سورہ نمل: آیت 70 - ولا تحزن عليهم ولا تكن... - اردو

آیت 70 کی تفسیر, سورہ نمل

وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُن فِى ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُونَ

اردو ترجمہ

اے نبیؐ، اِن کے حال پر رنج نہ کرو اور نہ اِن کی چالوں پر دل تنگ ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wala tahzan AAalayhim wala takun fee dayqin mimma yamkuroona

آیت 70 کی تفسیر

ولا تحزن ۔۔۔۔۔۔ یمکرون (27: 70) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کس قدر حساس تھے اور آپ کو اپنی قوم کے برے انجام کے بارے میں کس قدر فکر مندی تھی۔ کیونکہ آپ جانتے تھے کہ جن اقوام نے تکذیب کی ان کا حشر کیا ہوا۔ اور اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے ، اس وقت ان لوگوں نے نبی ﷺ کے خلاف مکاری کے جال بن رکھے تھے۔ اور وہ مسلمانوں ، دعوت اسلامی کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینکنا چاہتے تھے اور حضور ﷺ اس کے بارے میں بہت ہی فکر مند تھے۔

بعثت بعد الموت کے بارے میں ان کے جو خیالات تھے ان کے مزید نمونے یہاں پیش کیے جاتے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں ان کو جس برے انجام سے ڈرایا جاتا تھا ، وہ اس کے ساتھ مزاح کرتے تھے اور کہتے تھے۔

آیت 70 وَلَا تَحْزَنْ عَلَیْہِمْ وَلَا تَکُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوْنَ ”مکہ کے ماحول میں چونکہ رسول اللہ ﷺ کو شدید مخالفت اور دباؤ کا سامنا تھا ‘ اس لیے مکی سورتوں میں یہ مضمون بار بار دہرایا گیا ہے۔ سورة النحل کی آیت 127 میں یہ مضمون بالکل انہی الفاظ میں آیا ہے ‘ جبکہ سورة الشعراء میں اس حوالے سے حضور ﷺ کو مخاطب کر کے یوں فرمایا گیا ہے : لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ”اے نبی ﷺ ! شاید آپ ہلاک کردیں گے اپنے آپ کو اس لیے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے“۔ بہر حال مشرکین مکہ کے مخالفانہ رویے ّ کے باعث حضور ﷺ کو بار بار تسلی دی جاتی تھی کہ آپ ﷺ نے ان تک ہمارا پیغام پہنچا کر ان پر حجت قائم کردی ہے اور یوں آپ ﷺ نے اپنا فرض ادا کردیا ہے۔ اب آپ ﷺ ان کی پروا نہ کریں اور نہ ہی ان کے بارے میں رنجیدہ ہوں۔ یہ لوگ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ ہماری تدابیر ان کی چالوں کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ ہماری قدرت کے سامنے ان کی سازشیں کامیاب نہیں ہو سکیں گی۔

آیت 70 - سورہ نمل: (ولا تحزن عليهم ولا تكن في ضيق مما يمكرون...) - اردو