اس صفحہ میں سورہ An-Naml کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النمل کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
فَلَمَّا جَآءَ سُلَيْمَٰنَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَآ ءَاتَىٰنِۦَ ٱللَّهُ خَيْرٌ مِّمَّآ ءَاتَىٰكُم بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ
ٱرْجِعْ إِلَيْهِمْ فَلَنَأْتِيَنَّهُم بِجُنُودٍ لَّا قِبَلَ لَهُم بِهَا وَلَنُخْرِجَنَّهُم مِّنْهَآ أَذِلَّةً وَهُمْ صَٰغِرُونَ
قَالَ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَؤُا۟ أَيُّكُمْ يَأْتِينِى بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
قَالَ عِفْرِيتٌ مِّنَ ٱلْجِنِّ أَنَا۠ ءَاتِيكَ بِهِۦ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَ ۖ وَإِنِّى عَلَيْهِ لَقَوِىٌّ أَمِينٌ
قَالَ ٱلَّذِى عِندَهُۥ عِلْمٌ مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ أَنَا۠ ءَاتِيكَ بِهِۦ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ ۚ فَلَمَّا رَءَاهُ مُسْتَقِرًّا عِندَهُۥ قَالَ هَٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّى لِيَبْلُوَنِىٓ ءَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ ۖ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِۦ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّى غَنِىٌّ كَرِيمٌ
قَالَ نَكِّرُوا۟ لَهَا عَرْشَهَا نَنظُرْ أَتَهْتَدِىٓ أَمْ تَكُونُ مِنَ ٱلَّذِينَ لَا يَهْتَدُونَ
فَلَمَّا جَآءَتْ قِيلَ أَهَٰكَذَا عَرْشُكِ ۖ قَالَتْ كَأَنَّهُۥ هُوَ ۚ وَأُوتِينَا ٱلْعِلْمَ مِن قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ
وَصَدَّهَا مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ ٱللَّهِ ۖ إِنَّهَا كَانَتْ مِن قَوْمٍ كَٰفِرِينَ
قِيلَ لَهَا ٱدْخُلِى ٱلصَّرْحَ ۖ فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَكَشَفَتْ عَن سَاقَيْهَا ۚ قَالَ إِنَّهُۥ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّن قَوَارِيرَ ۗ قَالَتْ رَبِّ إِنِّى ظَلَمْتُ نَفْسِى وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَٰنَ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
فلما جآء ……صغرون (73)
ان لوگوں کے ہدایا کو رد کرتے وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دولت کی حقارت کا اظہار بھی کیا۔ ان کو بتایا گیا کہ دولت کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن نظریات اور ایمانیات کے مقابلہ میں دولت ایک حقیر چیز ہوتی ہے۔
اتمدونن بمال (82 : 63) ” کیا تم مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو۔ “ کیا تم یہ حقیر چیز میرے سامنے پیش کرتے ہوے اور میری اس قدر کم قیمت لگاتے ہو۔
فما اتن اللہ خیر مما اتکم (82 : 63) ” جو کچھ خدا نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں دیا ہے۔ “ مجھے مال بھی تم سے زیادہ دیا ہے اوپر منصب نبوت بھی دیا ہے جو جنس مال سے خیر ہے۔ علم نبوت جو بڑی دولت ہے۔ انسانوں ، جنوں اور طیور کی تسخیر جو روپے کے ذریعے نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا اس زمین کی کوئی چیز مجھے خوش نہیں کرسکتی۔
بل انتم بھدیتکم تفرحون (82 : 63) ” تمہارا یہ ہدیہ تمہیں مبارک ہو۔ “ تم دنیا پرست لوگ ایسی چیزوں پر خوش ہوتے ہو ، لیکن ہمارے نزدیک ان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ ہم تو اللہ سے لو لگائے ہوئے ہیں اور اللہ کے ہدایا قبول کرتے ہیں۔
اس کے بعد انہیں سخت تہدید آمیز جواب دیا جاتا ہے۔
ارجع الیھم (82 : 83) ” واپس جا اپنے بھیجنے والے کی طرف۔ “ یہ ہدایا ان کو دو اور عبرت آمیز انجام کو انتظار کرو۔
فلنا تینھم بجنودلا قبل لھم بھا (62 : 83) ” ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے جن کا مقابلہ وہ نہ کرسکیں گے۔ “ یہ ایسی افواج ہیں جو دنیا کے کسی انسان کے پاس نہیں ہیں اور ملکہ سبا اور اس کی قوم ہماری افواج کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
ولنخر جنھم منھا اذلۃ و ھم صغرون (82 : 83) ” اور ہم انہیں ایسی ذلت کے ساتھ وہاں سے نکالیں گے کہ وہ خوار ہو کر رہ جائیں گے۔ “ اب یہاں پر وہ گرتا ہے اور یہ چیلنج اور تہدید کا منظر ختم ہوجاتا ہے۔ سفارت واپس ہوجاتی ہے۔ اب سیاق کلام یہاں ختم ہوجاتا ہے۔ اگلے اقدام کے بارے میں یہاں ایک لفظ بھی نہیں کہا جاتا ہے۔
حضرت سلیمان یہ جانتے ہیں کہ ملکہ کے ساتھ معاملہ ختم ہوگیا ، وہ نہ مقابلہ کرسکتی ہے۔ نہ دشمنی چاہتی ہے۔ کیونکہ ہدایا کے ساتھ سفارت بھیجنے کا مقصد ہی یہ تھا۔ حضرت سلیمان جان گئے کہ یہ ملکہ مطابق حکم سلیمان دعوت قبول کرے گی اور اطاعت کرلے گی جیسا کہ بعد کے حالات بتاتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔
لیکن سیاقکلام میں یہ بات نہیں ہے کہ یہ سفارت واپس ہوئی ۔ اس نے ملکہ کے سامنے یہ یہ رپورٹ پیش کی۔ نہ سیاق کلام میں ملکہ کے اگلے ارادے کا ذکر ہے۔ یہ سب خود بخود معلوم ہوجائیں گے جب ملکہ کا دورہ دار الخلافہ معلوم ہوگا اب حضرت سیمان علیہ ال سلام یہ حکم دیتے ہیں کہ کون ہے جو ملکہ کے پہنچنے سے قبل ہی اس کے عرش کو لے کر آجائے اور پھر اس عرش اور تخت کو اس کے سامنے ذرا انجان ہو کر پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ عرش وہ اپنے علاقے میں چھوڑ کر آئی ہے اور یہ وہاں اس کے دارالخلافہ میں محفوظ و مامون ہے۔
قال ……الیک طرفک
آپ کو معلوم ہے کہ سلیمان علیہ اسللام نے اس کے تحت کو اس کی جانب سے اطاعت قبول کرنے سے قبل کس غرض کے لئے منگوایا ؟ صحیح بات یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ کام اس لئے کیا کہ وہ ملکہ سبا کو دکھائیں کہ کائنات کی معجزانہ قوتیں ان کی تائید کر رہی ہیں تاکہ ملکہ سبا ان سے متاثر ہوجائے اور ظاہری اختیار کے ساتھ ساتھ اس کے ایمان لانے کی راہ بھی ہموار ہوجائے۔
جنوں میں سے ایک دیوہیکل جن نے یہ پیشکش کی کہ وہ یہ تخت اس وقت تک حاضر کر دے گا جب تک یہ اجلاس جاری ہے۔ جیسا کہ روایات میں آتا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) انتظامی اور عدالتی فصلہ کرنے کے لئے صبح سے ظہر تک بیٹھتے تھے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس عرصے کو طویل سمجھے۔ یہ کہا کہ اس وقت تک تو بہت دیر ہوجائے گی۔ چناچہ ایک شخص جس کے پاس علم کتاب تھا۔
الذی عندہ علم من الکتب (82 : 03) ” جس شخص کے پاس کتاب کا علم تھا۔ “ اس نے کہا کہ پلک جھپکنے سے پہلے میں اسے لائے دیتا ہوں۔ یہاں اس شخص کا نام نہیں لیا گیا کہ وہ کون تھا اور نہ اس کتاب کا ذکر ہے جس کا علم اس کے پاس تھا۔ ہم سمجھے ہیں کہ یہ ایک مومن شخص تھا ، اللہ کے ساتھ اس کا اتصال تھا ، خدا رسیدہ شخص تھا اور وہ اللہ کی جانب سے ایسی قوتوں کے مالک تھے جن کے لئے غیب کے پردے اور دوریاں ختم ہوجاتی ہیں اور یہ ایسے امور اور کرامات ہیں جن کا صدور بعض اوقات خدا رسیدہ لوگوں سے ہوتا ہے اور جس کے اسرار و رموز سے عام لوگ واقف نہیں ہوتے۔ کیونکہ عام انسان جس دنیا میں رتے ہیں اور جن اسباب کے تحت وہ زندگی بسر کرتے ہیں اس سے یہ مختلف زندگی ہوتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ قصے کہانیوں اور داستانوں اور خرافات سے نکلنے کے لئے بس اس مقام پر یہی کہا جاسکتا ہے۔
بعض مفسرین اس شخص کے پیچھے پڑے ہیں کہ یہ شخص کون تھا ؟ اور کتاب کون سی تھی۔ کتاب کے بارے میں کہا کہ وہ تورات تھی اور بعض نے کہا کہ یہ شخص اسم اعظم کو جانتا تھا اور بعض مفسرین نے اور اقوال اختیار کئے ہیں۔ تمام اقوال کی پشت پر کوئی مستند دلیل نہیں ہے۔ اگر واقعیت پسندی سے کام لیا جائے تو یہ معاملہ بہت آسان ہے۔ اس کائنات کے ہزارہا ایسے راز ہیں جن کو ہم نہیں جانتے۔ بیشمار ایسی قوتیں ہیں جن کو ابھی تک ہم کام میں نہیں لا سکے۔ خود نفس انسانی کے اندر ایسے راز موجود ہیں جن تک ابھی ہماری رسائی نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ جب کسی ایک انسان کو ان اسرار سے واقف کردیتا ہے تو پھر دوسروں کے لئے ایک معجزہ صادر ہوجاتا ہے کیونکہ یہ معجزہ عام انسانوں کی طبیعی زندگی کے لخفا ہوتا ہے جبکہ یہ خارق عادت معجزہ بھی اللہ ہی کی قوتوں میں سے کسی قوت کے مطابق ہوتا ہے اور اللہ اس خارق عادت بات کو جس کے ہاتھ پر چاہتا ہے چلا دیتا ہے۔ (اس طرح وہ معجزہ اور کرامت ہوتی ہے۔ )
یہ شخص جس کے پاس علم کتاب تھا ، اس علم کی وجہ سے اس کا نفس اس کام کے لئے تیار تھا۔ اللہ نے بعض کائناتی راز اس شخص پر منکشف کردیئے تھے اور یوں یہ کرامت اس کے ہاتھ سے ظاہر ہوگئی کیونکہ علم کتاب کی وجہ سے یہ شخص خدا رسیدہ شخص تھا اور وہ روحانی طور پر اس کے لئے تیار تھا کہ اس پر بعض اسرار کھول دیئے جائیں۔
بعض مفسرین نے کہا یہ شخص خود سلیمان (علیہ السلام) تھے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ شخص حضرت سلیمان نہ تھے۔ ورنہ پھر اپنے آپ کو چھپانے کی ضرورت کیا تھی۔ قصہ خود انکا چل رہا تھا اور قصہ بھی ایسا کوئی نہ تھا کہ حضرت کا نام مخفی رکھا جائے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ اس کا نام آصف بن برقیا تھا۔ اس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔
فلما راہ ……کریم (04)
تخت کی اچانک اور برق رفتار حاضری کا سلیمان (علیہ السلام) پر بےحد اثر ہوا۔ وہ ڈر گئے کہ اللہ نے کس طرح معجزاتی انداز میں ان کا مقصد پورا کردیا۔ انہوں نے سوچ لیا کہ یہ ایک عظیم نعمت خداوندی ہے اور اس کا فضل و کرم ہے۔ اور اس قدر عظیم کرم دراصل ایک عظیم ابتلا ہے۔ ایک خوفناک ابتلا ہے۔ اس لئے اس ابتلا سے وہ کامیابی کے ساتھ تب ہی گزر سکتے ہیں جب وہ ہر وقت بیدار رہیں اور اس آزمائش میں بھی کامیابی کے لئے اللہ کی مدد درکار ہے۔ اسے خدا خوفی کی ضرورت ہے ، نعمت خواندی کا احساس کرنا ضروری ہے۔ اور اللہ کے اس فضل پر شکر بجالانا ضروری ہے۔ تاکہ اللہ پر ثابت ہوجائے کہ میں شکر گزار ہوں جبکہ الل ہکو کسی کی جانب سے کسی شکر کی ضرورت نہیں ہے جو کوئی شکر کرتا ہے۔ وہ خود اپنے لئے کرتا ہے اور شکر سے زیادہ نعمت حاصل ہوتی ہے اور ابتلائے نعمت میں کامیابی حاصل ہوتی ہے اور اگر کوئی شکر نہیں کرتا ، ناشکری کرتا ہے تو اللہ تو عالم اور عال والوں سے مستغنی ہے۔ وہ تو کریم ہے۔ بغیر کسی احتیاج کے شکر کرنے والوں کو بخشتا ہے۔
شکر نعمت اور شکر کو ایک آزمائش تصور کرنے کے بعد حضرت سلیمان ملکہ کو حیران کن صورت حال سے دوچار کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں۔
قال نکروالھا ……لایھتدون (14)
یعنی اس تخت کی امتیازی خصوصیات کو ختم کر دو تاکہ دیکھا جائے کہ وہ اس تحت کو اپنی فراست اور ذہانت سے پہنچانتی ہے یا نہیں۔ یا اس معمولی تبدیلی سے اس کے لئے اس کا پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے۔
شاید یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے اس کی ذہانت اور فراست کا امتحان تھا۔ تخت کے بارے میں اس اچانک اور ناقابل توقع صورتحال سے دوچار ہونے کے بعد اب حضرت سلیمان اور ملکہ کی ملاقات ہوتی ہے۔
فلما جآءت قیل اھکذا عرشک قالت کانہ ھو
یہ اس لئے ایک انوکھی اور غیر متوقع بات تھی۔ اس کی مملکت کہاں اور تخت کہاں اور وہ دیکھ رہی ہے۔ آخر محفوظ مقامات کے اندر زیر حراست تخت یہاں کس طرح آگیا ۔ جنوب یمن اور بیت المقدس کا فاصلہ یہ کیسے آگیا اور کون اسے لایا ہے۔
لیکن تھوڑی سی تبدیلی کے باوجود تخت تو اسی کا ہے لیکن وہ غیر متوقع ہونے ، حالاتی شہادت خلاف ہونے کی وجہ سے اور زیادہ تر علامات اصلی باقی رہنے کی وجہ سے وہ یوں کہتی ہے کہ ” گویا یہ وہی ہے۔ “ اس نے نہایت فراست اور عقلمندی سے یہ جواب دیا۔ جس میں نہ اس تخت کا اقرار ہے اور نہ انکار ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان غیر متوقع حالات میں بھی دھوکہ نہیں کھاتی اور اعلیٰ درجے کی سفارتی زبان استعمال کرتی ہے۔
اب یہاں سیاق کلام میں ایک خلا ہے۔ گویا اسے حضرت سلیمان نے اطلاع کردی کہ یہ قوت ہے جس کے ذریعے ہم تمہارا تخت تم سے بھی پہلے لے آئے۔ تو اس کا جواب وہ دیتی ہے کہ ہم نے خود اپنے ہاں حالات کا جائزہ لے لیا تھا اور یہ عزم کرلیا تھا کہ ہم سلیمان کی اطاعت قبول کریں گے جب ہمارے ہدایا رد کردیئے گئے تھے۔
واو تینا العلم من قبلھا وکنا مسلمین (24)
اب قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ ملک سبا اپنی اس دانشمندی کے باوجود پھر حضرت سلیمان کے پہلے خط پر ایمان کیوں نہیں لائی۔ یہ اس لئے کہ یہ ایک کافر سوسائٹی میں پیدا ہوئی تھی۔ لہٰذا وہ بھی عام رواج کے مطابق اللہ کی بندگی کے بجائے سورج کی بندگی کرتی رہی۔ جیسا کہ ہد ہد کی رپورٹ سے ظاہر ہے۔
وصدما ……قوم کفرین (34)
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ کو مرعوب کرنے کیل ئے ایک دوسری غیر متوقع امتحان گاہ بھی اس کے لئے تیار تھی۔ یہ امتحان اس قدر اچانک ہے کہ یہاں بھی بیان قصہ کے وقت بھی اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہے۔ پہلے تخت کے سلسلے میں تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو بتا دیا کہ یہ تخت یوں معجزانہ انداز میں لایا گیا ہے۔ یہاں قرآن کریم کی طرز ادا بھی نہایت ہی بلبغانہ ہے۔
قیل لھا ادخلی ……رب العلمین (34)
یہ غیر متوقع محتان یوں تھا کہ حضرت سلیمان نے ایک عظیم الشان محل تعمیر کرایا تھا۔ یہ شیش محل تھا۔ اس کے فرش کے نیچے سے پانی گزارا گیا تھا اور فرش شیشے کا بھی اب فرش یوں نظر آ رہا تھا کہ گویا پانی کی لہر ہے۔ جب ملکہ کو کہا گیا کہ آپ اس محل میں داخل ہوں تو اس نے سمجھا کہ اسے پانی سے چل کر گزرنا ہے۔ اس پر اس نے شلوار کے پائنچے اٹھا دیئے۔ اس کی ٹانگیں کھل گئیں۔ اس واقعہ کے بعد حضرت سلیمان نے اسے بتایا۔
قال انہ صرح ممرد من قواریر (82 : 33) ” انہوں نے کہا کہ یہ شیشے کا چکنا فرش ہے۔ “ یہاں ملکہ حیران رہ گئی کہ حضرت سلیمان کے پاس تو حیران کن عجائبات ہیں اور یقینا یہ قوتیں فوق الفطرت ہیں۔ یوں اس نے اللہ کی طرف رجوع کیا۔ اور اللہ کو پکار اٹھی کہ اس نے اس سے قبل جو غیر اللہ کی عبادت کی ہے وہ اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے۔ چناچہ اس نے سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا کہ میں اب سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کی اطاعت قبول کرتی ہوں۔
اس نے سوچ لیا کہ اسلامی نظام زندگی کیا چیز ہے۔ یہ کہ اس میں کوئی انسان کسی انسان کے آگے نہیں جھکتا۔ بلکہ سب انسان اللہ کے آگے جھکتے ہیں۔ سلیمان اگرچہ نبی ہیں لیکن وہ کہتی ہے کہ میں سلیمان کے ساتھ رب العالمین کی اطاعت قبول کرتی ہوں یعنی سلیمان کی معیت تو ہے جس طرح ایک مسلمان دوسرے مسلمانوں کا ساتھی ہوتا ہے لیکن اطاعت رب العالمین کی ہوتی ہے۔
اسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین (82 : 33) قرآن کریم نے یہاں اس بات کو خصوصی طور پر ریکارڈ کیا ہوا ہے کہ اسلام اللہ کے لئے ہوتا ہے اور اسلام قبول کرنے سے ایک انسان ایک ایسی صف میں جا کر کھڑا ہوجاتا ہے جو مقتدر اعلیٰ ہوتی ہے بلکہ اسلام میں آ کر غاب اور مغلوب اور محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ دونوں بھائی ہوتے ہیں کوئی غالب و مغلوب نہیں ہوتا۔ سب مساوی طور پر رب العالمین کے آگے جھکتے ہیں۔
اہل قریش اسلام کے مقابلے میں سرکشی اختیار کرتے تھے حالانکہ رسول اللہ انہیں اسلام اور رب العالمین کی اطاعت کی طرف بلاتے تھے۔ محمد ابن عبداللہ کی اطاعت کی ضرورت نہیں کہ وہ ایک سربراہ مملکت بن جائیں۔ قریش کو ملکہ سبایہ تعلیم دیتی ہے کہ کس نبی کی دعوت قبول کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انسان اس نبی کی معیت میں اللہ رب العالمین کا مطیع ہوجاتا ہے ۔ داعی اور مدعو برابر ہوجاتے ہیں۔ اگر وہ اسلام قبول کریں تو رسول اللہ کے ساتھ وہ رب العالمین کے مطیع ہوں گے۔