سورہ نمل: آیت 74 - وإن ربك ليعلم ما تكن... - اردو

آیت 74 کی تفسیر, سورہ نمل

وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ

اردو ترجمہ

بلا شبہ تیرا رب خُوب جانتا ہے جو کچھ ان کے سینے اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wainna rabbaka layaAAlamu ma tukinnu sudooruhum wama yuAAlinoona

آیت 74 کی تفسیر

وان ربک لیعلم ما تکن صدورھم وما یعلنون (27: 74) ” “ اللہ ان پر عذاب نہیں لاتا اور اسے موخر کرتا چلا جاتا ہے۔ اس کے باوجود کہ وہ خوب جانتا ہے کہ اپنئ سینوں میں یہ لوگ کیا چھپائے ہوئے ہیں اور کیا وہ طاہر کر رہے ہیں۔ اس سبق کا خاتمہ اس بات پر ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی کوئی شے اللہ سے غائب اور پوشیدہ نہیں ہے۔

آیت 74 وَاِنَّ رَبَّکَ لَیَعْلَمُ مَا تُکِنُّ صُدُوْرُہُمْ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ”اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ وہ اپنی زبانوں سے کیا کہتے ہیں اور ان کے دلوں میں کیا جذبات ہیں۔ ان کے دل تو گواہی دے چکے تھے کہ محمد ﷺ سچے ہیں اور قرآن بھی برحق ہے ‘ لیکن وہ محض حسد ‘ ّ تکبر اور تعصب کے باعث انکار پر اڑے ہوئے تھے۔ اس حوالے سے ان کی کیفیت فرعون اور قوم فرعون کی کیفیت سے مشابہ تھی جس کا حال اسی سورت کی آیت 14 میں اس طرح بیان ہوا ہے : وَجَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْہَآ اَنْفُسُہُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ط ”اور انہوں نے ان آیاتِ الٰہی کا انکار کیا ظلم اور تکبر کے ساتھ جبکہ ان کے دلوں نے ان کا یقین کرلیا تھا“۔ سورة البقرۃ کی آیت 146 اور سورة الانعام کی آیت 20 میں علماء اہل کتاب کی بالکل یہی کیفیت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے : اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَ ہُمْ یعنی وہ اللہ کے رسول ﷺ اور قرآن کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔

آیت 74 - سورہ نمل: (وإن ربك ليعلم ما تكن صدورهم وما يعلنون...) - اردو