسا کہ بعد کے حالات بتاتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔

لیکن سیاقکلام میں یہ بات نہیں ہے کہ یہ سفارت واپس ہوئی ۔ اس نے ملکہ کے سامنے یہ یہ رپورٹ پیش کی۔ نہ سیاق کلام میں ملکہ کے اگلے ارادے کا ذکر ہے۔ یہ سب خود بخود معلوم ہوجائیں گے جب ملکہ کا دورہ دار الخلافہ معلوم ہوگا اب حضرت سیمان علیہ ال سلام یہ حکم دیتے ہیں کہ کون ہے جو ملکہ کے پہنچنے سے قبل ہی اس کے عرش کو لے کر آجائے اور پھر اس عرش اور تخت کو اس کے سامنے ذرا انجان ہو کر پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ عرش وہ اپنے علاقے میں چھوڑ کر آئی ہے اور یہ وہاں اس کے دارالخلافہ میں محفوظ و مامون ہے۔

بلقیس نے بہت ہی گراں قدر تحفہ حضرت سلیمان ؑ کے پاس بھیجا۔ سونا موتی جواہر وغیرہ سونے کی کثیر مقدار اینٹیں سونے کے برتن وغیرہ۔ بعض کے مطابق کچھ بچے عورتوں کے لباس میں اور کچھ عورتیں لڑکوں کے لباس میں بھیجیں اور کہا کہ اگر وہ انہیں پہچان لیں تو اسے نبی مان لینا چاہیے۔ جب یہ حضرت سلیمان ؑ کے پاس پہنچے تو آپ نے سب کو وضو کرنے کا حکم دیا۔ لڑکیوں نے برتن سے پانی بہا کر اپنے ہاتھ دھوئے اور لڑکوں نے برتن میں ہی ہاتھ ڈال کر پانی لیا۔ اس سے آپ نے دونوں کو الگ الگ پہچان کر علیحدہ کردیا کہ یہ لڑکیاں ہیں اور یہ لڑکے ہیں۔ بعض کہتے ہیں اس طرح پہچانا کہ لڑکیوں نے تو پہلے اپنے ہاتھ کیے اندرونی حصہ کو دھویا اور لڑکوں نے انکے برخلاف بیرونی حصے کو پہلے دھویا یہ بھی مروی ہے کہ ان میں سے ایک جماعت نے اس کے برخلاف ہاتھ کی انگلیوں سے شروع کر کے کہنی تک لے گئے۔ ان میں سے کسی میں نفی کا امکان نہیں، واللہ اعلم۔ یہ بھی مذکور ہے کہ بلقیس نے ایک برتن بھیجا تھا کہا اسے ایسے پانی سے پر کردو جو نہ زمین کا ہو نہ آسمان کا تو آپ نے گھوڑے دوڑائے اور ان کے پسینوں سے وہ برتن بھر دیا۔ اسنے کچھ خرمہرے اور ایک لڑی بھیجی تھی آپ نے انہیں لڑی میں پرو دیا۔ یہ سب اقوال عموماً بنی اسرائیل کی روایتوں سے لئے جاتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ البتہ بظاہر الفاظ قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس رانی کیے تحفے کی طرف مطلقاً التفات ہی نہیں کیا۔ اور اسے دیکھتے ہی فرمایا کہ کیا تم مجھے مالی رشوت دے کر شرک پر پاقی رہنا چاہتے ہو ؟ یہ محض ناممکن ہے مجے رب نے بہت کچھ دے رکھا ہے۔ ملک، مال، لاؤ، لشکر سب میرے پاس موجود ہے۔ تم سے پر طرح بہتر حالت میں میں ہوں فالحمدللہ۔ تم ہی اپنے اس ہدیے سے خوش رہو یہ کام تم ہی کو سونپا کہ مال سے راضی ہوجاؤ اور تحفہ تمہیں جھکا دے یہاں تو دو ہی چیزیں ہیں یا شرک چھوڑو یا تلوار روکو۔ یہ بھی کہا گیا ہے اس سے پہلے کہ اسکے قاصد پہنچیں حضرت سلیمان ؑ نے جنات کو حکم دیا اور انہوں نے سونے چاندی کے ایک ہزار محل تیار کردئے۔ جس وقت قاصد پائے تخت میں پہنچے ان محلات کو دیکھ کر ہوش جاتے رہے اور کہنے لگے یہ بادشاہ تو ہمارے اس تحفے کو اپنی حقارت سمجھے گا۔ یہاں تو سونا مٹی کی وقعت بھی نہیں رکھتا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ بادشاہوں کو یہ جائز ہے کہ بیرونی لوگوں کے لیے کچھ تکلفات کرے اور قاصدوں کے سامنے اپنی زینت کا اظہار کرے۔ پھر آپ نے قاصدوں سے فرمایا کہ یہ ہدیے انہیں کو واپس کردو اور ان سے کہہ دو مقابلے کی تیاری کرلیں یاد رکھو میں وہ لشکر لے کر چڑھائی کروں گا کہ وہ سامنے آہی نہیں سکتے۔ انہیں ہم سے جنگ کرنے کی طاقت ہی نہیں۔ ہم انہیں انکی سلطنت سے بیک بینی و دوگوش ذلت و حقارت کے ساتھ نکال دیں گے ان کے تخت و تاج کو رونددیں گے۔ جب قاصد اس تحفے کو واپس لے پہنچے اور شاہی پیغام بھی سنادیا۔ بلقیس کو آپ کی نبوت کا یقین ہوگیا فورا خود بھی اور تمام لشکر اور رعایا مسلمان ہوگئے اور اپنے لشکروں سمیت وہ حضرت سلیمان ؑ کی خدمت میں حاضر ہوگئے جب آپ نے اس کا قصد معلوم کیا تو بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا۔

آیت 36 - سورہ نمل: (فلما جاء سليمان قال أتمدونن بمال فما آتاني الله خير مما آتاكم بل أنتم بهديتكم تفرحون...) - اردو