اس صفحہ میں سورہ An-Naml کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النمل کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَآ إِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَٰلِحًا أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ فَإِذَا هُمْ فَرِيقَانِ يَخْتَصِمُونَ
قَالَ يَٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُونَ بِٱلسَّيِّئَةِ قَبْلَ ٱلْحَسَنَةِ ۖ لَوْلَا تَسْتَغْفِرُونَ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
قَالُوا۟ ٱطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَ ۚ قَالَ طَٰٓئِرُكُمْ عِندَ ٱللَّهِ ۖ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُونَ
وَكَانَ فِى ٱلْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ
قَالُوا۟ تَقَاسَمُوا۟ بِٱللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُۥ وَأَهْلَهُۥ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِۦ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِۦ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ
وَمَكَرُوا۟ مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَٰهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ
فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةًۢ بِمَا ظَلَمُوٓا۟ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةً لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
وَأَنجَيْنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ يَتَّقُونَ
وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ أَتَأْتُونَ ٱلْفَٰحِشَةَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ
أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهْوَةً مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِ ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ
درس نمبر 371 تشریح آیات
54……تا……35
قرآن کریم میں حضرت صالح اور قوم ثمود کا قصہ بالعموم حضرت نوح ، حضرت ہود ، حضرت لوط اور حضرت شعیب (علیہم السلام) کے قصص کے ساتھ آتا ہے۔ ان قصص کے ساتھ حضرت ابراہیم کا قصہ کبھی آتا ہے اور کبھی نہیں آتا۔ اس سورة میں بھی بنی اسرائیل کے قصص آئے ہیں۔ حضرت موسیٰ اور حضرت دائود اور حضرت سلیمان کے قصے گزر گئے ہیں۔
ہیاں بھی حضرت ہود اور حضرت شعیب کا قصہ مختصراً آیا ہے جبکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ نہیں آیا۔
حضرت صالح کے قصے میں ناقہ والی کڑی نہیں ہے بلکہ اس کے بجائے 9 مفسدین کا ذکر ہے جو حضرت صالح کے خلاف سازشیں کرتے تھے۔ حضرت صالح کو ان کی مکاریوں کا علم نہ تھا۔ ان کی ان سازشوں کے جواب میں اللہ نے ان کے خلاف ایسی تدبیر اختیار کی جس کا وہ سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ وہ یہ کہ ان سب مفسدوں کو تباہ کر کے رکھ دیا اور حضرت صالح اور اہل ایمان کو نجات دے دی۔ مشرکین مکہ کو کہا جاتا ہے کہ تم اپنی آنکھوں سے ان کے مکانات کو دیکھتے ہو مگر عبرت نہیں پکڑتے۔
ولقد ……یختصمون (54)
حضرت صالح کی رسالت کا خلاصہ صرف یہ ہے کہ ” صرف اللہ کی بندگی کرو۔ “ ہر دور میں انسانوں کو جو سماوی ہدایت دی گئی ہے اس کا خلاصہ یہی رہا ہے کہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی رو ، ہر رسول اور ہر قوم کو یہی تعلیم دی گئی جبکہ اس کائنات میں انسانوں کے اردگرد پائی جانے والی کائنات میں اور خود انسانوں کے نفوس کے اندر بھی وجدانی دلائل موجود ہیں جو یہی حقیقت بتاتے ہیں کہ اس کائنات کا معبود ایک ہی ہے۔ لیکن انسان ہے کہ وہ اس سادہ حقیقت کا انکار کرتا ہے۔ نہ صرف انکار بلکہ وہ اس دعوت کے ساتھ مذاق بھی کرتا ہے۔ اور حقارت آمیز انداز میں اسے ٹھکراتا ہے اور آج تک انسان بھٹک رہا ہے ۔ مختلف راستوں پہ چلتا ہے ، ٹھوکریں کھاتا ہے لیکن صراط مستقیم کی طرف نہیں آتا۔
یہاں قرآن کریم نے حضرت صالح کی دعوت کا صرف یہ اثر بتایا ہے کہ قوم دو ٹکڑے ہوگئی اور ان کے درمیان مخاصمت شروع ہوگئی۔ ایک فریق نے دعوت قبول کرلی اور دوسرا مخالف ہوگیا۔ فریق ، تعداد میں بہت زیادہ تھا جیسا کہ قرآن کریم کی دوسری سورتوں سے ظاہر ہے۔
یہاں قصے کے اختصار کی وجہ سے خلا ہے۔ اس میں قوم نے حضرت صالح سے مطالبہ کیا ہے کہ تم ہمیں جس عذاب سے ڈراتے ہو ، اسے لے آئو۔ منکرین کا ہمیشہ یہ طریقہ ہوتا ہے کہ وہ ہدایت و رحمت طلب کرنے کی بجائے اللہ کا عذاب طلب کرتے ہیں جس طرح مشرکین قریش نبی ﷺ سے مطالبہ کرتے تھے۔ حضرت صالح نے انہیں تنبیہ کی کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم رحمت و ہدایت طلب کرنے کی بجائے خدا کا عذاب طلب کرتے ہو۔ وہ ان کو مشورہ دیتے ہیں اللہ سے مغفرت طلب کرو وہ تم پر رحم کر دے گا۔
قال یقوم لم ……ترحمون (64)
لوگوں کے دماغ اس قدر بگڑ گئیت ہے کہ سچائی کو جھٹلانے والے کہنے لگے تھے۔ اے اللہ ، اگر یہ شخص تیری طرف سے رسول ہے اور سچائی پر ہے تو ، تو ہم پر پتھروں کی بارش کر دے اور درد ناک عذاب نازل کر دے۔ “ حالانکہ ان کو کہنا یوں چاہئے تھا ” اے اللہ ، اگر یہ شخص تیری طرف سے آیا ہوا ہے اور سچا ہے تو ، تو ہمیں توفیق دے کہ ہم ایمان لے آئیں اور اس کی تصدیق کردیں۔ “
یہی حال قوم صالح کا ہوگیا تھا۔ ان کا رسول ان کو رحمت ، توبہ اور استغفار کی راہ کی طرف بلاتا ہے اور بجائے اس کے کہ وہ اس دعوت کو قبول کریں ، یہ لوگ اس بات کا اظہار کرتے ہیں ہم تو صالح اور ان لوگوں سے تنگ آگئے ہیں جو اس کے ساتھ ہوگئے تھے کیونکہ یہ لوگ ہمارے لئے مصیبت بن گئے ہیں اور ہمیں خطرہ ہے کہ یہ لوگ ہم پر کوئی بڑی مصیبت لے آئیں گے۔
قالوا اطیرنا بک وبمن معک ط
تطسیر کے معنی بدشگونی کے ہیں۔ یہ لفظ اقوام جاہلہ کی وہم پرستیوں اور خرافات سے نکلا ہے۔ وہ اوبام جن سے کوئی شخص صرف سیدھے اور صاف ایمان کے ذریعے نکل سکتا ہے۔ ایام جاہلیت میں اگر کوئی کسی کام کے لئے نکلنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ نیک شگون یا بدشگون معلوم کرنے کے لئے کسی پرندے سے فال گیری کرتا ہے۔ وہ کسی جگہ بیٹھے ہوئے پرندے کو اڑاتا۔ اگر یہ پرندہ اس کے دائیں جانب سے بائیں جانب جاتا تو یہ خوش ہوتا اور وہ کام کر گزرتا۔ اور اگر یہ پرندہ بائیں جانب سے دائیں جانب کی طرف جاتا تو یہ شخص بدشگوفی کرتے ہوئے یہ سمجھتا کہ یہ معاملہ خطرناک ہے۔ سوال یہ ہے کہ کسی پرندے کو لیا معلوم ہے کہ وہ کدھر جائے اور کدھر نہ جائے۔ نیز کسی پرندے کی اتفاق حرکت سے غیبی باتیں کس طرح معلوم ہو سکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نفس انسانی اپنے معاملات ہمیشہ کسی غیبی قوت کے حوالے کرتا ہے۔ اگر کوئی اپنا غیب اور مستقبل اللہ علام الغیوب کے حوالے نہیں کرتا اور اللہ پر بھروسہ نہیں کرتا تو پھر وہ ایسے ہی اوہام و خرافات کا شکار ہوتا ہے۔ پھر وہ اوبام و خرافات کسی حد پر جا کر رکتے نہیں۔ نہ عقل کی حدود میں رہتے ہیں۔ نہ ان سے کوئی یقین و اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
آج صورت حال ایسی ہے جو لوگ ایمان نہیں لاتے اور عالم غیب کے پوشیدہ امور کو اللہ کے سپرد کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور جن کا زعم یہ ہے کہ انہوں نے اس قدر علمی ترقی حاصل کرلی ہے کہ دین و مذاہب کے خرافات پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے۔ یہ لوگ نہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں ، نہ دین اسلام پر ایمان لاتے ہیں اور نہ غیب پر ایمان لاتے ہیں ، لیکن ایسے تعلیم یافتہ لوگوں کی وہم پرستی کا حال یہ ہے کہ یہ لوگ بھی عدد 31 کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ اور جب یہ لوگ جا رہے ہوں اور کوء سیاہ بلی ان کے راستے سے گزر جائے تو اس کو بھی نہایت ہی اہم واقعہ سمجھتے ہیں۔ مثلاًدیا سلائی کی ایک پتلی سے دو سے زیادہ سگریٹ جلانا اور اس قسم کے دور سے خرافات پر یہ لوگ بڑا یقین رکھتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ اس قسم کے لوگ دراصل فطرت سے عناد کرتے ہیں حالانکہ فطرت سلیمہ کے اندر ایمان باللہ کو پیاس ہوتی ہے۔ وہ اللہ سے کبھی بھی مستغنی نہیں ہوتی۔
اس دنیا کے حقائق میں اسے عالم غیب کا سہارا لینا پڑتا ہے ، جن تک انسانی علم و معرفت کی رسائی نہیں ہوتی اور بعض حقائق تو ایسے ہیں کہ ان تک انسانی علم کبھی بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ کیونکہ یہ حقائق انسان کی قوت مدرکہ کی حدود طاقت ہی سے ماوراء ہیں اور جو انسان کے مخصوص مقصد پیدائش او خلافت فی الارض کے منصب کے ساتھ متعلق ہی نہیں ہیں۔ اس لئے انسان کو ان کے علم کی طاقت ہی نہیں دی گئی۔ انسانی قوتیں اس کے منصب تک محدود ہیں۔
جب قوم صالح نے اپنی وہی بدویانہ اور گمراہانہ بات کہی ، جو اوہام و خرافات کے اندر ڈوبی ہوئی تھی تو حضرت صالح نے ان کو یقین کی روشنی کی طرف موڑ دیا اور ایک واضح حقیقت کی دعوت دی جس کے اندر کوئی پیچیدگی اور کوئی تاریک گوشہ نہ تھا۔
قال طئرکم عند اللہ
صالح نے جواب دیا تمہارا نیک و بد اور تمہارا انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ نے اس کائنات کے لئے ایک سنت جاری کی ہے اور پھر لوگوں کو کچھ احکام دیئے ہیں اور لوگوں کے لئے ایک نہایت ہی سیدھی راہ تجویز کی ہے۔ پس جس نے سنن الہیہ کا اتباع کیا ، اللہ کی ہدایات پر چلا تو اس کا انجام اچھا ہوگا اور اسے پرندے اڑانے کی کوئی ضرورت نہ ہوگی ، اور جو شخص سنن الہیہ سے سرتابی کرے گا اور صحیح راستے سے ادھر ادھر ہوجائے گا وہ ایک عظیم شر سے دوچار ہوگا۔ اسے پھر پرندوں سے نیک شگون اور بدشگون لینے کی ضرورت نہ ہوگی۔
بل انتم قوم تقنتون (74)
” اصل بات یہ ہے کہ تم لوگوں کی آزمائش ہو رہی ہے۔ “ اللہ نے تم پر جو انعامات کئے ہوئے ہیں۔ یہ تمہارے لئے ایک فتنہ ہے اور جو خیر و شر تمہیں پیش آ رہا ہے۔ وہ تمہارے لئے آزمائش ہے۔ لہٰذا بیداری ، اللہ کے قوانین فطرت کے مطابق تدبیر اور واقعات و حادثات کو سمجھنا اور ان کے اندر جو آزمائش اور ابتلا ہوتی ہے ، اس کا ادراک کرنا اور شعور رکھنا ہی اچھے انجام کا ضامن ہے۔ یہ جو تم پرندوں کو اڑا کر شگون یا بدشگون معلوم کرتے ہو ، اس کا واقعات کے انجام پر کوئی اثر نہیں ہوتا ، یہ محض تمہارے اوہام ہیں۔
ایک صحیح نظریہ اور عقیدہ لوگوں کو ذہنی روشنی اور استقامت عطا کرتا ہے اور انسان معاملات کی صحیح قدر معلوم کرلیتا ہے۔ انسان کا دل بیدار ہوتا ہے اور وہ اپنے ماحول پر اچھی نظر رکھتا ہے اور غور و فکر کرتا ہے۔ انسان کو یہ شعور ہوتا ہے کہ اس کے اردگرد جو کچھ ہو رہا ہے دست قدرت اس میں موثر ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ دنیا میں یہ واقعات یونہی اتفاقاً واقع نہیں ہوتے ، نہ یہ زندگی ایک عبث عمل ہے بلکہ انسان کی زندگی بامقصد ہوتی ہے ، وہ ایک قیمت رکھتی ہے۔ لوگوں کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ اور یوں یہ چھوٹا سا انسان اس کرہ ارض پر ایک بامقصد سفر کرتا ہے۔ وہ اللہ سے بھی مربوط ہوتا ہے اور اللہ کی اس کائنات کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہوتا ہے اور ان قوانین کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہوتا ہے۔ جو خالق نے اس کائنات کے لئے وضع کئے ہیں اور جن کے مطابق یہ کائنات بحفاظت چل رہی ہے۔
لیکن یہ سادہ سادہ استدلال ان لوگوں پر کیا اثر کرتا جن کے قلوب بگڑ چکے ہوں۔ ان کے دل اس قدر فساد میں مبتلا ہوئے ہوں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو۔ اصلاح کا کوئی امکان نہ رہا ہو۔ قوم صالح بگاڑ کے اس مرحلے پر پہنچ گئی تھی جہاں سے واپسی ممکن نہ تھی۔ ان میں 9 افراد ایسے تھے جو پوری بگاڑ کے ذمہ دار تھے۔ یہ لوگ فساد کی آخری سرحدوں کو چھو رہے تھے چناچہ انہوں نے اس تحریک کو ختم کرنے کے لئے ایسی سازش تیار کی جس پر رات کے اندھیروں میں عمل کیا جانا تھا۔
وکان فی المدینۃ ……لصدقون (94)
یہ نو افراد ایسے تھے جن کی اصلاح ناممکن ہوگئی تھی ، یہ ہر وقت فساد اور سرکشی پر آمادہ رہتے تھے۔ یہ لوگ حضرت صالح کی دعوت سے اس قدر تنگ آگئے کہ انہوں نے ایک دور سے کے ساتھ رات کو ایک خفیہ معاہدہ کیا اور اس عہد پر اللہ کے نام سے قسم بھی اٹھائی کہ اس پر عمل کریں گے ، حضرت صالح کو قتل کردیں گے۔ حالانکہ حضرت صالح تو ان کو صرف اللہ ہی کی طرف بلاتے تھے۔
یہاں عجیب بات یہ ہے کہ انہوں نے اس سازش پر بھی اللہ ہی کو گواہ ٹھہرایا۔
تقاسموا ……اھلہ (82 : 93)
” خدا کی قسم کھا کر عہد کر لوگو ہم صالح اور اس کے گھر والوں پر شبخون ماریں گے اور پھر اس کے ولی سے کہہ دیں گے کہ ہم اس کے خاندان کی ہلاکت کے موقع پر موجود نہ تھے۔ “ نہ ہم نے قتل کیا ہے نہ موجود تھے۔
وانا لصدقون (82 : 93) ” اور ہم بالکل سچے ہیں۔ “ اس لئے کہ یہ قتل رات کے اندھیرے میں ہوگا کوئی دیکھنے والا نہ ہوگا۔
ان لوگوں کی یہ تدبیر بھی نہایت سطحی اور سادہ تدبیر تھی لیکن بہرحال یہ تدبیر کر کے وہ اپنے آپ کو مطئمن کر رہے تھے۔ اور ان لوگوں کے نزدیک خدا کے نام پر یہ جھوٹ بالکل جائز تھا اور پھر یہ اپنی اس اسکیم کے مطابق اپنے آپ کو بالکل سچا بھی ثابت کرتے ہیں۔ انسانی سوچ بھی عجیب پیچیدہ اور سطحی ہوتی ہے۔ خصوصاً جبکہ انسان کا دل نور ایمان سے خالی ہو ، کیونکہ سیدھا راستہ تو ایمان ہی بناتا ہے۔
یہ تھی ان کی تدبیر اور ان کی سوچ۔ لیکن اللہ بزرگ و برتر تو سب کچھ دیکھ رہا ہے اور یہ لوگ اللہ کو نہیں دیکھ رہے ۔ اللہ کے علم میں ان کی پوری سازش ہے ، لیکن اپنے خیال میں یہ سازش بھی اندھیرے میں کر رہے ہیں اور عمل بھی اندھیرے میں ہوگا۔ لیکن ہیں خود اندھیرے میں۔
ومکروا ……لایشعرون (05)
دیکھیے ان کی تدبیر کیا ہے۔ ان کی سازش بمقابلہ امرا نہی۔ اللہ کی قوت کے مقابلے میں یہ شرپسند کیا حیثیت رکھتے ہیں۔ اس دنیا میں جھوٹے جبار وقہار جو تھوڑی بہت قوت کے مالک بن جاتے ہیں وہ اپنی اس قوت میں اس قدر مست ہوجاتے ہیں کہ اوپر دیکھنے والی آنکھ سے غافل ہوجاتے ہیں۔ وہ اس قوت سے بالکل غافل ہوتے ہیں کہ جو اچانک ان کو پکڑ لے گی اور ان کی توقع ہی نہ ہوگی۔
فانظر ……ظلموا ط
ایک لمحے کے اندر ان کو برباد کر کے رکھ دیا گیا۔ اگلے لمحے میں ان کے محلات ان پر الٹ دیئے گئے۔ گھر خالی رہ گئے ۔ ایک لمحہ پہلے وہ تو اہل ایمان کے خلاف سازشیں کر رہے تھے اور ان کو پورا یقین تھا کہ وہ اپنی سازشوں پر عمل کرسکیں گے۔
سیاق کلام میں یہ شتابی کہ ادھر سازش ہوئی ادھر وہ صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے۔ اس اچانک اور فیصلہ کن گرفت سے ڈرانا مقصود ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں قوت آجاتی ہے۔ وہ مغرور نہ ہوں اور غرے میں نہ آجائیں۔ اللہ ایسے لوگوں کو اسی طرح اچانک گرفت میں لے سکتا ہے اور ان کو ان کی مکاریوں اور تدابیر کے ساتھ ہلاک کرسکتا ہے۔
ان فی ذلک لایۃ لقوم یعلمون (25)
” اور بچا لیا ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے اور نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے۔ “ کفار کی اچانک ہلاکت کے بعد اب بتا دیا جاتا ہے کہ اہل ایمان کو نجات دے دی گئی۔ اس لئے کہ وہ دنیا کی قوتوں کی بجائے صرف اللہ سے ڈرتے تھے۔ اور کسی مومن کے دل میں اللہ کے ڈر کے ساتھ دورسا کوئی ڈر جمع نہیں ہو سکتا۔
درس نمبر 471 ایک نظر میں
حضرت لوط (علیہ السلام) کے قصے کا یہ مختصر ترین حلقہ مختصر اور شوٹنگ کے انداز میں ہے۔ قوم لوط حضرت لوط کو ملک بدر کرنا چاہتی ہے اور جرم کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ اخلاقی تطہیر اور پاکیزگی کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کو اس اخلاقی گندگی سے نکالنا چاہتے تھے جس میں یہ لوگ علانیہ اور اجتماعی طور پر مبتلا تھے۔ ہم جنس پرستی یعنی مردوں کا مردوں کے ساتھ جنسی ملاپ اور عورتوں کے قریب نہ آنا ، یہ انتہائی گندگی ، غلاظت اور خلاف فطرت عمل تھا۔
انسانی تاریخ میں یہ جنسی بےراہ روی کبھی کبھی اجتماعی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ بعض اوقات بعض افراد تو اس میں مبتلا ہو سکتے ہیں اور ان کے لئے ایسے حالات بھی ہو سکتے ہیں مثلاً فوجی چھائونیوں میں لوگ خلاف فطرت جنسی عمل میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، جہاں انہیں فوجی کیمپوں میں عورتیں نہیں ملتیں۔ پھر قید خانوں اور جیلوں میں بھی یہ بیماری پھیل سکتی ہے۔ جہاں ایک طویل عرصے تک قیدیوں کو جنسی ملاپ سے محروم رکھا جاتا ہے اور ان پر جنسی ملاپ کا سخت دبائو ہوتا ہے اور عورتوں سے وہ دور ہوتے ہیں۔ رہی یہ صورتحال کہ کس بستی میں یہ جنسی بےراہ روی اور ایک عام مسلمہ قاعدہ بن جائے ، عورتیں موجود ہوں ، نکاح ہو سکتے ہوں تو حقیقت یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں فی الواقعہ ، یہ ایک عجیب واقعہ ہے۔ (1)
اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی فطرت ایسی بنائی ہے اس میں نر اور مادہ ہیں اور فطرتاً نر اور مدہ کے درمیان ملاپ کا داعیہ رکھا ہے۔ تمام زندہ مخلوقات کی یہ فطرت ہے۔
سبحن الذی ……یعلمون (63 : 63) ” پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کئے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود ان کی اپنی جنس میں سے یا ان اشیاء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں۔ “ تو اللہ نے تمام زندہ اشیاء کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا۔ خواہ زمین کی نباتات ہوں یا انسان ہوں یا دوسرے حیوان ہوں ، خواہ ان کو انسان جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔ اللہ کی مخلوقات میں سے بیشمار ایسی مخلوق اب بھی ہے جسے ہم نہیں جانتے ۔ لہٰذا نرو مادہ یا مخلاف جوڑا اس پوری کائنات کی تخلیق میں اصل الاصول ہے۔ زندہ چیزوں کے علاوہ دوسری نامعلوم مخلوقات میں بھی۔ ایٹم ، کائنات کا صغیر ترین ٹکڑا ابھی الیکٹرون سے پیدا شدہ ہے ، جس میں مثبت اور منفی چارج ہوتے ہیں ، گویا کائنات کے ہر ایٹم کے اندر جوڑا موجود ہے۔
……
(1) مصنف جس وقت لکھ رہے تھے اس وقت یورپ کے ملکوں نے اس فعل کو قانوناً جائز نہ کیا تھا (مترجم) ۔
جہاں تک زندہ مخلوقات کا تعلق ہے ان کے اندر نر و مادہ کا ہونا تو ایک لازمی امر ہے اور معلوم ہے یہاں تک کہ جن زندہ چیزوں میں نر اور مدہ نہیں ہوتے خود ان کے اندر نر اور مادہ کے خلیے ہوتے ہیں اور ان خلیوں کے اجتماع کی وجہ سے ان کے اندر پیداواری عمل جاری رہتا ہے۔
چونکہ نر اور مادہ کا ہونا اور تمام زندہ مخلوقات کا جوڑا جوڑا ہونا ناموس فطرت ہے۔ اس لئے اللہ نے فطرتاً نر اور مادہ کے درمیان ایک کشش رکھی ہے۔ ایسی کشش جسے کسی خارجی تعلیم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نہ کسی غور و فکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے کہ اللہ نے زندگی کو اس کی صحیح طور چلانا تھا اور اس راستے پر چلنے کا داعیہ بھی فطرتاً رکھا گیا اور اس کے لئے تعلیم و ترغیب کی ضرورت ہی نہ رکھی گئی۔ لوگوں کے لئے دواعی فطرت کے تقاضوں کو پورا کرنے کا باعث لذت بنایا۔ اس طرح دست قدرت بغیر تعلیم اور ترغیب کے لوگوں سے یہ فطری کام لیتی ہے۔ اللہ نے نر اور مادہ کے مقامات نہانی کے اندر اس فطری ملاپ کا میلان رکھ دیا ہے اور یہ میلان اور لذت اللہ نے دو مردوں کے اعضاء کے اندر نہیں رکھا۔
یہی وجہ ہے کہ فطرت کا یہ اجتماعی بگاڑ ، جو قوم لوط کے اندر ہوا ، عجیب لگتا ہے کیونکہ یہ تقاضا ئے فطرت کے خلاف ہے۔ چناچہ حضرت لوط ان لوگوں کے اس فطری بگاڑ کی اصلاح کرنے لگے۔
درس نمبر 471 تشریح آیات
45……تا ……95
ولوطا……قوم تجھلون (55)
پہلے فقرے میں اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ تم جس بگاڑ میں مبتلا ہو یہ نہایت ہی عجیب و غریب ہے ، تم دیکھتے نہیں ہو کہ تمام زندہ مخلوقات کی فطرت کیا ہے۔ تم تو اچھی طرح دیکھتے ہو کہ حیات انسانی و حیوانی کے اندر قانون فطرت کیا ہے۔ تمام زندہ مخلوق میں سے صرف تم ایسے ہو کہ خلاف فطرت روش میں مبتلا ہو اور دوسرے فقرے میں اس بات کی وضاحت کردی کہ تمہار ایہ فعل انسانیت کے خلاف ہے کہ تم اپنی جنس ضرورت عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے پوری کرتے ہو۔ محض یہ بیان کہ وہ ایسا کرتے تھے ، اس بات کے لئے کافی ہے کہ یہ فعل غیر فطری اور عجیب ہے اور پوری حیوانی نباتاتی بلکہ کائنتای فطرت کے خلاف ہے۔
اس کے بعد ان پر تنقید کی کہ تم بہت ہی جاہل ہو۔ اس مفہوم میں بھی جاہل ہو کہ تمہیں فطرت کائنات اور ناموس کائنات کا علم نہیں ہے اور اس لحاظ سے بھی جاہل اور احمق ہو کہ تم ایسے برے افعال کا ارتکاب کرتے ہو کیونکہ جو شخص فطرت کے تقاضوں سے نابلد ہو ، وہ جاہل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بیوقوف اور احمق بھی ہوتا ہے۔
اب آپ کی قوم کا جواب کیا تھا ؟ ان سے یہ کہا جا رہا تھا کہ اس جہالت اور حماقت کو چھوڑ کر اصل راہ فطرت کی طرف آ جائو جس کے مطابق تم پیدا ہوئے ہو تو ان کا جواب یہی تھا جو ہر جاہل کا ہوتا ہے یعنی یہ کہ تم بہت پاک لوگ ہونکلو ہمارے گائوں سے۔ “