اس صفحہ میں سورہ An-Naml کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النمل کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
۞ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ أَخْرِجُوٓا۟ ءَالَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ ۖ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ
فَأَنجَيْنَٰهُ وَأَهْلَهُۥٓ إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ قَدَّرْنَٰهَا مِنَ ٱلْغَٰبِرِينَ
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا ۖ فَسَآءَ مَطَرُ ٱلْمُنذَرِينَ
قُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَٰمٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ ٱلَّذِينَ ٱصْطَفَىٰٓ ۗ ءَآللَّهُ خَيْرٌ أَمَّا يُشْرِكُونَ
أَمَّنْ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَأَنۢبَتْنَا بِهِۦ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَّا كَانَ لَكُمْ أَن تُنۢبِتُوا۟ شَجَرَهَآ ۗ أَءِلَٰهٌ مَّعَ ٱللَّهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ
أَمَّن جَعَلَ ٱلْأَرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِلَٰلَهَآ أَنْهَٰرًا وَجَعَلَ لَهَا رَوَٰسِىَ وَجَعَلَ بَيْنَ ٱلْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا ۗ أَءِلَٰهٌ مَّعَ ٱللَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
أَمَّن يُجِيبُ ٱلْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ ٱلسُّوٓءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ ٱلْأَرْضِ ۗ أَءِلَٰهٌ مَّعَ ٱللَّهِ ۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ
أَمَّن يَهْدِيكُمْ فِى ظُلُمَٰتِ ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ وَمَن يُرْسِلُ ٱلرِّيَٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَىْ رَحْمَتِهِۦٓ ۗ أَءِلَٰهٌ مَّعَ ٱللَّهِ ۚ تَعَٰلَى ٱللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
آیت 58 وَاَمْطَرْنَا عَلَیْہِمْ مَّطَرًاج فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ ”یہاں پر اس سورت کا انباء الرسل کا حصہ بھی اختتام پذیر ہوا۔ اب اس کے بعد کچھ حصہ التذکیر بآلاء اللہ پر مشتمل ہے اور یہ اس سورت کا بالکل منفرد انداز ہے۔
آیت 59 قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی ط ”یعنی تمام انبیاء ورسل علیہ السلام اللہ کے چنے ہوئے لوگ تھے ‘ جیسا کہ سورة آل عمران میں بھی فرمایا گیا ہے : اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفآی اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰہِیْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ءٰٓ اللّٰہُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِکُوْنَ ”ذرا سوچو کہ اللہ کے مقابلے میں تمہارے ان معبودوں کی کیا حیثیت ہے ؟ تم لوگ خود تسلیم کرتے ہو کہ تمام اختیارات کا مالک اللہ ہی ہے۔ تو پھر ان بےاختیار معبودوں کو تم کس حیثیت سے پوجتے ہو ؟
مَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُنْبِتُوْا شَجَرَہَا ط ”rّ متجسسانہ سوالات searching questions کا یہ انداز بہت مؤثر ہے۔ علامہ اقبالؔ ؔ نے اپنے ان اشعار میں یہی مضمون بالکل اسی انداز میں پیش کیا ہے : پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون کون دریاؤں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب ؟کون لایا کھینچ کر پچھم سے باد سازگار خاک یہ کس کی ہے ؟ کس کا ہے یہ نور آفتاب ؟کہ اللہ ہی ہواؤں کو چلاتا ہے ‘ بارش برساتا ہے ‘ موسموں کو سازگار بناتا ہے ‘ اناج اگاتا ہے ‘ غرض تمام امور اسی کے حکم اور اسی کی قدرت سے انجام پاتے ہیں۔ اللہ کی قدرت کاملہ کے بیان کا یہی انداز سورة الواقعہ میں بھی ملتا ہے۔ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ط ”کیا ان سارے کاموں میں اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ بھی شریک ہے ؟
ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ط ”کیا کوئی ایسی دوسری ہستی تمہاری نظر میں ہے جو ان کاموں میں اللہ کے ساتھ شریک ہو ؟بَلْ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ”تاویل خاص کے اعتبار سے ان آیات کے مخاطبینِ اوّلین مشرکین مکہّ تھے اور ان کے پاس ان پے در پے سوالات کا ایک ہی جواب تھا ‘ اور وہ یہ کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے ! اس حوالے سے ان کے خیالات ‘ نظریات اور عقائد کے بارے میں جاننا ضروری ہے اور یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ان کے شرک کی صورت اور نوعیت کیا تھی ؟ چناچہ اس سلسلے میں یہ بات بہت اہم ہے کہ مشرکین مکہ اللہ کو معبود بھی مانتے تھے اور اس کو اس کائنات کا خالق بھی تسلیم کرتے تھے۔ البتہ کچھ شخصیات جن کے ُ بت انہوں نے بنا رکھے تھے کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ وہ اللہ کے لاڈلے ‘ چہیتے اور مقربین ہیں اور وہ اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں گے : ھٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُ نَا عِنْدَ اللّٰہِ ط یونس : 18۔ بس ان کا شرک اس سے زائد کچھ نہیں تھا۔
وَیَجْعَلُکُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ ط کہ تمہاری ایک نسل کے بعد دوسری نسل اس کی جانشین بنتی ہے اور یہ سلسلہ غیر منقطع طریقے سے اللہ تعالیٰ قائم رکھے ہوئے ہے۔
ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِط تَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ”ٹھنڈی ہوا کے جھونکے جو بادلوں کے آگے آگے باران رحمت کی نوید بن کر چلتے ہیں ‘ کیا انہیں چلانے اور بحر و بر کی تاریکیوں میں تم لوگوں کو درست راستے سجھانے میں اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کا بھی کوئی حصہ ہے ؟