فلما جآءت قیل اھکذا عرشک قالت کانہ ھو
یہ اس لئے ایک انوکھی اور غیر متوقع بات تھی۔ اس کی مملکت کہاں اور تخت کہاں اور وہ دیکھ رہی ہے۔ آخر محفوظ مقامات کے اندر زیر حراست تخت یہاں کس طرح آگیا ۔ جنوب یمن اور بیت المقدس کا فاصلہ یہ کیسے آگیا اور کون اسے لایا ہے۔
لیکن تھوڑی سی تبدیلی کے باوجود تخت تو اسی کا ہے لیکن وہ غیر متوقع ہونے ، حالاتی شہادت خلاف ہونے کی وجہ سے اور زیادہ تر علامات اصلی باقی رہنے کی وجہ سے وہ یوں کہتی ہے کہ ” گویا یہ وہی ہے۔ “ اس نے نہایت فراست اور عقلمندی سے یہ جواب دیا۔ جس میں نہ اس تخت کا اقرار ہے اور نہ انکار ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان غیر متوقع حالات میں بھی دھوکہ نہیں کھاتی اور اعلیٰ درجے کی سفارتی زبان استعمال کرتی ہے۔
اب یہاں سیاق کلام میں ایک خلا ہے۔ گویا اسے حضرت سلیمان نے اطلاع کردی کہ یہ قوت ہے جس کے ذریعے ہم تمہارا تخت تم سے بھی پہلے لے آئے۔ تو اس کا جواب وہ دیتی ہے کہ ہم نے خود اپنے ہاں حالات کا جائزہ لے لیا تھا اور یہ عزم کرلیا تھا کہ ہم سلیمان کی اطاعت قبول کریں گے جب ہمارے ہدایا رد کردیئے گئے تھے۔
واو تینا العلم من قبلھا وکنا مسلمین (24)
اب قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ ملک سبا اپنی اس دانشمندی کے باوجود پھر حضرت سلیمان کے پہلے خط پر ایمان کیوں نہیں لائی۔ یہ اس لئے کہ یہ ایک کافر سوسائٹی میں پیدا ہوئی تھی۔ لہٰذا وہ بھی عام رواج کے مطابق اللہ کی بندگی کے بجائے سورج کی بندگی کرتی رہی۔ جیسا کہ ہد ہد کی رپورٹ سے ظاہر ہے۔
آیت 42 فَلَمَّا جَآءَ تْ قِیْلَ اَہٰکَذَا عَرْشُکِط قَالَتْ کَاَنَّہٗ ہُوَ ج ”چنانچہ اس نے اپنے تخت کو پہچان لیا۔ یعنی وہ واقعی ایک ذہین اور سمجھ دار عورت تھی۔ اس سے پہلے آیت 43 میں فاتح بادشاہوں کے بارے میں اس کا تبصرہ بھی اس کی ذہانت اور دانش مندی کا ثبوت ہے۔وَاُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہَا وَکُنَّا مُسْلِمِیْنَ ”یعنی میرے تخت کا یہاں پہنچ جانا اب میرے لیے کوئی بہت بڑی حیرت کی بات نہیں۔ آپ علیہ السلام کا اللہ کے ہاں جو مقام و مرتبہ ہے اس کے بارے میں مجھے بہت پہلے ہی علم ہوچکا ہے اور اسی وجہ سے ہم مسلمان ہو کر آپ علیہ السلام کی اطاعت قبول کرچکے ہیں۔