امن خلق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قوم یعدلون۔ آیت نمبر 60
” زمین و آسمان ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو ہمارے اردگرد قائم ہے۔ کوئی شخص اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ اور نہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ جن الہوں کو وہ پکارتا ہے ان میں سے کسی نے ان کو پیدا کیا ہے ، کیونکہ یہ لوگ تو اصنام و اوثان اور مائک و شیاطین اور شجر و حجر کے پوجنے والے تھے یا پھر شمس و قمر کے پجاری تھے۔ لہٰذا یہ بات بدیہی ہے کہ ان چیزوں نے اس کائنات کو پیدا نہیں کیا ، بلکہ مشرکین میں ایسے بیوقوف بھی نہ تھے جو یہ دعویٰ کرتے ہوں کہ یہ کائنات خود اپنے وجود کی وجہ سے قائم ہے۔ بذات خود خالق و مخلوق ہے۔ اس قسم کے کم عقل صرف ہمارے ترقی یافتہ دور ہی میں پیدا ہوئے۔ لہٰذا صرف یہ بات ان کے لیے کافی تھی کہ ان کو اس کائنات کی طرف متوجہ کردیا جائے اور یہ کہا جائے کہ ذرا اس کے بارے میں غوروفکر کرو۔ محض یہ توجہ ہی کافی دلیل ہے ، ردشرک کے لئے اور مشرکین کو لاجواب کرنے کے لیے ۔ اور یہ سوال انسان ، ایک سوچنے والے انسان کے سامنے ہمیشہ قائم رہتا ہے کیونکہ اس کائنات کی تخلیق ایسی ہے کہ اسے کسی ذات نے ایک منصوبے اور ارادے سے پیدا کیا ہے۔ اس کے اندر کسی مدبر کی تدبیر صاف نظر آتی ہے۔ اس کے اصولوں کے اندر اس قدر ہم آہنگی ہے کہ یہ محض اتفافی مخلوق معلوم نہیں ہوتی صرف معمولی غور کرنے ہی سے انسان اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کی خالق کوئی عظیم قدرت ہے۔ یہ واحد قوت ہے اور اس کی تخلیق کے آثار بتاتے ہیں کہ وہ وحدہ لاشریک ہے اور اس نے اس کائنات کو ایک زبردست منصوبے کے ساتھ بنایا ہے۔ اس کائنات کے اصولوں اور اس کے قوانین میں وحدت اور تناسق پایا جاتا ہے۔ لہٰذا اس کا خالق بھی ایک ہے اور وہ ایسا خالق ہے کہ اس کا ارادہ اس کائنات کی ہر چھوٹی اور بڑی چیز میں جاری وساری نظر آتا ہے۔
ذرا سوالات پر دوبارہ غور کریں۔ ” بھلا وہ کون ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ؟ “۔ ” وہ کون ہے جس نے تمہارے لیے پانی برسایا ؟ “۔ ” وہ کون ہے جس نے تمہارے لیے یہ رنگ برنگے دریچے بنائے ؟ “۔ ” کیا تم ایسے درخت اگا سکتے ہو ؟ “۔
پانی آسمانوں سے بارش کے ذریعہ اترتا ہے۔ کوئی شخص اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ اور کسی کے پاس اس کے حقیقی اسباب کے لیے اس کے سوا اور کوئی وجہ نہیں ہوسکتی کہ ایک خالق کائنات ہے جو اس کائنات کی تدبیر کر رہا ہے۔ وہی ہے جس نے اس کائنات اور اس کے اس فطری نظام کو جاری کیا ہے۔ اور اس کے جاری کردہ اس قانون قدرت کے مطابق ایک خاص مقدار میں بارش نازل ہوی ہے۔ پھر اس بارش کے ذریعہ اس کرہ ارض پر اس انداز اور مقدار کے مطابق زندگی پائی جاتی ہے لہٰذا یہ سب کچھ محض اتفاق کے طور پر نہیں ہوتا بلکہ یہ اتفاقات ایک خاص پیچیدہ ترتیب کے مطابق ہوتے ہیں۔ نہایت ہی طے شدہ اور مضبوط تسلسل کے ساتھ۔ جس میں زندہ مخلوق کی تمام ضروریات کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ خصوصا انسان کی تو تمام ضروریات کے مطابق اس کائنات کو بنایا گیا ہے۔ اس کی تخلیق میں انسانوں کی ضروریات کو مخصوص طور پر مدنظر رکھا گیا ہے۔ قرآن کہتا ہے :
وانزل لکم (27: 60) ” اور اس نے تمہارے لیے نازل کیا ہے “۔ قرآن کریم اس طرف بار بار اشارہ کرتا ہے کہ نازل ہونے والے اس پانی کے اندر زندہ کرنے والے اثرات ہیں۔ اس کے اندر انسان کے وجود ، اس کی ضروریات اور اس کے تقاضوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ قرآن انسانوں کو ان زندہ آثار کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ جو ان کے سامنے زندہ موجود ہیں لیکن یہ لوگ ان سے غافل ہیں۔
فانبتنا بہ حدآئق ذات بھجۃ (27: 60) ” پھر اسکے ذریعہ ہم نے وہ خوشنما باغ اگائے “۔ یعنی تروتازہ اور خوبصورت ، زندہ اور خوش منظر باغ اگائے۔ باغات کو دیکھ کر انسان کے دلوں میں زندگی ، خوشی اور نشاط کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ اس حسن و جمال اور تروتازگی پر غور کرنے سے مردہ دل بھی زندہ ہو سکتے ہیں۔ پانی سے پیدا ہونے والے اس حسن و جمال کے آثار پر غور کرکے ایک زندہ دل دماغ والا انسان صانع کائنات تک رسائی حاصل کرسکتا ہے اور اس کی تسبیح و تمجید کرسکتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ایک خوبصورت چیز کی ساخت پر غور کرنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ دنیا کے تمام ماہرین فن بھی جمع ہوجائیں تو وہ ایک خوبصورت پھول بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ اس کے اندر رنگوں کی لہریں اور امتزاج ، اس کے خطوط ، اس کی پتیوں کی ترتیب و تنظیم صرف ایک پھول کے اندر تخلیق و فن کا وہ کمال ہے جو معجز ہے۔ اسنان کے قدیم اور جدید ترقی یافتہ فن کے اندر اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ رہی پورے درخت کے اندر قوت نامیہ تو یہ ایک عظیم راز ہے۔ پھر درخت کے اندر سے اس کی نسل کا تسلسل یہ وہ راز ہیں جو انسان کے لیے تو معجزہ ہیں۔
ما کان لکم ان تنبتوا شجرھا (27: 60) ” جن کے درختوں کا اگانا تمہارے لیے ممکن نہ تھا “۔ اور زندگی تو ابھی تک علماء کے نزدیک ایک راز ہی ہے۔ خواہ بناتات کی ہو یا حیوانات کی۔ آج تک کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ زندگی کس طرح وجود میں آگئی یا زندہ انسان کے جسم ، حیوانات کے اجسام اور درختوں کے اجسام کے اندر پائے جانے والے میٹریل کے ساتھ کس طرح وابستہ ہوگئی۔ لہٰذا زندگی کی اس تخلیق کا مقصد کہیں اور تلاش کرنا ہوگا۔
نباتات کی زندگی ، اور اس کے آثار اور باغ و راغ کو پیش کرکے اور انسانی عقل کو دعوت غور وفکر دے کر اور انسان کے قوائے مدرکہ کو تحریک دے کر اب قارئین کے سامنے ایک سوال رکھا جاتا ہے۔
ء الہ مع اللہ (27: 60) ” کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ بھی ہے “۔ کون ہے جو اس سوال کے جواب میں ہاں کہہ سکتا ہے اقرار اور یقین اور نفی شرک کے سوا اور کوئی راستہ ہی نہیں ہے لیکن ایسے واضح حالات میں بھی لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ پھر بھی عجیب موقف اختیار کرتے ہیں اور وہ ایسے خالق کائنات کیساتھ اپنے نام نہاد معبودوں کو الٰہ سمجھتے ہیں ، ان کی بندگی کرتے ہیںٗ
بل ھم قوم یعدلون (27: 60) ” بلکہ یہ لوگ راہ راست سے ہٹ کر چلے جا رہے ہیں “۔ یعدلون کا معنی یا تو یہ ہے کہ وہ الٰہ سمجھتے ہیں اور یا اس کے معنی ہیں عدل عن الحق یعنی یہ لوگ سچے راستے سے ایک طرف ہو کر چلتے ہیں حالانکہ حق کا راستہ بالکل واضح ہے۔ یعنی اللہ کے ساتھ دیگر الٰہوں کو شریک کرکے وہ سچائی کے راستے سے ہٹ گئے جبکہ اللہ وحدہ خالق ہے۔ دونوں مفہوموں کے اعتبار سے ان کا موقف قابل تعجب ہے جو کسی عقل مند آدمی کے لائق نہیں ہے۔ اب ان کو ایک دوسری کائناتی حقیقت کی طرف منتقل کیا جاتا ہے۔ جس طرح پہلے تخلیق حیات اور اس کے مظاہر کی طرف متوجہ کیا گیا تھا۔
مَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُنْبِتُوْا شَجَرَہَا ط ”rّ متجسسانہ سوالات searching questions کا یہ انداز بہت مؤثر ہے۔ علامہ اقبالؔ ؔ نے اپنے ان اشعار میں یہی مضمون بالکل اسی انداز میں پیش کیا ہے : پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون کون دریاؤں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب ؟کون لایا کھینچ کر پچھم سے باد سازگار خاک یہ کس کی ہے ؟ کس کا ہے یہ نور آفتاب ؟کہ اللہ ہی ہواؤں کو چلاتا ہے ‘ بارش برساتا ہے ‘ موسموں کو سازگار بناتا ہے ‘ اناج اگاتا ہے ‘ غرض تمام امور اسی کے حکم اور اسی کی قدرت سے انجام پاتے ہیں۔ اللہ کی قدرت کاملہ کے بیان کا یہی انداز سورة الواقعہ میں بھی ملتا ہے۔ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ط ”کیا ان سارے کاموں میں اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ بھی شریک ہے ؟
بیان کیا جارہا ہے کہ کل کائنات کار چلانے والا، سب کا پیدا کرنے والا، سب کو روزیاں دینے والا، سب کی حفاظتیں کرنے والا، تمام جہان کی تدبیر کرنے والا، صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ان بلند آسمانوں کو چمکتے ستاروں کو اسی نے پیدا کیا ہے اس بھاری بوجھل زمین کو ان بلند چوٹیوں والے پہاڑوں کو ان پھیلے ہوئے میدانوں کو اسی نے پیدا کیا ہے۔ کھیتیاں، باغات، پھل، پھول، دریا، سمندر، حیوانات، جنات، انسان، خشکی اور تری کے عام جاندار اسی ایک کے بنائے ہوئے ہیں۔ آسمانوں سے پانی اتارنے والا وہی ہے۔ اسے اپنی مخلوق کو روزی دینے کا ذریعہ اسی نے بنایا، باغات کھیت سب وہی اگاتا ہے۔ جو خوش منظر ہونے کے علاوہ بہت مفید ہیں۔ خوش ذائقہ ہونے کے علاوہ زندگی کو قائم رکھنے والے ہوتے ہیں۔ تم میں سے یا تمہارے معبودان باطل میں سے کوئی بھی نہ کسی چیز کے پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے نہ کسی درخت اگانے کی۔ بس وہی خالق و رازق ہے اللہ کی خالقیت اور اس کی روزی پہنچانے کی صفت کو مشرکین بھی مانتے تھے۔ جیسے دوسری آیت میں بیان ہوا ہے کہ آیت (وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ 87ۙ) 43۔ الزخرف :87) یعنی اگر تو ان سے دریافت کرے کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو یہی جواب دیں گے اللہ تعالیٰ نے الغرض یہ جانتے اور مانتے ہیں کہ خالق کل صرف اللہ ہی ہے۔ لیکن ان کی عقلیں ماری گئی ہیں کہ عبادت کے وقت اوروں کو بھی شریک کرلیتے ہیں۔ باوجودیکہ جانتے ہیں کہ نہ وہ پیدا کرتے ہیں اور نہ روزی دینے والے۔ اور اس بات کا فیصلہ تو ہر عقلمند کرسکتا ہے کہ عبادت کے لائق وہی ہے جو خالق مالک اور رازق ہے۔ اسی لئے یہاں اس آیت میں بھی سوال کیا گیا کہ معبود برحق کے ساتھ کوئی اور بھی عبادت کے لائق ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ مخلوق کو پیدا کرنے میں، مخلوق کی روزی مہیا کرنے میں کوئی اور بھی شریک ہے ؟ چونکہ وہ مشرک خالق رازق صرف اللہ ہی کو مانتے تھے۔ اور عبادت اوروں کی کرتے تھے۔ اس لئے ایک اور آیت میں فرمایا۔ آیت (اَفَمَنْ يَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ 17) 16۔ النحل :17) خالق اور غیر خالق یکساں نہیں پھر تم خالق اور مخلوق کو کیسے ایک کررہے ہو ؟ یہ یاد رہے کہ ان آیات میں امن جہاں جہاں ہے وہاں یہی معنی ہیں کہ ایک تو وہ جو ان تمام کاموں کو کرسکے اور ان پر قادر ہو دوسرا وہ جس نے ان میں سے نہ تو کسی کام کو کیا ہو اور نہ کرسکتا کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ گو دوسری شق کو لفظوں میں بیان نہیں کیا لیکن طرز کلام اسے صاف کردیتا ہے۔ اور آیت میں صاف صاف یہ بھی ہے کہ آیت (ؤ اٰۗللّٰهُ خَيْرٌ اَمَّا يُشْرِكُوْنَ 59ۭ) 27۔ النمل :59) کیا اللہ بہتر ہے یا جنہیں وہ شریک کرتے ہیں ؟ آیت کے خاتمے پر فرمایا بلکہ ہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہیں آیت (اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَّقَاۗىِٕمًا يَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَيَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ ۭ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ ۭ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ ۧ) 39۔ الزمر :9) بھی اسی جیسی آیت ہے یعنی ایک وہ شخص جو اپنے دل میں آخرت کا ڈر رکھ کر اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہو کر راتوں کو نماز میں گزارتا ہو۔ یعنی وہ اس جیسا نہیں ہوسکتا جس کے اعمال ایسے نہ ہوں۔ ایک اور جگہ ہے عالم اور بےعلم برابر نہیں۔ عقلمند ہی نصیحت سے فائدہ اٹھاتے ہیں ایک وہ جس کا سینہ اسلام کے لئے کھلا ہوا ہو، اور وہ اپنے رب کی طرف سے نور ہدایت لئے ہو اور وہ اس جیسا نہیں۔ جس کے دل میں اسلام کی طرف سے کراہت ہو اور سخت دل ہو اللہ نے خود اپنی ذات کی نسبت فرمایا۔ اللہ نے آیت (اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ ۚ وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ 33۔) 13۔ الرعد :33) یعنی وہ جو مخلوق کی تمام حرکات سکنات سے واقف ہو تمام غیب کی باتوں کو جانتا ہوں اس کی مانند ہے جو کچھ بھی نہ جانتا ہو ؟ بلکہ جس کی آنکھیں اور کان نہ ہو جیسے تمہارے یہ بت ہیں۔ فرمان ہے آیت (وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ ۭ قُلْ سَمُّوْهُمْ ۭ اَمْ تُنَبِّــــــُٔـوْنَهٗ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْاَرْضِ 33۔) 13۔ الرعد :33) یہ اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہیں ان سے کہہ ذرا انکے نام تو مجھے بتاؤ پس ان سب آیتوں کا مطلب یہی ہے کہ اللہ نے اپنی صفتیں بیان فرمائی ہیں۔ پھر خبر دی ہے کہ یہ صفات کسی میں نہیں۔