سورہ نمل: آیت 45 - ولقد أرسلنا إلى ثمود أخاهم... - اردو

آیت 45 کی تفسیر, سورہ نمل

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَآ إِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَٰلِحًا أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ فَإِذَا هُمْ فَرِيقَانِ يَخْتَصِمُونَ

اردو ترجمہ

اور ثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالح کو (یہ پیغام دے کر) بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو، تو یکایک وہ دو متخاصم فریق بن گئے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaqad arsalna ila thamooda akhahum salihan ani oAAbudoo Allaha faitha hum fareeqani yakhtasimoona

آیت 45 کی تفسیر

درس نمبر 371 تشریح آیات

54……تا……35

قرآن کریم میں حضرت صالح اور قوم ثمود کا قصہ بالعموم حضرت نوح ، حضرت ہود ، حضرت لوط اور حضرت شعیب (علیہم السلام) کے قصص کے ساتھ آتا ہے۔ ان قصص کے ساتھ حضرت ابراہیم کا قصہ کبھی آتا ہے اور کبھی نہیں آتا۔ اس سورة میں بھی بنی اسرائیل کے قصص آئے ہیں۔ حضرت موسیٰ اور حضرت دائود اور حضرت سلیمان کے قصے گزر گئے ہیں۔

ہیاں بھی حضرت ہود اور حضرت شعیب کا قصہ مختصراً آیا ہے جبکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ نہیں آیا۔

حضرت صالح کے قصے میں ناقہ والی کڑی نہیں ہے بلکہ اس کے بجائے 9 مفسدین کا ذکر ہے جو حضرت صالح کے خلاف سازشیں کرتے تھے۔ حضرت صالح کو ان کی مکاریوں کا علم نہ تھا۔ ان کی ان سازشوں کے جواب میں اللہ نے ان کے خلاف ایسی تدبیر اختیار کی جس کا وہ سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ وہ یہ کہ ان سب مفسدوں کو تباہ کر کے رکھ دیا اور حضرت صالح اور اہل ایمان کو نجات دے دی۔ مشرکین مکہ کو کہا جاتا ہے کہ تم اپنی آنکھوں سے ان کے مکانات کو دیکھتے ہو مگر عبرت نہیں پکڑتے۔

ولقد ……یختصمون (54)

حضرت صالح کی رسالت کا خلاصہ صرف یہ ہے کہ ” صرف اللہ کی بندگی کرو۔ “ ہر دور میں انسانوں کو جو سماوی ہدایت دی گئی ہے اس کا خلاصہ یہی رہا ہے کہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی رو ، ہر رسول اور ہر قوم کو یہی تعلیم دی گئی جبکہ اس کائنات میں انسانوں کے اردگرد پائی جانے والی کائنات میں اور خود انسانوں کے نفوس کے اندر بھی وجدانی دلائل موجود ہیں جو یہی حقیقت بتاتے ہیں کہ اس کائنات کا معبود ایک ہی ہے۔ لیکن انسان ہے کہ وہ اس سادہ حقیقت کا انکار کرتا ہے۔ نہ صرف انکار بلکہ وہ اس دعوت کے ساتھ مذاق بھی کرتا ہے۔ اور حقارت آمیز انداز میں اسے ٹھکراتا ہے اور آج تک انسان بھٹک رہا ہے ۔ مختلف راستوں پہ چلتا ہے ، ٹھوکریں کھاتا ہے لیکن صراط مستقیم کی طرف نہیں آتا۔

یہاں قرآن کریم نے حضرت صالح کی دعوت کا صرف یہ اثر بتایا ہے کہ قوم دو ٹکڑے ہوگئی اور ان کے درمیان مخاصمت شروع ہوگئی۔ ایک فریق نے دعوت قبول کرلی اور دوسرا مخالف ہوگیا۔ فریق ، تعداد میں بہت زیادہ تھا جیسا کہ قرآن کریم کی دوسری سورتوں سے ظاہر ہے۔

یہاں قصے کے اختصار کی وجہ سے خلا ہے۔ اس میں قوم نے حضرت صالح سے مطالبہ کیا ہے کہ تم ہمیں جس عذاب سے ڈراتے ہو ، اسے لے آئو۔ منکرین کا ہمیشہ یہ طریقہ ہوتا ہے کہ وہ ہدایت و رحمت طلب کرنے کی بجائے اللہ کا عذاب طلب کرتے ہیں جس طرح مشرکین قریش نبی ﷺ سے مطالبہ کرتے تھے۔ حضرت صالح نے انہیں تنبیہ کی کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم رحمت و ہدایت طلب کرنے کی بجائے خدا کا عذاب طلب کرتے ہو۔ وہ ان کو مشورہ دیتے ہیں اللہ سے مغفرت طلب کرو وہ تم پر رحم کر دے گا۔

صالح ؑ کی ضدی قوم حضرت صالح ؑ جب اپنی قوم ثمود کے پاس آئے اور اللہ کی رسالت ادا کرتے ہوئے انہیں دعوت توحید دی تو ان میں دو فریق بن گئے ایک جماعت مومنوں کی دوسرا گروہ کافروں کا۔ یہ آپس میں گتھ گئے جیسے اور جگہ ہے کہ متکبروں نے عاجزوں سے کہا کہ کیا تم صالح کو رسول اللہ مانتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم کھلم کھلا ایمان لاچکے ہیں انہوں نے کہا بس تو ہم ایسے ہی کھلم کھلا کافر ہیں۔ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تمہیں کیا ہوگیا بجائے رحمت کے عذاب مانگ رہے ہو ؟ تم استغفار کرو تاکہ نزول رحمت ہو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا تو یقین ہے کہ ہماری تمام مصیبتوں کا باعث تو ہے اور تیرے ماننے والے۔ یہی فرعونیوں نے کلیم اللہ سے کہا تھا کہ جو بھلائیاں ہمیں ملتی ہیں ان کے لائق تو ہم ہیں لیکن جو برائیاں پہنچتی ہیں وہ سب تیری اور تیرے ساتھیوں کی وجہ سے ہیں اور آیت میں ہے (وَاِنْ تُصِبْھُمْ حَسَـنَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۚ وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَيِّئَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ ۭقُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۭ فَمَالِ هٰٓؤُلَاۗءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا 78؀) 4۔ النسآء :78) یعنی اگر انہیں کوئی بھلائی مل جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچ جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ تیری جانب سے ہے تو کہہ دے کہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے یعنی اللہ کی قضا و قدر سے ہے۔ سورة یسین میں بھی کفار کا اپنے نبیوں کو یہی کہنا موجود ہے آیت (قَالُوْٓا اِنَّا تَــطَيَّرْنَا بِكُمْ ۚ لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّـنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِــيْمٌ 18؀) 36۔ يس :18) ہم تو آپ سے بدشگونی لیتے ہیں اگر تم لوگ باز نہ رہے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور سخت دیں گے۔ نبیوں نے جواب دیا کہ تمہاری بدشگونی تو ہر وقت تمہارے وجود میں موجود ہے۔ یہاں ہے کہ حضرت صالح نے جواب دیا کہ تمہاری بدشگونی تو اللہ کے پاس ہے یعنی وہی تمہیں اس کا بدلہ دے گا۔ بلکہ تم تو فتنے میں ڈالے ہوئے لوگ ہو تمہیں آزمایا جارہا ہے اطاعت سے بھی اور معصیت سے بھی اور باوجود تمہاری معصیت کے تمہیں ڈھیل دی جارہی ہے یہ اللہ کی طرف سے مہلت ہے اس کے بعد پکڑے جاؤ گے۔

آیت 45 - سورہ نمل: (ولقد أرسلنا إلى ثمود أخاهم صالحا أن اعبدوا الله فإذا هم فريقان يختصمون...) - اردو