درس نمبر 39 ایک نظر میں :
ان آیات میں ایک ایسی کہانی کی طرف اشارہ ہے جس کی کوئی مثال اس کرہ ارض پر نہیں ملتی بلکہ انسانیت کی تاریخ میں اس کے ساتھ ملتی جلتی کوئی مثال نہیں ہے ۔ یہ مثال بھی شاہد عادل ہے کہ یہ دین من جانب اللہ ہے اور لازما من جانب اللہ ہے ۔ اس لئے کہ انسانوں کا تصور انصاف اور عدالت جس قدر بھی بلند ہو ‘ ان کی روح جس قدر بھی صاف ہوجائے اور ان کا مزاج جس قدر بھی صراط مستقیم پر قائم ہو وہ اپنے آپ کو اس مقام بلند تک نہیں پہنچا سکتے ‘ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ کام صرف وحی الہی کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ انسانی تاریخ کے افق پر کھینچا جانے والا یہ گراف اس قدر اونچا ہے کہ اس مقام تک انسانیت صرف اسلامی نظام زندگی کے زیرسایہ ہی پہنچ سکی اور آئندہ بھی یہ سربلندی صرف اسلامی نظام ہی کے زیر سایہ نصیب ہو سکتی ہے ۔
یہ واقعہ اس وقت ہوا جب مدینہ کے یہودی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وہ تمام زہریلے تیر اور ہتھیار استعمال کر رہے تھے جو ان کے ترکش میں موجود تھے اور جس کی تفصیلات اس سورة ‘ سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں بیان ہوچکی ہیں۔ حالات ایسے تھے کہ یہودی اسلام کے خلاف ہر قسم کا جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے تھے ۔ وہ مشرکین کا ایک محاذ اسلام خلاف بنا رہے تھے اور مشرکین کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ ان کے لئے راہ ہموار کرتے تھے ‘ پروپیگنڈے میں جھوٹی خبریں اڑاتے تھے ‘ لوگوں کے ذہنوں کو خراب کرتے تھے ۔ حضور ﷺ کی قیادت کی توہین کرتے تھے ‘ وحی اور رسالت میں شکوک پیدا کرتے تھے ۔ وہ اسلامی معاشرے میں اندر سے انتشار پیدا کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے اور رات دن اس کام میں لگے ہوئے تھے کہ اسلام کے دشمنوں کو جمع کر کے مسلمانوں پر حملہ کرا دیں ۔ تحریک اسلامی مدینہ میں بالکل نئی تھی ‘ اور انسانوں کے نفوس کے اندر ابھی تک جاہلیت کے آثار موجود تھے ۔ بعض مسلمانوں اور یہودیوں اور مشرکوں کے درمیان ابھی تک رشتہ داری اور دوسرے روابط بھی قائم تھے اور یہ تمام امور صفوں کے لئے خطرے کا باعث تھے ۔
ایسے مشکل ‘ خطرناک ‘ اور ہنگامی حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو یہ سخت ہدایات دی گئیں ۔ مقصد یہ مقصد یہ تھا کہ ایک یہودی ملزم کے ساتھ انصاف کرو ‘ اس پر چوری کا الزام جھوٹا ہے اور جن لوگوں نے جھوٹا الزام لگایا ہے ان کا فرض ہے کہ وہ اس کی تلافی کریں ۔ یہ مدینہ کے انصار کا ایک گھرانا تھا ۔ انصار ان دونوں رسول اللہ ﷺ کا سرمایہ تھا ‘ جو ان تمام یہودی سازشوں کے مقابلے میں آپ کے حامی ومدد گار تھے اور آپ ﷺ کی رسالت اور دین کے معاون تھے ۔
رواداری ‘ سربلندی اور عدل و انصاف کا یہ کس قدر اونچا معیار ہے ۔ اس کی تعریف و توصیف کے لئے تو الفاظ نہیں ملتے ۔ تمام باتیں ‘ تمام تبصرے اور تمام تشریحات اس معیار اور سطح سے نیچے رہ جاتی ہیں ۔ اس سطح اور معیار تک انسانی طاقتیں اپنی کوشش نہیں پہنچ سکتیں ‘ صرف انسان یہ معجزہ نہیں دکھا سکتے ‘ یہ تو اسلامی منہاج کی قیادت اور رہنمائی ہے جو کسی انسان کو اس مقام بلند تک پہنچاسکتی ہے ۔
وہ کہانی جو ان آیات کے پس منظر کے سلسلے میں بیان ہوئی اور جسے متعدد مصادر نے نقل کیا ہے ‘ مناسب ہے کہ انصار سے سنی جائے ۔ قتادہ ابن النعمان اور ان کے چچارفاعہ دونوں نے حضور ﷺ کے ساتھ بعض غزوات میں جنگ فرمائی ۔ ان میں سے ایک کی زرہ گم ہوگئی (رفاعہ کی) عام طور پر انصار کے ایک خاندان بنو ابیرق کے ایک شخص کے بارے میں یہ شبہ ہونے لگا کہ اس نے یہ زرہ چوری کی ہے ۔ مالک نے حضور ﷺ کے پاس یہ رپورٹ درج کرائی کہ طعمہ ابن ابیرق نے میری زرہ چرائی ہے ۔ بعض روایات میں بشیر ابن ابیرق کا نام آتا ہے ۔ اس کے بارے میں یہ بھی مشہور تھا کہ وہ صحابہ کرام کی ہجو میں اشعار لکھتا اور مشہور کرتا کہ یہ فلاں عرب شاعر کے ہیں ۔ جب چور کو معلوم ہوا کہ اس کے خلاف رپورٹ ہوچکی ہے تو اس نے جلدی سے یہ زرہ ایک یہودی زید ابن سمین کے گھر پھینک دی اور اپنے خاندان کے بعض لوگوں سے کہا کہ میں نے زرہ غائب کردی ہے اور فلاں کے گھر میں پھینک دی ہے اور یہ جلد ہی اس کے گھر سے برآمد ہوگی ۔ تم رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور یہ کہو کہ ہمارے بھائی تو بےگناہ ہیں اور فلاں شخص چور ہے اور ہم نے ۔۔۔۔ اس سلسلے میں معلومات جمع کرلی ہیں ۔ آپ برسرعام ہمارے آدمی کی برات فرمائیں اور اس کی صفائی فرمائی دیں اس لئے کہ اگر اسے آپ کے ذریعے اللہ نے باعزت طور پر بری نہ کیا تو اس کی عزت خاک میں مل جائے گی ۔
جب حضور ﷺ کو معلوم ہوا کہ فی الواقعہ زرہ یہودی کے گھر سے برآمد ہوگئی ہے تو آپ نے مجمع میں اعلان کردیا کہ ابن ابیرق بےگناہ ہے ‘ اس لئے کہ اس کے خاندان نے حضور ﷺ سے درخواست کی تھی کہ قتادہ ابن النعمان اور ان کے چچا ہمارے ایک مسلمان خاندان کے گھر آئے اور اسے چوری کا ملزم بنا دیا اور یہ کام انہوں نے بغیر کسی ثبوت اور شہادت کے کیا ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا ۔ میں نے آپ ﷺ سے بات کی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم نے جان بوجھ کر ایک ایسے خاندان کے خلاف چوری کا الزام عائد کردیا جن کا اسلام اور نیکی مشہور ومعروف ہیں اور بغیر ثبوت کے “۔ میں واپس ہوگیا ‘ لیکن میری حالت یہ تھی کہ میں یہ کہہ رہا تھا کہ اگر میری تمام دولت چلی جاتی اور میں حضور ﷺ سے بات نہ کرتا تو کہتا اچھا ہوتا ۔ اس پر میرے چچا رعافہ آئے تو مجھے کہا بھتیجے ! یہ تو نے کیا کیا ؟ تو میں نے اسے یہ بات بتائی جو حضور ﷺ نے کہی تھی تو رفاعہ نے کہا اللہ ہی مددگار ہے ۔ اس پر زیادہ وقت نہ گزرا کہ یہ آیات نازل ہوئیں ۔
(آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس بما ارک اللہ ولا تکن للخائنین خصیما “۔ (4 : 105) ” یعنی آپ بنی ابیرق کے لئے وکیل صفائی نہ بنیں ۔ ” خصیم “ کے معنی وکیل ‘ دفاع کرنے والے اور کسی کی جانب سے مجادلہ اور مباحثہ کرنے والے کے ہوتے ہیں ۔ آپ نے قتادہ ؓ کو جو کہا اس سے اللہ کی مغفرت طلب کریں ‘ بیشک اللہ غفور الرحیم ہے ۔ مزید یہ آیات ۔ (ولاتجادل) سے (رحیما) تک ۔۔۔۔۔ اگر وہ معافی چاہتے تو اللہ ان کو معاف کردیتا ۔۔۔۔۔ اسی طرح (ومن یکسب) سے (اثما مبینا) تک اور (ولو لا فضل اللہ) سے (اجرا عظیما) تک ۔۔۔۔۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضور ﷺ زرہ لے کر آئے اور رفاعہ کو دے دی ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ جب میرے چچا کے پاس زرہ پہنچی ۔ وہ بوڑھے تھے اور جاہلیت ہی میں ان کی نظر ختم ہوگئی تھی۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ وہ مجبور ہو کر مسلمان ہوگئے ہیں ۔ جب میں نے ان کو زرہ دی تو انہوں نے یہ اللہ کی راہ میں ہوگئی ۔ یہاں سے مجھے یقین ہوگیا کہ وہ صحیح طرح مسلمان تھے ۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو بشیر (چور) مشرکین کے ساتھ مل گیا ۔ اس پر مزید آیات کا نزول ہوا۔
(آیت) ”۔ ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جھنم وسآءت مصیرا (115) ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء ومن یشرک باللہ فقد ضل ضلا بعیدا “ (116) (4 : 115۔ 116)
مسئلہ : صرف یہ نہ تھا کہ ایک بےگناہ بری کردیا گیا جس پر سازش کی وجہ سے الزام لگایا تھا اگرچہ اللہ کے ہاں کسی بےگناہ کا بری کرنا بھی ایک عظیم مسئلہ ہے ‘ مسئلہ تو اس سے بھی بڑا اور اہم تھا ۔ یعنی انصاف کی ترازو کو بالکل برابر کرنا مطلوب تھا کہ ہو کسی ایک طرف جھک نہ جائے ۔ نہ نفسانی خواہشات کی طرف اور نہ عصبیت کی وجہ سے ۔ نہ دوستی اور دشمنی کی وجہ سے ‘ میزان عدل میں کسی بھی طرح جھکاؤ نہ آجائے ۔ غرض جو حالات بھی ہوں ‘ انصاف ہو اور بےلاگ ہو۔
مسئلہ یہ تھا کہ اس جدید معاشرے کو تمام آلائشوں سے پاک کردیا جائے اور اس کے اندر سے جاہلیت اور عصبیت کے باقی ماندہ آثار کو بھی مٹا دیا جائے چاہے یہ آثار جس شکل و صورت میں بھی ہوں ۔ خصوصا جبکہ ان کا تعلق عوام الناس کے مسئلہ عدل سے ہو ۔ اس کے بعد ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جانی تھی جو بالکل منفرد ہو اور پوری تاریخ انسانی میں بےمثال ہو ۔ یہ بنیاد بالکل پاک وصاف اور مستحکم اصولوں پر رکھنی تھی ۔ جن میں تعصب ‘ ذاتی رجحان ‘ وقتی مصلحتوں اور ذاتی خواہشات کا کوئی دخل نہ ہو ۔
اس مقدمے میں بیشمار اسباب موجود تھے جن کی وجہ سے مجرموں کے ساتھ نرمی کی جاسکتی تھی یا کم ازکم انکے بارے میں یہ آیات نازل نہ ہوتیں اور ان پر تنقید نہ کی جاتی ۔ ان کو اس طرح سرعام رسوا نہ کیا جاتا یا ان کی سرعام پردہ دری نہ کی جاتی ۔
پہلی وجہ تو یہ ہو سکتی تھی کہ اس مقدمے میں پہلا ملزم یہودی تھا اور یہودی وہ لوگ تھے کہ ان کے ترکش کا ہر تیر اسلام کے خلاف استعمال ہوتا تھا ۔ یہودی وہ لوگ تھے کہ اس زمانے میں مسلمانوں کو ان کی جانب سے تلخ ترین اذیتیں دی جاتی تھیں اور خدا کا کرنا ایسا ہے کہ ہر دور میں وہ مسلمانوں کے خلاف نیش زنی کرتے رہتے ہیں ۔ پھر یہودیوں کا نظریہ یہ تھا کہ ہو نہ کسی کا حق تسلیم کرتے تھے ‘ نہ کسی کے ساتھ عدل و انصاف کرتے تھے ۔ ان کی حالت یہ تھی کہ ان کے ہاں کوئی اخلاقی قدر بھی نہ تھی اور مسلمانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں تو وہ کسی اخلاقی اصول کے قائل ہی نہ تھے ۔
ایک سبب یہ بھی تھا کہ اصل ملزم انصاری تھے اور انصار وہ لوگ تھے جنہوں نے حضور کو پناہ دی اور آپ کی نصرت کی ۔ پھر انصار کے بعض گھرانوں کے درمیان جاہلیت سے دشمنیاں چلی آرہی تھیں اور جس طرح الزام اور تفتیش کا رخ یہودیوں کی طرف مڑ گیا تھا اس وقت ان تحقیقات کو یہاں سے ڈراپ کر کے اہل اسلام کی صفوں کے درمیان انتشار سے بچا جاسکتا تھا ۔
ایک تیسرا جواز یہ بھی تھا کہ اس طرح یہودیوں کے ہاتھ میں انصار کو ورغلانے کی خاطر ایک نیا ہتھیار آرہا تھا ۔ یہ کہ انصار اور مسلمان ایک دوسرے کی بھی چوریاں کرتے ہیں اور پھر یہودیوں پر الزام دھرتے ہیں ۔ یہودی اس واقعہ کو بھی اسلام کے خلاف استعمال کرسکتے تھے ۔
لیکن یہ معاملہ ان معمولی باتوں کی نسبت بہت زیادہ اہمیت رکھتا تھا ‘ ان تمام خدشات اور اعتبارات سے یہ معاملہ بہت اہم اور بلند تھا ۔ یہ باتیں اسلامی نقطہ نظر سے اہمیت نہ رکھتی تھیں ۔ اسلام کے پیش نظر یہ مقصد تھا کہ اس جماعت کو اس قدر تربیت دی جائے کہ وہ نظام خلافت ارضی اور منصب قیادت بشری کے لئے تیار ہوجائے ۔ یہ امت پوری انسانیت کی قیادت اور پورے کرہ ارض پر خلافت کے لئے اس وقت تک تیار نہیں ہو سکتی تھی جب تک اس کی تربیت نہایت ہی مستحکم اور برتر اصولوں پر نہ کی جائے جب تک اسلامی نظام زندگی کے اصول اس کی زندگی کا جزء نہ بن جائیں اس کے وجود کو پوری طرح دھو کر اور نچوڑ کر پاک وصاف نہ کردیا جائے اور اسے ہر قسم کی انسانی کمزوریوں سے پاک نہ کردیا جائے ‘ جو جاہلیت کے دور سے اس کی شخصیت کا جزء تھیں ۔ نیز جب تک خود اس امت کے درمیان پختہ نظام عدل قائم نہ کردیا جائے تاکہ وہ اس کے مطابق تمام لوگوں کے درمیان انصاف کریں ۔ اور ان کا یہ انصاف اور ان کی یہ عدالت تمام انسانی کمزوریوں سے پاک ہو اور وہ تمام ظاہری مصلحتوں سے صرف نظر کرنے کے قابل ہوجائیں ۔
اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات میں اور اس مشکل ترین مرحلے میں ایک یہودی کے واقعہ کے ذریعے امت مسلمہ کو عدل و انصاف کے راستے پر ڈالا ایسے حالات میں کہ اس دور میں مسلمان یہودیوں کی جانب سے بیشمار ریشہ دوانیوں کا شکار تھے اور وہ پورے عالم عرب میں مسلمانوں کے خلاف محاذ بنانے میں بھی مصروف تھے ۔ مدینہ کے منافقین کے بھی معاون و مددگار تھے ‘ اور وہ دین اسلام کے خلاف اپنے ترکش کا ہر تیر استعمال کر رہے تھے اور اس کے خلاف ہر سازش کر رہے تھے ۔ مسلمانان مدینہ کے لئے مدینہ میں نہایت ہی خطرناک حالات تھے جہاں وہ دشمنیوں اور سازشوں میں گھرے ہوئے تھے اور یہ سب سازشیں یہودیوں کی طرف سے تھیں ۔ اللہ نے ان حالات میں اپنے بندوں کو ہدایت دینے اور نشان راہ متعین کرنے کے لئے ایک یہودی کو چنا ۔
ان حالات میں ایک یہودی کا انتخاب اس لئے کیا گیا کہ کہ اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کو یہ سمجھا سکے کہ عدل کا معیار کیا ہے اور اللہ تعالیٰ اس امت کو جو سکھانا چاہتے تھے وہ سکھائے ۔ لہذا اس معاملے میں اللہ کی پالیسی میں کوئی سیاست ‘ کوئی نام نہاد دانشوری اور کوئی زبانی ہیر پھیر نہ تھا ۔ اور لیپاپوتی اور واقعات کو چھپانے کی مہارت سے بھی کام نہ لیا گیا اور صاف صاف بات کی گئی ۔
اس مقدمے کے فیصلے میں تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ دیا گیا اور تمام ظروف واحوال سے صرف نظر کیا گیا ۔
معاملہ نہایت ہی حقیقت پسندانہ اور سنجیدہ تھا ۔ اس میں کسی قسم کی ملمع کاری اور لیپاپوتی نہ تھی ۔ حقیقت پسندی اسلامی نظام زندگی کی خصوصیات میں سے اہم خصوصیت ہے اور اس امت کے اوصاف میں سے یہ ایک اہم وصف ہے ۔ یہ اس امت کے مقاصد میں شامل ہے کہ وہ لوگوں عدل پھیلائے اور عدل کو اس معیار پر پہنچا دے جہاں تک کبھی انسانیت نہ پہنچی اور صرف اللہ کی جانب سے وحی اور ہدایت ہی کے نتیجے میں یہ امت یہاں تک پہنچی ۔
جب انسان اس مقام بلند تک پہنچا تو اس نے دیکھا کہ تاریخ کے تمام ازمنہ اور ادوار میں انسانی پستیوں کے گہرے گڑھے میں پڑے ہیں ۔ اس نے دیکھا کہ اس مقام بلند تک پہنچنے کی راہ میں نہایت ہی گہری گھائیاں ہیں ۔ اس راہ میں جگہ جگہ چالاکیاں ‘ ظاہر داریاں ‘ سیاست ‘ عیاری ‘ بلاغت ‘ مہارت ‘ حکومت کی مصلحت ‘ ملک کی مصلحت اور پارٹی کی مصلحت وغیرہ کی بےپناہ رکاوٹیں ہیں جو مختلف ناموں اور مختلف عنوانوں کے ساتھ عدل و انصاف کی راہ روکے کھڑی ہیں ۔ اور اگر اس بلندی سے انسان تمام نظامہائے زندگی کو دقت نظر سے دیکھے تو اسے دنیا میں گندگی ہی گندگی نظر آئے ۔
اس بلندی سے انسان جب نگاہ ڈالتا ہے تو اسے نظر آتا ہے کہ امت مسلمہ اس میدان میں یکہ و تنہا نظر آتی ہے ۔ جو زندگی کی ان غلاظتوں سے بلند ہو کر اس پاکیزہ مقام تک پہنچی ہے اور صرف امت مسلمہ کے لینڈ مارک شاہراہ تاریخ میں جگہ جگہ نظر آتے ہیں اور عدل و انصاف کی اس بلند چوٹی تک پہنچنے کے لئے صرف امت مسلمہ نے راہیں متعین کی ہیں اور وہ اس میدان میں منفرد ہے ۔
رہی وہ گندگی اور وہ تعفن جسے جاہلیت قدیمہ اور جاہلیت جدیدہ میں عدالت کا نام دیا جاتا ہے تو مناسب یہی ہے کہ ہم اس گندگی کو دبی رہنے دیں کیونکہ اس پاکیزہ ماحول کو اس کا تعفن گندہ کر دے گا اور ہر طرف بدبو پھیل جائے گی ۔
مناسب ہے کہ اب ہم آیات پر ذرا تفصیل سے بات کریں۔
درس نمبر 39 تشریح آیات :
105۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 113۔
(آیت) ” نمبر 105 تا 113۔
A) بات نہات ہی سختی سے کہی جارہی ہے ‘ یوں نظر آتا ہے کہ سچائی کے حق میں غیض وغضب سے کام لیا جا رہا ہے اور عدل قائم کرنے کے لئے سخت غیرت کا اظہار کیا جارہا ہے اور جذبات ‘ بات کے ماحول اور فضا سے ظاہر ہو رہے ہیں ۔
اس کا اظہار اس بات سے بھی ہو رہا ہے کہ حضور ﷺ کو مخاطب کرکے کہا جاتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب سچائی کے ساتھ نازل کی تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اللہ کی اس کتاب کے مطابق فیصلے کریں ۔ آپ کو سختی سے منع کیا گیا کہ آپ خائن لوگوں کے طرفدار نہ ہوجائیں اور نہ ان کی جانب سے دفاع کریں اور آپ نے جو مجادلہ ان خائن لوگوں کی طرف سے کیا ہے اس پر اللہ سے مغفرت طلب کریں ۔
(آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس بما اراک اللہ ولا تکن للخائنین خصیما (105) واستغفر اللہ ان اللہ کان غفورا رحیما (106) (4 : 105۔ 106)
(اے نبی ﷺ ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے ‘ تاکہ جو راہ راست اللہ نے تمہیں دکھائی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو ‘ تم بدیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو ‘ ۔ اور اللہ سے درگزر کی درخواست کرو ‘ وہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے ۔ A
اس کے بعد اس ممانعت کو دوبارہ مکرر بیان کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ جن لوگوں کی طرف سے آپ نے خصومت کی وہ اپنے آپ سے خیانت کر رہے ہیں اور وجہ یہ ہے کہ چونکہ یہ خائن ہیں اور اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔
(آیت) ” ولا تجادل عن الذین یختانون انفسھم ان اللہ لا یحب من کان خوانا اثیما (4 : 107) (جو لوگ اپنے نفس سے خیانت کرتے ہی تم ان کی حمایت نہ کرو ‘ اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو ۔ )
بظاہر تو انہوں نے دوسرے لوگوں کے ساتھ خیانت کی تھی لیکن درحقیقت وہ اپنے ساتھ خیانت کر رہے تھے ۔ انہوں نے اپنی جماعت اور پنے نظام کے خلاف خیانت کی ۔ اپنے اصولوں اور انکی ممتاز حیثیت کے خلاف خیانت کی ‘ انہوں نے اس امت کے خلاف خیانت کی جس کے وہ بھی افراد تھے ۔۔۔۔۔ پھر ایک دوسرے پہلو سے بھی وہ اپنے نفس کے خلاف خیانت کر رہے تھے ۔ وہ اپنے نفوس کو ایسے جرم میں ملوث کر رہے تھے جس کی سزا بہت ہی سخت تھی ۔ جہاں اللہ انہیں مجبور کرے گا اور پکڑ کر سزا دے گا ۔ ظاہر ہے کہ یہ اپنے نفس کے خلاف بھی خیانت ہے ۔ ایک تیسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنے ضمیر کو جھوٹ کہہ کر اور جرم کر کے خیانت میں ملوث کر رہے تھے ۔
(آیت) ” ان اللہ لا یحب من کان خوانا اثیما “۔ (4 : 107) (اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو) اور اللہ کی ناپسندیدگی تمام سزاؤں میں سے بڑی سزا ہے ۔ اس کے اندر ایک دوسرا اشارہ بھی ہے ‘ کہ جو لوگ اللہ کے محبوب نہیں ‘ چاہئے کہ کوئی ان کی حمایت نہ کرے ۔ کوئی ان کی وکالت نہ کرے ‘ اس لئے کہ ارتکاب جرم کرنے کی وجہ سے اللہ نے انہیں ناپسند کرلیا ہے ۔ ان لوگوں کو خیانت کار اور معصیت پیشہ کہنے کے بعد اب ان کی تصویر کشی اس طرح کی جاتی ہے اور ان کا پردہ یوں چاک ہوتا ہے :
(آیت) ” یستخفون من الناس ولا یستخفون من اللہ وھو معھم اذیبیتون مالا یرضی من القول ۔۔۔۔۔ “۔ (4 : 108) (یہ لوگ انسانوں سے اپنی حرکات چھپا سکتے ہیں مگر خدا سے نہیں چھپا سکتے ‘ وہ تو اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب یہ راتوں کو چھپ کر اس کی مرضی کے خلاف مشورے کرتے ہیں )
انکی یہ تصویر نہایت ہی کریہہ المنظر ہے ۔ اس پر انسان کو بےاختیار ہنسی آتی ہے ۔ اس میں ان کی کمزوری اور سازش صاف صاف نظر آتی ہے ۔ یہ راتوں کو جمع ہوتے اور اپنا جرم چھپانے کی سازشیں کرتے ہیں اور خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ لوگوں سے یہ اپنا جرم چھپا سکتے مگر اللہ سے نہیں چھپا سکتے ۔ لوگوں سے چھپنا کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ لوگ تو انہیں نفع ونقصان سے نہی بچا سکتے ۔ اور جو ذات نفع ونقصان کی مالک ہے اس سے وہ چھپ نہیں سکتے ۔ وہ تو ان کے ساتھ ہوتی ہے جب وہ سازشیں کرتے ہیں ۔ وہ ان کے ظاہر و باطن سے واقف ہے ۔ وہ ملمع کاری کرتے ہیں اور اللہ کی مرضی کے خلاف باتیں کرتے ہیں ۔ ان کا موقف کیسا بودا ہے کہ جس سے چھپاتے ہیں اس سے تو چھپ نہیں سکتے ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ
(آیت) ” وکان اللہ بما یعملون محیطا “۔ (4 : 108) (ان کے سارے اعمال پر اللہ محیط ہے) اگر اللہ مطلقا تمام اعمال کا احاطہ کئے ہوئے ہے تو وہ جو رات کو خفیہ سازشیں کرتے ہیں ان کا کیا فائدہ ہوگا ۔ اللہ تو اس مجلس میں ان کے ساتھ ہوتا ہے ہر چیز اس کی نظر میں ہے اور اس کے قبضے میں ہے ۔ اور یہ غضبناک حملہ ابھی جاری ہے اور اس کا اطلاق ان تمام لوگوں پر ہوتا ہے جو خائن لوگوں اور مجرموں کی طرف سے مجادلہ کرتے ہیں ۔
(آیت) ” ھانتم ھولآء جدلتم عنھم فی الحیوۃ الدنیا فمن یجادل اللہ عنھم یوم القیمۃ ام من یکون علیھم وکیلا “۔ (4 : 109) (ہاں تم لوگوں نے ان مجرموں کی طرف سے دنیا کی زندگی میں تو جھگڑا کرلیا ‘ مگر قیامت کے روز ان کے لئے اللہ سے کون جھگڑا کرے گا ؟ آخر وہاں کون ان کا وکیل ہوگا ؟ اس بھاری دن سے تو وہ ہر گزنہ بچ سکیں گے ۔ )
خائنوں اور معصیت پیشہ لوگوں پر اس حملے کے بعد اور ان کے حامیوں ‘ مجادلوں اور وکیلوں کی مذمت کرنے کے بعد اب اس برے فعل کے بارے میں اور اس کے نتائج کے بارے میں اصولی بات کی جاتی ہے ۔ اس کا حساب و کتاب آخرت میں کیا ہوگا اور اس کی عمومی سزا کیا ہونا چاہئے اور اللہ تعالیٰ ایسے مجرموں کے ساتھ کیا معاملہ فرماتے ہیں اور پھر یہ کہ جو معاملہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تم بھی مجرموں اور ایک دوسرے کے ساتھ ایسا ہی سلوک روا رکھو اور اللہ کے بتائے ہوئے اخلاق اپناؤ خصوصا عدل و انصاف کے معاملے میں ۔
آیت 105 اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰٹک اللّٰہُ ط یعنی ایک تو اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو کتاب دی ہے ‘ قانون دیا ہے ‘ اس کے ساتھ آپ ﷺ کو بصیرت خاص دی ہے۔ مثلاً عدالت میں ایک جج بیٹھا ہے ‘ اس کے سامنے قانون کی کتاب ہے ‘ مقدمے سے متعلق متعلقہ ریکارڈ ہے ‘ شہادتیں ہیں ‘ اب ایک اس کی اپنی عقل چھٹی حِس اور قوت فیصلہ بھی ہوتی ہے ‘ جس کو بروئے کار لا کر وہ فیصلہ کرتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جیسا ہم آپ ﷺ کو دکھاتے ہیں اس کے مطابق آپ ﷺ فیصلہ کریں۔وَلاَ تَکُنْ لِّلْخَآءِنِیْنَ خَصِیْمًا یعنی آپ ﷺ ان کی طرف سے وکالت نہ فرمائیں۔ ایک شخص جو کہنے کو تو مسلمان ہے لیکن ہے خائن ‘ آپ ﷺ کو اس کی طرف داری نہیں کرنی چاہیے۔ اس کے پس منظر میں در اصل ایک واقعہ ہے۔ ایک منافق نے کسی مسلمان کے گھر میں چوری کے لیے نقب لگائی اور وہاں سے آٹے کا ایک تھیلا اور کچھ اسلحہ چرا لیا۔ آٹے کے تھیلے میں سوراخ تھا ‘ جب وہاں سے وہ اپنے گھر کی طرف چلا تو سوراخ میں سے آٹا تھوڑا تھوڑا گرتا گیا۔ اس طرح اس کے راستے اور گھر کی نشاندہی ہوتی گئی ‘ مگر اسے خبر نہیں تھی کہ آٹے کی لکیر اس کا راز فاش کر رہی ہے۔ گھر پہنچ کر اسے خیال آیا کہ ممکن ہے مجھ پر شک ہوجائے ‘ چناچہ اس نے اسی وقت جا کر وہ سامان ایک یہودی کے ہاں امانتاً رکھوا دیا ‘ لیکن آٹے کا نشان وہاں بھی پہنچ گیا۔ اگلے روز جب تلاش شروع ہوئی تو آٹے کی لکیر کے ذریعے لوگ کھوج لگاتے ہوئے اس کے مکان پر پہنچ گئے ‘ لیکن پوچھ گچھ پر اس نے صاف انکار کردیا۔ تلاشی لی گئی ‘ مگر کوئی چیز برآمد نہ ہوئی۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ آٹے کے نشانات مزید آگے جا رہے ہیں تو وہ کھوج لگاتے ہوئے یہودی کے گھر پہنچے ‘ اس کے ہاں سے سامان بھی بر آمد ہوگیا۔ یہودی نے حقیقت بیان کردی کہ یہ سامان رات کو فلاں شخص نے اس کے پاس امانتاً رکھوایا تھا۔ منافق کی قوم کے لوگوں نے کہا کہ یہودی جھوٹ بولتا ہے ‘ وہی چور ہے۔ جب کوئی فیصلہ نہ ہوسکا تو یہ جھگڑا حضور ﷺ کے سامنے لایا گیا۔ منافق کے قبیلے والوں نے قسمیں کھا کھا کر خوب وکالت کی کہ ہمارا یہ آدمی تو بہت نیک ہے ‘ اس پر خواہ مخواہ کا جھوٹا الزام لگ رہا ہے۔ یہاں تک کہ حضور ﷺ کا دل بھی اس شخص کے بارے میں کچھ پسیجنے لگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ خیانت کرنے والے کے حمایتی نہ بنیں ‘ اس کی طرف سے وکالت نہ کریں ‘ اس کا سہارا نہ بنیں ‘ اس کو مدد نہ پہنچائیں۔ یہاں خَصِیْمًا کے معنی ہیں جھگڑا کرنے والا ‘ بحث کرنے والا۔ لِلخَاءِنِیْنَ کا مطلب ہے خائن لوگوں کے حق میں۔ لیکن اگر عَلَی الخَاءِنِین ہوتا تو اس کا مطلب ہوتا خائن لوگوں کے خلاف۔
حقیقت چھپ نہیں سکتی اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ سے فرماتا ہے کہ یہ قرآن کریم جو آپ پر اللہ نے اتارا ہے وہ مکمل طور پر اور ابتداء تا انتہا حق ہے، اس کی خبریں بھی حق اس کے فرمان بھی برحق۔ پھر فرماتا ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان وہ انصاف کرو جو اللہ تعالیٰ تمہیں سمجھائے، بعض علمائے اصول نے اس سے استدلال کیا ہے کہ نبی ﷺ کو اجتہاد سے حکم کرنے کا اختیار دیا گیا تھا، اس کی دلیل بخاری مسلم کی حدیث بھی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دروازے پر دو جھگڑنے والوں کی آواز سنی تو آپ باہر آئے اور فرمانے لگے میں ایک انسان ہوں جو سنتا ہوں اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں بہت ممکن ہے کہ یہ ایک شخص زیادہ حجت باز اور چرب زبان ہو اور میں اس کی باتوں کو صحیح جان کر اس کے حق میں فیصلہ دے دوں اور جس کے حق میں فیصلہ کر دوں فی الواقع وہ حقدار نہ ہو تو وہ سمجھ لے کہ وہ اس کے لئے جہنم کا ٹکڑا ہے اب اسے اختیار ہے کہ لے لے یا چھوڑ دے۔ مسند احمد میں ہے کہ دو انصاری ایک ورثے کے بارے میں حضور ﷺ کے پاس اپنا قضیہ لائے واقعہ کو زمانہ گذر چکا تھا دونوں کے پاس گواہ کوئی نہ تھا تو اس وقت آپ نے وہی حدیث بیان فرمائی اور فرمایا کہ میرے فیصلے کی بنا پر اپنے بھائی کا حق نہ لے لے اگر ایسا کرے گا تو قیامت کے دن اپنی گردن میں جہنم کی آگ لٹکا کر آئے گا اب تو وہ دونوں بزرگ رونے لگے اور ہر ایک کہنے لگا میں اپنا حق بھی اپنے بھائی کو دے رہا ہوں، حضور ﷺ نے فرمایا اب تم جاؤ اپنے طور پر جہاں تک تم سے ہوسکے ٹھیک ٹھیک حصے تقسیم کرو پھر قرعہ ڈال کر حصہ لے لو اور ہر ایک دوسرے کو اپنا رہا سہا غلطی کا حق معاف کردو۔ ابو داؤد میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں کہ میں تمہارے درمیان اپنی سمجھ سے ان امور میں فیصلہ کرتا ہوں جن میں کوئی وحی مجھ پر نازل شدہ نہیں ہوتی، ابن مردویہ میں ہے کہ انصار کا ایک گروہ ایک جہاد میں حضور ﷺ کے ساتھ تھا وہاں ایک شخض کی ایک چادر کسی نے چرالی اور اس چوری کا گمان طعمہ بن ابیرق کی طرف تھا حضور ﷺ کی خدمت میں یہ قصہ پیش ہوا چور نے اس چادر کو ایک شخص کے گھر میں اس کی بیخبر ی میں ڈال دیا اور اپنے کنبہ قبیلے والوں سے کہا میں نے چادر فلاں کے گھر میں ڈال دی ہے تم رات کو حضور ﷺ کے پاس جاؤ اور آپ سے ذکر کرو کہ ہمارا ساتھی تو چور نہیں چور فلاں ہے اور ہم نے پتہ لگا لیا ہے کہ چادر بھی اس کے گھر میں موجود ہے اس طرح آپ ہمارے ساتھی کی تمام لوگوں کی روبرو بریت کر دیجئے اور اس کی حمایت کیجئے ورنہ ڈر ہے کہ کہیں وہ ہلاک نہ ہوجائے آپ نے ایسا ہی کیا اس پر یہ آیتیں اتری اور جو لوگ اپنے جھوٹ کو پوشیدہ کرکے حضور ﷺ کے پاس آئے تھے ان کے بارے میں (آیت یستخفون) سے دو آیتیں نازل ہوئیں، پھر اللہ عزوجل نے فرمایا جو برائی اور بدی کا کام کرے اس سے مراد بھی یہی لوگ ہیں اور چور کے اور اس کے حمایتوں کے بارے میں اترا کہ جو گناہ اور خطا کرے اور ناکردہ گناہ کے ذمہ الزام لگائے وہ بہتان باز اور کھلا گنہگار ہے، لیکن یہ سیاق غریب ہے بعض بزرگوں سے مروی ہے کہ یہ آیت بنوابیرق کے چور کے بارے میں نازل ہوئی ہے، یہ قصہ مطلول ترمذی کتاب التفسیر میں بزبانی حضرت قتادہ اس طرح مروی ہے کہ ہمارے گھرانے کے بنوابیرق قبیلے کا ایک گھر تھا جس میں بشر، بشیر اور مبشر تھے، بشیر ایک منافق شخص تھا اشعار کو کسی اور کی طرف منسوب کرکے خوب مزے لے لے کر پڑھا کرتا تھا، اصحاب رسول ﷺ جاتنے تھے کہ یہی خبیث ان اشعار کا کہنے والا ہے، یہ لوگ جاہلیت کے زمانے سے ہی فاقہ مست چلے آ تھے مدینے کے لوگوں کا اکثر کھانا جو اور کھجوریں تھیں، ہاں تونگر لوگ شام کے آئے ہوئے قافلے والوں سے میدہ خرید لیتے جسے وہ خود اپنے لئے مخصوص کرلیتے، باقی گھر والے عموماً جو اور کھجوریں ہی کھاتے، میرے چچا رفاعہ یزید نے بھی شام کے آئے ہوئے قافلے سے ایک بورا میدہ کا خریدا اور اپنے بالا خانے میں اسے محفوظ کردیا جہاں ہتھیار زرہیں تلواریں وغیرہ بھی رکھی ہوئی تھیں رات کو چوروں نے نیچے سے نقب لگا کر اناج بھی نکال لیا اور ہتھیار بھی چرالے گئے، صبح میرے پاس آئے اور سارا واقعہ بیان کیا، اب ہم تجسس کرنے لگے تو پتہ چلا کہ آج رات کو بنو ابیرق کے گھر میں آگ جل رہی تھی اور کچھ کھا پکار رہے تھے غالباً وہ تمہارے ہاں سے چوری کر گئے ہیں، اس سے پہلے جب اپنے گھرانے والوں سے پوچھ گچھ کر رہے تھے تو اس قبیلے کے لوگوں نے ہم سے کہا تھا کہ تمہارا چور لبید بن سہل ہے، ہم جانتے تھے کہ لبید کا یہ کام نہیں وہ ایک دیانتدار سچا مسلمان شخص تھا۔ حضرت لبید کو جب یہ خبر ملی تو وہ آپے سے باہر ہوگئے تلوار تانے بنوابیرق کے پاس آئے اور کہنے لگے یا تو تم میری چوری ثابت کر ورنہ میں تمہیں قتل کر دونگا ان لوگوں نے ان کی برات کی اور معافی چاہ لی وہ چلے گئے، ہم سب کے سب پوری تحقیقات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ چوری بنوابیرق نے کی ہے، میرے چچا نے مجھے کہا کہ تم جا کر رسول ﷺ کو خبر تو دو ، میں نے جاکر حضور ﷺ سے سارا واقعہ بیان کیا اور یہ بھی کہا کہ آپ ہمیں ہمارے ہتھیار دلوا دیجئے غلہ کی واپسی کی ضرورت نہیں، حضور ﷺ نے مجھے اطمینان دلایا کہ اچھا میں اس کی تحقیق کروں گا، یہ خبر جب بنوابیرق کو ہوئی تو انہوں نے اپنا ایک آدمی آپ کے پاس بھیجا جن کا نام اسید بن عروہ تھا انہوں نے آکر کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ تو ظلم ہو رہا ہے، بنوابیرق تو صلاحیت اور اسلام والے لوگ ہیں انہیں قتادہ بن نعمان اور ان کے چچا چور کہتے ہیں اور بغیر کسی ثوب اور دلیل کے چور کا بدنما الزام ان پر رکھتے ہیں وغیرہ، پھر جب میں خدمت نبوی میں پہنچا تو آپ نے مجھ سے فرمایا یہ تو تم بہت برا کرتے ہو کہ دیندار اور بھلے لوگوں کے ذمے چوری چپکاتے ہو جب کہ تمہارے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں، میں چپ چاپ واپس چلا آیا اور دل میں سخت پشیمان اور پریشان تھا خیال آتا تھا کہ کاش کہ میں اس مال سے چپ چاپ دست بردار ہوجاتا اور آپ سے اس کا ذکر ہی نہ کرتا تو اچھا تھا، اتنے میں میرے چچا آئے اور مجھ سے پوچھا تم نے کیا کیا ؟ میں نے سارا واقعہ ان سے بیان کیا جسے سن کر انہوں نے کہا اللہ المستعان اللہ ہی سے ہم مدد چاہتے ہیں، ان کا جانا تھا جو حضور ﷺ پر وحی میں یہ آیتیں اتریں پس خائنین سے مراد بنو ابیرق ہیں، آپ کو استغفار کا حکم ہوا یہ یہی آپ نے حضرت قتادہ کو فرمایا تھا، پھر ساتھ ہی فرما دیا گیا کہ اگر یہ لوگ استفغار کریں تو اللہ انہیں بخش دے گا، پھر فرمایا ناکردہ گناہ کے ذمہ گناہ تھوپنا بدترین جرم ہے، اجرا عظیما تک یعنی انہوں نے جو حضرت لبید کی نسبت کہا کہ چور یہ ہیں جب یہ آیتیں اتریں تو حضور ﷺ نے بنوابیرق سے ہمارے ہتھیار دلوائے میں انہیں لے کر اپنے چچا کے پاس آیا یہ بیچارے بوڑھے تھے آنکھوں سے بھی کم نظر آتا تھا مجھ سے فرمانے لگے بیٹا جاؤ یہ سب ہتھیار اللہ کے نام خیرات کردو، میں آج تک اپنے چچا کی نسبت قدرے بدگمان تھا کہ یہ دل سے اسلام میں پورے طور پر داخل نہیں ہوئے لیکن اس واقعہ نے بدگمانی میرے دل سے دور کردی اور میں ان کے سچے اسلام کا قائل ہوگیا، بشیر یہ سن کر مشرکین میں جا ملا اور سلافہ بنت سعد بن سمیہ کے ہاں جاکر اپنا قیام کیا، اس کے بارے میں اس کے بعد کی (وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا01105ۧ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا01106) 4۔ النسآء :115116) تک نازل ہوئیں اور حضرت حسان نے اس کے اس فعل کی مذمت اور اس کی ہجو اپنے شعروں میں کی، ان اشعار کو سن کر اسکی عورت کو بڑی غیرت آئی اور بشیر کا سب اسباب اپنے سر پر رکھ کر ابطح میدان میں پھینک آئی اور کہا تو کوئی بھلائی لے کر میرے پاس نہیں آیا بلکہ حسان کی ہجو کے اشعار لے کر آیا ہے میں تجھے اپنے ہاں نہیں ٹھہراؤں گی، یہ روایت بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں سے مطول اور مختصر مروی ہے۔ ان منافقوں کی کم عقلی کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ جو اپنی سیاہ کاریوں کو لوگوں سے چھپاتے ہیں بھلا ان سے کیا نتیجہ ؟ اللہ تعالیٰ سے تو پوشیدہ نہیں رکھ سکتے، پھر انہیں خبردار کیا جا رہا ہے کہ تمہارے پوشیدہ راز بھی اللہ سے چھپ نہیں سکتے، پھر فرماتا ہے مانا کہ دنیوی حاکموں کے ہاں جو ظاہر داری پر فیصلے کرتے ہیں تم نے غلبہ حاصل کرلیا، لیکن قیامت کے دن اللہ کے سامنے جو ظاہر وباطن کا عالم ہے تم کیا کرسکو گے ؟ وہاں کسے وکیل بنا کر پیش کرو گے جو تمہارے جھوٹے دعوے کی تائید کرے، مطلب یہ ہے کہ اس دن تمہاری کچھ نہیں چلے گی۔