امن یجیب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قلیلا ما تذکرون (62)
اب ان کے وجدان کو چھوا جاتا ہے۔ ان کے نفس کے اندر موجود خلجانات کو چھڑا جاتا ہے اور ان کی زندگی کے عملی حالات اور اہم واقعات کے دوران ان کے نفس کی کیفیات ان کے سامنے رکھی جاتی ہیں۔ سمندر کے سفر میں جو لوگ نہایت ہی مشکل حالات میں گھر جاتے ہیں اور جہاں ظاہری اسباب ختم ہوجاتے ہیں اور بظاہر مدد کو پہنچنے والا کوئی نہیں رہتا۔ صرف اللہ کی مدد کی امید ہوتی ہے اور تمام سہارے ختم ہوجاتے ہیں۔ انسان ہر طرف نظر دوڑاتا ہے اور کوئی سہارا نہیں ہوتا۔ زمین کی کوئی قوت ان کی مدد کو نہیں پہنچ رہی ہوتی۔ انسان اپنے خیال میں جن قوتوں کے سہارے کے بارے میں سوچتا رہتا تھا ۔ وہ سب قوتیں ایک ایک کرکے اوجھل ہوجاتی ہیں۔ ہر وہ قوت جس سے کچھ بھی توقع تھی وہ جواب دے دیتی ہے۔ ایسے مایوس کن حالات میں پھر انسان کی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔ انسان اس قوت کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، جو صحیح قوت ہوتی ہے۔ اب انسان اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے حالانکہ اس سے قبل انسان اپنے نارمل حالات میں اللہ کو بھولا ہوا تھا۔ کیونکہ اب تو اللہ ہی ہے جو کسی مجبور شخص کو امداد دیتا ہے جب وہ بےسہارا ہوکر اس پکارتا ہے اور یہ اللہ ہی ہے جو پھر اس کو مشکلات سے نکالتا ہے۔ امن و سلامتی عطا کرتا ہے اور اس مشکل سے نکالتا ہے۔
جب لوگ امن و عافیت اور خوشحالی میں ہوتے ہیں تو وہ غفلت میں ڈوبے ہوتے ہیں۔ وہ ذات باری کو بھول جاتے ہیں۔ پھر وہ زمین کی قوتوں میں کسی قوت سے نصرت و امداد طلب کرتے ہیں ۔ لیکن جب سختی آتی ہے اور انتہائی کرب کے حالات میں وہ گھر جاتے ہیں تو اس وقت غفلت کے پردے اتر جاتے ہیں اور اس وقت وہ گڑ گڑا کر اپنے رب کی طرف لوٹتے ہیں۔ اگرچہ وہ غافل تھے اور ہٹ دھرمی کرنے والے تھے۔
قرآن کریم منکرین اور ہٹ دھرمی کرنے والوں کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے ۔ جو خود ان کی فطرت میں ہے۔ یہ بات قرآن کریم ایسے ماحول میں ان کے سامنے پیش کرتا ہے جس میں زمین و آسمان کی تخلیق ، آسمانوں سے پانی کا نزول ، زمین کے اوپر تروتازہ باغ و راغ کی پیدائش ، اس کرہ ارض کا قرار ، اس کے اوپر پہاڑوں کا نصب کرنا اس کے اندر دریاؤں اور نالوں کا چلانا اور بہانا اور سمندر کے اندر دو قسم کے پانیوں کے پردے حائل کرنے کے مناظر پیش کیے گئے ہیں اور پھر سمندر میں ایک مضطرب اور کربناک صورت حال پیش کرکے سمجھا یا گیا کہ ایسے حالات میں تو کوئی شخص بھی اللہ کے سوا کسی کو نہیں پکارتا اور یہ بھی مذکورہ بالا کائناتی خالق کی طرح ایک حقیقت ہے۔ وہ خالق کائناتی تھے اور اس کا تعلق انسان کی نفسیاتی دنیا سے ہے۔
اب ان کی نفسیات کی دنیا سے بھی باہر لاکر ، اللہ تعالیٰ ان کو ان کی زندگی کے ایک عملی حال کی طرف لاتا ہے۔
ویجعلکم خلفاء الارض (27: 62) ” اور تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے “۔ وہ کون ہے جس نے یہاں انسان کو پیدا کیا ، پوری مخلوقات پر فضیلت بخشی۔ اس کے بعد پھر ایک کے بعد دوسرے کو اس زمین کا اقتدار دیتا رہا ، کسی کو زوال ہوا اور دوسرے نے کمال حاصل کیا۔ یہ گرا اور وہ اٹھا۔
کیا یہ اللہ ہی نہی ہے کہ جس نے قوانین قدرت کے مطابق تمہیں اس زمین پر زندگی بخشی اور پھر تمہیں ایسی قوتیں عطا کیں جن کی وجہ سے تم اس کرہ ارض پر اللہ کی خلافت کے مستحق قرار پائے اور پھر تمہیں اس عظیم منصب کے لیے یہاں تیار کیا۔ زمین کو تمہارے لئے جائے قرار بنایا۔ اور اس کی ہر چیز کو تمہاری زندگی کے لیے ممدومعاون اور ہم آہنگ بنایا کہ زمین کو ہر چیز تمہارے لیے ممد حیات بن گئی اور اگر ایسا ہوتا کہ زمین کے اہم عناصر میں سے ایک عنصر غائب کردیا جائے تو تمام انسان کیا تمام زندہ چیزیں ایک دم میں ختم ہوکر رہ جائیں۔ اور آئندہ کے لیے بھی یہاں کسی چیز کا وجود محال ہوجائے۔
سب سے آخر میں یہ بات ہے کہ اللہ ہے وہ ذات جس نے موت وحیات کو پیدا کیا اور ایک نسل کے بعد دوسرے لوگوں کو اٹھایا۔ اگر اللہ اگلی نسلوں کو اسی طرح قائم رکھتا اور آنے والی نسلیں پیدا ہوتی چلی جاتیں تو اس کرہ ارض پر تل دھرنے کی جگہ ہی نہ ہوتی۔ زندگی کا یہ دھارا بہت ہی سست ہوتا۔ انسانی سوچ نہایت سست رفتار ہوتی۔ کیونکہ تازہ تازہ نسلیں وجود میں آنے کے ساتھ تازہ افکار اور تازہ خیالات بھی آتے ہیں۔ لوگ نئے نئے تجربے کرتے ہیں اور زندگی کی جدوجہد میں نئی نجی کوششیں کرتے ہیں۔ زندگی گزارنے کے نئے نئے طریقے دریافت کرتے ہیں اور اب تو صورت یہ ہے کہ پرانے اور نئے لوگوں کی جنگ صرف فکر و شعور کے میدان میں ہوتی ہے۔ اور اگر سابقہ لوگ بھی سب کے سب زندہ ہوتے تو پرانے اور نئے لوگوں کے درمیان جسمانی تصادم بھی ہوتا۔ اور زندگی کی گاڑی آگے بڑھنے کے بجائے باہم تضادات اور تصادمات کا شکار ہوجاتی۔
یہ تمام نفسیاتی حقائق ہیں جس طرح اس سے قبل بیان کیے جانے والے آفاقی حقائق تھے۔ کون ہے جس نے یہ حقائق پیدا کیے ، تمہیں خلیفہ بنایا۔ کوئی ہے اللہ کے سوا ؟ ء الہ مع اللہ (27: 62) ” کیا اللہ کے ساتھ ہے کوئی اور الہ “۔
حقیقت یہ ہے کہ لوگ حقائق کو بھول جاتے ہیں جب سمندر کی مشکلات سے نکلتے ہیں تو سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ ان کی فطرت بھی سو جاتی ہے اور یہ غافل ہوجاتے ہیں حالانکہ خود ان کے نفس اور ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات میں حقائق موجود ہیں
قلیلا ما تذکرون (27: 62) ” تم لوگ کم ہی سوچتے ہو “۔ اگر انسان حقائق کو یاد رکھے ، اور ان پر مسلسل غور کرتا رہے ، تو وہ ہمیشہ اللہ کے ساتھ جڑا رہے اور فطرت کی پکار کو سنتا رہے۔ وہ کبھی اپنے رب سے غافل نہ ہو اور کبھی اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔
اس کے بعد لوگوں کی زندگی سے بعض اور حقائق پیش کیے جاتے ہیں۔ ان کا تعلق اس کرہ ارض پر لوگوں کی سرگرمیوں سے ہے اور ان کے ان مشاہدات سے ہے جو ہر وقت دہرائے جاتے ہیں۔
وَیَجْعَلُکُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ ط کہ تمہاری ایک نسل کے بعد دوسری نسل اس کی جانشین بنتی ہے اور یہ سلسلہ غیر منقطع طریقے سے اللہ تعالیٰ قائم رکھے ہوئے ہے۔
سختیوں اور مصیبتوں کے وقت پکارے جانے کے قابل اسی کی ذات ہے۔ بےکس بےبس لوگوں کا سہارا وہی ہے گرے پڑے بھولے بھٹکے مصیبت زدہ اسی کو پکارتے ہیں۔ اسی کی طرف لو لگاتے ہیں جیسے فرمایا کہ تمہیں جب سمندر کے طوفان زندگی سے مایوس کردیتے ہیں تو تم اسی کو پکارتے ہو اسکی طرف گریہ وزاری کرتے ہو اور سب کو بھول جاتے ہو۔ اسی کی ذات ایسی ہے کہ ہر ایک بےقرار وہاں پناہ لے سکتا ہے مصیبت زدہ لوگوں کی مصیبت اس کے سوا کوئی بھی دور نہیں کرسکتا۔ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ حضور ! آپ کس چیز کی طرف ہمیں بلا رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ کی طرف جو اکیلا ہے جس کا کوئی شریک نہیں جو اس وقت تیرے کام آتا ہے جب تو کسی بھنور میں پھنسا ہوا ہو۔ وہی ہے کہ جب تو جنگلوں میں راہ بھول کر اسے پکارے تو وہ تیری رہنمائی کردے تیرا کوئی کھو گیا ہو اور تو اس سے التجا کرے تو وہ اسے تجھ کو ملادے۔ قحط سالی ہوگئی ہو اور تو اس سے دعائیں کرے تو وہ موسلا دھار مینہ تجھ پر برسادے۔ اس شخص نے کہا یارسول اللہ ! مجھے کچھ نصیحت کیجئے۔ آپ نے فرمایا کسی کو برا نہ کہو۔ نیکی کے کسی کام کو ہلکا اور بےوقعت نہ سمجھو۔ خواہ اپنے مسلمان بھائی سے بہ کشادہ پیشانی ملنا ہو گو اپنے ڈول سے کسی پیاسے کو ایک گھونٹ پانی کا دینا ہی ہو اور اپنے تہبند کو آدھی پنڈلی تک رکھ۔ لمبائی میں زیادہ ٹخنے تک۔ اس سے نیچے لٹکانے سے بچتا رہ۔ اس لئے کہ یہ فخر و غرور ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے (مسند احمد) ایک روایت میں انکا نام جابر بن سلیم ہے۔ اس میں ہے کہ جب حضور کے پاس آیا آپ ایک چادر سے گوٹ لگائے بیٹھے تھے جس کے پھندنے آپ کے قدموں پر گر رہے تھے میں نے آکر پوچھا کہ تم میں اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کون ہیں ؟ آپ نے اپنے ہاتھ سے خود اپنی طرف اشارہ کیا میں نے کہا یارسول اللہ ! میں ایک گاؤں کا رہنے والا آدمی ہوں ادب تمیز کچھ نہیں جانتا مجھے احکام اسلام کی تعلیم دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ کسی چھوٹی سی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھ، خواہ اپنے مسلمان بھائی سے خوش خلقی کے ساتھ ملاقات ہو۔ اور اپنے ڈول میں سے کسی پانی مانگے والے کے برتن میں ذراسا پانی ڈال دینا ہی ہو۔ اگر کوئی تیری کسی شرمناک بات کو جانتاہو اور وہ تجھے شرمندہ کرے تو تو اسے اس کی کسی ایسی بات کی عار نہ دلا تاکہ اجر تجھے ملے اور وہ گنہگار بن جائے۔ ٹخنے سے نیچے کپڑا لٹکانے سے پرہیز کر کیونکہ یہ تکبر ہے اور تکبر اللہ کو پسند نہیں اور کسی کو بھی ہرگز گالی نہ دینا۔ حضرت طاؤس ایک بیمار کی بیمار پرسی کے لئے گئے اس نے کہا میرے لئے دعا کرو آپ نے فرمایا تم خود اپنے لئے دعا کرو بےقرار کی بےقراری کے وقت کی دعا اللہ قبول فرماتا ہے۔ حضرت وہب فرماتے ہیں میں نے اگلی آسمانی کتاب میں پڑھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم ! جو شخص مجھ پر اعتماد کرے اور مجھے تھام لے تو میں اسے اسکے مخالفین سے بچالوں گا اور ضرور بچالوں گا چاہے آسمان و زمین وکل مخلوق اس کی مخالفت اور ایذاء دینے پر تلے ہوں۔ اور جو مجھ پر اعتماد نہ کرے میری پناہ میں نہ آئے تو میں اسے مان وامان سے چلتا پھرتا ہونے کے باوجود اگر چاہوں گا تو زمین میں دھنسادوں گا۔ اور اس کی کوئی مدد نہ کروں گا۔ ایک بہت ہی عجیب واقعہ حافظ ابن عساکر نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔ ایک صاحب فرماتے ہیں کہ میں ایک خچر پر لوگوں کو دمشق سے زیدانی لے جایا کرتا تھا اور اسی کرایہ پر میری گذر بسر تھی۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے خچر مجھ سے کرایہ پر لیا۔ میں نے اسے سوار کیا اور چلا ایک جگہ جہاں دو راستے تھے جب وہاں پہنچے تو اس نے کہا اس راہ پر چلو۔ میں نے کہا میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ سیدھی راہ یہی ہے۔ اس نے کہا نہیں میں پوری طرح واقف ہوں، یہ بہت نزدیک راستہ ہے۔ میں اس کے کہنے پر اسی راہ پر چلا تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ ایک لق ودق بیابان میں ہم پہنچ گئے ہیں جہاں کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ نہایت خطرناک جنگل ہے ہر طرف لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔ میں سہم گیا۔ وہ مجھ سے کہنے لگا ذرا لگام تھام لو مجھے یہاں اترنا ہے میں نے لگام تھام لی وہ اترا اور اپنا تہبند اونچا کرکے کپڑے ٹھیک کرکے چھری نکال کر مجھ پر حملہ کیا۔ میں وہاں سے سرپٹ بھاگا لیکن اس نے میرا تعاقب کیا اور مجھے پکڑلیا میں اسے قسمیں دینے لگا لیکن اس نے خیال بھی نہ کیا۔ میں نے کہا اچھا یہ خچر اور کل سامان جو میرے پاس ہے تو لے لے اور مجھے چھوڑ دے اس نے کہا یہ تو میرا ہو ہی چکا لیکن میں تجھے زندہ نہیں چھوڑنا چاہتا میں نے اسے اللہ کا خوف دلایا آخرت کے عذابوں کا ذکر کیا لیکن اس چیز نے بھی اس پر کوئی اثر نہ کیا اور وہ میرے قتل پر تلا رہا۔ اب میں مایوس ہوگیا اور مرنے کے لئے تیار ہوگیا۔ اور اس سے منت سماجت کی کہ تم مجھے دو رکعت نماز ادا کرلینے دو۔ اس نے کہا اچھا جلدی پڑھ لے۔ میں نے نماز شروع کی لیکن اللہ کی قسم میری زبان سے قرآن کا ایک حرف نہیں نکلتا تھا۔ یونہی ہاتھ باندھے دہشت زدہ کھڑا تھا اور جلدی مچا رہا تھا اسی وقت اتفاق سے یہ آیت میری زبان پر آگئی آیت (اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَـفَاۗءَ الْاَرْضِ 62ۭ) 27۔ النمل :62) یعنی اللہ ہی ہے جو بےقرار کی بےقراری کے وقت کی دعا کو سنتا اور قبول کرتا ہے اور بےبسی بےکسی کو سختی اور مصیبت کو دور کردیتا ہے پس اس آیت کا زبان سے جاری ہونا تھا جو میں نے دیکھا کہ بیچوں بیچ جنگل میں سے ایک گھڑ سوار تیزی سے اپنا گھوڑا بھگائے نیزہ تانے ہماری طرف چلا آرہا ہے اور بغیر کچھ کہے اس ڈاکو کے پیٹ میں اس نے اپنا نیزہ گھونپ دیا جو اس کے جگر کے آر پار ہوگیا اور وہ اسی وقت بےجان ہو کر گرپڑا۔ سوار نے باگ موڑی اور جانا چاہا لیکن میں اس کے قدموں سے لپٹ گیا اور بہ الحاح کہنے لگا اللہ کے لئے یہ بتاؤ تم کون ہو ؟ اس نے کہا میں اس کا بھیجا ہوا ہوں جو مجبوروں بےکسوں اور بےبسوں کی دعا قبول فرماتا ہے اور مصیبت اور آفت کو ٹال دیتا ہے میں نے اللہ کا شکر کیا اور اپنا سامان اور خچر لے کر صحیح سالم واپس لوٹا۔ اس قسم کا ایک واقعہ اور بھی ہے کہ مسلمانوں کے ایک لشکر نے ایک جنگ میں کافروں سے شکست اٹھائی اور واپس لٹے۔ ان میں ایک مسلمان جو بڑے سخی اور نیک تھے ان کا گھوڑا جو بہت تیز رفتا تھا راستے میں اڑگیا۔ اس ولی اللہ نے بہت کوشش کی لیکن جانور نے قدم ہی نہ اٹھایا۔ آخر عاجز آکر اس نے کہا کیا بات ہے جو اڑ گیا۔ ایسے ہی موقعہ کے لئے تو میں نے تیری خدمت کی تھی اور تجھے پیار سے پالا تھا۔ گھوڑے کو اللہ نے زبان دی اس نے جواب دیا کہ وجہ یہ ہے کہ آپ میرا گھاس دانہ سائیس کو سونپ دیتے تھے اور وہ اس میں سے چرالیتا تھا مجھے بہت کم کھانے کو ملتا تھا اور مجھ پر ظلم کرتا تھا۔ اللہ کے نیک بندے نے کہا اب سے میں تجھے اپنی گود ہی میں کھلایا کرونگا جانور یہ سنتے ہی تیزی سے لپکا اور انہیں جائے امن تک پہنچادیا۔ حسب وعدہ اب سے یہ بزرگ اپنے اس جانور کو اپنی گود میں ہی کھلایا کرتا تھا۔ لوگوں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی انہوں نے کسی سے واقعہ کہہ دیا جس کی عام شہرت ہوگئی اور لوگ ان سے یہ واقعہ سننے کے لئے دور دور سے آنے لگے۔ شاہ روم کو جب اس کی خبر ملی تو انہوں نے چاہا کسی طرح ان کو اپنے شہر میں بلالے۔ بہت کوشش کی مگر بےسود رہیں۔ آخر میں انہوں نے ایک شخص بھیجا کہ کسی طرح حیلے بہانے کرکے ان کو بادشاہ تک پہنچادے۔ یہ شخص پہلے مسلمان تھا پھر مرتد ہوگیا تھا بادشاہ کے پاس سے یہاں آیا ان سے ملا اپنا اسلام ظاہر کیا اور نہایت نیک بن کر رہنے لگایہاں تک کہ اس ولی کو اس پر پورا اعتماد ہوگیا اور اسے صالح اور دیندار سمجھ کر اس سے دوستی کرلی اور ساتھ ساتھ لے کر پھرنے لگے۔ اس نے اپنا پورا رسوخ جماکر اپنی ظاہری دینداری کے فریب میں انہیں پھنسا کر بادشاہ کو اطلاع دی کہ فلاں وقت دریا کے کنارے ایک مضبوط جری شخص کو بھیجو میں انہیں وہاں لے کر آجاؤں گا اور اس شخص کی مدد سے اسکو گرفتار کرلوں گا۔ یہاں سے انہیں فریب دے کر چلا اور وہاں پہنچایا دفعتا ایک شخص نمودار ہوا اور اس نے بزرگ پر حملہ کیا ادھر سے اس مرتد نے حملہ کیا اس نیک دل شخص نے اس وقت آسمان کی طرف نگاہیں اٹھائیں اور دعا کی کہ اے اللہ ! اس شخص نے تیرے نام سے مجھے دھوکا دیا ہے میں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ تو جس طرح چاہے مجھے ان دونوں سے بچالے۔ وہیں جنگل سے دو درندے دھاڑتے ہوئے آتے دکھائی دئیے اور ان دونوں شخصوں کو انہوں نے دبوچ لیا اور ٹکڑے ٹکڑے کرکے چل دئیے اور یہ اللہ کا بندہ وہاں سے صحیح وسالم واپس تشریف لے آیا ؒ۔ اپنی اس شان رحمت کو بیان فرما کر پھر جناب باری کی طرف ارشاد ہوتا ہے کہ وہی تمہیں زمین کا جانشیں بناتا ہے۔ ایک ایک کے پیچھے آرہا ہے اور مسلسل سلسلہ چلا جارہا ہے۔ جیسے فرمان آیت (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ0303) 4۔ النسآء :133) اگر وہ چاہے تو تم سب کو تو یہاں سے فنا کردے اور کسی اور ہی کو تمہارا جانشین بنادے جیسے کہ خو تمہیں دوسروں کا خلیفہ بنادیا ہے۔ اور آیت میں ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ01605) 6۔ الانعام :165) اس اللہ نے تمہیں زمینوں کا جانشین بنایا ہے اور تم میں سے ایک کو ایک پر درجوں میں بڑھا دیا ہے حضرت آدم ؑ کو بھی خلیفہ کہا گیا وہ اس اعتبار سے کہ ان کی اولاد ایک دوسرے کی جانشین ہوگی جیسے کہ آیت (وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ 30) 2۔ البقرة :30) کی تفسیر اور بیان گذر چکا ہے۔ اس آیت کے اس جملے سے بھی یہی مراد ہے کہ ایک کے بعد ایک، ایک زمانہ کے بعد دوسرا زمانہ ایک قوم کے بعد دوسری قوم پس یہ اللہ کی قدرت ہے اس نے یہ کیا کہ ایک مرے ایک پیدا ہو۔ حضرت آدم ؑ کو پیدا کیا ان سے ان کی نسل پھیلائی اور دنیا میں ایک ایسا طریقہ رکھا کہ دنیا والوں کی روزیاں اور ان کی زندگیاں تنگ نہ ہوں ورنہ سارے انسان ایک ساتھ شاید زمین میں بہت تنگی سے گزارہ کرتے اور ایک سے ایک کو نقصانات پہنچتے۔ پس موجودہ نظام الٰہی اس کی حکمت کا ثبوت ہے سب کی پیدائش کا، موت کا آنے جانے کا وقت اس کے نزدیک مقرر ہے۔ ایک ایک اس کے علم میں ہے اس کی نگاہ سے کوئی اوجھل نہیں۔ وہ ایک دن ایسا بھی لانے والا ہے کہ ان سب کو ایک ہی میدان میں جمع کرے اور ان کے فیصلے کرے نیکی بدی کا بدلہ دے۔ اپنی قدرتوں کو بیان فرماتا ہے کوئی ہے جو ان کاموں کو کرسکتا ہو ؟ اور جب نہیں کرسکتا تو عبادت کے لائق بھی نہیں ہوسکتا ایسی صاف دلیلیں بھی بہت کم سوچی جاتی ہیں اور ان سے نصیحت بھی بہت کم لوگ حاصل کرتے ہیں۔