اس صفحہ میں سورہ An-Naml کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النمل کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
أَمَّن يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ وَمَن يَرْزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ ۗ أَءِلَٰهٌ مَّعَ ٱللَّهِ ۚ قُلْ هَاتُوا۟ بُرْهَٰنَكُمْ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ
قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ٱلْغَيْبَ إِلَّا ٱللَّهُ ۚ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ
بَلِ ٱدَّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ ۚ بَلْ هُمْ فِى شَكٍّ مِّنْهَا ۖ بَلْ هُم مِّنْهَا عَمُونَ
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَءِذَا كُنَّا تُرَٰبًا وَءَابَآؤُنَآ أَئِنَّا لَمُخْرَجُونَ
لَقَدْ وُعِدْنَا هَٰذَا نَحْنُ وَءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ إِنْ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ
قُلْ سِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُجْرِمِينَ
وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُن فِى ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُونَ
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ
قُلْ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ رَدِفَ لَكُم بَعْضُ ٱلَّذِى تَسْتَعْجِلُونَ
وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ
وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ
وَمَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِى ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ إِلَّا فِى كِتَٰبٍ مُّبِينٍ
إِنَّ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانَ يَقُصُّ عَلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ أَكْثَرَ ٱلَّذِى هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
امن یبدوا الخلق ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین (64)
اس کائنات و مخلوقات کا آغاز ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار کوئی نہیں کرسکتا۔ نہ تخلیق کائنات کے مسئلے کو اللہ وحدہ کے وجود کو تسلیم کیے بغیر حل کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کائنات کا وجود ہی اس بات کو مستلزم ہے کہ اللہ موجود ہے۔ دنیا میں جن لوگوں نے اس کائنات کے وجود کے مسئلے کو وجود باری تعلیم کرنے کے بغیر حل کرنے کی سعی کی ہے ، درآں حالیکہ اس کائنات کے وجود ہی میں ایک معمم ارادہ اور ایک قصد اور ایک منصوبہ نظر آتا ہے تو ایسے لوگ مسئلہ کائنات کے حل کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ اور اللہ کی وحدانیت اس لیے ثابت ہوتی ہے کہ اس کائنات کے تمام آثار کے اندر وحدت نظر آتی ہے ، اس کی تدبیر ایک ہے ، تقدیر ایک ہے اور اس پوری کائنات کی اسکیم میں ایک ایسا ربط اور ہم آہنگی ہے کہ اس کا ایک ہی خالق تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا۔
یہ تو تھا آغاز ، رہا یہ معاملہ کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کی تخلیق کا دوبارہ اعادہ کرے گا تو اس بارے میں تمام کفار اور مشرکین کو خلجان تھا۔ لیکن جو شخص اس کائنات کے آغاز کے بارے میں اس نتیجے تک پہنچ جاتا ہے کہ یہ ایک صاحب ارادہ و تدبیر ذات کی تخلیق ہے اور وہ اس کائنات کے اندر پائی جانے والی وحدت اور ربط کی وجہ سے ایک ہے تو اس کے لیے یہ تسلیم کرنا کوئی مشکل بات نہیں ہوتی کہ وہ ذات اسے دوبارہ پیدا کرے گی تاکہ اس دنیا میں آنے والے لوگ اپنے اعمال کی جزا پوری کی پوری وہاں پائیں گے کیونکہ اس دنیا میں اچھے برے عمل پر انسان کو اگرچہ جزاء و سزا ملتی ہے مگر وہ پوری جزاء و سزا نہیں ہوتی۔ لہٰذا مکمل مکافات عمل کے لیے ضروری ہے کہ ایک ایسا جہاں ہو جس میں مکمل جزاء و سزا ہو۔ اس کے بغیر اس دنیا کی زندگی کی تکمیل ممکن ہی نہیں ہے۔ لہٰذا ایک آنے والی زندگی کی تصدیق ضروری ہے جس میں مکمل ہم آہنگی ، مکمل کمال نصیب ہو۔ سوال یہ ہے کہ مکافات عمل کے اصول کے مطابق جزاء و سزا اس جہاں میں کیوں نہ ہوئی۔ تو یہ ان حکمتوں کی وجہ سے جن کو خالق کائنات ہی خوب جانتا ہے۔ کیونکہ اپنی مخلوق کے تمام راز خالق ہی کے پاس ہیں۔ اور یہ وہ غائبانہ راز ہیں جن کی اطلاع اللہ نے انسان کو نہیں دی۔
یہی اصول ہے جس کے مطابق اس آیت میں سوال کیا گیا ہے کہ کس نے ابتداء اس کائنات کو پیدا کیا اور کون ہے جو دوبارہ پیدا کرے گا ؟ ظاہر ہے کہ اس کا جواب یہی ہے کہ کوئی نہیں ہے۔
ء الہ مع اللہ (27: 64) ” کیا ہے اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا الہٰ “۔
رزق دینے کا تعلق ، آغاز تخلیق سے بھی متعلق ہے اور اعادہ تخلیق سے بھی وابستہ ہے۔ اللہ کے بندوں کے رزق کا انتظام بالکل ظاہر و باہر ہے۔ نباتات کی شکل میں اور حیوانات کی شکل میں۔ پانی اور ہوا ، کھانے پینے اور سانس لینے کے لیے ضردری ہیں۔ زمین کے معدنی ذخائر اور دھاتیں بھی انسانوں کے لیے مفید اور ضروری ہیں ، جن میں مقناطیسی قوت اور بجلی کی قوت بہت ہی اہم ہے ۔ اس کائنات کے اندر اللہ نے انسانی زندگی کے لیے اس کے علاوہ اور بھی بےحدوحساب ایسی قوتیں رکھی ہیں جو انسانی زندگی کے لئے ضروری ہیں لیکن انسان کو ابھی تک ان کے بارے میں علم نہیں ہے ۔ وقفے وقفے سے اللہ تعالیٰ انسانوں کو ان کے بارے میں بتاتا جاتا ہے ۔
آسمانوں سے انسان کو کس طرح رزق فراہم ہوتا ہے ؟ دنیا میں انسان کو آسمانوں سے روشنی فراہم ہوتی ہے ، حرارت فراہم ہوتی ہے ، بارش فراہم ہوتی اور تمام دوسری چیزیں جن کا مرکز آسمانوں میں ہے اور قیامت میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جو درجات بلند اور جو انعامات دے گا وہ بھی معنوی اعتبار سے ایک آسمانی رزق ہے کیو ن کہ قرآن بھی آسمان ارتفاع اور بلندی سے آتا ہے اور بلندی کے لیے آتا ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے تخلیق اور اعادہ تخلیق کے بعد اس بات کا ذکر فرمایا ہے کہ اللہ اپنی مخلوق کو آسمانوں سے رزق فراہم کرتا ہے ۔ اس لیے کہ آغاز تخلیق کے ساتھ زمین کے ارزاق کا واضح تعلق ہے ۔ تمام مخلوق زمین کے ارزاق کی وجہ سے زندہ ہیں ۔ اور آخرت کے ساتھ ان ارزاق کا تعلق بھی آغاز تخلیق سے واضح ہے۔ دنیا میں حیات انسانی کے لیے آسمانوں کے ارزاق اور سامان زیست کی ضرورت ہے اور آخرت میں یہ انعامات انسان کے جزاء و فاقا ” پوری پوری جزا “ کی صورت میں ہوں گے ۔ لہٰذا آغاز تخلیق اور زمین و آسمان کے ارزاق سے اس کا تعلق واضح ہے اور کلام الٰہی باہم حیرت انگیز انداز میں مربوط ہے۔ آغاز تخلیق اور اعادہ تخلیق تو درحقیقت پیش پا افتادہ حقائق ہیں۔ اسی طرح زمین و آسمان سے انسانوں اور تمام مخلوقات کے لیے رزق کا سامان بھی دراصل معلوم حقائق ہیں لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ان حقائق پر غور نہیں کرتے۔ اس لیے قرآن نہایت زوردار اور تحدی یعنی چیلنج کے انداز میں ان کو اس طرح متوجہ کرتا ہے۔
قل ھاتوا برھانکم ان کنتم صدقین (27: 64) ” کہو لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو “۔
بیشک اس وقت بھی مخالفین اس قسم کی کوئی دلیل لانے سے عاجز رہے اور آج تک کوئی اس قسم کی کوئی دلیل نہیں لاسکا۔ یہ ہے نظریاتی مباحث میں قرآن کا انداز کلام۔ قرآن کریم کائنات کے مناظر و مشاہد پیش کرتا ہے۔ انسانی نفس کے اندر موجود حقائق کو پیش کرتا ہے۔ اس طرح قرآن جو منطق پیش کرتا ہے اس کا دائرہ اس پوری کائنات تک وسیع ہوتا ہے۔ انسانی فکر و نظر کو پوری کائنات میں گھماتا ہے۔ انسان کی فطرت کو میقل کرتا ہے تاکہ انسانی دماغ اور انسانی فطرت خود کسی نتیجے تک پہنچ سکیں جو واضح اور سادہ ہو۔ اور انسانی شعور پر جوش ہو اور اسکی وجدانی قوت اچھی طرح کام کر رہی ہو ، کیونکہ دلائل تو خود انسانی نفس اور انسانی فطرت میں موجود ہیں لیکن غفلت اور نسیان کی وجہ سے انسان ان کی طرف توجہ نہیں کرتا۔ اور کفر اور انکار ان دلائل پر پردے ڈال دیتے ہیں۔ چناچہ ان وجدانی اور کائناتی دلائل سے اور اپنی اس فطری منطق کے بل بوتے پر قرآن کریم انسان کو اس کائنات اور نفس انسانی کے اندر پائے جانے والے عظیم حقائق تک پہنچاتا ہے۔ یہ حقائق اس طرح واضح ہوجاتے ہیں کہ ان میں وہ شکوک و شبہات نہیں رہتے جو کسی خشک منطقی استدلال سے بذریعہ صغریٰ و کبریٰ ثابت کیے جاتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ کتابی منطق ہم تک یونانی ثقافت کے ذریعے آتی ہے اور ہمارے علم الکلام کا حصہ بن گئی حالانکہ اس کا انداز قرآنی نہ تھا ۔ اس نے ہمیں قرآنی منطق سے دور کردیا۔ انفس وآفاق کی وا دیوں میں سیر کرتے ہوئے اور عقیدہ تو حید اور نفی شرک کو وجدانی طور پر ثا بت کرنے کے بعد ، اب قران کر یم ہمیں اس وادی میں لے جاتا ہے جو عا لم غیب کے اندر مستور ہے اور جس کے حالات صرف وہ خالق اور مدبر ہی بتا سکتا ہے جس نے اس کا ئنات کو پیدا کیا ہے یعنی یہ کہ موت بعد کیا ہوگا ۔ آخرت کس طرح کیونکہ یہ اللہ کے غیوب میں ایک غیب ہے ۔ اور قرآن منطقٰ وجد انی ہدایت اور انسانی فطرت اس کے و قوع کی شہادت دیتی ہیں اور انسان علم وادراک کے ذریعہ اس بات کے تعین سے قاصر ہیں کہ یہ گھڑی کب آئے گی ؟
قل لایعلم من فی السوتوالارض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والارض الا فی کتب مبین (75)
” ان سے کہو ، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا اور وہ (تمہارے معبود تو یہ بھی) نہیں جانتے کہ کب وہ اٹھائے جائیں گے۔ بلکہ آخرت کا تو علم ہی ان لوگوں سے گم ہوگیا ہے ، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں ، بلکہ یہ اس سے اندھے ہیں۔ یہ منکرین کہتے ہیں ” کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوچکے ہوں گے تو ہمیں واقعی قبروں سے نکالا جائے گا ؟ یہ خبریں ہم کو بھی بہت دی گئی ہیں اور پہلے ہمارے آباؤ اجداد کو بھی دی جاتی رہی ہیں ، مگر یہ بس افسانے ہی افسانے ہیں جو اگلے وقتوں سے سنتے چلے رہے ہیں “۔ کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہوچکا ہے۔ اے نبی ﷺ ، ان کے حال پر رنج نہ کرو اور نہ ان کی چالوں پر دل تنگ ہو۔ ۔ وہ کہتے ہیں کہ ” یہ دھمکی کب پوری ہوگی اگر تم سچے ہو ؟ “ کہو کیا عجب کہ جس عذاب کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو ، اس کا ایک حصہ تمہارے قریب ہی آلگا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب تو لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ بلاشبہ تیرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے سینے اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔ آسمان و زمین کی کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں ہے جو ایک واضح کتاب میں لکھی ہوئی موجود نہ ہو “۔
غیب پر ایمان لانا ، موت کے بعد اٹھایا جانا اور پوری زندگی کے اعمال کا حساب و کتاب دینا اسلامی عقائد کے اندر ایک بنیادی عنصر ہے۔ اسلامی زوایہ سے زندگی کا کوئی نظام ان عقائد کے بغیر قائم نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ آنے والے جہان پر ایمان لائے ، جہاں اعمال کی مکمل جزاء و سزا ہو اور عمل اور اس کی اجرت کے درمیان مکمل توازن ہو۔ یہ عقیدہ انسان کے دل میں جاگزیں ہو ، انسانی نفس اس کے بارے میں حساس ہو ، اور اس دنیا میں انسان کی تمام سرگرمیاں اس عقیدے پر قائم ہوں کہ اس نے آخرت میں اپنی زندگی کا پورا حساب و کتاب دینا ہے۔
انسانیت نے اپنی طویل تاریخ میں عقیدہ آخرت کے بارے میں مختلف رسولوں کے مقابلے میں عجیب و غریب موقف اختیار کیے ، حالانکہ یہ عقیدہ بہت ہی سادہ ہے اور ہادی النظر میں بہت ہی ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ جب بھی کوئی رسول آیا اور اس نے لوگوں کو عقیدہ آخرت کی طرف متوجہ کیا تو لوگوں نے اس دعوت کو بہت ہی عجیب و غریب سمجھا۔ حالانکہ یہ کائنات موجود تھی ، اس کے اوپر یہ رنگا رنگ حیات موجود تھی ، وہ کود موجود تھے کیا ان معجزات کو پہلی مرتبہ صادر کرنا اور پیدا کرنا مشکل تھا یا دوسری مرتبہ ان کو دہرانا مشکل تھا ؟ یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ انسانوں نے آخرت کے بارے میں ڈرانے والوں کی دعوت سے منہ موڑا۔ وہ اس دعوت کے بارے میں بکواس کرتے رہے۔ اور کفر و انکار میں بڑھتے ہی چلے گئے۔
قیام قیامت ایک غیب ہے جسے صرف اللہ جانتا ہے ، اور اس کے بارے میں علم صرف اللہ کو ہے۔ کفار نے ہمیشہ نبیوں سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ قیامت کے وقوع کے وقت کا تعین کردیں۔ جب یہ یقین نہ ہوا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا اور اسے محض پرانے وقتوں کی ایک کہانی سمجھا کہ یہ ایک بات ہے جو پرانے وقتوں سے کہی جا رہی ہے لیکن ابھی تک واقع نہیں ہوئی۔
یہاں پہلے یہ بتایا جاتا ہے کہ تمہارا علم آخرت کے بارے میں محدود ہے اور آخرت کا وقوع ان غیبی امور میں سے ایک ہے جس کا انسان کو علم نہیں ہے۔
قل لا یعلم من فی السموت ۔۔۔۔۔۔ ایان یبعثون (65) بل ادرک علمھم ۔۔۔۔۔ بل ھم منھا عمون (66) (27: 65- 66) “۔
ابتدائے تخلیق سے انسان کو اس خفیہ غیب کا سامنا ہے۔ انسانی علم ایک حد سے آگے نہیں جاسکتا ۔ غیب کے آگے جو پردے لٹک رہے ہیں ان سے وہ آگے نہیں جھانک سکتا۔ یہ مغیبات میں سے صرف اسی قدر علم حاصل کرسکتا ہے جس قدر اللہ تعالیٰ اسے توفیق دیتا ہے اور انسان کے لیے بھلائی اسی میں ہے کہ اللہ نے اسے مستقبل کے علوم غیبیہ سے محروم رکھا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس میں انسان کے لیے کوئی خیر دیکھتا تو وہ ضرور اسے عالم غیب کے بارے میں پورا علم عطا کردیتا۔
اللہ نے انسان کو اس قدر قوت اور استعداد دی ہے جس نے ذریعے وہ اس دنیا میں اپنے فرائض بحیثیت خلیفہ اللہ فی الارض پورے کرسکے۔ یہ فرائض کوئی معمولی فرائض نہیں دیں۔ اس سے آگے اللہ نے انسان کو مزید غیبی قوتیں نہیں دیں ۔ اگر انسان کو ایسی قوت دے دی جاتی جس کے ذریعہ وہ مستقبل کے پردوں کو چاک کرکے معلومات حاصل کرسکتا تو اس کے ذریعہ اس کی ان قوتوں میں کوئی اضافہ ممکن نہ تھا۔ جن کے ذریعہ وہ یہاں بطور خلیفہ کام کر رہا ہے۔ بلکہ واقعات مستقطل کے سامنے پردوں کا نصب کرنا ہی دراصل اس شوق علم کے لیے مہمیز کا کام کرتا ہے۔ یوں وہ اپنے طور پر غیوب مستقبل کے لیے نقب زنی کرنے اور کھوج لگانے کی سعی کرتا رہتا ہے۔ اس طرح وہ زمین کے اندر پوشیدہ رازوں کو ڈھونڈتا ہے۔ وہ سمندر کے سینے کو چیرتا ہے۔ وہ آسمان کی فضاؤں میں دور تک دوڑتا ہے۔ وہ اس کائنات کے پوشیدہ رازوں کا انکشاف کرتا ہے۔ اور انسانوں کے لیے بھلائی کے جو راز ہیں ، ان کو وہ دریافت کرتا رہتا ہے۔ وہ زمین سے مواد اور عناصر کی تحلیل کرتا ہے۔ اس کی ترکیب اور شکل و صورت میں کیمیاوی عمل کرتا ہے اور زندگی کی انواع و اقسام اور طرز و طریقوں میں تبدیلیاں لاتا ہے۔ اور اس طرح اس زمین کی تعمیر و ترقی میں نہایت ہی اہم کردار ادا کررہا ہے اور جن ذمہ داریوں کے ساتھ اللہ نے انسان کو منصب خلافت دیا تھا انہیں پوری ذمہ داری کے ساتھ ادا کر رہا ہے
صرف انسان ہی کو علوم غیبہ سے محروم نہیں کیا گیا۔ زمین و آسمان میں جس قدر مخلوق بھی ہے اسے محروم کیا گیا ہے ، خواہ ملائکہ ہیں یا جن ہیں یا دوسری کوئی مخلوق ہے جو اللہ کے علم میں ہے۔ ان سب کو علم غیب نہیں دیا گیا اس لیے کہ ان کو اس کی ضرورت ہی نہ تھی۔ اس لیے تمام غیبی علوم اور واقع ہونے والے حوادث کا علم صرف اللہ کو ہے۔
قل لا یعلم ۔۔۔۔۔ الا اللہ (27: 65) ” کہو ، آسمان اور زمین میں کوئی بھی غیب کا علم نہیں رکھتا ، اللہ کے سوا “ یہ ایک قطعی نص ہے ، اور اس کے ہوتے ہوئے کوئی شخص علم غیب کا دعویٰ نہیں کرسکتا اور نہ اس سلسلے میں اوہان و خرافات پر یقین کرنے کی کوئی گنجائش رہتی ہے۔
غیب کی عمومی نفی کے بعد اب قیام قیامت کی خصوصی نفی کی جاتی ہے۔ کیونکہ عقیدہ توحید کے بعد اہل شرک کے ساتھ مسلمانوں کا بڑا نزاع یہی تھا۔ وما یشعرون ایان یبعثون (27: 65) ” اور وہ تو نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے “۔ یعنی وہ لوگ جن کی پوجا تم کرتے ہو ، ان کو تو قیامت کا شعور تک نہیں ہے۔ جب ان کو قیامت کا شعور ہی نہیں تو علم کیسے ہوگا تو قیام قیامت ان مغیبات مکیں سے ہے جن کا علم زمین و آسمان میں کسی کو نہیں ہے بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم ہی بہت محدود ہے
بل ادرک علمھم فی الاخرۃ (27: 66) ” بلکہ آخرت کا تو علم ہی ان سے گم ہوگیا ہے “۔ یہ اپنے حدود میں بہت
دور چلا گیا ہے اور لوگوں کا اس تک پہنچنا دور رہ گیا ہے۔ اور اس کے اور ان کے درمیان پردے حائل ہوگئے ہیں۔
بل ھم فی شک منھا (27: 66) ” بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں “۔ ان لوگوں کو اس قیامت کے آنے کا یقین نہیں ہے۔ یہ تو دور کی بات ہے کہ ان کو اس کے آنے کے وقت کا کوئی علم ہو یا اسکے وقوع کے بارے میں وہ انتظار کر رہے ہیں
بل ھم فی شک منھا (27: 66) ” بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں “۔ ان لوگوں کو اس قیامت کے آنے کا یقین نہیں ہے۔ یہ تو دور کی بات ہے کہ ان کو اسکے آنے کے وقت کا کوئی علم ہو یا اس کے وقوع کے بارے میں وہ انتظار کر رہے ہیں
بل ھم منھا عمون (27: 66) ” بلکہ یہ اس سے اندھے ہیں “۔ یعنی وہ تو اس کے بارے میں اندھے ہیں۔ قیامت کے حوالے سے ان کو کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔ نہ اس کی نوعیت کے بارے میں وہ کچھ یاد کریں گے۔ ان کی یہ دوری پہلی اور دوسری دوری سے بھی زیادہ ہے۔
وقال الذین کفروا ۔۔۔۔۔ انا لمخرجون (27: 67) ۔ کفار کے سامنے یہی عقیدہ تھا کہ جب ہم مرجائیں گے اور قبروں میں ہمارے جسم مٹی ہوجائیں گے اور بکھر جائیں گے۔ جیسا کہ یہ مشاہدہ ہے کہ تمام مردے دفنائے جانے کے کچھ عرصہ بعد اسی طرح ہوتے ہیں۔ شاذو نادر ہی جسم محفوظ رہتے ہیں۔ جب ہم بھی ایسے ہوجائیں گے اور ہمارے آباؤ اجداد بھی ایسے ہی جائیں گے تو کیا ہمیں دوبارہ نکالا جائے گا ، زندہ کیا جائے گا جبکہ ہمارے اجسام کے ذرے مٹی میں مل چکے ہوں گے۔ یہ تو بڑی مسعبد بات ہے۔ وہ یہ بات کرتے ہیں اور مادہ کے بارے میں ان کا جو تصور ہے وہ ان کے لیے حیات اخروی کے تصور کو مشکل بنا رہا ہے لیکن وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ ان کو پہلے بھی پیدا کیا گیا اور اس پیدائش سے قبل وہ کچھ بھی نہ تھے۔ کسی کو پتہ نہ تھا کہ اس کے جسم میں جو خلئے اور جو ذرات ہیں اور جن سے ان کی زندگی کا یہ ہیکل بنا ہوا ہے۔ یہ کہاں کہاں سے جمع ہوئے ، یہ زمین کے اطراف اور سمندر کی گہرائیوں میں بکھرے ہوئے تھے اور یا اس کائنات کی فضاؤں میں اڑ رہے تھے۔ زمین سے مٹی لی گئی ، ہواؤں سے ذرات لیے گئے ، پانی کے ذرات کہاں کہاں سے کس کس بادل نے اٹھا کر لائے ، اور بعض ذرات تو سورج سے آئے۔ پھر جو بدستور بذریعہ تنفس ، نباتات نیز ، حیوانات کے دودھ اور گوشت ، پھر بخارات کے ذریعہ جس میں داخل ہوتے ہیں ، پینے کے ذریعے جو چیزیں جسم کا حصہ بنتی ہیں۔ پھر سورک کی گرمی سے جو جسم اثر لیتا ہے۔ یہ سب متفرق چیزیں جن کی تعداد تو صرف اللہ جانتا ہے۔ یہ سب چیزیں انسانی جس میں جمع ہوجاتی ہیں اور یہ انسان اس چھوٹے سے خوردبینی انڈے سے یہاں تک پہنچتا ہے ، اور یہ انڈا رحم مادر کی دیواروں کے ساتھ متعلق ہوتا ہے اور بڑا ہوکر ، مر کر کفن کے اندر یہ سب اجزاء جمع ہوتے ہیں۔ یہ تو ہے اس کی پہلی تخلیق۔ تو اس میں کیا تعجب ہے کہ اس مخلوق کو اللہ قبر سے دوبارہ اٹھالے۔ لیکن وہ لوگ یہ بات بہر حال کرتے تھے اور اس قسم کے لوگوں میں سے بعض آج بھی موجود ہیں جو ایسی ہی باتیں کرتے ہیں۔ وہ یہ باتیں کرتے تھے اور اس کے بعد مزید مزاح اور ناپسندیدگی کے اظہار کے لیے وہ یہ کہتے تھے۔
لقد وعدنا ۔۔۔۔۔۔ اساطیر الاولین (27: 67)
یہ لوگ جانتے تھے کہ ان سے پہلے بھی ، رسولوں نے ان کے آبا کو اسی طرح قیامت سے ڈرایا ہے اور حساب و کتاب اور حشر و نشر کی بات کی ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کے لیے عقیدہ آخرت بالکل ایک نیا عقیدہ نہ تھا۔ یہ نہ تھا کہ وہ بعث بعد الموت کے معنی ہی نہ سمجھتے ہوں بلکہ ان کا اعتراض یہ تھا کہ صدیوں سے یہ وعدے کیے جا رہے ہیں ان کا تحقق نہیں ہوا۔ چناچہ اس بنا پر وہ اس عقیدے کا مذاق اڑاتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ یہ پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں اور حضرت محمد ﷺ ان کو نقل کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہ لوگ اس بات سے غافل تھے کہ قیام قیامت کے لیے تو ایک وقت مقرر ہے۔ وہ نہ کسی کی جلد بازی سے جلدی آسکتا ہے اور نہ کسی کی غفلت کی وجہ سے موخر ہو سکتا ہے۔ یہ تو ایک معلوم اور مقرر وقت پر ہوگا اور اس کا علم زمین و آسمان دونوں کی مخلوقات سے خفیہ رکھا گیا ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) سے یہی کہا ، جب انہوں نے آپ ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھا۔
ما المسؤل عنھا باعلم من السائل ” اس کے بارے میں پوچھے جانے والا پوچھنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتا “
یہاں ان لوگوں کو ان لوگوں کی قتل گاہوں کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے ، جو ان سے قبل ہلاک کیے گئے ، جنہوں نے سچائی کا انکار کیا اور قرآن میں یہاں ان کو مجرمین سے تعبیر کیا گیا ہے۔
قل سیروا فی الارض ۔۔۔۔۔ المجرمین (27: 69) ” “۔ یہاں ، اس ہدایت ، سیر فی الارض کے ذریعہ ان کی سوچ کے حدود کو وسیع کیا جاتا ہے۔ کیونکہ انسانیت کی کوئی سوسائٹی بھی سجرہ انسانیت سے مقطوع نہیں ہوتی۔ انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو سنن رکھے ہیں وہ سب کے لیے اٹل ہیں۔ اس سے قبل انسانی سوسائٹیوں کے مجرمین کو جو حالات درپیش ہوئے ، بعد میں انے والے بھی لازما ان جیسے حالات ہی سے دوچار ہوں گے۔ کیونکہ اللہ کے سنن اٹل ہوتے ہیں ، وہ کسی کی رو رعایت نہیں کرتے۔ اور زمین میں چلنے پھرنے سے نفس انسانی کی اطلاعات کا دائرہ بہت ہی وسیع ہوجاتا ہے۔ انسان کا دماغ روشن ہوجاتا ہے اور سیرفی الارض کے دوران انسان پر ایسے لمحات آتے ہیں کہ انسان کا ضمیر روشن ہوجاتا ہے ۔ قرآن کریم انسانوں کو اس کائنات کے اٹل اصولوں اور سنن کی طرف بار بار متوجہ کرتا ہے۔ اور انسانوں کو دعوت دیتا ہے کہ ان سنن یا بالفاظ دیگر سلسلہ علت و مطول پر ذرا غور کرو ، اس کی کڑیوں کو دیکھتے چلے جاؤ، تاکہ تمہاری زندگی انسانیت کی مجموعی زندگی سے وابستہ اور متصل رہے اور تمہاری سوچ کی حدود وسعت اختیار کریں۔ تمہاری سوچ محدود ، تنگ اور زندگی کے دھارے سے منقطع نہ ہو۔
ان توجہات کے بعد اب رسول اللہ ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ان لوگوں سے اپنے ہاتھ جھاڑ دیں۔ ان کو چھوڑ دیں کہ وہ جس انجام سے دو چار ہوتے ہوں ہوجائیں۔ جس طرح تاریخ میں ان سے قبل بھی ایسے مجرمین ایسے ہی انجام سے دوچار ہوئے۔ اور یہ لوگ تحریک اسلامی کے خلاف جو مکاریاں کر رہے ہیں ۔۔۔۔ ۔ کو کوئی نقصان نہ دے سکیں گی۔ نیز ازروئے ہمدردی ان کے
لیے پریشان بھی نہ ہوں کیونکہ آپ نے تبلیغ اور راہنمائی کا حق ادا کردیا ہے اور ان کو خوب سمجھا دیا ہے۔
ولا تحزن ۔۔۔۔۔۔ یمکرون (27: 70) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کس قدر حساس تھے اور آپ کو اپنی قوم کے برے انجام کے بارے میں کس قدر فکر مندی تھی۔ کیونکہ آپ جانتے تھے کہ جن اقوام نے تکذیب کی ان کا حشر کیا ہوا۔ اور اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے ، اس وقت ان لوگوں نے نبی ﷺ کے خلاف مکاری کے جال بن رکھے تھے۔ اور وہ مسلمانوں ، دعوت اسلامی کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینکنا چاہتے تھے اور حضور ﷺ اس کے بارے میں بہت ہی فکر مند تھے۔
بعثت بعد الموت کے بارے میں ان کے جو خیالات تھے ان کے مزید نمونے یہاں پیش کیے جاتے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں ان کو جس برے انجام سے ڈرایا جاتا تھا ، وہ اس کے ساتھ مزاح کرتے تھے اور کہتے تھے۔
ویقولون متی ۔۔۔۔۔ صدقین (27: 71) ۔ یہ وہ تب کہتے تھے جب کبھی ان کو امم سابقہ کی طرح کے برے انجام سے ڈرایا جاتا تھا ، جن کی بستیوں پر سے وہ رات دن گزرتے تھے مثلاً حضرت لوط کی قوم کی بستی سدوم ، اور حجر میں ثمود کے آثار اور احقاف کے علاقے میں قوم عاد کے آثار اور قوم سبا کے کھنڈرات جو سیل العرم کے بعد تباہ ہوئے۔ تو یہ لوگ کہتے تھے کہ جن باتوں سے ہمیں ڈراتے ہو ، متعین طور پر بتاؤ وہ عذاب کب آئے گا۔ اگر سچے ہو تو بتاؤ کہ وہ کیسا عذاب ہوگا اور کب ہوگا۔ یہاں پھر اس کا جواب بھی ویسے ہی حقارت آمیز انداز میں نہایت ہی اختصار کے ساتھ دے دیا جاتا ہے۔
قل عسی ان یکون ۔۔۔۔۔ تستعجلون (27: 72) ۔ اس طرح اللہ اور حضور اکرم ﷺ ان کے دل میں عذاب اور ہلاکت کے تصور سے خوف پیدا کرتے ہیں۔ یعنی ہو سکتا ہے کہ یہ عذاب تمہارے اسی طرح قریب ہو اور تمہارے ساتھ لگا ہوا ہو جس طرح اونٹ پر سوار شخص کے پیچھے بیٹھا ہوا دوسرا شخص اس کے بالکل قریب ہوتا ہے۔ اور تمہیں اس کا شعور نہ ہو۔ اور اپنی غفلت اور نادانی کی وجہ سے جلدی کر رہے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے پیچھے بیٹھا ہوا ہے اور اچانک تمہیں پکڑ لے گا۔ ردیف کی طرف سے اس طرح اچانک پکڑے جانے سے انسان کا پورا جسم کانپ اٹھتا ہے۔ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ یہ عذاب تمہیں پکڑ لے۔ اس حال میں کہ تم مزاح کر رہے ہو۔ کون جانتا ہے کہ مستقبل میں اور اگلے لمحے میں کیا ہونے والا ہے۔ کیونکہ مستقبل کا غیب تو مستور ہے۔ ہمارے اور اس کے درمیان پردے حائل ہیں۔ کسی کو کیا معلوم کہ پردوں کے پیچھے کیا ہے۔ بعض اوقات چند قوموں کے فاصلے پر ایک خوفناک صورت حالات ہوتی ہے۔ عقلمند شخص تو ہر وقت چوکنا رہتا ہے ، ڈرتا ہے اور ہر وقت اور ہر قسم کی صورت حال کے لیے تیار رہتا ہے کہ کوئی صورت بھی پیش آسکتی ہے۔
وان ربک ۔۔۔۔۔۔ لا یشکرون (27: 73)
۔ اور اللہ کا فضل تو ظاہر و باہر ہے کہ اللہ لوگوں کو مہلت دئیے جا رہا ہے اور ان سے عذاب کو موخر کر رہا ہے۔ حالانکہ وہ قصوروار اور گناہ گار ہیں اور گناہوں پر اصرار کر رہے ہیں۔ یہ اس لیے کہ ان کی اصلاح کی امید ابھی باقی ہے اور عذاب کو موخر کرنا تو اللہ کا فضل ہے۔ اس کا شکر ادا کرنا چاہئے لیکن اکثر لوگ شکر ادا کرنے کے بجائے الٹا مزاح کرتے ہیں۔ اور اپنی گمراہی میں بغیر سوچے سمجھے بڑھے چلے جا رہے ہیں۔
وان ربک لیعلم ما تکن صدورھم وما یعلنون (27: 74) ” “ اللہ ان پر عذاب نہیں لاتا اور اسے موخر کرتا چلا جاتا ہے۔ اس کے باوجود کہ وہ خوب جانتا ہے کہ اپنئ سینوں میں یہ لوگ کیا چھپائے ہوئے ہیں اور کیا وہ طاہر کر رہے ہیں۔ اس سبق کا خاتمہ اس بات پر ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی کوئی شے اللہ سے غائب اور پوشیدہ نہیں ہے۔
وما من غائبۃ فی السماء والارض الا فی کتب مبین (27: 75) فکر و خیال اب زمین و آسمان کے وسیع میدان میں چلا جاتا ہے۔ زمین و آسمان کے اندر چھپے ہوئے بھید تو بیشمار ہیں۔ بیشمار راز ، بیشمار قوتیں ، بیشمار عجوبے ، سب کے سب اللہ کے علم و ناموس کے پابند۔ کوئی چیز بھی علم الٰہی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اور نہ وہ بنیست علم الٰہی غائب ہے۔ یہ حاضر و غائب تو انسانی علم کی تقسیم ہے۔ اس سورت کی تذکیر تو علم پر ہے۔ پوری سورت میں علم کی طرف اشارات ہیں اور اس سبق کے اختتام پر یہ آخری اشارہ ہے۔
اللہ کے علم مطلق کے حوالے سے یہاں علم الٰہی نے کس طرح قرآن کریم میں فیصلہ کن اور دو ٹوک باتیں سامنے لاکر بنی اسرائیل کے وہ مسائل حل کر دئیے جس میں وہ صدیوں سے مختلف فیہ تھے۔ یہ قرآن اللہ کے علم کا ایک حصہ اور نمونہ ہے۔ اور اللہ کے فضل میں سے ایک فضل ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک گونہ تسلی ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو اللہ کے اس آخری فیصلے کی طرف بلاتے رہیں۔
ان ھذا القران ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا من یؤمن بایتنا فھم مسلمون (81)
نصاری کے درمیان حضرت عیسیٰ اور آپ کی والدی کے بارے میں شدید اختلاف رائے تھا۔ ایک گروہ کا خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ محض ایک انسان تھے۔ بعض کہتے تھے اللہ نے ان کے بارے میں باپ ، بیٹے اور روح القدس کے جو الفاظ استعمال کیے ہیں دراصل وہ اللہ نے ذات باری کے لیے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں۔ تو اس گروہ کے نزدیک اللہ تین اقانیم سے مرکب ہے۔ اب ، ابن اور روح القدس۔ ابن چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے تو اللہ ، جو صورت رب میں تھے ، وہ روح القدس کی صورت میں اترے اور حضرت مریم میں ایک انسان کی شکل اختیار کر گئے۔ اور یہ اللہ پھر مریم سے بصورت انسان پیدا ہوئے۔ ایک جماعت نے کہا کہ ابن ازلی نہیں ہے ، جس طرح باپ ازلی ہے۔ ہاں وہ عالم سے قبل پیدا کردہ ہے۔ لہٰذا وہ رب سے کم درجے کا ہے اور رب کے تابع فرمان ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ روح القدس اقتوم نہیں ہے اور نیقیا کی مجلس منعقدہ 325 نے یہ فیصلہ کیا اور قسطنطینہ کی مجلس 381 نے اس کی توثیق کی کہ ابن اور روح القدس باپ کے برابر ہیں اور یہ بھی لاہوت کی وحدت کا حصہ ہیں۔ یہ بیٹے بھی ازل ہی میں پیدا ہوئے تھے جبکہ روح القدس رب سے نکلے ہیں۔ اور طیفلہ کی مجلس منعقدہ 589 نے یہ فیصلہ کیا کہ روح القدس ابن سے نکلا ہے۔ اس نکتے پر مشرقی اور مغربی کنیہ کے درمیان افتراق پیدا ہوگیا جو آج تک نکتہ اختلاف ہے۔ قرآن کریم جب نازل ہوا تو اس نے ایک فیصلہ کن بات کردی کہ وہ ایک کلمہ ہے جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور اللہ کی طرف سے روح ہے۔ اور وہ بشر ہیں
ان ھو الا ۔۔۔۔۔ اسراء یل (43: 59) ” نہیں ہے وہ مگر ایک بندہ جس پر ہم نے انعام کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ایک مثال بنا دیا “۔ یہ تھی وہ فیصلہ کن بات جس میں ان کے درمیان اختلاف رائے تھا۔
اسی طرح بنی اسرائیل کے اندر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سولی پر چٖڑھائے جانے کے مسئلے میں بھی اختلاف ہوا۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کو سولی پر چڑھایا گیا۔ آپ فوت ہوگئے اور دفن کر دئیے گئے اور تین دنوں کے بعد آپ اپنی قبر سے نکلے اور آسمانوں کی طرف اٹھالیے گئے۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کے حواریوں میں سے ایک شخص یہوذا کو حضرت مسیح کے مشابہ بنا دیا گیا اور اس کو سولی دے دی گئی اس لیے کہ اس شخص نے حضرت مسیح کے ساتھ خیانت کی تھی اور حکومت کو آپ کی نشاندہی کی تھی اور آپ گرفتار ہوگئے تھے۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کے ایک حواری شمعون کو آپ کا مشابہ بنا دیا گیا اور وہ گرفتار ہوئے۔ قرآن کریم نے اصل بتا دی وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم (4: 157) ” انہوں نے اسے قتل نہیں کیا اور نہ سولی پر چڑھایا ، لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا “۔ اور دوسری جگہ قرآن مجید نے فرمایا :
یا عیسیٰ انی ۔۔۔۔۔۔ ومطھرک (3: 55) ” اے عیسیٰ میں تمہیں واپس لے لوں گا اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تمہیں پاک کرنے والا ہوں “۔ یہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں فیصلہ کن بات تھی۔
اس سے قبل یہودیوں نے بھی تورات کی شریعت کو بدل دیا تھا۔ کئی احکام میں تحریفات کردی گئی تھی۔ قرآن مجید آیا تو اصل شریعت بتا دی۔
وکتبنا علیھم فیھا ۔۔۔۔۔۔۔ قصاص ” تورات میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک ، کان کے بدلے کان ، دانت کے بدلے دانت اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ “۔ قرآن کریم نے بنی اسرائیل کی تاریخ اور ان کے انبیاء کے بارے میں حقائق بتائے۔ اور ان حقائق میں سے ان قصے اور کہانیوں اور افسانوں کو علیحدہ کرکے صاف کردیا جو ان حقائق کے ساتھ انہوں نے ناحق ملا دئیے تھے۔ یہ افسانے ایسے تھے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی نبی بھی معصوم اور پاک ہوکر نہیں نکل سکتا تھا۔ ان کے افسانوں کے چند نمونے مشہور ہیں۔ انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) پر الزام لگایا کہ انہوں نے ابو مالک شاہ فلسطین اور فرعون شاہ مصر کے سامنے اپنی بیوی کو بہن کہہ کر پیش کیا۔ اور ان کے کہنے کے مطابق حضرت ابراہیم ان کی نظروں میں مقام بلند حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) جن کا نام اسرائیل تھا ، انہوں نے خود اپنے باپ اسحاق سے ، حضرت ابراہیم کی برکات حیلہ سازی ، جھوٹ اور چوری کے طور پر حاصل کیں۔ جبکہ یہ تبرکات ان کے بڑے بھائی عیصو کی ملکیت تھیں۔ اور حضرت لوط کے بارے میں ان کی روایات یہ ہیں کہ ان کی دو بیٹیوں نے ان کی میراث اوروں کے پاس نہ چلی جائے اور جس طرح ان لڑکیوں نے چاہا ایسا ہی ہوا۔ اور داؤد نے اپنے محل میں ایک خوبصورت عورت کو دیکھا اور معلوم ہوا کہ وہ ان کے فوجی کی بیوی ہے۔ پھر اس فوجی کو انہوں نے ایک ہلاکت آفرین مہم میں بھیجا تاکہ وہ بیوی کو حاصل کرسکیں۔ اور سلیمان لعل کی عبادت کی طرف مائل ہوگئے۔ محض اپنی عورتوں میں سے ایک عورت کو خوش کرنے کے لئے ، کیونکہ ان کو اس کے ساتھ محبت تھی اور وہ اس کے مطالبے کو رد نہ کرسکتے تھے۔ یہ تھے ان کے الزامات اپنے پیغمبروں پر۔
اور جب قرآن کریم نازل ہوا تو اللہ نے تمام پیغمبروں کی صفائی بیان کی اور ان اوہام اور افسانوں کو پیغمبروں کی سیرتوں سے نکال دیا۔ کیونکہ یہ اوہام یہود و نصاریٰ نے خود اپنی کتابوں کے اندر داخل کر دئیے تھے۔ خصوصا قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہا السلام) کی ذات کے ساتھ منسوب تمام غلط باتوں کی نفی کی اور وہ صحیح تعلیمات بیان کردیں جو اللہ کی طرف سے تھیں۔ اس مفہوم میں اس قرآن کو سابقہ کتب کے لیے مہیمن کہا گیا ہے کہ وہ سابقہ کتب کے اختلافات کا فیصلہ کرتا ہے اور تمام اختلافی اور جدلیاتی مسائل میں فیصلہ کن بات کرتا ہے۔
وانا لھدی ورحمۃ للمومنین (27: 77) ” اور یہ ہدایت و رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے “۔ یہ وہ ہدایت ہے جو اہل ایمان کو ضلالت اور اختلاف سے بچاتا ہے۔ ان کو ایک منہاج حیات دیتا ہے۔ زندگی کی راہ میں ان کے ساتھ معاونت کرتا ہے اور ان کو اپنی تعلیماے اور نظریات دیتا ہے جو اس پوری کائنات میں موجود سنن الہیہ سے ہم آہنگ ہیں۔ اور یہ قرآن ہدایت کے ساتھ رحمت بھی ہے ۔ انسانوں کو شک ، بےچینی اور پریشانی اور بےیقینی سے نجات دیتا ہے۔ اور انسان کو ایسے کچے نظریات سے بچاتا ہے جو آئے دن بدلتے رہتے ہیں۔ پائے چوبیں رکھتے ہیں اور اپنے حال پر کھڑے نہیں ہوسکتے۔ اس کی تعلیمات انسان کو مطمئن کرکے اللہ کے جوار رحمت اور بارگاہ سکون تک پہنچاتی ہیں۔ اس طرح انسان اپنے ماحول ، اپنی سوسائٹی اور کود اپنے افکار کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور آشتی کے ساتھ رہتے ہیں۔ اور آخرت میں اللہ کی رضا مندی اور عظیم ثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔ انسانی نفس کی تربیت اور از سر نو قوانین فطرت کے مطابق اس کی تسکیل و تصفیل کے معاملے میں قرآنی طریق کار ایک منفرد طریق کار ہے۔ اس طریق کار کے مطابق انسان اپنی زندگی ان قوانین فطرت کے مطابق گزارتا ہے جو خود اس کائنات میں بھی جاری وساری ہیں اور اس طرح انسان کی زندگی نہایت سکون کے ساتھ ، فطری انداز میں گزرتی ہے۔ اس میں کوئی تکلف اور بناوٹ نہیں ہوتی۔ اسلامی منہاج تربیت کے نتیجے میں انسان اپنی زندگی کی گہرائیوں تک میں اطمینان محسوس کرتا ہے اور یہ بہت بڑی دولت ہوتی ہے۔ اور یہ اطمینان اسے اس وجہ سے حاصل ہوتا ہے کہ اسلامی نظام تربیت کے مطابق انسان کی زندگی قوانین فطرت کے ساتھ متصادم نہیں ہوتی اور نہ انسان قوانین فطرت اور ان کے مطابق چلنے والی اس کائنات سے متصادم ہوتا ہے ، نہ انسانی اخلاقیات ان قوانین فطرت سے متصادم ہوتی ہیں۔ بشرطیکہ انسان قوانین فطرت اور نوامیس کو اچھی طرح معلوم کرسکے اور وہ مقامات معلوم کرلے جہاں انسانی شخصیت اور اس کائنات کے درمیان باہم اتصال ہوتا ہے۔ اور انسان اس نتیجے تک پہنچ جائے کہ انسانی فطرت اور کائناتی فطرت اور اسلامی نظام زندگی کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ وہ باہم متناسب اور ہم آہنگ ہیں۔ یہ ہے وہ عظیم سلامتی جو انسانی شخصیت اور انسان کے اردگرد پھیلی ہوئی اس عظیم کائنات کے درمیان قائم ہوتی ہے اور اس سلامتی کے نتیجے میں انسانی سوسائٹی نہایت ہی پر سکون زندگی بسر کرتی ہے۔ اور یہ ہے وہ رحمت جس کی طرف قرآن کریم اشارہ کرتا ہے۔ یہ رحمت الہیہ کا وسیع تر مفہوم ہے۔
ان اشارات کے بعد کہ قرآن کریم بنی اسرائیل کے بیشتر نطریاتی مسائل کو حل کرتا ہے ، ان کے اختلافات کو دور کرتا ہے اور اہل ایمان کو ایک فطری نظام زندگی دے کر ان کو عظیم سکون اور سلامتی عطا کرتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ حضرت نبی ﷺ کو یہ تسلی دیتا ہے کہ آپ کی قوم آپ کے ساتھ ناحق مجادلہ کر رہی ہے۔ اس کا فیصلہ بھی عنقریب اللہ کر دے گا ۔ ایسا فیصلہ جسے کوئی رد نہ کرسکے گا۔ کیونکہ اللہ کے فیصلے حقائق اور صحیح علم پر مبنی ہوتے ہیں۔
فتوکل علی اللہ انک علی الحق المبین (27: 79) ” پس اے نبی ﷺ ، اللہ پر بھروسہ رکھو یقیناً تم صریح حق پر ہو “۔ اللہ تعالیٰ نے حق کی نصرت کرنا ، حق کو غالب کرنا ، اپنے اوپر اسی طرح لازم قرار دیا ہے جس طرح اس کائنات میں اللہ کے دوسرے چلنے والے قوانین لازمی اور اٹل ہیں۔ یہ قوانین رکتے نہیں ، اسی طرح حق بھی غالب آتا ہے لیکن اللہ کی بعض پوشیدہ حکمتوں کی وجہ سے کبھی کبھار یہ غلبہ دیر سے آتا ہے اور ان حکمتوں کو اللہ ہی جانتا ہے۔ کچھ مقاصد ہوتے جن کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے لیکن یہ سنت پوری ہوکر رہتی ہیں اور آخر کار حق کو غلبہ نصیب ہوتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اس کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ انسان کا ایمان اس وقت تک پورا اور مکمل نہیں ہوسکتا جب تک وہ اس سنت کے اٹل ہونے پر ایمان نہ لائے۔ مطلب یہ ہے کہ حق کی کامیابی کے لیے اللہ کے ہاں ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور اس سے قبل یہ کامیابی نہیں آسکتی۔ انسان اگر جلدی کرتے ہیں تو یہ اس کی غلطی ہوگی۔
نبی ﷺ کو اپنی قوم کی طرف سے بڑی مشکلات درپیش تھیں ، بات بات پر وہ جھگڑتے تھے ، کٹ جحتی اور ہٹ دھرمی کرتے تھے۔ محض عناد کی وجہ سے بادی النظر چیزوں کو بھی نہ مانتے تھے۔ حضور ﷺ کی جدوجہد اور نہایت ہی واضح بیان و تبلیغ کے بعد بھی وہ کفر پر اصرار کر رہے تھے۔ قرآن کریم کے بار بار کے خطاب کو نظر انداز کر رہے تھے۔ ان سب باتوں پر آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ ﷺ نے تو تبلیغ کا حق ادا کردیا ہے ، کوئی قصور نہیں کیا ہے ، لیکن بات کو وہ لوگ سنتے ہیں جو زندہ ہوں اور ان کے کانوں کے پردے حساس ہوں۔ مردے تو کبھی سنا نہیں کرتے۔ مردوں کا دماغ مرچکا ہوتا ہے اور وہ غور و فکر سے عاری ہوجاتے ہیں۔ اس لیے مردے نہ ایمان لاتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔ بس آپ کی قوم کے دل و دماغ مرچکے ہیں۔ لہٰذا ان کو سنانا اب نہ سنانے کے برابر ہوگیا ہے۔ ہدایت پر آنے کی ان کے سامنے کوئی سبیل باقی نہیں ہے۔ اب چھوڑدیں ان کو اپنی گمراہی اور سرکشی اور بےراہ روی پر۔
انک لا تسمع ۔۔۔۔۔۔۔ فھم مسلمون (27: 80- 81) ” تم مردوں کو نہیں سنا سکتے ، نہ ان بہروں تک اپنی پکار پہنچا سکتے ہو ، جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں ، اور نہ اندھوں کو راستہ بتا کر بھٹکنے سے بچا سکتے ہو۔ تم تو اپنی بات انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں “۔
قرآن کریم نے نہایت ہی عجیب انداز میں ان لوگوں کی نظریاتی اور نفسیاتی حالت کی تصویر کشی کی ہے۔ چناچہ غیر محسوس معانی کو محسوس شکل دے دی ہے۔ قلبی جمود ، روح کی مردنی ، کند ذہنی اور شعور کی گراؤٹ کو یوں بیان کیا ہے کہ گویا یہ لوگ مردے ہیں اور بہرے ہیں اور رسول ان کو پکار رہا ہے۔ یہ نہیں سنتے ، نہ جواب دیتے ہیں۔ کیونکہ مردے نہ سنتے ہیں ، نہ ان کو شعور ہوتا ہے اور نہ جواب دے سکتے ہیں۔ ایک دوسری محسوس صورت یوں ہے کہ ایک شخص بہرا ہے۔ بالکل نہیں سنتا اور پکار والے کی طرف اس کا رخ بھی نہیں ہے۔ بلکہ وہ مخالف سمت پر جا رہا ہے۔ ایسے شخص کو لاکھ پکارو وہ نہ سنے گا۔ کبھی قرآن ان کو اس شکل میں لاتا ہے جس طرح اندھا ہوتا ہے۔ ایک اندھا شخص راہ راست پر کیسے جاسکتا ہے۔ جب اسے اگلے قدم پر کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔ ان آیات میں ان تمام صورتوں کو نہایت ہی مجسم و شخصی صورت میں پیش کردیا گیا ہے۔
اب ان مردوں ، بہروں اور اندھوں کے مقابلے میں اہل ایمان ہیں۔ یہ زندہ ہیں ، یہ سنتے ہیں ، یہ دیکھتے ہیں۔
ان تسمع الا من یومن بایتنا فھم مسلمون (27: 81) ” آپ اپنی بات انہی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں “۔ یعنی جن لوگوں کے اندر زندگی ، قوت سامعہ اور قوت باصرہ ہے۔ آپ انہی کو سنا سکتے ہیں ۔ اور ایسے ہی لوگوں کو سنائیں۔ یہ علامات زندگی ہیں اور شعور زندہ لوگوں میں ہوتا ہے۔ سننے والے اور دیکھنے والے ہی دعوت کو قبول کرسکتے ہیں اور یہ اہل ایمان ہی ہیں جن کے اندر حیات ، سماعت اور بصارت پائی جاتی ہے۔ ان لوگوں پر رسول اللہ ﷺ نے کام کیا۔ انہوں نے دعوت کو قبول کیا اور سرتسلیم خم کردیا۔
اسلام بہت ہی سادہ اور قریب الفہم دین ہے۔ فطرت سلیم کے بہت ہی قریب ہے۔ قلب سلیم اور فطرت سلیم دعوت اسلامی کو پاتے ہی قبول کرتے ہیں اور سر تسلیم خم کردیتے ہیں۔ وہ پھر قیل و قال اور جدل وجدال میں نہیں پڑتے۔ یہی تصویر ہے اہل ایمان کی اور ایسے ہی لوگوں کو دعوت دینا چاہئے۔ ایسے لوگ دعوت کو سنتے ہی اس کی طرف لپکتے ہیں اور فوراً ایمان لاتے ہیں۔ مردوں کو اپنی جگہ پر چھوڑ کر داعی کو ایسے لوگوں تک پہنچنا چاہئے جو قبولیت کے لیے تیار ہوں۔